• 19 جون, 2024

تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

یہاں میکدے کی وہی ہے خو، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہی جام ہے، وہی ہے سبو، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

کبھی موسموں کے بیان تھے، کبھی وادیوں کے تھے تذکرے
کبھی خوشبوؤں کی تھی گفتگو، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

انہیں راستوں کی طوالتیں، نہ تھکا سکی تھیں ہمیں کبھی
کہ تھکا گئی تری آرزو، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

یونہی دیکھنا کبھی ریل کو، کبھی راہیوں کے وجود کو
مجھے ڈھونڈنا ترا چار سو، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

کبھی تتلیوں کی تلاش میں یونہی بھاگنا وہ دبے دبے
کبھی جگنوؤں کی تھی جستجو، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

کبھی خوشبوؤں کی تھیں یورشیں، کبھی وارداتیں بہار کی
ہمیں پھول تھے، ہمیں رنگ و بو، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

کبھی راستوں نے تھکا دیا تو سڑک سے ہٹ کے ڈرے ڈرے
ترا بیٹھنا مرے روبرو، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

ترا نام سجدوں میں لے لیا کہ مری جبیں تھی زمین پر
مری چاہ بھی تو تھی باوضو، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

یونہی وقت نے ہے رلا دیا ترے حسن کو، مری چاہ کو
کبھی ہم بھی تم بھی تھے خوبرو، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

وہ قیامتیں، وہ مصیبتیں، جنہیں سوچ سوچ کے اے فراز!
مرا دل ہؤا ہے لہو لہو، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

(اطہر حفیظ فراؔز)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 26 مئی 2022

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ