• 15 اگست, 2022

اے چھاؤں چھاؤں شخص تیری عمر ہو دراز

ڈائری عابد خان سے ایک ورق
اے چھاؤں چھاؤں شخص تیری عمر ہو دراز

دورہ کا آخری دن

تقریباً دو ماہ گھر سے دور رہنے کے بعد موٴرخہ 11 نومبر 2013ء کو ہمارے دورہ کا آخری دن تھا۔ اس خیال سے عجیب محسوس ہو رہا تھا کہ اتنے لمبے عرصے کے بعد اگلے دن ہم اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔ مجھے یہ خیال آنے لگا کہ کس طرح ان شاء اللہ جلد ہی میں اپنے چھوٹے سے بیٹے ماہد کو دیکھ سکوں گا اور یہ بھی کہ وہ کتنا بڑا ہو گیا ہے۔ مجھے یہ خیالات بھی آ رہے تھے کہ آیا وہ مجھے پہچانے گا بھی یا نہیں۔ مجھے گھر واپس لوٹنے کی خوشی تھی مگر ساتھ ہی ساتھ اداس بھی تھاکہ اس قدر با برکت اور شاندار دورہ اپنے اختتام کی طرف بڑ ھ رہاہے۔

حضور انور کی ایک جاپانی مارکیٹ کی سیر

اگرچہ سوموار کا دن ہمارے دورہ کا آخری دن تھا۔ پھر بھی یہ نہایت مصروف دن ثابت ہوا۔ جماعت نے صبح اور شام کا کچھ وقت اس غرض سے خالی رکھا تھا کہ حضور انور کو چند گھنٹوں کے لئے شہر کی سیر کروائی جاسکے۔ حضور انور نے اس تجویز کو قبول فرمایا اور شہر کے ثقافتی حصے کی سیر کرنا پسند فرمایا۔ چنانچہ جماعت نے عین قلب شہر میں حضور انور کو ایک پر ہجوم ایشیائی مارکیٹ کی سیر کروائی جس کا نام Asakusa Nakamise Market ہے۔

حضور انور اور آپ کی فیملی کی بے لوث قربانیاں

مارکیٹ میں پہنچنے پر حضور انور اور خالہ سبوحی نے بعض چھوٹی دکانیں دیکھیں اور میرے خیال سے خالہ سبوحی نے بعض چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی خریدیں۔ وہاں سیر کرتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ کس طرح اس چھوٹی سی سیر کے دوران یہ بات عیاں تھی کہ حضور انور اور آپ کی فیملی جماعت کے لیے کس قدر قربانیاں کرتے ہیں۔ جہاں ہم سب جب چاہیں اپنی مرضی سے اپنی family کے تفریحی program بناتے ہیں ایسے مواقع حضور انور اور خالہ سبوحی کو کم ہی میسر آتے ہیں اور بہت کم مواقع پر آپ ایسے مقامات پر جا سکتے ہیں۔ خاص طور پر جب قافلہ ممبران اور لوکل جماعت کے ممبران بھی آپ کے ساتھ ہوں۔

حضور انور مارکیٹ اور ایک مندر کی
تصاویر لیتے ہوئے

جب حضور انور مارکیٹ سے گزر رہے تھے تو آپ قافلہ کے ہمراہ مندر تک تشریف لے گئے۔ جہاں آپ کو لوگوں کو اپنے طریق پر عبادت کرتے ہوئے دیکھنے کا موقع ملا۔ حضور انور نے اپنے فون میں چند تصاویر بنائیں اور نہایت خوشی سے مذہبی رسومات کی ادائیگی کا مشاہدہ فرمایا۔

ناقابل یقین چند لمحات

جونہی حضور انور نے واپسی کا ارادہ فرمایا تو بدھ مت کے Monks کا ایک گروپ قریب آیا اور حضور انور سے درخواست کی کہ وہ آپ کے ساتھ تصویر بنانا چاہتے ہیں۔ نہایت شفقت فرماتے ہوئے حضور انور نے ان کی درخواست قبول فرما لی۔ اس کے بعد جو ہوا وہ نہایت دلچسپ تھا۔ جب حضور انور وہاں سے واپس مارکیٹ کی طرف تشریف لے جانے لگے تو لوگوں کا ایک جم غفیر آپ کی طرف بڑھنے لگا۔ ہر چند قدموں کے بعد ہر عمر کے احباب حضور انور سے درخواست کرتے کہ وہ آپ کے ساتھ تصاویر بنانا چاہتے ہیں۔ اگرچہ وہ آپ کے بارے میں نہیں جانتے ہوں گے مگر ضرور انہوں نے آپ کی روحانیت کو محسوس کیا ہوگا اور ملنے کے لیے بے قراری کا اظہار عیاں تھا۔

پھر حضور انور کے ساتھ تصاویر بنانے کے بعد وہ نہایت فخر سے یہ تصاویر دوسروں کو دکھا رہے تھے ان کی آنکھوں اور چہروں پر خوشی نہایت عیاں تھی۔ میں پوری امانت داری سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے اپنی ساری زندگی میں ایسا منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا وہ لمحات یقینی طور پر بہت غیر معمولی تھے ایک دفعہ تو مجھے خیال آیا کہ شاید ہمیں سارا دن ہی وہاں گزارنا پڑے جس طرح احباب حضور انور کی طرف کشاں کشاں بڑھ رہے تھے اور ان کی تعداد میں ہر لمحہ اضافہ ہو رہا تھا۔

ایک دلچسپ اتفاق

اگرچہ حضور انور سے ملنے کے لیے اکٹھے ہونے والے شائقین کی اکثریت کو آپ کا تعارف نہ تھا۔ ایک میاں بیوی آپ کے پاس آئے اور وہ آپ کو اچھی طرح جانتے تھے۔ یہ جوڑا برطانیہ سے تعلق رکھتا تھا اور جاپان میں رخصت پر آئے ہوئے تھے۔ چنانچہ وہ خاتون حضور انور کے پاس آ کر یوں مخاطب ہوئی کہ آپ میرے ہمسائے ہیں ہم Melrose Road پر رہتے ہیں جو مسجد فضل کی پچھلی جانب ہے۔ اس لیے ہم نے آپ کو کئی مرتبہ دیکھا ہے۔ ہم نمبر67 میں رہتے ہیں۔

جب میں نے اس خاتون کو یہ الفاظ ادا کرتے دیکھا تو ایسے اتفاق سے حیران رہ گیا۔ Melrose Road واقعتاً مسجد فضل سے ملحق ہے اور جب کہ وہ نمبر 67 میں مقیم ہیں تو جماعت کی ملکیت نمبر 65 ہے جو بطور مہمان خانہ مستعمل ہے۔ یہ ممکن ہے کہ وہ حضور انور کے لندن میں سب سے قریبی ہمسائے ہوں اور یہاں وہ ایک دور دراز جاپان کی مارکیٹ میں اتفاق سے اسی شام کو موجود تھے جب حضور انور کا ورود مسعود ہوا تھا۔

ایک مزید اتفاق ایسا ہوا جس نے اس ملاقات کو مزید غیر معمولی بنا دیا کہ اس خاتون نے حضور انور کو بتایا کہ ان کی اور حضور انور کی تاریخ پیدائش بھی ایک ہی ہے۔ اس پر حضور انور نے ان سے ان کی تاریخ پیدائش کے بارے میں استفسار فرمایا تو انہوں نے بتایا کہ 15 ستمبر 1950ء۔ جس پر حضور انور نے تبسم فرمایا اور فرمانے لگے کہ ہاں میری پیدائش بھی اسی دن ہوئی تھی۔

مجھے اقرار کرنا پڑے گا کہ ان اتفاقات نے مجھے بالکل حیران کر دیا تھا۔ یہ امر نہایت عیاں تھا کہ وہ (دونوں میاں بیوی) حضور انور کو جاپان میں دیکھ کر بہت خوش تھے اور مجھے یقین ہے کہ جس طرح لوگ حضور انور کی طرف کھچے چلے آئے تھے یہ دیکھ کر انہیں حضور انور (اپنے ہمسائے) کے مقام اور اہمیت کا خوب اندازہ ہوگیا ہوگا۔

لوکل احمدیوں کے جذبات

ائرپورٹ پر پہنچ کر حضور انور نے لوکل احمدیوں کو آخری بار پھر شرف ملاقات بخشا۔ حضور انور نے روانگی کے حصہ میں داخل ہونے سے پہلے جماعت کی طرف ہاتھ ہلا کر خدا حافظ کہا۔ میں نے احمدیوں کی طرف دیکھا جن میں سے اکثریت کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔

بعد ازاں ایک لوکل احمدی نے مجھے بتایا کہ حضور انور کے جانے سے مجھے بہت صدمہ ہوا کیونکہ کوئی بھی احمدی اپنے خلیفہ سے دور ہونے پر شدید غم زدہ ہو جاتا ہے۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ یہ بات نہایت خوشکن ہے کہ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ حضور انور جاپانی جماعت اور ان کی مساعی سے خوش واپس لوٹ رہے تھے۔

ایک دوسرے لوکل جماعت کے خادم نے کچھ دنوں کے بعد مجھے لکھا کہ جب حضور انور نے آخری بار خدا حافظ کہنے کے لیے ہاتھ ہلایا اور روانگی کے حصہ میں داخل ہوئے تو ایسے لگتا تھا کہ سارا Tokyo بودا اور خالی خالی سا ہو گیا ہے. بہرحال انہوں نے بتایا کہ دورہ کی یادیں ہمیشہ ان کے ساتھ رہیں گی اور ہمیشہ باعث سکون و تسکین ہوں گی۔

Heathrow ائر پورٹ پر آمد

ہم Heathrow ایئرپورٹ یو کے، کے وقت کے مطابق شام میں پہنچے۔ جب ہم حضور انور کے پیچھے چل رہے تھے تو میں کئی طرح کے جذبات سے مغلوب تھا۔ میں خوش تھا کہ گھر واپسی ہو رہی ہے لیکن اداس بھی تھا کیونکہ دورہ ختم ہو چکا تھا۔ حضور انور کو خوش آمدید کہنے کے لئے امیر صاحب یوکے اور دیگر عہدیداران بڑی تعداد میں موجود تھے۔ حضور انور کی واپسی پر ان کے چہروں سے خوشی اور مسرت خوب عیاں تھی۔

حضور انور کی مسجد فضل لندن واپسی

ہم نے مسجد فضل (لندن) واپسی کی تو سینکڑوں احمدی احباب وہاں حضور انور اور خالہ سبوحی کو خوش آمدید کہنے کے لیے کھڑے تھے۔ حضور انور نے ان سب کی طرف ہاتھ ہلایا اور اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے اور جب آپ نے ایسا کیا تو مجھے خیال گزرا کہ اب حقیقی طور پر آپ کا دورہ اختتام پذیر ہو گیا ہے۔ میں نے فورا دائیں بائیں دیکھا تو چند لمحات میں میں نے مالہ (اپنی اہلیہ) کو دیکھا اور Pushchair میں ماہد بھی تھا۔ جو قابل دید لباس پہنے ہوئے گہری نیند سو رہا تھا اور واقعی کافی بڑا ہو چکا تھا۔

دورہ کا تتمہ

میرے خیال میں ہم سب اپنے گھروں میں خوش خوش واپس لوٹے تھے اس بات کا ادراک رکھتے ہوئے کہ حضور انور کا دورہ ابتداء سے اختتام تک بے انتہا فضلوں کا حامل تھا۔ ہم میں ایسے احباب جن کو حضور انور نے اپنے ساتھ دورہ پر جانے کی سعادت بخشی تھی وہ اس سعادت پر اللہ تعالی کا شکر کیونکر ادا کر سکتے تھے۔

ہمیں بطور گواہ اسلام کا پیغام دنیا کے دور دراز کناروں تک لوگوں تک پہنچتا دیکھنے کی توفیق ملی۔ ہمیں بطورہم مجلس اللہ کے نمائندے کو زمین پر اسلام کا پیغام نہایت خوبصورتی اور بہترین طریق پر پھیلاتے ہوئے دیکھنے کا موقع ملا۔

سنگاپور سے سڈنی تک، Melbourne سےBrisbane تک، Ackland سے Wellington تک، Tokyo Nagoya تک بہت سے لوگوں کو حضرت خلیفہ المسیح کے الفاظ سننے اور ملاقات کا شرف پانے کی سعادت حاصل ہوئی۔

ہم نے چند لمحوں میں حضور انور کی گفتگو سنتے ہی لوگوں کا رویہ بدلتے دیکھا۔ ہم نے غیر احمدی احباب کو حضور انور کا ہاتھ چومتے ہوئے اللہ کے فضلوں کو سمیٹتے ہوئے دیکھا۔ ہم نے کئی نامور سیاستدانوں کو حضور انور کے ساتھ سٹیج پر بیٹھنے پر اپنی خوش قسمتی پر نازاں ہوتے دیکھا۔ ہم نے عالمگیر میڈیا کو حضور انور کا انٹرویو کرتے دیکھا۔ ہم نے ہزاروں احمدیوں کو اپنے محبوب امام کے ساتھ گزارے چند لمحات میں روحانی تروتازگی اور شادابی سے معطر ہوتے دیکھا۔

یقیناً حضور انور کا دورہ 2013 جو مشرقی بعید اور Pacific کا تھا، ہماری جماعت کی تاریخ کے عظیم کارناموں میں شمار کیا جاتا رہے گا۔

خاکسار کی ڈائری ملاحظہ فرمانے پر حضور انور نے اپنے دست مبارک سے یہ نوٹ تحریر فرمایا کہ نمائش ملاحظہ فرمانے کے دوران آپ نے ہدایت فرمائی تھی کہ اس نمائش میں شہدائے احمدیت کی تصاویر بھی شامل ہونی چاہیے تھیں اور ہر جماعتی نمائش میں ہمارے شہداء کی تصاویر شامل ہونی چاہیئیں۔

گزشتہ چند ماہ میں کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ میں نے ان ڈائریز کو لکھنے میں سستی دکھائی اور جب کبھی بھی ایسا ہوا ہر بار حضور انور نے خاکسار سے استفسار فرمایا کہ اگلی قسط کب تک مکمل ہو جائے گی۔ یوں یقینی طور پر یہ محض حضور انور کی حوصلہ افزائی کے باعث ہی ممکن ہوا کہ میں ان ڈائریز کو ساتھ ساتھ مکمل کر پایا ہوں۔ جملہ ڈائریز بہت لمبی تھی اور میں ہر پڑھنے والے کا مشکور ہوں جنہوں نے نہ صرف ان کو دلچسپی سےپڑھا بلکہ اپنے تاثرات بھی بھجوائے۔

آخر پر میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ میری ڈائریز حضور انور کے مبارک دورہ کی چند جھلکیاں ہی پیش کرسکتی ہے۔ بے شمار ایسی چیزیں ہیں جو شامل نہ ہوسکی ہیں اور بے شمار ایسی چیزیں ہیں جن کا مجھے علم بھی نہیں ہوا ہوگا۔ اللہ تعالی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو اپنے فضلوں اور دائمی خوشیوں سے بھرپور عمرِ دراز سے نوازے۔ آمین۔

(دورہ جاپان 2013ء حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔اردو ترجمہ از ڈائری عابد خان)

(مترجم: ابو سلطان)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 25 جون 2022

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ