• 23 ستمبر, 2021

آنکھوں میں وہ ہماری رہے ابتدا یہ ہے

آنکھوں میں وہ ہماری رہے ابتدا یہ ہے
ہم اس کے دل میں بسنے لگیں انتہا یہ ہے
روزہ نماز میں کبھی کٹتی تھی زندگی
اب تم خدا کو بھول گئے، انتہا یہ ہے
لاکھوں خطائیں کرکے جو جھکتا ہوں اُس طرف
پھیلا کے ہاتھ ملتے ہیں مجھ سے وفا یہ ہے
راتوں کو آکے دیتا ہے مجھ کو تسلیاں
مردہ خدا کو کیا کروں میرا خدا یہ ہے
کیا حرج ہے جو ہم کو پہنچ جائے کوئی شر
پہنچے کسی کو ہم سے اگر شر برا یہ ہے
اس کی وفا و مہر میں کوئی کمی نہیں
تم اس کو چھوڑ بیٹھے ہو ظلم وجفا یہ ہے
مارے جلائے کچھ بھی کرےمجھ کو اس سے کیا
مجلس میں اس کے پاس رہوں مدعا یہ ہے
بوئے چمن اڑائے پھرے جو، وہ کیا صبا
لائی ہے بوئے دوست اڑا کر صبا یہ ہے

(کلام محمود صفحہ201)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 26 جولائی 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 27 جولائی 2021