• 1 اکتوبر, 2020

تعارف سورۃ المؤمنون (تئیسویں سورۃ)

(مکی سورۃ، تسمیہ سمیت اس سورۃ کی 119 آیات ہیں)
ترجمہ از انگریزی ترجمہ قرآن (حضرت ملک غلام فرید صاحب) ایڈیشن 2003
(مترجم: وقار احمد بھٹی)

وقت نزول اور سیاق و سباق

اس سورہ میں کافی تسلی بخش گواہی موجود ہے کہ یہ مکہ میں قیام کے آخری دنوں میں نازل ہوئی۔ سیوطی کے نزدیک یہ آنحضرت ﷺ کی مدینہ روانگی سے قبل آخری نازل ہونے والی سورہ تھی۔ اگرچہ یہ آخری نازل ہونے والی سورہ نہ بھی ہو تب بھی یہ مکہ میں نازل ہونے والی آخری سورتوں میں سے ایک ہے۔ سابقہ سورہ کی آخری آیات میں مومنوں کو خدا کی طرف رجوع کرنے اور اس کے احکامات ماننے کی طرف توجہ دلائی گئی تھی جیساکہ ان میں ان کے مستقبل کی ترقی اور کامیابی کا راز ہے۔ انہیں تلوار کے ذریعہ جنگ کرنے کا حکم بھی دیا گیا تھا تاکہ وہ جنہوں نے اسلام کے خلاف تلوار اٹھائی وہ خود بھی تلوار کے ذریعہ ہلاک ہوں۔ انہیں مزید خدا کی راہ میں قرآن کریم کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور ان سے وعدہ کیا گیا ہے کہ اگر وہ ایسا کریں گے تو خدا ان کی مدد کرے گا اور انہیں کامیاب و کامران کرے گا۔ یہ وعدہ مشروط تھا۔ یہاں ایک یقینی ضمانت دی گئی ہے کہ مومنوں کی ایک جماعت یقیناً پیدا ہوگی کیونکہ وہ متذکرہ بالا شرائط کو پورا کریں گے اور کامیابی سے ہمکنار ہوں گے۔ اس طرح ایک ایسی چیز جس کا گزشتہ سورہ میں ہونا گمان کیا گیا تھا اس کا یقینی طور پر پایا جانا اس سورہ میں بیان ہوا ہے۔

مضامین کا خلاصہ

اس سورہ کا آغاز مومنوں کے لئے اس خوشخبری سے کیا گیا ہے کہ ان کی کامیابی اور کامرانی کا وقت آگیا ہے۔مزید براں ان کی خصوصیات اور نمایاں اوصاف کا ذکر ہے جو ان کی روحانی نشونما اور ترقی کو ظاہر کرتی ہیں۔ ان اوصاف کے بعد انسانی بچہ کی رحم مادر میں بڑھوتری اور مختلف مدارج کا ذکر ہے جن سے وہ گزرتا ہے۔ ایک نطفہ سے لیکر مکمل انسانی بچے کی شکل اختیار کرنے تک۔ پھر بتایا گیا ہے کہ جس طرح جسمانی پیدائش کے بعد موت آتی ہے اور حشر برپاہوتا ہے اسی طرح ایسی اقوام اور معاشرے جہاں کسی وقت میں روحانی انقلاب برپا ہو رہا ہوتا ہے وہ کسی دوسرے وقت میں زوال پذیر ہو جاتی ہیں اور کسی مناسب وقت پر ایک اور قوم ان کی جانشین ہوجاتی ہے۔ دراصل روحانی اور جسمانی ترقیات کی آپس میں خوب مشابہت ہے۔ دونوں کو تکمیل کے لئے سات مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔

پھر اس سورہ میں یہ نظریہ پیش کیا گیاہے کہ دنیا میں ہر چیز ایک معین اندازے کے مطابق اتاری گئی ہے اور معین وقت تک ہر چیز کی حفاظت کی جاتی ہے اور ایک معین وقت تک برقرار رہتی ہے۔ البتہ جب وہ اپنی افادیت پہنچا دیتی ہے تو زوال پذیر ہونے لگتی ہے اور بالآخر موت کا شکار ہو جاتی ہے۔ اسی طرح الٰہی تعلیمات جو قرآن کریم سے پہلے نازل ہوئیں، اپنے مقصد کو پورا کرنے کے بعد اپنا مقام کھو بیٹھیں۔ یوں کسی بھی تعلیم کا الٰہی ہونا اس کو زوال پذیر ہونے سے نہیں روک سکتا۔ یہ صرف قرآن کریم ہے جس کو تسلسل حاصل ہے اور یہ ہمیشہ روحانی غذا جملہ انسانیت کے لئے مہیا کرتا رہے گا۔

بعد ازاں اس سورہ میں خدا تعالیٰ نے چند نعماء کا ذکر کیا ہے جن سے اس نے انسان کو متمتع کیا ہےاور جو اس کی جسمانی ضروریات کے لئے ضروری ہیں اور ان کے بیان کے بعد یہ سبق دیا گیا ہے کہ جب خدا نے انسان کی جسمانی ضروریات کا اس قدر خیال رکھا ہے تو اس نے لازماً اس سے زیادہ خیال اس کی روحانی ضروریات کا بھی رکھا ہوگا۔ پھر یہ بتایا گیاہےکہ روحانی ترقی کے لئے سب سے اہم شرط توحید پر ایمان لانا ہےجس کی ابتدائے آفرینش سے خدا کے نبی پرچار کرتے رہے ہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام نے توحید کا پرچار کیاہے۔ آپ کے بعد پہ در پہ انبیاء تشریف لائے جو سب توحید کا سبق دیتے رہے اور ان کے بعد آنے والے بھی توحید کا درس دیتے رہے۔ جبکہ ظلمت کے ماروں نے ہمیشہ ان نبیوں کی مخالفت کی اور ظلم و تعدی سے کام لیا۔ اس رزمِ حق و باطل کا نتیجہ ہمیشہ یہی رہا کہ مومن کامیاب رہے اور وہ جنہوں نے انکار کیا اور خدا کے پیغمبروں کو جھٹلایا، ناکام ہوئےاور غم اٹھایا۔ خدا کے نیک بندے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور اس کے نشانات پر یقین رکھتے ہیں اور اس کی توحید پر کامل یقین رکھتے ہیں اور اپنی استعدادوں کے مطابق بہترین کام کرتے ہیں اور پھر (عاجزی سے)یہ خیال کرتے ہیں کہ انہوں نے بھرپور طور پر اپنی ذمہ داریاں اور فرائض ادا نہیں کئے۔ وہ نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔

اس کے بعد کفار کو تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر وہ حق کو جھٹلانے پر مصر رہے تو انہیں عذاب ملے گا۔ اگر وہ اپنی بد اعمالیوں سے باز نہ آئے اور ظلم سے کام لیتے رہے اورسزا کی گھڑی آن پہنچی یہاں تک کہ وہ التجا کرنے لگتے ہیں کہ کاش انہیں ایک آخری موقع اصلاح کا دیا جائے۔ مگر تب تک بہت تاخیر ہوچکی ہوگی اور انہیں احساس دلایا گیا ہے کہ تکلیف اور سزا خواہ تھوڑے عرصہ کے لئے ہی ہو خاص طور پر پر آسائش زندگی گزارنے کے بعد تو وہ دوہری تکلیف کا باعث ہوتی ہے۔

اس سورہ کا اختتام اس عظیم روحانی سچائی پر ہوا ہے کہ انسان بغیر کسی مقصد کے پیدا نہیں ہوا۔ اس کی زندگی کا ایک اعلیٰ مقصد ہے۔ اس لئے اس کو شریعت پر شک اور خدا کے پیغمبروں سےاختلاف نہیں کرنا چاہیئے اور اس بات کو سمجھنا چاہیئے کہ وہ اپنے اعمال پر اپنے رب کے سامنے جوابدہ ہے۔

٭…٭…٭

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 26 اگست 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 27 اگست 2020