• 20 مئی, 2024

جامع المناھج والاسالیب (قسط 3)

جامع المناھج والاسالیب
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی شہرہ آفاق تصنیف تفسیر کبیر کا ایک اختصاصی مطالعہ
قسط 3

کلامی منہج / متکلمانہ رجحان

بعض مفسرین اسماء و صفات باری تعالیٰ، ملائکۃ اللہ، اسلامی عقائد و نظریات پر بحث کرتے ہیں اور قرآن کریم کی نصوص سے اپنے دلائل تیار کرتے ہیں اور ان کا اثبات کرتے ہیں۔ مخالف اسلام قوتوں کو ان دلائل سے جواب دیتے ہیں۔ اس منہج پر لکھی جانے والی تفاسیر کلامی تفاسیر کہلاتی ہیں۔ان میں سے معروف تفاسیر کو مثال کے طور پر پیش کیا جائیگا۔

کلامی منہج پر لکھی جانے والی تفاسیر

  • مفاتیح الغیب (تفسیر کبیر)لفخر الدین الرازی (المتوفیٰ:606ھ)
  • انوار التنزیل و اسرار التاویل عبداللہ بن عمر بن محمد البیضاوی (المتوفیٰ:685ھ)
  • غرائب القرآن و رغائب الفرقان لنظام الدین بن الحسن بن محمد الخراسانی النیسابوری (المتوفیٰ:850ھ)

برصغیر پاک و ہند میں کلامی منہج پر لکھی جانے والی تفاسیر میں مندرجہ ذیل مشہور ہیں۔

  • تفسیر القرآن از سر سید احمد خان (1817ء تا 1898ء)
  • تنقیح البیان از محمد ناصر الدین دہلوی (1822ء تا 1902ء)

تفسیر کبیر از حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمدؓ میں کلامی منہج کی چند مثالیں

ہستی و صفات باری تعالیٰ متکلمین اسلام کا ایک خاص موضوع ہے۔ اسی طرح جو متکلمانہ سوچ رکھنے والے مفسرین تھے ان کی تفاسیر میں بھی ہمیں یہی رنگ ملتا ہے۔

آپ لفظ ’’اللہ‘‘ کے بارہ میں کچھ ایسے رقمطراز ہوئے۔

’’اللہ اس ذات پاک کا نام ہے جو ازلی ابدی اور الحی القیوم ہے اور مالک وخالق اور رب سب مخلوق کا ہے۔ اور اسم ذاتی ہے نہ کہ اسم صفاتی۔ عربی زبان کے سوا کسی اور زبان میں اس خالق و مالک کل کا کوئی ذاتی نام نہیں پایا جاتا۔ صرف عربی میں اللہ ایک ذاتی نام ہے جو صرف ایک ہی ہستی کے لئے بولا جاتا ہے اور بطور نام کے بولا جاتا ہے۔ اللہ کا لفظ اسم جامد ہے مشتق نہیں ہے۔ یعنی نہ یہ اور کسی لفظ سے بنا ہے اور نہ اس سے کوئی اور لفظ بنا ہے۔‘‘

(تفسیر کبیر جلد دہم صفحہ524 پرنٹ ویل امرتسر 2010)

ہستی و صفات باری تعالیٰ کے موضوع پر حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمدؓ المصلح الموعود نے اپنی تفسیر میں خوب معارف کھولے۔ مثلاً قرآن کریم کی صفات الٰہیہ اور ان کے ساتھ انسانی اشتراک کے بارہ میں لکھتے ہیں۔
’’پس گو نام کے لحاظ سے صفات الٰہیہ میں دوسروں کو بھی ناقص طور پر اشتراک حاصل ہے مگر حقیقتاً صفات الٰہیہ دوسروں کی صفات سے بالکل مغائر ہے۔ جیسے رب ہونے کے لحاظ سے لوگوں کو ایک قسم کا اشتراک حاصل ہے یا رحیم ہونے یا عالم ہونے یا مالک ہونے میں بھی وہ اِن ناموں مشترک ہوتے ہیں۔ لیکن یہ اشتراک صرف ظاہر میں ہو گا۔ حقیت دونوں کی جداگا نہ ہو گی۔ ناموں میں اشتراک محض اس لئے ہے کہ اس کے بغیر انسان خدا تعالیٰ کی صفات کو سمجھ نہیں سکتا تھا اِسی لئے خدا تعالیٰ کی صفت سے مِلتا جُلتا نام اُس کا رکھ دیا ورنہ انسان کی صفت بالکل اور رنگ کی ہے اور خدا تعالیٰ کی صفت اور رنگ کی۔ یہ طریق صرف تقریب تفہیم کے لئے اختیار کیا گیا ہے ورنہ خدا تعالیٰ کی ربوبیت اور قسم کی اور بندے کی ربوبیّت اور قسم کی۔ خدا کی رحمیّت اور قَسم کی اور بندے کی رحیمیّت اور قسم کی۔ خدا کی مالکیّت اور قسم کی ہے اور بندے کی مالکیّت اور قسم کی۔ خدا اور بندے کا اگر بعض صفات کے لحاظ سے ایک قسم کا نام رکھا جاتا ہے تو اس لئے کہ بندہ خدا تعالیٰ کی صفات کو سمجھ سکے۔ اگر ہم انسان کو بھی مالک کہتے ہیں اور خدا کو بھی مالک کہتے ہیں تو اس کا مفہوم صرف اس قدر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ میں جو مالکیّت کی صفت پائی جاتی ہے اس سے ایک ناقص تشابہ انسان کو بھی حاصل ہے نہ کہ ویسی ہی صفت انسان کو حاصل ہے۔ کیونکہ بندے کی صفت ناقص ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کی صفت کامل ہوتی ہے۔ پس فرمایا سَبِّحِ اسۡمَ رَبِّکَ الۡاَعۡلَی تیرا رب جو اعلیٰ ہے یعنی اُس کی ربوبیّت سب دوسروں سے بلند اور ارفع ہے اُس کی تسبیح کر یعنی خدا تعالیٰ کے صفاتی اسماء میں شریک ہونے کی وجہ سے لوگوں کے بعض ناقص افعال کی بناء پر لوگ خدا تعالیٰ کی صفات کے متعلق بھی کئی قسم کے شبہات میں مُبتلا ہو جاتے ہیں اور وہ یہ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ بندے اور خدا کے کام ایک جیسے ہیں۔ تُو اِن شبہات کا ازالہ کر اور خدا تعالیٰ کی ربوبیّت پر جو اعتراضات وارد ہوتے ہیں اُن کو دُور کر۔ یہ ایک لطیف اور وسیع مضمون ہے کہ صفات الٰہیہ کے ظاہری اشتراک سے دھوکا نہیں کھانا چاہئے۔‘‘

(تفسیر کبیر جلدہشتم صفحہ 393۔ 394 پرنٹ ویل امرتسر 2010ء)

قیام امن کے حوالہ سے صفات الٰہیہ کےعظیم الشان نظام کے حوالہ سے سورت الشعراء کی ابتدائی آیات کی تفسیر میں تحریر فرماتے ہیں۔
’’ہر شخص سمجھ سکتاہے کہ خالی امن کی خواہش امن پیدا نہیں کر دیا کرتی۔ کیونکہ بالعموم امن کی خواہش اپنے لئے ہوتی ہے دوسروں کے لئے نہیں ہوتی۔ چنانچہ جب لوگ کہتے ہیں۔ دولت بڑی اچھی چیز ہے توا س کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ دشمن کی دولت بھی اچھی چیز ہے بلکہ مطلب یہ ہوتاہے کہ میرے لئےاور میرے دوستوں کےلئے دولت بڑی اچھی چیز ہے اور جب وہ کہتے ہیں صحت بڑی اچھی چیز ہے توا س کے معنے بھی یہ نہیں ہوتے کہ میرے دشمن کی صحت اچھی چیز ہے بلکہ مطلب یہ ہوتاہے کہ میرے لئے صحت بڑی اچھی چیز ہے ورنہ دشمن کے متعلق توانسان یہی چاہتاہے کہ وہ نادار اورکمزور ہو۔ اسی طرح جب لو گ عزت و رتبہ کے متمنی ہوتے ہیں توہرشخص کے لئے نہیں بلکہ محض اپنے لئے۔ پس جب دنیاکایہ حال ہے توخالی امن کی خواہش بھی فساد کاموجب ہوسکتی ہے کیونکہ جولوگ بھی امن کے متمنی ہیں وہ اس رنگ میں امن کے متمنی ہیں کہ صرف انہیں اور ان کی قوم کو امن حاصل رہے۔ ورنہ دشمن کے لئے وہ یہی چاہتے ہیں کہ اس کے امن کو مٹادیں۔ اب اگر اسی اصل کو رائج کردیاجائے تودنیا میں جوبھی امن قائم ہوگا وہ چند لوگوں کا امن ہوگا۔ ساری دنیا کا نہیں ہوگا۔ اور جو ساری دنیا کاامن نہ ہو وہ حقیقی امن نہیں کہلا سکتا۔ حقیقی امن تبھی پیدا ہوسکتا ہے جب انسان کو یہ معلوم ہوکہ میرے اوپر ایک بالا ہستی ہے جو میرے لئے ہی امن نہیں چاہتی بلکہ سارے ملکو ں کے لئے امن چاہتی ہے اور اگر میں صرف اپنے لئے یاصرف اپنی قوم کے لئے یاصرف اپنے ملک کے لئے امن کامتمنی ہوں تو اس صورت میں مجھے اس کی مدد اس کی نصرت اوراس کی خوشنودی کبھی حاصل نہیں ہوسکتی۔جب یہ عقیدہ دنیا میں رائج ہوجائے تبھی امن قائم ہوسکتاہے ورنہ نہیں۔ پس اَلْمَلِکُ الْقُدُوْسُ السَّلَامُ کہہ کر قرآن کریم نے انسانی ارادوں کو پاک و صاف کردیا۔ اوریہ تسلیم شدہ بات ہے کہ جب تک ارادے درست نہ ہوں اس وقت تک کام بھی درست نہیں ہوسکتا۔دنیا میں اس وقت جتنے فساد اور لڑائیاں ہیں سب اسی وجہ سے ہیں کہ انسانوں کے ارادے صاف نہیں۔ وہ منہ سے جو باتیں کرتے ہیں ان کے مطابق ان کی خواہش نہیں اور ان کی خواہشا ت کے مطابق ان کے اقوال اور افعال نہیں۔ آج سب دنیا کہتی ہے کہ لڑائی بُری چیز ہے لیکن اس کا مطلب صرف یہ ہوتاہے کہ اگر ہمارے خلاف کوئی لڑے تویہ بُری بات ہے لیکن اگر ان کی طرف سے جنگ کی ابتداہو تو یہ کوئی بری بات نہیں سمجھی جاتی۔اوریہ نقص اسی وجہ سے ہے کہ لوگوں کی نظر ایک ایسی ہستی پر نہیں جو سلام ہے۔ وہ سمجھتے ہیں جہاں تک ہمارافائدہ ہے ہم ان باتوں پر عمل کریں گے مگر جب ہمارے مفاد کے خلاف کوئی بات آئے گی تواسے رد کردیں گے۔ مگر قرآن کریم میں جوخداتعالیٰ کے نام بتائے گئے ہیں ان سے معلوم ہوتاہے کہ وہ سب کا خداہے کسی ایک کانہیں۔اوریہی عقیدہ حقیقی امن کی طرف دنیا کولاسکتاہے کہ دنیا کا ایک خداہے جویہ چاہتاہے کہ سب لوگ امن سے رہیں۔ جب ہمارایہ عقیدہ ہوگا تواس وقت ہماری خواہشات خود غرضی پر مبنی نہیں ہوں گی۔ بلکہ دنیا کو عام فائدہ پہنچانے والی ہوں گی اس وقت ہم یہ نہیں دیکھیں گے کہ فلاں بات کا ہمیں فائدہ پہنچتاہے یانقصان بلکہ ہم یہ دیکھیں گے کہ سار ی دنیا پر اس کاکیا اثر ہے۔ یوں تودنیا ہمیشہ اپنے فائدہ کے لئے دوسروں کے امن کو برباد کرتی رہتی ہے۔لیکن اس عقیدہ کے ماتحت ایساکرنے کی جرأت اس میں نہیں ہوگی کیونکہ وہ سمجھے گی کہ اگر میں نے ایساکیا تو ایک بالا ہستی مجھے کچل کر رکھ دے گی۔ جیسے ایک بچہ دوسرے کاکھلونا چھین لیتاہے تووہ اپنے لئے امن حاصل کرلیتاہے لیکن اس کے ساتھ ہی دوسرے کا امن چھینا جاتاہے۔ اورایک توخوش ہو رہا ہوتا ہے اور دوسرا رو رہا ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں کیا تم سمجھتے ہو کہ ماں باپ یا استاد اگر وہاں موجود ہوں تو وہ اس کھیل کو جاری رہنے دیں گے؟ وہ کبھی اس کو برداشت نہیں کریں گے۔ بلکہ جس بچہ نے کھلونا چھینا ہوگا اس کاکھلونا واپس لے کر اس کے اصل مالک کو دے دیں گے۔ اورجب و ہ ایساکرتے ہیں تب بچہ سمجھتا ہے کہ وہ امن جودوسرے کے امن کو برباد کرکے حاصل کیاجاتاہے وہ کبھی قائم رہنے والانہیں ہوتا۔حقیقی امن وہی ہوتاہے جوایسی صورت میں حاصل ہو جب کہ کسی کے حق کو تلف نہ کیا گیا ہو۔

غرض حقیقی امن اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتا جب تک ایک بالا ہستی تسلیم نہ کی جائے اوریہ عقیدہ کہ اللہ تعالیٰ امن دینے والا ہے صرف اسلام نے ہی پیش کیا ہے اور اس نے کہا ہے کہ اَلْمَلِکُ الْقُدُوْسُ السَّلَامُ۔

اس کے بعد وہ پیغام ہے جو اس ہستی کی طرف سے آتاہے۔ کیونکہ جب ایک امن قائم رکھنے کی خواہشمند ہستی کاپتہ مل گیا۔ توانسان کے دل میں یہ معلوم کرنے کی بھی خواہش پیداہوجاتی ہے کہ آیا اس نے امن قائم کرنے کاکوئی سامان بھی کیاہے یانہیں۔ کیونکہ اگر اس نے امن قائم کرنے کا کوئی سامان نہیں کیا تویہ لازمی بات ہے کہ اگر ہم خود امن قائم کرنے کی کوشش کریں گے تو اس بات کا امکان ہوسکتاہے کہ بجائے امن کے فساد پیدا کر دیں۔ پس محض امن قائم کرنے کی خواہش انسان کو صحیح راستہ پر قائم نہیں کر سکتی جب تک ایک بالاہستی کی ایسی ہدایات بھی معلوم نہ ہوں جوامن قائم کرنے میں ممد اورمعاون ہوں۔ کیونکہ اگر انسان کو اپنے بالا افسر کی خواہشات کا صحیح علم نہ ہو توانسان باوجود اس آرزو کے کہ وہ اس کے احکام کی اطاعت کرے اسے پوری طرح خوش نہیں رکھ سکتا۔ پس اگر ہمیں اپنے بالا افسر کی خواہش تومعلوم ہولیکن اس خواہش کو پورا کرنے کاطریق معلوم نہ ہو۔ تب بھی ہماراامن قائم نہیں رہ سکتا کیونکہ ممکن ہے ہم کوئی اورطریق اختیار کریں اوراس کا منشاء کو ئی اورطریق اختیار کرنا ہو۔ پس ہمارے امن کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ و ہ بالاہستی ہمیں کوئی ایساذریعہ بھی بتائے جو امن قائم کرنے والاہو۔سوا س غرض کے لئے جب ہم قرآن کریم کو دیکھتے ہیں اوریہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آیا اس نے کوئی ایساذریعہ بتایا ہے یانہیں توسور ہ بقرہ میں اس کا جواب نظر آتاہے اللہ تعالیٰ فرماتاہے:۔ وَاِذْ جَعَلْنَا الْبَیتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَاَمْنًا (بقرہ: 126) یعنی یہ جو آسمان پر سلام خداکی خواہش ہے کہ دنیا میں امن قائم ہو اس کے لئے ضروری تھا کہ ہم ایک مرکز قائم کرتے جودنیا کوامن دینے والا ہوتا۔ سو ہم نے بیت اللہ کو مدرسہ بنایا۔ یہاں چاروں طرف سے لوگ جمع ہوں گے اور امن کاسبق سیکھیں گے۔ پس ہمارے خدانے صرف خواہش ہی نہیں کی۔ صرف یہ نہیں کہا کہ تم امن قائم کروورنہ میں تم کو سزادوں گا۔ بلکہ اس دنیا میں اس نے امن کا ایک مرکز بھی قائم کردیا اوروہ خانہ کعبہ ہے۔ فرماتاہے۔ یہاں لوگ آئیں گے اورا س مدرسہ سے لوگ امن کاسبق سیکھیں گے۔

پھریہ کہ اس مدرسہ کی تعلیم کیا ہوگی۔ اس کے لئے بھی رسول کریمؐ نے خداسے خبر پاکر اعلان فرمادیا کہ قَدۡ جَآءَکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ نُوۡرٌ وَّکِتٰبٌ مُّبِیۡنٌ﴿ۙ۱۶﴾ یَّہۡدِیۡ بِہِ اللّٰہُ مَنِ اتَّبَعَ رِضۡوَانَہٗ سُبُلَ السَّلٰمِ (مائدہ:16۔17) یعنی اے لوگو!تم تاریکی میں پڑے ہوئے تھے۔ تم کو یہ پتہ نہیں تھاکہ تم اپنے خداکی مرضی کو کس طرح پوراکرسکتے ہو۔اس لئے دنیا میں ہم نے تمہارے لئے ایک مدرسہ بنادیاہے۔ مگرخالی مدرسہ کام نہیں دیتا جب تک کتابیں نہ ہوں۔ پس فرمایا قَدۡ جَآءَکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ نُوۡرٌ وَّکِتٰبٌ مُّبِیۡنٌ خداکی طرف سے تمہارے پاس ایک نور آیا ہے جومحمدؐ کی ذات ہے اوراس کے ساتھ ایک کتاب مبین ہے۔ایسی کتاب جو ہرقسم کے مسائل کو بیان کرنے والی ہے۔ پس خداتعالیٰ نے اسلام کے لئے امن کا مدرسہ بھی قائم کردیا۔ امن کا کورس بھی مقرر کردیا اورمدرسِ امن بھی بھیج دیا۔مدرّسِ امن محمدؐ ہیں ااور امن کاکورس وہ کتاب ہے جو یَّہۡدِیۡ بِہِ اللّٰہُ مَنِ اتَّبَعَ رِضۡوَانَہٗ سُبُلَ السَّلٰمِکی مصداق ہے۔ جو شخص خدا کی رضاحاصل کرنا چاہتا ہے۔ اسے چاہیئے کہ اس کتاب کو پڑھے اس میں جس قدر سبق ہیں وہ سُبُلَ السَّلَامِ یعنی سلامتی کے راستے ہیں۔ اور کوئی ایک حکم بھی ایسا نہیں جس پر عمل کرکے انسانی امن برباد ہوسکے۔ ایک بالاہستی کا وجود ہی ہمارے ارادوں کو درست کرتاہے۔ مدرسہ کاقیام ہماری عملی مشکلات کو حل کرنے میں مدد دیتا ہے اور محمدؐ کی ذات اس کتا ب کی عملی تفسیر ہے۔ جیسا کہ آپ فرماتے ہیں ک میرے ذریعہ خداتعالیٰ نے وہ کتاب بھیج دی ہے جس میں وہ تمام تفصیلات موجود ہیں جن سے امن حاصل ہوسکتاہے۔

اب یہ سوال رہ جاتاہے کہ یہ امن جو اسلام قائم کرنا چاہتا ہے کس کے لئے ہے؟ اللہ تعالیٰ اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتاہے۔ قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ وَسَلٰمٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیۡنَ اصۡطَفٰی (نمل: 60) یعنی اے محمد! ؐ تو کہہ دے الحمد للّٰہ سب تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس نے دنیا میں امن قائم کر دیا اور انسان کی تڑپ اور فکر کو دور کر دیا۔ اور کہو وَسَلٰمٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیۡنَ اصۡطَفٰیوہ بندے جو خداتعالیٰ کے پسندیدہ ہوجائیں اور اپنے آپ کو اس کی راہ میں فداکردیں ان کے لئے بھی امن پیدا ہو جائے گا اوروہ بھی با امن زندگی بسر کرنے لگ جائیں گے۔ یہاں محمدؐ رسول اللہ نے بتایاکہ تمام لوگ جو آپ کی اتباع کرنے والے اور آپ کے مدرسہ میں تعلیم حاصل کرنے والے ہیں ان کے لئے کامل امن ہے اور وہ اپنی زندگی کے کسی حصہ میں بھی بدامنی نہیں دیکھ سکتے۔

پھر سوال پیدا ہوتا تھا کہ جب خدا سلام ہے تواس کی طرف سے امن ساروں کے لئے آناچاہئے۔ نہ کہ بعض کے لئے۔کیونکہ اگر خالی اپنوں کے لئے امن ہوتو یہ کو ئی کامل امن نہیں کہلاسکتا۔ اس کابھی اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں جواب دیتاہے۔ فرماتاہے۔ وَقِیۡلِہٖ یٰرَبِّ اِنَّ ہٰۤؤُلَآءِ قَوۡمٌ لَّا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿ۘ۸۹﴾ فَاصۡفَحۡ عَنۡہُمۡ وَقُلۡ سَلٰمٌ ؕ فَسَوۡفَ یَعۡلَمُوۡنَ (زخرف: 89۔90) یعنی محمدؐرسول اللہ ایک ایسی تعلیم لے کرآئے ہیں جوساروں کے لئے ہی امن کاموجب ہے اورہرشخص کے لئے وہ رحمت کا خزانہ اپنے اندر پوشیدہ رکھتی ہے۔ مگر افسوس کہ لوگ اس کو نہیں سمجھتے۔ بلکہ وہ اس تعلیم کے خلاف لڑائیاں اورفساد کرتے ہیں جوان کے لئے نوید اورخوشخبری ہے یہاں تک کہ محمدؐ کوبھی یہ کہنا پڑا کہ خدایامیں اپنی قوم کی طرف امن کا پیغام لے کرآیا تھا مگر اِنَّ ہٰۤؤُلَآءِ قَوۡمٌ لَّا یُؤۡمِنُوۡنَ یہ قوم جس کے لئے میں امن کاپیغام لایاتھا یہ تومجھے بھی امن نہیں دے رہی اٰمَنَ کے معنے ایمان لانے کے بھی ہوتے ہیں اور اٰمَنَ کے معنے امن دینے کے بھی ہوتے ہیں (اقرب) قِیۡلِہٖ یٰرَبِّ اِنَّ ہٰۤؤُلَآءِ قَوۡمٌ لَّا یُؤۡمِنُوۡنَ میں اسی امر کا ذکر ہے کہ ہمارا نبی ہم سے پکار پکار کر کہتا ہے کہ خدایا باوجود یکہ میں اپنی قوم کے لئے امن کا پیغام لایا تھا وہ اس کی قدر کرنے کی بجائے میری مخالفت پر کمر بستہ ہو گئی ہے یہاں تک کہ ان لوگوں نے میرے امن کو بالکل برباد کر دیا۔ مگر فرمایا۔ فَاصۡفَحۡ عَنۡہُمۡ۔ ہم نے اپنے نبی سے یہ کہا ہے کہ ابھی ان لوگوں کو تیری تعلیم کی عظمت معلوم نہیں اس لئے وہ غصہ میں آجاتے اور تیری مخالفت پر کمر بستہ رہتے ہیں توان سے درگذر کر۔ کیونکہ ہم نے تجھے امن کے قیام کے لئے ہی بھیجا ہے وَقُلْ سَلَامٌ۔ اور جب تجھ پریہ لوگ حملہ کریں اور تجھے ستائیں توتویہی کہتا رہ کہ میں تو تمہارے لئے سلامتی لایاہوں فَسَوۡفَ یَعۡلَمُوۡنَ عنقریب دنیا کومعلوم ہوجائے گا کہ محمدؐ دنیا کے لئے امن لایا تھا۔ لڑائی نہیں لایاتھا۔ گویا وہ امن جو رسول کریمؐ لائے وہ صرف مومنوں کے لئے ہی امن نہ رہا۔ بلکہ سب کے لئے امن ہوگیا۔

پھر صرف محمدؐ کو ہی نہیں بلکہ تمام مومنوں کو مخاطب کرکے اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ وَّاِذَا خَاطَبَہُمُ الۡجٰہِلُوۡنَ قَالُوۡا سَلٰمًا (فرقان:64)وہ جاہل جو اسلام کی غرض و غایت کونہیں سمجھتے جب مسلمانوں سے لڑناشروع کردیتے ہیں۔ تومومن کہتے ہیں کہ ہم توتمہاری سلامتی چاہتے ہیں چاہے تم ہمارابُراہی کیوں نہ چاہو۔ جب دشمن کہتاہے کہ تم کیسے گندے عقائد دنیا میں رائج کررہے ہو۔تووہ کہتے ہیں یہ گندے عقائد اوربیہودہ باتیں نہیں۔ بلکہ سلامتی کی باتیں ہیں۔گویارسول کریمؐ کی لائی ہوئی سلامتی صرف رسول کریمؐ کے لئے ہی نہیں بلکہ مومنوں کے لئے بھی ہے۔ اورصرف مومنوں کے لئے ہی نہیں بلکہ ساری دنیا کے لئے ہے۔

پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ سلامتی عارضی ہے یامستقل۔ کیونکہ یہ توہم نے مانا کہ السَّلام خدا سے امن لاکر محمدؐ رسول اللہ نے دنیا کو دیا۔ مگر بعض امن عارضی بھی ہوتے ہیں جن کے نیچے بڑی بڑی خرابیاں پوشیدہ ہوتی ہیں جیسے بخار کامریض جب ٹھنڈا پانی پیتاہے تو اسے بڑا آرام محسوس ہوتاہے۔ مگر دومنٹ کے بعد یکدم اس کابخار تیز ہو جاتا ہے۔ اور کہتا ہے ’’آگ لگ گئی‘‘ پھر برف پیتا ہے۔ اور سمجھتا ہے کہ آرام آگیا مگر یکدم اسے بے چینی شروع ہوجاتی ہے۔ پس سوال ہوسکتاہے کہ محمدؐ رسول اللہ جوامن دے رہے ہیں یہ عارضی ہے یا مستقل؟ اس کاجواب دیتے ہوئے فرماتاہے: وَاللّٰہُ یَدۡعُوۡۤا اِلٰی دَارِ السَّلٰمِ (یونس:26) کہ دنیا فسادوں کی طرف لے جاتی ہے مگر محمدؐ رسول اللہ کے ذریعہ جو تعلیم دی گئی ہے وہ موجودہ زمانہ ہی کے لئے نہیں۔ بلکہ وہ ایک ایسا امن ہے جو مرنے کے بعد بھی چلتا چلا جاتا ہے اور جو اس دنیا کے بعد ایک ایسے گھر میں انسان کو پناہ دیتاہے جہاں سلامتی ہی سلامتی ہے گویا یہ زنجیر ایک مکمل زنجیر ہے۔ اس کے ماضی میں ایک سلام ہستی کھڑی ہے اس کے حال میں امن ہے کیونکہ ایک مدرسہ امن جاری ہوگیاہے اور ایک مدرّسِ امن خداتعالیٰ نے بھیج کر امن کاکورس بھی مقررکردیا۔ اور عملی طور پر ایک ایسی جماعت تیار کردی جو وَّاِذَا خَاطَبَہُمُ الۡجٰہِلُوۡنَ قَالُوۡا سَلٰمًا کی مصداق ہے۔ پس اس کے ماضی میں بھی امن ہے اوراس کے حاضر میں بھی امن ہے۔پھر اس کے مستقبل میں بھی امن ہے۔کیونکہ وَاللّٰہُ یَدۡعُوۡۤا اِلٰی دَارِ السَّلٰمِ مرنے کے بعدوہ انسان کو ایک ایسے جہان میں لے جائے گا۔ جہاں سلامتی ہی سلامتی ہوگی۔پس یہ ساری زنجیر مکمل ہوگئی اورکوئی جزو تشنہ تکمیل نہ رہا۔‘‘

(تفسیر کبیر جلدہفتم صفحہ51-55 پرنٹ ویل امرتسر 2010ء)

ملائکۃ اللہ کا موضوع بھی ماہرین علم کلام و متکلمین مفسرین کے ہاں ایک اہم موضوع ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ فرشتوں کے بارہ میں فرماتے ہیں۔
’’فرشتے دو قسم کے ہوتے ہیں۔ اوّل وہ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے کلام لاتے ہیں۔ دوّم وہ جو اس کلام کو یا قضاء قدر کو دنیا میں جاری کرتے ہیں۔ جو فرشتے کلام الٰہی لانے والے ہوتے ہیں ان کو روح القدس کہتے ہیں۔ خصوصاً کلام لانے والے فرشتوں کاسردار جبرائیل روح القدس کہلاتا ہے۔‘‘

(تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ 20 پرنٹ ویل امرتسر 2010ء)

کیا ہاروت و ماروت فرشتے تھے؟ اس بارہ میں آپ فرماتے ہیں۔
’’جن لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ہَارُوْت و مَارُوْت دو فرشتے تھے جنہوں نے بابل میں آکر لوگوں کو سحر سکھلایا اور اُن کے ایمان کی آزمائش کی وہ قرآن کریم کے مطالب سے آگا ہ نہیں۔ ورنہ جب دنیا میں فرشتے نہیں بستے تو فرشتے رسول بن کر کیوں آئیں پس یہ قطعی طور پر محال ہے کہ بجائے انسان کے فرشتے لوگوں کی ہدایت کے لئے آیا کریں۔تاریخ پڑھ کر دیکھ لو ہمیشہ رَجُل ہی نبی بن کر آیا ہے۔ نہ کبھی عورت نبی بنی ہے اور نہ ہی کبھی کوئی غیر انسان نبی ہو کر آیا ہے۔

پس یا تو اس کے یہ معنے کرنے پڑیں گے کہ ہارُوْت و مَارُوْت دونوں ملکوتی صفات انسان تھے جیسے حضرت یوسفؑ کے متعلق آتا ہے کہ اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا مَلَکٌ کَرِیۡمٌ اور یا یہ ماننا پڑے گا کہ اگر وہ واقعی فرشتے تھے تو وہ دو نبیوں پر اُترے تھے نہ کہ عام لوگوں کی طرف مبعوث ہوئے تھے کیونکہ جیسا کہ قرآن کریم کی آیت قُلۡ لَّوۡ کَانَ فِی الۡاَرۡضِ مَلٰٓئِکَۃٌ یَّمۡشُوۡنَ مُطۡمَئِنِّیۡنَ (بنی اسرائیل:96) سے ظاہر ہے فرشتے مُطۡمَئِنِّیۡنَ کی طرف آیا کرتے ہیں یعنی ان لوگوں کی طرف جو نیک اور پاک اور خدا رسیدہ ہوں۔ بدیوں سے کلی طور پر اجتناب کرنے والے ہوں۔ ہر قسم کے رزائل سے محفوظ ہوں اور الہٰی انعامات اور برکات کے مورد ہوں۔ مُطۡمَئِنِّیۡنَ کی یہ وہ تعریف ہے جو قرآن کریم نے اس آیت میں بیان کی ہے یٰۤاَیَّتُہَا النَّفۡسُ الۡمُطۡمَئِنَّۃُ ﴿٭ۖ۲۸﴾ ارۡجِعِیۡۤ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرۡضِیَّۃً ﴿ۚ۲۹﴾ فَادۡخُلِیۡ فِیۡ عِبٰدِیۡ ﴿ۙ۳۰﴾ وَادۡخُلِیۡ جَنَّتِیۡ (فجر: 28-29) پس مُطۡمَئِنِّیۡنَ سے مراد وہ لوگ ہیں جو نفس مطمئنہ رکھنے والے ہوں۔ یہ مراد نہیں کہ اطمینان سے زمین میں کھاتے پیتے اور چلتے پھرتے ہوں۔ اور لڑائیوں سے اجتناب کرتے ہوں۔ اور درحقیقت ایسے ہی لوگوں پر ملائکہ کلامِ الہٰی لے کر نازل ہوتے ہیں۔ یہ کبھی نہیں ہوا کہ کفار پر ملائکہ نازل ہوئے ہوں اور اُنہیں اللہ تعالیٰ کے پیغامات پہنچائے گئے ہوں۔‘‘

(تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ 66 پرنٹ ویل امرتسر 2010ء)

مناظراتی منہج / مناظرانہ رجحان

یہ خاص اسلوب برصغیر میں تب رائج ہوا جب انیسویں صدی کے آواخر میں ہندوستان مذاہب کا اکھاڑا بن چکا تھا۔ مختلف تحریکیں جنم لے چکی تھیں، جن میں ایک طرف عیسائی زور و شور سے اپنے مذہب کا پرچار کرتے ہوئے Christ for Asia کا نعرہ بلند کر رہے تھے اور ہندو احیائیت کی تحریک آریہ سماج کے سرغنہ پنڈت سوامی دیانند سرسوتی (1827ء تا 1883ء) نے بھی اسلام پر حملوں کا ایک بازار گرم کئے رکھا تھا۔ اس وقت اسلام کے مخالف علماء کو جواب دینے اور اسلام کے پاکیزہ چہرہ پر سے یہ داغ مٹانے اور اسلام کا خوبصورت چہرہ دنیا کو دکھانے کے لئے یہ اسلوب یا رجحان علم تفسیر میں بھی در آیا۔

اس منہج پر لکھی جانے والی تفاسیر میں سے معروف تفاسیر کو مثال کے طور پر پیش کیا جائیگا۔

مناظراتی منہج پر لکھی جانے والی تفاسیر

برصغیر میں اس منہج پر لکھی جانے والی تفاسیر میں مندرجہ ذیل قابل ذکر ہیں۔

  • تفسیر فتح المنّان المعروف بہ تفسیر حقانی از مولانا عبدالحق حقانی (1850ء تا 1916ء)
  • تفسیر القرآن بکلام الرحمن(عربی) از مولوی ثناء اللہ امرتسری (1868ء تا 1948ء)
  • تفسیر القرآن (عربی) از مولوی ثناء اللہ امرتسری (1868ء تا 1948ء)
  • تفسیر ثنائی از مولوی ثناء اللہ امرتسری ( 1868ء تا 1948ء)

تفسیر کبیر از حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمدؓ 
میں مناظرانہ منہج کی چند مثالیں

حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمدؓ صاحب نے جماعت احمدیہ کی جانب سے پیش کردہ تفاسیر کی ایک اصل یہ بھی بتائی۔
’’ہماری کتب میں یورپین لوگوں کے زہریلے اثرات کا دفاع زیادہ مدنظر ہوتا ہے اور وہ ایسی لغات پر کم یقین رکھتے ہیں جو تفسیری رنگ رکھتی ہیں۔اس لئے ان کے خیال سے میں زیادہ تر ایسی لغات کا حوالہ دیتا ہو ں جو خالصاً ادبی ہوں اور خصوصاً جن کے مصنف مسیحی ہوں یا یوروپین لوگوں یامغرب زدہ لوگوں کے لئے محل انکار باقی نہ رہے۔‘‘

(تفسیر کبیر جلد دہم صفحہ 352 پرنٹ ویل امرتسر 2010ء)

دردو شریف کی دعا کی برکات کو کھولتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الثا نیؓ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں

’’آجکل اسلام کے خلاف سب سے بڑا فتنہ عیسائیت کاہے۔ اور عیسائیت اس بات کی مدعی ہے کہ حضرت عیسیٰؑ حضرت ابراہیمؑ کی اولاد میں سے تھے پس درود میں یہ دعا سکھائی گئی ہے کہ سے خدا یہ جتنی ترقیاں عیسائیت کو مل رہی ہیں یہ حضر ت ابراہیمؑ کے ان وعدوں کی وجہ سے ہیں جو تو نے ان سے کیے تھے۔ ہم تجھ سے درخواست کرتے ہیں کہ ابراہیمی وعدوں کی وجہ سے اس کی ایک شاخ جو اسحاقؑ سے تعلق رکھتی تھی اس پر جو تو نے فضل نازل کئے ہیں اس سے بڑھ کر اسمائیلؑ کی نسل یعنی محمدؐ اور آپ سے تعلق رکھنے والوں پرفضل نازل فرما۔ اگر اللہ تعالیٰ ادھر سے اپنی برکتیں ہٹالے اور ان کا رخ اسمائیلؑ کی نسل کی طرف پھر دے تو عیسایت ایک دن میں ختم ہوجاتی ہے پس یہ ایک عظیم الشان دعاہے جو اسلام اور مسلمانوں کی ترقی کے لئے سکھائی گئی ہے اور پھر یہ ایک ایسی دعا ہے جس میں دنیا کے ہر ملک اور ہر علاقے کامسلمان شامل ہے گویا یہ ایسی کامل دعا ہے کہ نہ آقا اس سے باہر رہتاہے۔ اور نہ امت محمدیہ کاکوئی فرد باہر رہتاہے آجکل یورپین اقوام کو جو طاقت حاصل ہے یہ صرف ان وعدوں کی وجہ سے جو اسحاقؑ کی نسل سے کئے گئے تھے اگر اب اسماعیلؑ کی نسل سے اس کے وعدے پورے ہونے شروع ہوجائیں۔ تو عیسائیت اس طرح ختم ہوجائے گی جس طرح محمدؐ کے آنے پر حزقیل، یرمیاہ، یسعیاہ، اور یحییٰ وغیرہ ختم ہوگئے ہیں اور اسلام کو وہ شوکت حاصل ہوجائے گی جو مسلمانوں کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہے۔‘‘

(تفسیر کبیر جلد پنجم صفحہ534 535- پرنٹ ویل امرتسر 2010ء)

آپ الوہیت مسیح کے عقیدہ کے بارہ میں لکھتے ہیں

’’پس اگر مسیحؑ آسمان پر جانے کی وجہ سے خدایا خداکا بیٹا کہلا سکتاہے تو ادریسؑ کی الوہیت کا بھی مسیحی دنیا کو اقرار کرنا چاہئے کیونکہ بائبل کی رو سے وہ بھی آسما ن پر اٹھایا گیا تھا۔ بہر حال ادریس ایک ایساوجود ہے جس کے ذریعہ مسیحی دنیا کے اس خیال کی تردید ہوتی ہے جس پر مسیح کی الوہیت کی بنیاد رکھی گئی ہے یعنی مسیح کا آسمان پر زندہ چلے جانا اور صرف یہی ایک حصہ تھا جس کی ابھی تک تردید نہیں ہوئی تھی۔باقی سب باتوں کی خداتعالیٰ نے تردید کردی تھی مگر عیسائیوں کے اس خیال کی ابھی تردید باقی تھی کہ مسیح آسمان پر چلا گیا ہے اور یہ ایک ایسی بات تھی جو پہلے کسی نبی میں تسلیم نہیں کی جاتی۔ نہ زکریاؑ کے متعلق لوگ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ آسمان پر گئے نہ یحییٰؑ کے متعلق لوگ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ آسمان پر گئے نہ ابراہیمؑ کے متعلق لوگ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ آسمان پر گئے نہ اسحاقؑ اور یعقوبؑ کے متعلق لوگ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ آسمان پر گئے نہ موسیٰؑ کے متعلق لوگ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ آسمان پر گئے ہیں نہ ہارونؑ کے متعلق لوگ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ آسمان پر گئے نہ اسماعیلؑ کے متعلق لوگ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ آسمان پر گئے۔صرف ادریسؑ کے متعلق کہا جاتاہے کہ وہ آسمان پر گئے اور روایات کے مطابق جس شان سے ادریسؑ کا آسمان پرجانا بتایا گیا ہے اس شان سے مسیح کا بھی آسمان پر جا ناثابت نہیں۔ پس وَاذۡکُرۡ فِی الۡکِتٰبِ اِدۡرِیۡسَ ۫ اِنَّہٗ کَانَ صِدِّیۡقًا نَّبِیًّا وَّرَفَعۡنٰہُ مَکَانًا عَلِیًّا میں بتایا کہ مسیح کے متعلق تم کہتے ہوکہ وہ آسما ن پر گیا۔ ہم تمہارے سامنے ادریسؑ کو پیش کرتے ہیں۔ادریسؑ کے حالات مسیح کے حالات سے زیادہ بہت شاندار ہیں پس اگر ان حالات کی وجہ سے جو مسیح کو پیش آئے وہ الوہیت میں شریک ہوسکتاہے تو ادریس اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ اسے خداتعالیٰ کی الوہیت میں شریک قرار دیاجائے۔

قرآن کریم میں بھی مسیح کے متعلق تو صرف اتناہی آتاہے کہ رَفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ (نساء:159) خدا نے اسے اپنی طرف اٹھا لیا مگر ادریس کے متعلق فرماتاہے کہ رفعنہ مکانا علیا ہم نے اسے ایک بلند مقام پر اٹھالیا چنانچہ معراج کی حدیث میں بھی آتاہے کہ رسول کریم ﷺ نے حضرت مسیح کو دوسرے آسمان پر اور ادریسؑ کو چوتھے آسمان پر دیکھا۔گویا وہ مسیح سے بھی اونچا اٹھایا گیا۔ پس اگر ان الفاظ پر بنیا د رکھتے ہوئے تم مسیح کو خدا قرا دیتے ہو تو ادریسؑ کو کیوں خدا قرار نہیں دیتے۔‘‘

( تفسیر کبیر جلد پنجم صفحہ 313۔ 314 پرنٹ ویل امرتسر 2010ء)

آپ آریہ سماج کے ایک عقیدہ کا قرآنی آیت سے ردّ کرتے ہوئے، سورت النحل کی آیت 4 کی تفسیر میں فرماتے ہیں:’’ تَعالیٰ عَمَّایُشْرِکُوْنَ فرمایا کہ جوانسان آسمان اور زمین کو بالحق نہیں مانتا۔وہ لازماً مشرک بنتا ہے۔ کیونکہ کوئی عقلمند یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس جہان کوخدانے بنایا ہے مگراس میں مقصد کوئی مقرر نہیں کیا۔کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ نے اسے بنایا ہے توضرور اس کاکوئی مقصد ہے۔ اوراگر اس کاکوئی مقصد نہیں۔ تو یقینا خدا نے نہیں بنایا۔بلکہ یہ خودبخود ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ ذرّہ ذرّہ خدا کاشریک ہے۔ دوسرے معنے یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ زمین و آسمان کابنانا حق کے ساتھ ہے۔ یعنی ان کا مادہ ہمارا پیدا کردہ ہے۔ اس لئے اس میں تصرف کاہم کو حق حاصل ہے۔اس میں ان لوگوں کاردّ ہے جو ایک طرف خداتعالیٰ کو مادہ کا خالق نہیں سمجھتے۔ دوسری طرف اس کی ترکیب کا فاعل خداتعالیٰ کو قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ جو خالق نہیں۔ اُسے کیا حق حاصل ہے کہ س میں تصرف کرے اور ایک موجود بالذات کو اپنے حکم کے نیچے لائے یہ توظلم ہوجاتا ہے۔ اور نیز یہ عقید ہ مشرکانہ بھی ہے۔ کہ خداتعالیٰ کے ساتھ ان گنت وجودوں کو ازلی قرار دیا گیا ہے۔‘‘

( تفسیر کبیر جلد چہارم صفحہ 128 پرنٹ ویل امرتسر 2010ء)

قرآن کریم میں اللہ کی صفت رحمانیت کا مضمون کھولتے ہوئے اس سے تمام مذاہب باطلہ کا ردّ کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
’’پس إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَمَسَّكَ عَذَابٌ مِنَ الرَّحْمٰنِ کے یہ معنے ہیں کہ میں ڈرتاہوں کہ تجھ پر وہ عذاب نازل نہ ہوجو رحمانیت کی صفت کی وجہ سے نازل ہوتاہے۔ تمہیں خدا نے مالک بنایا تھا پتھروں کا، تمہیں خدا نے مالک بنایا تھا آگ کا، تمہیں خدانے مالک بنایا تھا ہوا کا، تمہیں خد انے مالک بنایا تھا پانی کا، اور یہ ساری چیزیں وہ ہیں جو خدا تعالیٰ نے اپنی رحمانیت کی وجہ سے تم کو دیں مگرا نہیں چیزوں کو تم نے اس کا شریک بنالیا۔

دنیا میں جس قدر بت پائے جاتے ہیں وہ سارے کے سارے رحمانیت کے ماتحت آتے ہیں۔ حضر ت عیسیٰؑ کو خداتعالیٰ نے بھیجا اور اس لئے بھیجا کہ وہ اس کے بندوں کی خدمت کریں مگر لوگوں نے انہی کو خداکا بیٹا بنا لیا تو شرک ہمیشہ رحمانیت کی صفت کے انکار کے نتیجہ میں پیدا ہوتاہے۔ اسی لئے ہندو اور عیسائی خدا تعالیٰ کو رحمن نہیں مانتے۔ ہندوؤں نے جب اپنی تعلیم پر غور کیا تو انہیں ماننا پڑا کہ خدا روح اور مادہ کا خالق نہیں۔ اگر وہ اسے خالق مانیں توساتھ ہی اسے رحمن بھی ماننا پڑے گا اور رحمان ماننے سے ہندو مذہب ختم ہوجاتاہے۔ اسی طرح عیسائی خدا تعالیٰ کو رحمن مانیں تو انہیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ شریعت لعنت نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی رحمانیت کا تقاضا ہے کہ اس کی طرف سے ہدایت آئے اور جب شریت لعنت نہیں بلکہ اس پر عمل کرکے انسان نجات پاسکتاہے تو کفارہ کا انکار کرنا پڑا۔ کفارہ کے انکار سے مسیح کی ابنیت ختم ہوگئی اور جب مسیح کی ابنیت ختم ہوگئی تو عیسائیت بھی فنا ہو گئی۔‘‘

(تفسیر کبیر جلد پنجم صفحہ 278 279- پرنٹ ویل امرتسر 2010ء)

’’مسلمانوں کے بڑے بڑے لیڈر یورپ کے سامنے ہمیں اپالوجی APOLOGY کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان میں یہ ہمت نہیں ہوتی کہ وہ کھلے اور واضح الفاظ میں مغرب کی برائی اس پر ظاہر کرسکیں۔ سید امیر علی صاحب نے اپنی کتب میں یورپین مصنفین کے اعتراضات کا جواب دینے کی کوشش کی ہے مگر انہوں نے سب جگہ اپالوجی سے کام لیا ہے اور کہا ہے کہ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ یورپین مصنفین کے اسلام کے خلاف اعتراضات درست ہیں مگر ہماری التجا صرف اس قدر ہے کہ اسلام کے متعلق زیادہ سخت رائے قائم نہ کی جائے کیونکہ اسلام ایسے زمانہ میں آیا تھا جب دنیا ابھی ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے تھی۔ اس لئے اس کے کئی مسائل موجودہ زمانہ کی ضروریات کے لئے مکتفی نہیں ہوسکتے۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپالوجی کو بالکل ردّ کرتے ہوئے کھلے الفاظ میں یورپین لوگوں پر ان کی گمراہی ثابت کی ہے اور بتایا ہے کہ اسلام نے جو کچھ کہا ہے اس کا ایک ایک حرف درست ہے۔ اس پر اعتراض کرنا خود اپنی حماقت کا ثبوت بہم پہنچانا ہے۔ چنانچہ آج تک ہم دشمنوں کی طرف سے اسی وجہ سے گالیاں کھاتے ہیں کہ ہم نے آریوں پر بھی اعتراضات کئے۔ ہم نے ہندوؤں پربھی اعتراضات کئے۔ ہم نے سکھوں پر بھی اعتراضات کئے۔ ہم نے عیسائیوں پر بھی اعتراضات کئے۔ ہم نے جینیوں اور بدھوں پر بھی اعتراضات کئے۔ ہم نے زرتشتیوں پر بھی اعتراضات کئے۔ ہم نے یہودیوں پر بھی اعتراضات کئے۔ غرض کوئی مذہب اور فرقہ ایسا نہیں جس کی اسلام کے مقابلہ میں ہماری طرف گمراہی ثابت نہ کی گئی ہو اور ہم نے ان پر ایسے وزنی اعتراضات نہ کئے ہوں کہ جن کا جواب دینا ان کے لئے بالکل ناممکن ہے۔ مگر بجائے اس کے کہ مسلمان ہمارے اس کام کی قدر کرتے انہوں نے الٹا ہمیں گالیاں دینا شروع کردیا اور کہتے لگے کہ ہم اسلام کے خلاف غیرمسلموں کو اشتعال دلارہے ہیں۔ چنانچہ ابھی تھوڑے ہی دن ہوئے مظہر علی صاحب اظہر کا ایک رسالہ میں نے دیکھا جس میں انہوں نے اس بات پر بڑا زور دیا ہے کہ آریوں نے اگر اسلام اور محمدؐ رسول اللہ کو گالیاں دیں تو اس کی بڑی وجہ مرزا صاحب نے آریوں پر اعتراضات کرنے شروع کردیئے تھے۔ اگر وہ اعتراضات نہ کرتے تو آریہ بھی اسلام کی مخالفت نہ کرتے۔ گویا دوسرے الفاظ میں مظہرعلی صاحب اظہر یہ کہنا چاہتے ہیں کہ مرزا صاحب کو دشمن کے مقابلہ میں اپالوجی کرنی چاہئے تھی۔ بجائے اس کے کہ اس کے اعتراضات کے جواب دیتے کہتے کہ خدا کے واسطے آپ ہم پر سختی نہ کریں۔ محمدؐ رسول اللہ تو نعوذ باللہ ایک جاہل امت کے سردار تھے وہ موجودہ زمانہ کے مسائل کو کہا ں سمجھ سکتے تھے یا قرآن کریم کی تعلیم نعوذ باللہ موجودہ زمانہ میں کام نہیں آسکتی۔ یہ تو صرف عرب کے لئے مخصوص تھی۔ موجودہ زمانہ میں مغربی علوم ہی لوگوں کو اعلیٰ مقام تک پہنچاسکتے ہیں۔ مگر چونکہ مرزا صاحب نے ایسا نہیں کیا بلکہ انہوں نے کھلے طور پر کہا کہمحمدؐرسول اللہ سب انبیاء سے افضل ہیں۔ قرآن کریم کی تعلیم دنیا کی تمام تعلیموں سے اعلیٰ ہے۔ جاہل اور احمق وہ لوگ ہیں جو آپ پر اعتراضات کرتے ہیں اور قرآنی تعلیم کی حقیقت کو نہیں سمجھتے اس لئے بقول مظہرعلی صاحب آریوں کو جوش آگیا اور وہ اسلام کا مقابلہ کرنے لگ گئے۔ اگر مرزا صاحب ایسا نہ کرتے تو ان کو بھی مقابلہ کا جوش پیدا نہ ہوتا۔ غرض سب مسلمانوں کے دلوں میں آج امید بالکل مٹ چکی ہے۔ صرف ہماری جماعت ایسی ہے جو اپنے اندر ایک پرامید دل رکھتے ہوئے مغرب کی گمراہی ثابت کررہی ہے اور یقین رکھتی ہے کہ مغرب اس کے مقابلہ میں کبھی جیت نہیں سکتا۔‘‘

(تفسیر کبیر جلد نہم صفحہ 561-562، پرنٹ ویل امرتسر 2010ء)

(بقیہ آئندہ بروز منگل ان شاء اللہ)

پچھلا پڑھیں

ایک سبق آموزبات

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 27 ستمبر 2022