• 29 فروری, 2024

حیاتِ نورالدینؓ (قسط 14 حصہ دوم)

حیاتِ نورالدینؓ
سوانحی خاکہ حضرت حکیم مولانا نورالدین خلیفۃ المسیح الاولؓ 
قسط14 حصہ دوم

اس حصہ میں آپ ؓ کے حضرت اقدس مسیح موعودؑ سے پہلی ملاقات تا وفات حضرت اقدسؑ تک کے واقعات کا ذکر ہے۔

1885ء پہلی بار قادیان میں آمد

اس سال مارچ سے کچھ پہلے آپ پہلی بار قادیان تشریف لائے اور آپؓ کا بیان ہے کہ باوجود اس کے کہ حضرت اقدس مسیح موعودؑ نے ابھی بیعت لینے کا سلسلہ شروع نہ کیا تھا مگر میں آپؑ کی صداقت جان گیا تھا۔ اسی سال آپؓ دوسری دفعہ ملاقات کے لئے قادیان تشریف لائے تو حضرت اقدس مسیح موعودؑ نے آپ کو فرمایا کہ عیسائیت کے مقابل پر ایک کتاب آپ لکھیں۔

1886ء

حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے ارشاد کے مطابق آپؓ نے عیسائی پادری تھامس ہاول کے سوالوں کے جواب میں فصل الخطاب نامی کتاب لکھی جس کی وجہ سے آپ کے ایک حافظ دوست نیز ان کے دوسرے ساتھی عیسائی ہونے سے بچ گئے۔ یہ کتاب 1887۔1888ء میں شائع ہوئی اور بہت مقبول ہوئی۔

ملازمت سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ

خدمت دین کے لئے اور اپنے آقا حضرت اقدسؑ کی خدمت میں مکمل زندگی گزارنے کی غرض سے آپؓ نے شاہی طبیب کی ملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔ حضرت اقدس مسیح موعودؑ کو جب اس کا علم ہوا تو آپؑ نے اس سے آپؓ کو منع کیا۔ اور خدا کو بھی یہی منظور تھا چنانچہ وہ استعفیٰ منظور نہ ہوا اورآپؓ ادھر ہی خدائی منشاء کے تحت ملازمت کرتے رہے۔

1886ء سرمہ چشم آریہ
اور سراج منیر کی اشاعت میں حصہ

حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے مکتوبات 20ستمبر اور 4نومبر 1886ء سے یہ بات پتہ چلتی ہے کہ آپؓ نے سرمہ چشم آریہ رسالہ کی 100 جلدوں کا خرچ اور نیز رسالہ سراج منیر کے لئے بھی مالی قربانی کی۔

اسی سال آپؓ کے پاس بخاری شریف پڑھنے کے لئے حضرت مسیح موعودؑ کے جلیل القدر صحابی حضرت مولانا عبدالکریم صاحب سیالکوٹیؓ جموں آگئے اور تقریبا 6 ماہ وہاں رہے۔

1887ء

اس سال آپؓ سرسید احمد خان کی آل انڈیا ممڈن ایجوکیشنل کانفرنس کے معاونین میں شامل ہوئے۔

پنڈدادنخان کے پادری تھامس ہاول نے پرچہ نورافشاں میں کتاب شحنہ حق اور مرزا غلام احمد صاحب کے الہام نامی ایک اعتراضات سے بھرپور مضمون شائع کیا۔ آپؓ نے ایک زبردست مضمون منشور محمدی ان اعتراضات کے جواب میں لکھا جو بنگلور میں کئی اقساط میں شائع ہوا۔

1888ء

آپؓ کی بیماری کا خط ملنے پر حضرت اقدس مسیح موعودؑ اپنے ایک صحابی حافظ حامد علی ؓکو ساتھ لے کر جموں تشریف لے گئے اور تین دن وہاں قیام پذیر رہے۔

اس سال حضرت مفتی محمد صاق صاحبؓ آپ ؓ کی شاگردی میں آئے۔

1889ء دوسری شادی

سال کی شروع میں آپؓ کی دوسری شادی حضرت منشی احمد جانؓ صاحب کی صاحبزادی حضرت صغریٰ بیگم صاحبہؓ سے ہوئی جس میں حضرت اقدس مسیح موعودؑ نے بھی شرکت کی۔

بیعت حضرت اقدس مسیح موعودؑ

23 مارچ 1889ء کے مبارک دن میں آپؓ وہ پہلے وجود تھے جنہیں حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی بیعت کی سعادت لدھیانہ میں حضرت صوفی احمد جان صاحب ؓ کے گھر پر نصیب ہوئی۔ اسی طرح عورتوں میں سب سے پہلے آپؓ کی اہلیہ حضرت صغریٰ بیگم صاحبہؓ نے بیعت کی۔

والدہ محترمہ کی وفات

آپؓ کی والدہ ماجدہ نوربخت صاحبہ کی وفات ہوگئی۔

تصدیق براہین احمدیہ کی تصنیف

پنڈت لیکھرام کی کتاب تکذیب براہین احمدیہ کے جواب میں تصدیق براہین احمدیہ نامی کتاب آپؓ نے تصنیف فرمائی جو 1890ء میں شائع ہوئی۔

1890ء

راجہ امر سنگھ نے آپؓ کا غالبا سب سے پہلا فوٹو لیا جوکہ حکیم محمد حسین صاحب کے رسالہ طبیب حاذق میں 1907ء میں شائع ہوا۔

دعویٰ مسیحیت پر ایمان لانا

1890ء کے آخر میں جب حضرت اقدس مسیح موعودؑ نےفتح اسلام کتاب میں اپنے مسیح موعودہونے کا دعویٰ کیا تو فورًا اس پر ایمان لائے۔

1891ء پہلے جلسہ سالانہ میں شرکت

قادیان کا سفر کیا او ر دسمبر کے مہینہ میں جماعت احمدیہ کے پہلے جلسہ سالانہ میں شرکت کی۔

1892ء

حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے ہمراہ لاہورکا سفر کیا اور آپؑ کی تائید میں تقریر آپؓ کی موجودگی میں کی۔

ازالہ اوہام کی اشاعت میں اعانت کی۔مولوی سید محمد احسن صاحبؓ کی اعانت کے لئے چندہ دیا۔جلسہ سالانہ قادیان میں آنے والے مہمانوں کے لئے علیحدہ مکان تعمیر کروایا۔

جموں میں ملازمت کا اختتام

اس سال ستمبر کے مہینہ میں راجہ ریاست جموں وکشمیر مہاراجہ پرتاب سنگھ کے ظالمانہ حکم کی وجہ سے آپؓ کی ملازمت کا اختتام ہوا۔

آپؓ بھیرہ واپس تشریف لائے اور وہاں ایک عالی شان مکان کی تعمیر کا آغاز کروایا۔

1893ء

انجمن حمایت اسلام لاہور کے سالانہ جلسہ میں شرکت کی اور پرمعارف لیکچر دیا۔

قادیان کی طرف مستقل ہجرت

اس سال کے شروع میں آپؓ لاہور آئے پھرحضرت اقدسؑ کی زیارت کے لئے قادیان گئے۔ حضورؑ کے ارشاد پر قادیان میں ہی ٹھہر گئے اور اپنی بیگمات اور کتب خانہ بھی وہیں منگوا لیا۔اور ہمیشہ کے لئے قادیان کے ہوگئے۔

امرتسر میں حضرت اقدس مسیح موعودؑ کےمولوی محمد حسین بٹالوی سے ہونے والے مباحثہ میں جو جنگ مقدس کی کتابی شکل میں شائع ہوا، آپؓ نے معاونت کی۔

حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی شان میں عربی زبان میں ایک قصیدہ اورمضمون رقم فرمایا جو حضورؑ کی کتاب کرامات الصادقین میں شائع ہوا۔

1894ء

جلسہ سالانہ قادیان میں آپؓ نے تقریر کی۔

1895ء

جموں کا سفر اختیار فرمایا۔مہاراجہ جموں نے دوبارہ آپؓ کو ملازمت کی پیش کش کی مگر آپؓ نے انکار کردیا۔

1896ء

حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی اجازت سے نواب آف بہاولپور صادق محمد صاحب کے علاج کے لئے بہاولپور کا سفر کیا۔

نیز حضرت خواجہ غلام فرید صاحب آف چاچڑاں شریف سے ملاقات بھی کی۔

سفر مالیر کوٹلہ

حضرت نواب محمد علی خانصاحبؓ کی خواہش پر کہ وہ آپؓ سے قرآن پڑھنا چاہتے ہیں آپؓ نے حضورؑ کی اجازت سے مالیر کوٹلہ کا سفر اختیار فرمایا اور اپریل تا اکتوبر تک وہیں رہے۔

جلسہ مذاہب عالم لاہور

دسمبر کے آخر میں جلسہ مذاہب عالم لاہور میں حضرت اقدس مسیح موعودؑ کامعرکۃ الآراء مضمون اسلامی اصول کی فلاسفی آپؓ کی صدارت میں ہی حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی ؓنے پڑھا۔

1897ء

انجمن حمایت اسلام کے سالانہ جلسہ پر آپؓ نے لیکچر دیا۔

ڈگلس کی عدالت میں گواہی

پادری مارٹن کلارک کے مقدمہ اقدام قتل میں جو اس نے حضرت مسیح موعودؑ کے خلاف کپتان ڈگلس کی عدالت میں دائر کیا تھاآپؓ عدالت میں گواہی کے لئے پیش ہوئے۔

سفر ملتان

اسی سال اکتوبر میں آپؓ نے حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے ہمراہ ملتان کا سفر کیا۔

سالانہ جلسہ قادیان میں آپؓ نے عظیم الشان تقریر کی۔

1898ء

20 فروری کو الحکم کا اجراء قادیان سے ہوا تو آپؓ اس کے قلمی معاونین میں سے تھے۔

آپؓ کی صاحبزادی حفصہ صاحبہ کی شادی حضرت حکیم مولوی فضل الرحمٰن صاحب ؓ سے ہوئی۔

آپؓ کی ایک صاحبزادی امامہ کی وفات ہوئی۔

مالیر کوٹلہ کا سفر کیا۔

1899ء

جنوری کے مہینہ میں آپؓ حضرت اقدسؑ کے ہمراہ ایک مقدمہ کے سلسلہ میں جو مولوی محمد حسین بٹالوی نے حضورؑ پر کیا تھا گورداسپور اور دھاریوال تشریف لے گئے۔

15 فروری 1899ء کو صاحبزادہ عبدالحئی صاحب کی ولادت ہوئی۔

حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے ساتھ آپؓ کا پہلا فوٹو کھینچا گیا۔

وفد نصیبین

نصیبین کی طرف ایک وفد بھیجا گیا تاکہ وہ حضرت عیسیٰؑ کی قبر کے بارے تحقیق کرسکیں۔ اس وفد کے سفری اخراجات آپؓ نے اپنے ذمہ لئے۔

1900ء

آپؓ کی تجویز پر قومی ضرورتوں کے لئے آمد وخرچ کا حساب رکھنے کے لئے رجسٹر کھولے گئے۔

علامہ شبلی نعمانی کے ساتھ خط وکتابت کی اور انہیں دعوت حق دی۔

27دسمبر کی صبح کوجب احباب جلسہ کے لئے جمع تھے مسجد اقصیٰ میں قرآنی حقائق و معارف سے لبریز تقریر فرمائی۔

1901ء ولادت صاحبزادی سیدہ امۃ الحئی صاحبہؓ

یکم اگست کو حضرت صاحبزادی سیدہ امۃ الحئی صاحبہؓ کی ولادت ہوئی۔ جو کہ 1914 میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کے حرم میں شامل ہوئیں۔

قرآن کریم کا اردو میں ترجمہ مکمل کیا مگر اس کا محض ایک پارہ ہی آپؓ کی زندگی میں چھپ سکا۔

1902ء

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحبؓ کا نکاح پڑھایا۔

البدر کے اجراء کے بعد اس کی قلمی معاونت کی۔

1903ء آپؓ کے صاحبزادہ عبد القیوم کی ولادت

حضرت مسیح موعودؑ کے ایک مخلص فدائی محمد خان صاب کے علاج کی غرض سے کپورتھلہ تشریف لے گئے۔

اکتوبر میں میاں عبدا لرحیم خان صاحب آف مالیر کوٹلہ سخت بیمار ہوئے تو ان کا علاج کیا۔

فونو گراف میں آپؓ کا وعظ ریکارڈ ہوا جس میں آپؓ نے سورۃ العصر کی لطیف تفسیر فرمائی تھی۔

1904ء

حضرت مسیح موعودؑ کے ہمراہ لاہور اور سیالکوٹ کا سفر کیا نیز مقدمات کرم دین کے سلسلہ میں کچھ عرصہ گورداسپور میں قیام فرمایا۔

نورالدین کی تصنیف

ایک مرتد آریہ دھرم پال کی کتاب ترک اسلام کے جواب میں آپؓ نے ایک مفصل کتاب نورالدین تصنیف فرمائی۔

عیسائیت کے رد میں رسالہ ابطال الوہیت مسیح اسی سال شائع ہوا۔

1905ء

زلزلہ کانگڑہ پر ایک لطیف نوٹ شائع کرنے کے لئے تحریر فرمایا۔

شدید علالت

جون میں آپؓ سخت بیمار ہوگئے اور ضعف اس قدر ہوگیا کہ آپ نے عربی زبان میں وصیت بھی لکھوادی۔ حضرت مسیح موعودؑ کو الہاماً آپؓ کی شفایابی کی خبر ملی۔ چنانچہ آپؓ صحت یاب ہوگئے۔

آپؓ کے صاحبزادہ عبدالحئی صاحب نے قرآن کریم کا دور مکمل کیا۔ اس کی تقریب سعید پر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحبؓ نے ایک دعائیہ نظم بھی لکھی۔

حرم اول کی وفات

آپؓ کی پہلی زوجہ محترمہ حضرت فاطمہ بی بی صاحبہؓ کی وفات ہوئی اور حضرت مسیح موعودؑ نے ان کا جنازہ پڑھایا۔

دسمبر میں آپؓ کے صاحبزادہ میاں عبدالسلام صاحب کی ولادت ہوئی۔

انجمن کارپرداز مصالح قبرستان

دسمبر 1905ء میں حضرت اقدس مسیح موعودؑ نے بہشتی مقبرہ کی بنیاد رکھی اور اس مقبرہ کے آمد وخرچ کے لئے انجمن کارپرداز مصالح قبرستان بنائی۔آپؓ کو اس کے چندوں کا امین مقرر فرمایا۔

1906ء دینیات کا پہلا رسالہ

لڑکوں اور لڑکیوں کو مسائل نماز سے عام فہم الفاظ میں آگاہ کرنے کے لئے جنوری میں دینیات کا پہلا رسالہ شائع فرمایا جو کہ بہت مقبول ہوا۔

صدر انجمن احمدیہ کے پہلے صدر

فروری کے مہینہ میں انجمن کارپرداز مصالح قبرستان اور اور دوسرے شعبوں کو مدغم کرکے صدر انجمن احمدیہ کا قیام عمل میں آیا تو حضرت اقدس مسیح موعودؑ نے آپؓ کو اس کا صدر مقرر فرمایا۔ اور آپؓ کے بارے فرمایا
مولوی صاحب کی ایک رائے انجمن میں سو رائے کے برابر سمجھنی چاہئے۔

حضرت مرزا شریف احمد صاحبؓ کا نکاح

آپؓ نے صاحبزادہ حضرت مرزا شریف احمد صاحبؓ کا نکاح حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی موجودگی میں 27 اکتوبر 1906ء کو پڑھایا۔

مبادی الصرف ولنحو کی اشاعت

اس سال کے آخر میں ابتدائی قواعد مبادی الصرف کے نام سے شائع فرمائے اور اگلے سال نحوی قواعد کا اضافہ کرکے اسے مبادی الصرف والنحو کے نام سے شائع فرمایا۔

1907ء

آپؓ کا ترجمہ شدہ پہلا پارہ قرآن اپریل کے مہینہ میں شائع ہوا۔ حضرت مسیح موعودؑ نے بذریعہ خط اس پر خوشنودی کا اظہار فرمایا۔

شدید علالت

اگست کے مہینہ میں آپؓ شدید بیمار ہوگئے مگر خدا نے معجزانہ شفا سے نوازا۔

صاحبزادہ میاں مبارک احمد صاحبؓ 
اور میاں عبدالحئی صاحبؓ کا نکاح

30 اگست کو آپؓ نے صاحبزادہ میاں مبارک احمد صاحبؓ کا نکاح حضرت سید عبدالستار شاہ صاحبؓ کی صاحبزادی مریم بیگم صاحبہؓ سے اور میاں عبدالحئی صاحب کا نکاح حضرت پیر منظور محمد صاحبؓ کی صاحبزادی حامدہ صاحبہؓ سے پڑھا۔

جلسہ آریہ سماج لاہور میں شرکت

دسمبر میں آریہ سماج وچھو والی نے لاہور میں مذاہب کانفرنس منعقد کی اور حضرت مسیح موعودؑ کو بھی مدعو کیا۔ حضورؑ نے ایک مضمون لکھا اور وہ آپؓ نے پڑھا۔

1908ء

آپؓ کے بیٹےمیاں عبدالوہاب کی ولادت 8؍ فروری کو ہوئی۔

مجمع الاخوان کا قیام

مارچ 1908ء کے دوسرے ہفتہ میں آپؓ نے یہ اہم دینی تحریک احباب جماعت کے سامنے رکھی۔

13 مارچ 1908ءکے خطبہ جمعہ میں آپؓ نے آیت استخلاف کا ذکر کرکے اس پر روشنی ڈالی۔

24 اپریل 1908ء کو آپؓ نے حضرت مسیح موعودؑ کے مقدس زمانہ کا آخری خطبہ جمعہ قادیان میں ارشاد فرمایا جس میں سورۃ الفلق کی لطیف تشریح فرمائی۔

حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی وفات

26 مئی 1908ء کو وہ کٹھن دن بھی آن پہنچا جس میں خدائی منشاء کے تحت اللہ نے حضرت مسیح موعودؑ کی جدائی کا دن آپ ؓکو اور تمام احباب جماعت کو دکھلایا۔

نوٹ:(مضمون ہذا کا مواد تاریخ احمدیت جلدسوم،مرقاۃ الیقین فی حیات نورالدین اور حیات نور سے لیا گیا ہے)

اے خدا بر تربت او بارشِ رحمت ببار
داخلش کن از کمالِ فضل در بیت النعیم

(جاری ہے)

پچھلا پڑھیں

ایک سبق آموزبات

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 27 ستمبر 2022