• 23 نومبر, 2020

ہمارے دل سے ایسا درود نکلے جو عرش پر پہنچے

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
اللہ تعالیٰ یہ روح ہم سب میں پیدا کرے۔ ہمارے دل سے ایسا درود نکلے جو عرش پر پہنچے اور ہمیں بھی اس سے سیراب کرے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم میں سے بہت سے ایسے ہیں جو درود پڑھتے ہیں اور بڑے درد سے پڑھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ انہیں اس کے فیض کے نظارے بھی دکھاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ اس طرح درود پڑھنے والوں کی جماعت میں تعداد بڑھتی چلی جائے جس کا فائدہ جماعتی طور پر بھی ہو گا، جماعتی ترقی میں بھی ہو گا۔ حضرت مصلح موعودؓ کا ایک درود کا انداز مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔ گو ہم میں سے بعض اس کے قریب قریب پڑھتے ہیں لیکن یہ ایسا انداز ہے جو مَیں آپ کے سامنے بھی رکھنا چاہتا ہوں جس سے درود کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ذاتی محبّت میں ایک نئے رنگ میں اضافہ ہوتا ہے اور جماعتی ترقی کے لئے بھی دعا کا ادراک پیدا ہوتا ہے۔

آپ نے ایک جگہ فرمایا کہ: ’’جب ہم دوسرے کے لئے دعا کرتے ہیں تو یہ دعا ایک رنگ میں ہمارے لئے بھی بلندیٔ درجات کا موجب بنتی ہے چنانچہ ہم جب درود پڑھتے ہیں تو اس کے نتیجے میں جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درجات بلند ہوتے ہیں وہاں ہمارے درجات میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور اُن کو انعام مل کر پھر اُن کے واسطے سے ہم تک پہنچتا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے چھلنی میں کوئی چیز ڈالو تو وہ اس میں سے نکل کر نیچے جو کپڑا پڑا ہو اس میں بھی آ گرتی ہے۔ اسی طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے اس اُمّت کے لئے بطور چھلنی بنایا ہے۔ پہلے خدا اُن کو اپنی برکات سے حصہ دیتا ہے اور پھر وہ برکات ان کے توسّط اور ان کے طفیل سے ہمیں ملتی ہیں۔ جب ہم درود پڑھتے ہیں اور خدا تعالیٰ اس کے بدلے میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مدارج کو بلند فرماتا ہے تو لازماً خدا تعالیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی بتاتا ہے کہ یہ تحفہ فلاں مومن کی طرف سے آیا ہے۔‘‘ (یہ درود کا تحفہ جو دل سے پڑھا گیا ہے یہ فلاں مومن کی طرف سے آیا ہے) ’’اس پر ان کے دل میں (یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں) ہمارے متعلق دعا کی تحریک پیدا ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ ان کی دعا کی وجہ سے ہمیں اپنی برکات سے حصہ دیتا ہے۔

فرمایا کہ ’’مَیں اپنے متعلق بتاتا ہوں کہ جب بھی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قبر پر دعا کرنے کے لئے آتا ہوں مَیں نے یہ طریق رکھا ہوا ہے کہ پہلے مَیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دعا کیا کرتا ہوں۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے دعا کرتا ہوں۔ اور دعا یہ کرتا ہوں کہ یا اللہ! میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جو مَیں اپنے ان بزرگوں کی خدمت میں تحفے کے طور پر پیش کر سکوں۔ میرے پاس جو چیزیں ہیں وہ انہیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتیں۔ البتہ تیرے پاس سب کچھ ہے اس لئے میں تجھ سے دعا اور التجا کرتا ہوں کہ تُو مجھ پر احسان فرما کر میری طرف سے انہیں جنت میں کوئی ایسا تحفہ عطا فرما جو اس سے پہلے انہیں جنت میں نہ ملا ہو۔ تو وہ ضرور پوچھتے ہیں کہ یا اللہ یہ تحفہ کس کی طرف سے آیا۔‘‘ (جب اللہ تعالیٰ تحفہ دے گا تو وہ ضرور پوچھیں گے کہ یہ تحفہ کس کی طرف سے آیا) ’’اور جب خدا انہیں یہ بتاتا ہے کہ کس کی طرف سے آیا تو اس کے لئے دعا کرتے ہیں اور اس طرح دعا کرنے والے کے مدارج بھی بلند ہوتے ہیں اور یہ بات قرآن اور احادیث سے ثابت ہے۔ اسلام کا مسلّمہ اصل ہے اور کوئی شخص اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ دعائیں مرنے والے کو ضرور فائدہ پہنچاتی ہیں۔ قرآن کریم نے بھی فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْھَآ (النساء: 87) کہہ کر اس طرف توجہ دلائی ہے کہ جب تمہیں کوئی شخص تحفہ پیش کرے تو تم اس سے بہتر تحفہ اسے دو۔ ورنہ کم از کم اتنا تحفہ تو ضرور دو جتنا اس نے دیا۔ قرآن کریم کی اس آیت کے مطابق جب ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے دعا کریں گے اور ان پر درود اور سلام بھیجیں گے تو خدا تعالیٰ ہماری طرف سے اس دعا کے نتیجے میں انہیں کوئی تحفہ پیش کر دے گا۔ ہم نہیں جانتے کہ جنّت میں کیا کیا نعمتیں ہیں مگر اللہ تعالیٰ تو ان نعمتوں کو خوب جانتا ہے اس لئے جب ہم دعا کریں گے کہ الٰہی! تُو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی ایسا تحفہ دے جو اس سے پہلے انہیں نہ ملا ہو تو یہ لازمی بات ہے کہ جب وہ تحفہ انہیں دیا جاتا ہو گا تو ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بھی بتایا جاتا ہو گا کہ یہ فلاں شخص کی طرف سے تحفہ ہے۔ پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ اس علم کے بعد وہ چُپ کر کے بیٹھے رہیں اور تحفہ بھجوانے والے کے لئے دعا نہ کریں۔ ایسے موقع پر بے اختیار ان کی روح اللہ تعالیٰ کے آستانے پر گر جائے گی اور اور کہے گی کہ اے خدا ! اب تو ہماری طرف سے اس کو بہتر جزا عطا فرما۔ اس طرح فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْھَآ۔ کے مطابق وہ دعا پھر درود بھیجنے والے کی طرف لوٹ آئے گی اور اس کے درجہ کی بلندی کا باعث ہو گی۔ پس یہ ذریعہ ہے جس سے بغیر اس کے کہ کوئی مشرکانہ حرکت ہو ہم خود بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور قوم بھی فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ گویا قومی اور فردی دونوں فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔‘‘

(مزار حضرت مسیح موعودؑ پر دعا اور اس کی حکمت، انوار العلوم جلد 17صفحہ190تا 192)

(خطبہ جمعہ 16؍ جنوری 2015ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 26 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 27 اکتوبر 2020