• 23 نومبر, 2020

دشمن کی زبان درازیوں پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا رویہ

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
پھر خدا تعالیٰ نے دشمن کی زبان درازیوں پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا رویہ اختیار کرنے کا ارشاد فرمایا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَاصْبِرْ کََمَا صَبَرَ اُوْلُوالْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِلْ لَھُمْ۔ کَاَنَّھُمْ یَوْمَ یَرَوْنَ مَا یُوْعَدُوْنَ لَمْ یَلْبَثُوْآ اِلَّا سَاعَۃً مِّنْ نَّھَارٍ۔ بَلٰغٌ۔ فَھَلْ یُھْلَکَ اِلَّا الْقَوْمُ الْفٰسِقُوْنَ (احقاف: 36) پس صبر کر جیسے اولوا العزم رسولوں نے صبر کیا اور ان کے بارہ میں جلد بازی سے کام نہ لے۔ جس دن وہ اسے دیکھیں گے جس سے انہیں ڈرایا جاتا ہے تو یوں لگے گا جیسے دن کی ایک گھڑی سے زیادہ وہ انتظار میں نہیں رہے۔ پیغام پہنچایا جا چکا ہے۔ پس کیا بدکرداروں کے سوا بھی کوئی قوم ہلاک کی جاتی ہے۔

پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو نظامِ نو آپ کی آمد سے جاری ہونا تھا وہ خدا تعالیٰ کی تقدیر ہے وہ جاری ہو چکا ہے۔ لیکن کامیابیوں کا بھی ایک وقت ہے۔ اس لئے صبر اور برداشت سے کام لینا چاہئے۔ اور اے رسول!صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے بھی اور آپ کے ماننے والوں نے بھی اسی صبر و برداشت سے کام لینا ہے کہ یہی اولوالعزم نبیوں اور ان کے ماننے والوں کا شیوہ ہے۔ یہ سختیاں، مشکلات اور ان پر برداشت اور صبر ہی کامیابیاں دلانے کا باعث بنتا ہے اور جب کامیابیاں آئیں گی، دشمن کی پکڑ ہو گی تو تب وہ سوچے گا کہ مَیں کیا کرتا رہا، تب اسے خیال آئے گاکہ یہ دنیاوی زندگی جسے میں سب کچھ سمجھتا رہا یہ تو ایک گھڑی یا ایک گھنٹے سے زیادہ کچھ بھی نہیں تھی۔ پس جہاں تک انبیاء کے مخالفین کی پکڑ کا سوال ہے، اللہ تعالیٰ نے یہ کام اپنے ہاتھ میں لیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی اللہ تعالیٰ نے سب سے بڑھ کریہی سلوک دکھایا اور آپ کے دشمنوں کو ایسا کچلا اور پیسا کہ ان کے نام و نشان کومٹا دیا۔ پس کہاں گئے وہ آپ کے بڑے بڑے دشمن جو سردارانِ مکّہ کہلاتے تھے۔ کہاں گیا وہ بادشاہ جس نے آپ کے پکڑنے کے لئے اپنے سپاہی بھیجے تھے۔ پس جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تا قیامت ہے تو خدائی وعدے کے مطابق آپ کے دشمنوں کی پکڑ بھی ہر زمانے میں نشان بنتی چلی جائے گی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کس کس طرح تنگ کیا۔ آپ کے کیا کیا نام رکھے۔ آپ کو کس طرح بدنام کرنے کی کوشش کی اس بارہ میں قرآنِ کریم ہمیں بتاتا ہے۔ ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَقَالُوْا یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْ نُزِّلَ عَلَیْہِ الذِّکْرُ اِنَّکَ لَمَجْنُوْنٌ (الحجر: 7) اور انہوں نے کہا اے وہ شخص جس پر ذکر اتارا گیا ہے، یقینا تو مجنون ہے۔

یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر استہزاء ہے بلکہ کھلی کھلی ایک گالی ہے۔ مکّہ میں یہ سورۃ نازل ہوئی اور اس وقت وہاں کی تقریباً ساری آبادی آپ سے یہ سلوک کرتی تھی، سوائے چند ایک نیک فطرت لوگوں کے جو ایمان لے آئے تھے۔ لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکّہ فتح کرتے ہیں تو سب سے محبت اور شفقت کا سلوک کرتے ہیں۔ بلکہ جیسا کہ میں گزشتہ خطبہ میں بتا چکا ہوں۔ یہ لوگ صرف گالیاں دینے والے ہی نہیں تھے۔ یہ لوگ ظلم کی انتہا کرنے والے تھے۔ زبردستی جنگیں ٹھونسنے والے تھے۔ لیکن آپ نے ہر ایک سے شفقت کا سلوک فرمایا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کہہ دیا تھا کہ خود مَیں بدلے لوں گا۔

پھر قرآنِ کریم میں سورۃ فرقان میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْآ اِنْ ھٰذَا اِلَّآ اِفْک نِ افْتَرٰہُ وَاَعَانَہٗ عَلَیْہِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ فَقَدْ جَآءُ وْا ظُلْمًا وَّزُوْرًا (الفرقان: 5) اور جن لوگوں نے کفر کیا انہوں نے کہا یہ جھوٹ کے سوا کچھ نہیں جو اس نے گھڑ لیا ہے اور اس بارہ میں اس کی دوسرے لوگوں نے مدد کی ہے۔ پس یقینا وہ سراسر ظلم اور جھوٹ بنانے والے ہیں۔ گو اس آیت میں بڑے وسیع مضمون بیان ہوئے ہیں لیکن یہاں صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ آپؐ کو دعویٰ کے بعد وہی لوگ نعوذ باللہ جھوٹا کہنے لگ گئے جو آپؐ کو سچا کہتے تھے اور ان کی زبانیں اس سے نہیں تھکتی تھیں۔ آپؐ کی سچائی اور امانت کے قائل تھے۔ پھر آپﷺ کے بارہ میں ظالموں کی ہرزہ سرائی کا قرآنِ کریم میں یوں ذکر آتا ہے۔ فرمایا کہ وَقَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا (الفرقان: 9) اور ظالم کہتے ہیں کہ تم ایک ایسے آدمی کے پیچھے چل رہے ہو جو سحر زدہ ہے۔

(خطبہ جمعہ 28؍ جنوری 2011ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 26 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 27 اکتوبر 2020