• 1 دسمبر, 2020

بتاؤں تمہیں کیا کہ کیا چاہتا ہوں

بتاؤں تمہیں کیا کہ کیا چاہتا ہوں
ہوں بندہ مگر میں خدا چاہتا ہوں
میں اپنے سیاہ خانۂ دل کی خاطر
وفاؤں کے خالق !وفا چاہتا ہوں
جو پھر سے ہرا کردے ہر خشک پودا
چمن کے لیے وہ صبا چاہتا ہوں
مجھے بیر ہرگز نہیں ہے کسی سے
میں دنیا میں سب کا بھلا چاہتا ہوں
وہی خاک جس سے بنا میرا پتلا
میں اس خاک کو دیکھنا چاہتا ہوں
نکالا مجھے جس نے میرے چمن سے
میں اس کا بھی دل سے بھلا چاہتا ہوں
مرے بال وپر میں وہ ہمت ہے پیدا
کہ لے کر قفس کو اڑا چاہتا ہوں
کبھی جس کو رشیوں نے منہ سے لگایا
وہی جام اب میں پیا چاہتا ہوں
رقیبوں کو آرام وراحت کی خواہش
مگر میں تو کرب و بلا چاہتا ہوں
دکھائے جو ہر دم ترا حسن مجھ کو
مری جاں !میں وہ آئینہ چاہتا ہوں

(کلام محمود۔رسالہ مصباح ۔ماہ جنوری 1951ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 26 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 27 اکتوبر 2020