• 23 نومبر, 2020

خاندانی منصوبہ بندی

تبرکات حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ
خاندانی منصوبہ بندی
(قسط دوم)

رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے اکثر اقوال جو عزل کے بارے میں ہیں وہ انہی تین حد بندیوں کے گرد چکر لگاتے ہیں۔ یعنی یا تو وہ سفر کی حالت سے تعلق رکھتے ہیں اور یا وہ لونڈیوں کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور یا وہ مردو عورت کی زندگی کی حفاظت اور ان کی امکانی بیماری کے سدّباب سے متعلق ہیں۔

نوٹ اول: اس تعلق میں ہماری جماعت کو یاد ہو گا کہ ایک دفعہ جماعت کے موجودہ امام حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے جماعت کے بیرونی مبلّغوں کو نصیحت کی تھی کہ (چونکہ وہ بھی سفر کی حالت میں ہیں) وہ برتھ کنٹرول کے ذریعہ اپنی اولاد کو محدود کر سکتے ہیں۔ غالباً وہ نصیحت اسی اصول کے ماتحت کی گئی تھی۔

نوٹ ثانی: یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ لونڈیوں کے ساتھ مباشرت اس زمانہ کے حالات اور اس وقت کے دشمنانِ اسلام کے روّیہ کی وجہ سے ایک وقتی نظام تھا جو صرف جنگی قیدیوں تک محدود تھا اور آئندہ کے لئے اسلام نے کسی آزاد انسان کو غلام بنانے کی ممانعت کر دی۔ دراصل لونڈیوں کا معاملہ اس زمانہ میں ایک خاص قسم کی شادی کا رنگ رکھتا تھا جو حالات کی تبدیلی کے ساتھ ختم ہو گیا۔

(تفصیل کے لئے دیکھو خاکسار کی تصنیف ’’سیرت خاتم النبیین ؐ‘‘ حصہ دوم)

(23) آزاد بیاہتا بیویوں کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے شرط مقرر فرمائی ہے کہ ان کی اجازت کے بغیر عزل کا طریق اختیار نہ کیا جائے۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ:

عَنْ عُمَرَ ابْنَ الْخَطَّابِ قَالَ نَھٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنْ یُّعْزَلَ عَنِ الْْحُرَّۃِ اِلَّا بِاِذْنِھَا۔

(مسند احمد و ابن ماجہ کتاب النکاح باب العزل)

یعنی حضرت عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ کسی آزاد بیاہتا بیوی کی اجازت کے بغیر اس کے ساتھ عزل کا طریق اختیار نہ کیا جائے۔

اس کا یہ مطلب ہے کہ اگر عورت مزید اولاد کی خواہش رکھتی ہو اور صحت وغیرہ کے لحاظ سے اس کی طاقت محسوس کرتی ہو تو اس کے متعلق اس کی مرضی کے خلاف عزل کا طریق اختیار کرنا جائز نہیں۔

(24) خوراک کی قلّت کی بحث اوپر گزر چکی ہے اب رہا ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی کے لئے جگہ کی کمی کا سوال۔ سو یہ بھی غالباً پاکستان کے موجودہ حالات میں ایک خیالی خطرہ سے زیادہ نہیں۔ کیونکہ دنیا کے بہت سے ممالک مغربی پاکستان کی نسبت بہت زیادہ گنجان آباد ہیں۔ حتیٰ کہ ان کے مقابل پر مغربی پاکستان میں جگہ کی کمی کا سوال پیدا ہی نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ ذیل کا نقشہ جس میں فی مربع میل آبادی درج ہے۔ اس حقیقت کو موشگاف کرنے کے لئے کافی ہے۔ برطانیہ ,بیلجیم ,جرمنی ,جاپان ,مغربی پاکستان, سندھ
665 94,133,443,352,654,

(ایکونامک پرابلمز آف پاکستان مصنفہ ایس عنایت حسین صفحہ 55-54)

اس نقشہ سے ظاہر ہے کہ کم از کم مغربی پاکستان اور خصوصاً سندھ میں رقبہ کے مقابل پر آبادی کا تناسب ابھی تک بہت کم ہے اور کافی توسیع کی گنجائش ہے۔ بے شک مشرقی پاکستان میں آبادی کا تناسب مغربی پاکستان کی نسبت بہت زیادہ ہے۔ مگر یہ مسئلہ مشرقی پاکستان کی اکانومی کو چھوٹے رقبوں سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے طریقہئ کاشت کو جسے انگریزی میں اِنْٹَنْسِوْ فارمنگ (Intensive farming) کہتے ہیں۔ اختیار کرنے سے حل کیا جاسکتاہے۔ مشرقی پنجاب کے بعض علاقوں میں آرائیں قوم کے لوگ نصف ایکڑ رقبہ میں کافی بڑے بڑے خاندانوں کو پالتے تھے۔

اسی طرح مشرقی پاکستان کی اکانومی کو صنعت و حرفت کی طرف تھوڑا سا جھکانے سے بھی کسی قدر سہولت پیدا کی جاسکتی ہے۔ میرا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مشرقی پاکستان میں زرعی اکانومی کو صنعتی اکانومی میںبدل دیا جائے۔ ایسا کرنا بہت پیچیدگی کا موجب ہو گا۔ بلکہ مطلب صرف یہ ہے کہ اس حصہ ملک کی اکانومی کومناسب حد تک صنعت و حرفت کی طرف جھکا کر آبادی میں بہتر توازن کی صورت پیدا کی جاسکتی ہے۔ پھر یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ مشرقی پاکستان میں آبادی کی زیادتی کے باوجود سارے پاکستان میں آبادی کا مخلوط اور مجموعی تناسب صرف 194 ہے (ایس عنایت حسین مذکور صفحہ 54) جو کئی دوسرے ملکوں کے مقابل پر کافی کم ہے اور کم از کم فی الحال تشویش کی کوئی وجہ نہیں۔

(25) اگر کسی وقت پاکستان میں جگہ کی کمی کا سوال پیدا ہو تو اس کا ایک جزوی قسم کا حل یہ بھی ہے کہ پاکستان کے بعض لوگ انفرادی طور پر پاکستان سے منتقل ہو کر ایسے دوسرے ملکوں میں چلے جائیں جہاں زائد لوگوں کی کھپت کی گنجائش ہو۔ یہ لوگ جہاں بھی جائیں گے لازماً ان کے دلوں میں پاکستان کی محبت اور ہمدردی جاگزین رہے گی۔ اس قسم کی انفرادی ہجرت میں نہ صرف پڑھے لکھے تاجر اور صنّاع اور پیشہ ور اور کلرک ٹائپ کے لوگ حصہ لے سکتے ہیں۔ بلکہ مزدور طبقہ کے لئے بھی اس کی کافی گنجائش موجود ہے۔ یہودی قوم نے اس تدبیر سے بہت فائدہ اٹھایا ہے اور اکثر ملکوں میںاپنا ایک مخصوص مقام پیدا کر لیا ہے۔ یقینا اپنے ہاتھ سے اپنی نسل کے ایک حصہ کو برتھ کنٹرول کے ذریعہ ضائع کرنے سے یہ بات بہت بہتر ہے کہ پاکستان کی زائد آبادی (اگر اور جب بھی اس کا وجود پیدا ہو) فرداً فرداً اور آہستہ آہستہ بعض دوسرے ممالک میں پہنچ کر آبادہو جائے۔ یقینا وہ باہر جا کر اسلامی تعلیم کے ماتحت ان ملکوں کی حکومتوں کی وفادار رہے گی۔ مگر ساتھ ساتھ ان ملکوں میں پاکستان سے ہمدردی رکھنے والا ایک طبقہ بھی پیدا ہو جائے گا۔ قرآن مجید نے بھی اسی حل کی طرف ایک آیت میں ضمنی طور پر اشارہ فرمایا ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے :

وَمَنْ یُّھَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُرٰغَمًا کَثِیْرًا وَّسَعَۃً (النسائ:101)

یعنی جو شخص کسی مجبوری سے خدا کی خاطر اپنا وطن بدلتا ہے وہ زمین میں بہت کامیابی اور وسعت کا سامان پائے گا۔

اور دوسری جگہ فرماتا ہے : اَرْضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃٌ (الزمر:11)

یعنی اللہ کی زمین وسیع ہے۔ اس کی تنگی کے خیال سے نہ گھبراؤ۔

(26) ماہرین آبادی کا یہ بھی خیال ہے کہ اس ملک میں آبادی کا اتنا گِر جانا کہ اوسطاً فی گھر بچوں کی تعداد چار بچوں سے کم ہو جائے خطرناک ہوتا ہے اور ملک و قوم کے انحطاط کا باعث بن جاتا ہے۔ چنانچہ انسائیکلو پیڈیا میں لکھا ہے کہ :
کسی قوم یا ملک میں آبادی کے صحیح تناسب کو قائم رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ ایک فیملی میں بچوں کی تعداد چار سے کم نہ ہو۔ بچے پیدا کرنے کے قابل ہوتے ہوئے صرف تین بچے پیدا کرنا اپنی بقا کے لئے ضروری آبادی کا صرف تین چوتھائی حصہ مہیا کرنا ہے۔

(انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا ایڈیشن 14 جلد 3 صفحہ 648 کالم نمبر 2)

اس حوالہ سے ثابت ہے کہ ایک فیملی میں یعنی ایک ماں باپ کے ہاں بچوں کی تعداد چار سے کم نہیں ہونی چاہئے (خیال رہے کہ یہاں یہ نہیں کہا گیا کہ بچوں کی تعداد چار سے زیادہ نہ ہو بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ چار سے کم نہ ہو) اور چونکہ یہ رائے ملکی اوسط کے اصول پر مبنی ہے اور ملک میں بہت سے والدین اولاد سے بالکل ہی محروم رہتے ہیں اور بعض کے صرف ایک دو بچے ہوتے ہیں اور بعض مرد اور عورتیں شادی ہی نہیں کرتیں (گو یہ بات اسلامی تعلیم کے خلاف ہے) اس لئے اگر بعض گھروں میں بچوں کی تعداد زیادہ بھی ہو جائے تو ہرگز کسی قومی خطرے یا نقصان کی صورت پیدا نہیں ہو سکتی۔ اب بھی یہ بات غالباً پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ اگر اس وقت پاکستان کے سارے خاندانوں کے بچوں کی اوسط فی گھر کے حساب سے نکالی جائے تو وہ یقینا بحیثیت مجموعی فی گھر چار بچوں سے کم ہی رہے گی۔ اندریں حالات خطرہ تو درکنار شائد موجودہ حالات میں کمی کی صورت ہی ظاہر ہو گی۔

اس جگہ یہ ذکر بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہو گا کہ چار بچوں کی اقل تعداد تو درکنار بعض ملکوں میں اس سے بہت زیادہ تعداد پسند کی جاتی ہے۔ چنانچہ فلسطین کی اسرائیلی حکومت نے ایسی عورتوں کے لئے معقول انعام مقرر کئے ہیں جو دس بچے پیدا کریں اور یہ بچے زندہ موجود ہوں۔

(رپورٹ مولانا محمد شریف سابق مبلّغ اسلام فلسطین)

(27) لیکن چونکہ بعض صورتوں میں زیادہ بچے مالی لحاظ سے واقعی بوجھ کا موجب ہو سکتے ہیں اس لئے اگر باوجود ساری باتوں کے کوئی شخص زیادہ کنبہ دار ہونے کی وجہ سے اپنی پوری کوشش کے باوجود اپنی جائز اور اقل ضروریات اپنی آمدن کے اندر پوری نہ کر سکے تو اس کے متعلق اسلام یہ حکم دیتا ہے کہ ایسے لوگوں کی اقل ضروریات جو کھانے پینے اور کپڑے اور مکان سے تعلق رکھتی ہیں ان کے پورا کرنے کی ذمہ واری حکومت پر ہے۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاءِ راشدین کے زمانہ میں ایسا ہی ہوتا تھا اور اسی اصول کے مطابق قرآن کریم فرماتا ہے کہ :

اِنَّ لَکَ اَلَّا تَجُوْعَ فِیْھَا وَلَا تَعْرٰیo وَاَنَّکَ لَا تَظْمَؤُا فِیْھَا وَلَاتَضْحٰی (طٰہٰ:120-119)

یعنی حقیقی بہشتی زندگی دنیا میں یہ ہے کہ اے انسان تو بھوکا نہ رہے اور نہ ہی ضروری لباس سے محروم ہو۔ اور نہ ہی سردی میں ٹھٹھرے اور نہ ہی پیاس کی تکلیف اٹھائے اور نہ ہی دھوپ کی شدت میں جلے۔

(تفصیل کے لئے دیکھو خاکسار کی تصنیف ’’سیرت خاتم النبیین‘‘ حصہ سوم)

چنانچہ مغربی دنیا کے اکثر ترقی یافتہ ملک اس ذمہ داری کو اٹھاتے ہیں اور اسلام میں زکوٰۃ کا نظام بھی اسی غرض سے مقرر کیا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ :

تُؤْ خَذُ مِنْ اَغْنِیَآئِھِمْ وَ تُرَدُّ اِلٰی فُقَرَآئِھِمْ

(بخاری کتاب الزکوٰۃباب وجوب الزکاۃ)

یعنی زکوٰۃ اس لئے مقرر کی گئی ہے کہ امیروں سے ان کی دولت کا کچھ حصہ کاٹ کر غریبوں کی طرف لوٹایا جائے۔

اس حدیث میں لوٹایا جائے کے الفاظ میں یہ لطیف اشارہ مقصود ہے کہ یہ امداد غریبوں پر احسان نہیں ہے بلکہ غریبوں کا حق ہے جو ان کو ملنا چاہئے۔

(28) برتھ کنٹرول کے سوال کے ضمن میں عورتوں کی صحت اور ان کے لئے مناسب طبّی امداد کا سوال بھی آتا ہے۔ اسی طرح غریب ماں باپ کے بچوں کی تعلیم کا سوال بھی پیدا ہو تا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کثیرالتعداد عورتیں اپنی زندگیوں کو خطرہ سے بچانے اور اپنے بچوں کو خاطر خواہ تعلیم دلانے کے لئے برتھ کنٹرول کا رستہ اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ بادی النظر میں یہ سوال یقینا قابلِ غور معلوم ہوتا ہے لیکن جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے جہاں تک کسی خاص فرد کی زندگی کو بچانے کا سوال ہے برتھ کنٹرول تو کُجا ڈاکٹری مشورہ سے حمل تک گرانے کی اجازت ہے۔ مگر سوچاجائے تو عام حالات میں یعنی ملکی پیمانہ پر اس کا حقیقی علاج برتھ کنٹرول نہیں ہے بلکہ طبّی امداد کی زیادہ سہولتیںمہیا کرنا اور عامتہ الناس اور خصوصاً غریبوں کے مفت علاج کا انتظام کرنا (جیسا کہ برطانیہ میں ہے) اور دوائیوں کی قیمتوںکو گرانا اصل علاج ہے۔ اسی طرح نادار والدین کے ذہین اور ہونہار بچوں کے لئے ابتداء سے ہی زیادہ فراخ دلی اور زیادہ کثرت کے ساتھ تعلیمی وظائف منظور کرنے اور فنّی تعلیم سے مناسبت رکھنے والے طلباء کو فنّی تعلیم دلانے اور سائنس کے علوم کو ترقی دینے سے بھی ملکی آبادی کے مسائل کے حل میں بھاری مدد مل سکتی ہے۔ قرآن مجید نے غریبوں اور یتیموںکی امداد کے لئے غیر معمولی طور پر تاکیدی احکام اسی غرض سے جاری کئے ہیں۔ اور جاننا چاہئے کہ سائنس کی تعلیم دین کے خلاف نہیں ہے بلکہ جس طرح شریعت خدا کا قول ہے اسی طرح سائنس خدا کا فعل ہے اور دونوں میں کوئی تضاد ممکن نہیں۔ اور اگر کسی حصہ میں تضاد نظر آتا ہے تو وہ یقینا ہماری سمجھ کی غلطی ہے۔

(29) یہ سب جائز اور مناسب بلکہ ضروری طریقے ہیں۔ مگر برتھ کنٹرول کے ذریعہ اپنی نسل کو کاٹنا جن میں سے بعض پیدا ہونے والے بچے بالقوّہ طور پر غیر معمولی قویٰ کے حامل نکل سکتے ہیں کسی طرح درست اور مناسب نظر نہیں آتا۔ علاوہ ازیں برتھ کنٹرول کا طریقہ اس لحاظ سے بھی اعتراض کے نیچے آتا ہے کہ وہ ایک ایسی شاخ تراشی یعنی پروننگ Pruning کا رنگ رکھتا ہے جس میں شاخ کاٹنے والا بلا لحاظ اچھی یا بُری اور بلالحاظ تندرست یا بیمار شاخ کے یونہی اندھا دھند شاخیں کاٹتا چلا جاتا ہے۔ تجربہ اور مشاہدہ سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہے کہ مختلف انسانوں کے جسمانی اور دماغی قویٰ میں پیدائشی طور پر فرق ہوا کرتا ہے۔ یعنی بعض اوقات ایک ماں باپ کا بچہ کند ذہن اور ادنیٰ دماغی طاقتوں والا نکلتا ہے۔ اور دوسرے ماں باپ کا بچہ بلکہ بعض اوقات انہی ماں باپ کا دوسرابچہ ایسے اعلیٰ قویٰ لے کر پیدا ہوتا ہے کہ گویا گھر میں ایک سورج چڑھ آیا ہے۔ ایک بچہ رینگنے کی بھی طاقت نہیں رکھتا اور دوسرا بچہ فضا کی پرواز میں شاہین اور عقاب کو مات کرتا ہے۔ لیکن برتھ کنٹرول کی اندھی چھری کو ان دونوں قسم کے بچوں میں امتیاز کرنے کی کوئی صلاحیت حاصل نہیںہوتی۔ بالکل ممکن ہے کہ برتھ کنٹرول کی چھری ایک اعلیٰ دماغی طاقتوں والے آفتابی بچے کو قبل پیدائش ہی ذبح کر کے رکھ دے۔ اور ایک کند ذہن بچے بلکہ ایک نیم مجنون اور شاہ دولے کے چُوہے کی پیدائش کا رستہ کھول دے۔ اس کے مقابل پر جو قانون خدا نے نیچر میں جاری فرمایا ہے جسے انگریزی میں سروائیول آف دی فِٹّسٹ (Survival of the fittest) کہتے ہیں۔ وہ ایک بینا اور عاقل سرجن کا رنگ رکھتا ہے جو صرف کمزور شاخ کو کاٹتا اور بڑھنے والی اور پھل دینے والی شاخوں کے پنپنے کا رستہ کھولتا ہے۔ اس لئے وہی اس بات کا حق دار ہے کہ اسے اختیار کیا جائے۔ قرآن مجید نے بھی اسی اصول کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے :

فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْھَبُ جُفَآئً ج وَاَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْکُثُ فِی الْاَرْضِ (الرعد:18)

یعنی خدا کا یہ قانون ہے کہ سطحی قسم کی ناکارہ جھاگ تو جلد بیٹھ کر ختم ہو جاتی ہے مگر جو چیز لوگوں کو نفع پہنچانے والی ہو وہ قائم رہتی ہے۔

مگر افسوس ہے کہ آج کل اکثر لوگ خدا کے بینا قانون کو چھوڑ کر اپنے اندھے قانون کے ذریعہ کتنے چمکنے والے آفتابی بچوں کے جان لیوا ثابت ہو رہے ہیں۔ بیشک جیسا کہ میں اوپر کہہ چکا ہوں انبیاء کی پیدائش خدا کی خاص تقدیر یعنی سپیشل ڈگری کے ماتحت ہوا کرتی ہے مگر میں بعض اوقات عمومی رنگ میں سوچا کرتا ہوں کہ اگر نبیوںکی پیدائش بھی عام قانون کے ماتحت ہوا کرتی تو شاید برتھ کنٹرول کی اندھی چھری کی وجہ سے بعض نبی بھی اس کا شکار ہو جاتے اور اس صورت میں دنیا کتنے روحانی خزائن سے محروم ہو جاتی۔ مگر ہمیں اتنی دور جانے کی ضرورت نہیں اگر بالفرض بانی ئ پاکستان یعنی قائد اعظم کا قیمتی وجود ہی برتھ کنٹرول کا شکار ہوجاتا تو پاکستان کہاں ہوتا؟ یا اگر امریکہ میں جارج واشنگٹن اور ابراہام لنکن برتھ کنٹرول کی بھینٹ چڑھ جاتے تو بظاہر صورت ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا کیا حشر ہوتا؟ سوچو اور غور کرو! ہاں پھر سوچو اور غور کرو!!

(30) شائد اس جگہ کسی شخص کے دل میں یہ شبہ گزرے کہ بے شک برتھ کنٹرول ایک اندھی چھری ہے مگر جس طرح اس کے ذریعہ بعض اعلیٰ قویٰ رکھنے والی نیک اور اصلاحی روحوں کے ضائع ہوجانے کا اندیشہ ہے اسی طرح اس کی وجہ سے بعض بُری اور فسادی روحوں کے کٹ جانے کا بھی تو امکان ہے۔ اور اس طرح دونوں طرف کے امکان سے یہ معاملہ گویا سمویا جاتا ہے اور کسی خاص خطرے کی صورت پیدا نہیں ہوتی۔ لیکن اگر غور کیا جائے کہ یہ دلیل سراسر کوتاہ بینی اور انسانی فطرت کے غلط مطالعہ پر مبنی ہے۔ کیونکہ اصل اور فطری چیز نیکی ہے جسے مثبت نوعیت حاصل ہے۔ اور بدی صرف غیر فطری اور منفی قسم کی چیز ہے۔ اس لئے بہر حال نیکی کے پہلو کو ترجیح حاصل رہے گی۔ غالباً کوئی عقل مند انسان ایسا نہیں مل سکتا جو اس خیال پر تسلی پا سکے کہ بے شک دنیا میں اعلیٰ قویٰ کے نیک اور مصلح لوگ نہ پیدا ہوں مگر بہر حال بدوں کی پیدائش کا رستہ بند ہونا چاہئے۔ روشنی اندھیرے کو دور کیا کرتی ہے اندھیرا روشنی کو دور نہیں کرتا۔ اسی لئے اسلام نے بدی کے استیصال کی نسبت نیکی کے قیام پر زیادہ زور دیا ہے۔ چنانچہ قرآن مجید فرماتا ہے :

اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّاٰتِ ط ذٰلِکَ ذِکْرٰی لِلذَّاکِرِیْنَ (ھود:115)

یعنی نیکیوں کو یہ طاقت حاصل ہے کہ وہ بدیوں کو بہا کر لے جاتی ہیں۔ یہ بات یاد رکھنے والوں کے لئے یاد رکھنے کے قابل ہے۔

(31) پھر اگر غور کیا جائے تو برتھ کنٹرول یعنی ضبطِ تولید کے معنی دراصل یہ بنتے ہیں کہ وہ لوگ جو اس وقت دنیا میں پیدا ہو کر زندگی گزار رہے ہیں وہ تو زندگی کے مزے لوٹیں اور جو نسل ابھی پیدا نہیں ہوئی اس کے پیدا ہونے سے پہلے ہی اس کا گلا گھونٹ دیا جائے۔ یہ تو وہی بات ہوئی جو بعض ریل میں بیٹھنے والے کم ظرف مسافر کیا کرتے ہیں کہ جب وہ آرام سے کسی ڈبہ میں گھُس کر اپنی سیٹوں پر قابض ہو جاتے ہیں تو پھر اندر سے دروازہ بند کر کے باہر سے داخل ہونے والوں کے لئے رستہ سر بمہر یعنی سیل (Seal) کر دیتے ہیں۔ گویا کہ ریل صرف انہی کے لئے بنی ہے اور بعد میں آنے والے اس کے حق دار نہیں۔

(32) جیسا کہ قرآن شریف کی سورۃ انعام آیت 152 میں اشارہ کیا گیا ہے۔ ضبطِ تولید اور برتھ کنٹرول کے ذریعہ بے اصول لوگوں کے لئے (نہ کہ نعوذباللہ سب کے لئے) عیاشی اور بے حیائی کا رستہ بھی کھلتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جنسی آزادی اور بے راہ روی کے رستہ میں سب سے بڑی روک بدنامی کا ڈر ہوا کرتی ہے یعنی اس لغزش میں مبتلا ہونے والوں میں یہ طبع ڈر اور خوف ہوتا ہے کہ اگر ہمارا راز فاش ہو گیا تو سوسائٹی میں ہماری ناک کٹ جائے گی۔ لیکن برتھ کنٹرول کے ذرائع کے عام ہونے اور اس بارے میں سہولتیں مہیا ہونے کے نتیجہ میں یہ ڈر لازماً جاتا رہتا ہے یا بہت کم ہو جاتا ہے اور گویا بے اصول اور غیر شریف لوگوں کو ایک کھلی رسّی مل جاتی ہے کہ ہم جہاں چاہیں منہ کالا کرتے پھریں پھر بھی ہم محفوظ رہیں گے۔ اور اس صورتِ حال کا نتیجہ ظاہر ہے بعض مغربی ممالک میں زنا اور عیاشی اور بے حیائی اور ناجائز ولادت کے پھیلنے کا زیادہ تر یہی سبب بنا ہے۔ اسی لئے قرآن مجید نے کمال حکمت سے فرمایا ہے کہ :

وَلَاتَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَکُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ ط نَحْنُ نَرْزُقُکُمْ وَ اِیَّاھُمْ ج وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَمَا بَطَنَ (الانعام:152)

یعنی اپنی اولادوں کو غربت اور تنگی کی وجہ سے قتل نہ کرو۔ تمہیں اور تمہاری اولادوں کو رزق دینے والے ہم ہیں۔ اور دیکھو اس ذریعہ سے بے حیائی پیدا ہونے کا بھی خطرہ ہے اورتمہیں بے حیائی کے قریب تک نہیں جانا چاہئے خواہ کوئی بے حیائی ظاہر میں نظر آنے والی ہو یا کہ پوشیدہ ہو۔

(33) پھر برتھ کنٹرول اور ضبطِ تولید کے نقصانات کے متعلق ماہرین کی یہ بھی رائے ہے کہ :
بعض صورتوں میں برتھ کنٹرول کے نتائج خطرناک نکلتے ہیں۔ سکونِ قلب جاتا رہتا ہے۔ نفسیاتی ہیجان پیدا ہو جاتا ہے۔ اعصابی بے چینی رہنے لگتی ہے۔ نیند اُڑ جاتی ہے۔ انسان مراق اور ہسٹیریا کا شکار رہنے لگتا ہے۔ دماغی توازن اکھڑ جاتا ہے۔ عورتیں بانجھ ہو جاتی ہیں اور مردوں کی قوتِ مردی زائل ہو جاتی ہے۔

’’فیملی پلیننگ‘‘ (Family planning) مصنفہ ڈاکٹر ستیاوتی کے صفحات 70 و 77 و 80 کے متفرق نوٹوں میں۔ نیز ’’پاکستان ٹائمز‘‘ مورخہ 21 ستمبر 1959ء صفحہ4)

پھر انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا میں برتھ کنٹرول والے نوٹ کے آخر میں لکھا ہے کہ :
اولاد محض خواہش کے نتیجہ میں نہیں مل جایا کرتی (بلکہ اس کے لئے نیچر کے بھی بعض قوانین اور حدبندیاں مقرر ہیں) کئی خاوند بیوی ایسے دیکھے گئے ہیں جنہوں نے اپنی متّاہل زندگی کے شروع میں برتھ کنٹرول پر عمل کیا مگر پھر بعد میں اولاد کی خواہش اور کوشش کے باوجود آخر عمر تک بے اولاد رہے اور اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھے۔

(انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا ایڈیشن 14 جلد3 زیرِ آرٹیکل برتھ کنٹرول)

(34) عورتوں میں برتھ کنٹرول کی خواہش زیادہ تر اپنے حسن وجمال کو برقرار رکھنے اور اسے ترقی دینے کے خیال سے ہوا کرتی ہے۔اور یا اس کی تہہ میں بے فکری اور آزادی کی زندگی گزارنے کا جذبہ کارفرما ہوتا ہے۔ اسی لئے برتھ کنٹرول پر عمل اور اس کاچرچا زیادہ تر متموّل طبقہ میں پایا جاتا ہے مگر آڑ غرباء کے طبقہ کی لی جاتی ہے۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ اگر ایک طرف پاکستانی عورتوں کو برتھ کنٹرول کے امکانی نقصانات کا احساس پیدا کرایا جائے اور دوسری طرف گھریلو زندگی کی اہم ذمہ داریوںکا جذبہ اجاگر کیا جائے تو پاکستان کی باشعور خواتین سے بعید نہیں کہ وہ چوکس ہو کر اپنے خیالات میں کسی قدر تبدیلی کرنے کے لئے تیار ہوجائیں گی۔ صحت بے شک ایک ضروری چیز ہے اور اگر زندگی کو خطرہ ہو تو برتھ کنٹرول تو کیا ڈاکٹری ہدایت کے ماتحت حمل بھی گرایا جا سکتا ہے۔ لیکن یونہی ظاہری اور عارضی ٹیپ ٹاپ کے خیال کی بناء پر مسلمان عورتوں کے لئے اپنی نسل کو ضائع کرنا ہرگز دانشمندی کا طریق نہیں۔ کون کہہ سکتا ہے کہ جو بچہ برتھ کنٹرول کے ذریعہ ضائع کیا جا رہا ہے وہ کس شان کا نکلنے والا ہے ؟ یا اگر خدانخواستہ موجودہ اولاد فوت ہو جائے تو کون جانتا ہے کہ اس کے بعد اولاد کا سلسلہ بند ہوجانے کے نتیجہ میں کتنی حسرت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

(35) پھر ملکوں اور قوموں کے حالات میں اتار چڑھاؤ بھی ہوتا رہتا ہے۔ آج اگر کسی وجہ سے کسی ملک میں آبادی کی کثرت محسوس کی جارہی ہے تو کل کو ایسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں کہ اسی ملک میں زیادہ آبادی کی ضرورت محسوس ہونے لگے اور آبادی کی کمی وبالِ جان بن جائے۔ جرمنی میں برتھ کنٹرول کے ذریعہ آبادی کو گرایا گیا۔ مگر بہت جلد ایسے حالات پیدا ہو گئے کہ نازی حکومت کو آبادی بڑھانے کی غرض سے جرمن نوجوانوں کو شادیوں کی تحریک کرنے کے لئے انعام دینے پڑے اور زیادہ بچے پیدا کرنے کی غرض سے جرمن عورتوںکی بھی غیر معمولی ہمت افزائی کی گئی (معین حوالہ تلاش کیا جارہا ہے )۔ اسی طرح مارشل پیٹان کا مشہور قول ہے کہ فرانس کو جرمنی کے مقابل پر جنگ میں زیادہ تر اس لئے مغلوب ہونا پڑا کہ فرانس میں نوجوانوں کی تعداد (برتھ کنٹرول کی وجہ سے) بہت گِر گئی تھی۔ غالباً ان کے الفاظ یہ تھے کہ ’’ٹُو فیو چلڈرن‘‘ (Too few children) یعنی فرانس میں ملکی ضرورت سے کم نوجوان رہ گئے تھے۔ (متعین حوالہ تلاش کیا جارہا ہے) بلکہ آج ہی اخباروں میں کینیڈا کی رکن پارلیمنٹ مارگرٹ اٹیکن کا بیان چھپا ہے جو اس خاتون نے عوامی چین کے دورے کے بعد دیا ہے۔ اس بیان میں مارگرٹ اٹیکن فرماتی ہیں کہ :
’’سرخ چین میں ضبطِ تولید کو اچھا نہیں سمجھا جاتا بلکہ اس کی مخالفت کی جاتی ہے۔ چین میں کمیونسٹوں کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد ملک میں خاندانی منصوبہ بندی کے مراکز قائم کئے گئے تھے لیکن اب ان کو بند کر دیا گیا ہے۔ حالانکہ چین دنیا بھر کے ملکوں میں سب سے زیادہ آباد ملک ہے۔‘‘

(نوائے وقت تاریخ 4 نومبر 1959ء)

بہر حال کئی ملک برتھ کنٹرول کے تجربہ کے بعد پھر اس نظام کو بدلنے کی طرف لوٹے ہیں۔ چنانچہ قرآن مجید بھی اصولی طور پر اس امکانی خطرہ کے پیش نظر فرماتا ہے کہ :

تِلْکَ الْاَیَّامُ نُدَا وِلُھَا بَیْنَ النَّاسِ (آل عمران:141)

یعنی قوموں کے حالات میں اتار چڑھاؤ ہوتا رہتا ہے۔ ’’اس لئے ہوشیار ہو جاؤ۔

نیز فرماتا ہے :

وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ (الحشر:19)

یعنی انسان کو چاہئے کہ جب وہ کوئی کام کرنے لگے تو اس کے تمام امکانی نتائج اور مستقبل کے حالات کو سامنے رکھ کر قدم اٹھائے ’’تاکہ جلدی میں یا کسی وقتی اثر کے ماتحت کوئی قدم نہ اٹھایا جائے۔

اس سے ظاہر ہے کہ محض کسی وقتی رَو میں بہہ کر کوئی قدم اٹھانا یا دوسروں کی کورانہ تقلیدکرنا ہرگز دانشمندی کا طریق نہیں ہے۔ کون کہہ سکتا ہے کہ پاکستان کو کبھی جنگ پیش نہیں آئے گی؟ اور پھر فوجیوں میں نسلی اور خاندانی روایات بھی چلتی ہیں اور زیادہ تر فوجیوں کے بچے ہی فوج میں جاتے اور اچھے سپاہی بنتے ہیں فَافْھُمْ وَ تَدَبَّرْ۔

(36) اوپر کے چند مختصر سے نوٹوں میں مَیں نے ’’خاندانی منصوبہ بندی‘‘ یا ’’برتھ کنٹرول‘‘ کے متعلق اپنی ابتدائی تحقیق کا خلاصہ درج کیا ہے۔ لیکن چونکہ یہ ایک نہایت اہم مضمون ہے جس سے مسلمانوں اور خصوصاً پاکستا ن کے مسلمانوں کی آئندہ ترقی یا (خدا نہ کرے) تنزّل پر بھاری اثر پڑ سکتا ہے (اور ظاہر ہے کہ ایسے امور کا اثر قومی زندگی میں آہستہ آہستہ ہی ظاہر ہوا کرتا ہے) اس لئے میں اپنے ان نوٹوں کو آخری صورت دینے سے قبل انہیں موجودہ ابتدائی حالت میں ہی شائع کر رہا ہوں تا کہ مجھے بھی مزید غور کا موقع مل سکے۔ اور جو ہمدردانِ ملک و ملت اس بارے میں کچھ خیال ظاہر کرنا چاہیں ان کے خیالات کا بھی مجھے علم ہو جائے۔ چونکہ میںنے بچپن سے ہی خالصتہً مذہبی ماحول میں پرورش پائی ہے اس لئے طبعاً میرے ان نوٹوں میں مذہبی نظریات کا عنصر غالب ہے۔ لیکن چونکہ اسلام نے اپنے حکیمانہ نظام میں دوسرے پہلوؤں کو بھی نظر انداز نہیں کیا اس لئے میرے یہ نوٹ کسی قدر ان پہلوؤں کی چاشنی سے بھی خالی نہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس اہم مضمون کو ایسی صورت میں مکمل و مرتب کرنے کی توفیق دے جو پاکستان کے لئے بہترین نتائج کی حامل ہو۔

وَمَا تَوْفِیْقِی اِلاَّ بِاللّٰہِ الْعَظِیْم

(محررہ 5نومبر 1959ء)

(روزنامہ الفضل ربوہ 14نومبر 1959ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 26 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 27 اکتوبر 2020