• 23 نومبر, 2020

آج کی دعا

اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ تَسْمَعُ کَلَامِیْ وَتَریٰ مَکَانِیْ وَتَعْلَمُ سِرِّیْ وَعَلَانِیَتِیْ لَایَخْفٰی عَلَیْکَ شَیْ ءٌ مِّنْ اَمْرِیْ اَنَا الْبَآئِسُ الْفَقِیْرُ الْمُسْتَغِیْثُ الْمُسْتَجِیْرُ الْوَجِلُ الْمُشْفِقُ الْمُقِرُّ الْمُعْتَرِفِ بِذَنْبِہ اَسْئَلُکَ مَسْئَلَۃَ الْمِسْکِیْنَ ، وَاَبْتَھِلُ اِلَیْکَ اِبْتِھَالَ الْمُذْنِبِ الذَّلِیْلِ، وَ اَدْعُوْکَ دُعَآءَ الْخَآئِفِ الضَّرِیْرِ مَنْ خَشَعَتْ لَکَ رَقَبَتُہُ، وَفَاضَتْ لَکَ عَیْنَاہُ ، وَذَلَّ لَکَ جَسَدُہٗ ، وَرَغِمَ اَنْفُہٗ لَکَ ، اَللّٰھُمَّ لَا تَجْعَلْنِیْ بِدُعَآئِکَ شَقِیًّا وَّکُنْ بِیْ رَؤُفاً رَّحِیْماً یَّا خَیْرَ الْمَسْئُوْلِیْنَ وَیَاخَیْرَ الْمُعْطِیْنَ

(الدعاء للطبرانی جلد11 صفحہ174)

ترجمہ:اے اللہ ! تو میری باتوں کوسن رہا ہے اورمیرے حال کودیکھ رہاہے ۔میرے پوشیدہ اورظاہر کو جانتا ہے۔ میری کوئی بات تجھ سے چھپی نہیں ۔اورمیں ایک بد حال فقیر اور محتاج ہی تو ہوں ۔فریاد کنندہ پناہ کا طالب ہوں۔خوف زدہ ہوں۔ لرزرہا ہوں۔ اپنے گناہوں کا پورا پورا اقرار کرتا ہوں۔ میں تجھ سے ویسے سوال کرتا ہوں جس طرح مسکین سوال کرتا ہے ۔تیرے سامنے ذلیل مجرم کی طرح گڑ گڑاتا ہوں اور تجھ کو پکارتا ہوں جیسا ایک مصیبت زدہ ڈرنے والا پکارتا ہے اوراس کی طرح پکارتا ہوں جس کی گردن تیرے سامنے جھکی ہوئی ہو اور جس کے آنسو جاری ہوں اورجس کا سارا جسم تیرے سامنے ذلیل پڑا ہو اور اس کی ناک خاک آلود ہو۔ اے اللہ! تو مجھے اپنے حضور دعا کرنے میں بدنصیب نہ ٹھہرا دینا۔ اور میرے ساتھ مہربانی اور رحم کا سلوک فرمانا۔ اے وہ جو سب سے بڑھ کر التجاؤں کو قبول کرتا اور سب سے بہتر عطا فرمانے والا ہے، میری دعا قبول کرلینا۔

یہ پیارے رسول حضرت محمدﷺ کی حجۃ الوداع کے موقع پر میدانِ عرفات میں کی جانے والی دعا ہے۔

آپﷺ کی یہ بہت پیاری دعا خشیت و خوفِ الٰہی اور عجز وانکساری کی حسین مثال ہے۔ جس کا لفظ لفظ تقویٰ، تضرع، اللہ تعالیٰ کی محبت اور اللہ تعالیٰ کے خوف کے رنگوں سے رنگا ہوا ہے۔

(مرسلہ: قدسیہ محمود سردار)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 26 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 27 اکتوبر 2020