• 23 نومبر, 2020

محترم خالد یٰسین صاحب مرحوم

محترم خالد یٰسین صاحب مرحوم آف ماڈل کالونی کراچی حال امریکہ کی یاد میں

پاک طینت، صاف دل باعمل اور متوکل، خادم دین اور نافع الناس،سچا اور کھرا احمدی ،والدین کا خدمت گار، لوگوں کا مونس وغم خوار، شفیق باپ، محبت کرنے والا بھائی اور شوہر ، واقفین زندگی سے پیار کرنے والا، خلافت کا شیدائی اور ہمارے پیارے دوست مکرم خالد یٰسین صاحب آف ماڈل کالونی کراچی حال ہیوسٹن ٹیکساس امریکہ اچانک حرکت قلب بند ہو جانے سے پُر سکون حالت میں 13 اگست 2020ء کو 61 سال کی عمر میں اپنے خالق ِحقیقی سے جا ملے۔

بلانے والا ہے سب پیارا اسی پہ اے دل تو جاں فدا کر

ربع صدی سے میرا ان سے تعلق تھا ۔ شادی کے بعد پہلی بار ہم جولائی 1994ء میں کراچی گئے۔ بڑے بھائی کی رہائش ماڈل کالونی میں تھی۔ مکرم خالد یٰسین صاحب اپنے والدین کے ہمراہ ماڈل کالونی میں رہائش پذیر تھے۔ ان سے تعارف کیا ہوا کہ مستقل تعلق کی ڈور میں بندھ گئے۔ اپنے گھر ہماری دعوت بھی کی اور پھر تادم واپسیں تعلق رکھا۔ آپ سے گفتگو اور تعلق کا محور تو احمدیت، خلافت، مطالعہ کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام ، خطبات ِ خلفاء کے نکات اور جماعت و احباب جماعت سے محبت کا اظہار ہی ہوتا تھا۔

اگر کوئی پوچھے کہ احمدیت نے دنیا میں کیا روحانی انقلاب پیدا کیا تو اس کی ایک زندہ مثال مکرم خالد یٰسین صاحب اور انکی فیملی تھی۔آپ کے والد محترم محمد یٰسین صاحب ایک کٹر مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ کئی سال کی تحقیق کے بعد 1960ء میں آغوش احمدیت میں آئے جب کہ مکرم خالد یٰسین ابھی ایک سال کے تھے۔ احمدیت نے انکے اندر ایک عظیم روحانی انقلاب برپا کر دیا۔ احمدیت کے بارہ میں جو پڑھا، جو خلفاء سے سنا اس پر عمل کر کے دکھایا ۔وہ ایک کھرے، سچے اور بے باک و نڈر احمدی تھے۔ اسی نہج پر انہوں نے اپنے بیٹے مکرم خالد یٰسین صاحب اور اپنی بچیوں کی تربیت کی اور انہیں صاف اور کھرا احمدی بنادیا۔

مکرم خالدیٰسین صاحب احمدیت کے قالب میں ڈھلے ہوئے وجود تھے ان کا اوڑھنا بچھونا، پڑھنا لکھنا، کہنا سننا سب کچھ احمدیت تھا۔ مضبوط تعلق باللہ، جماعتی لٹریچر سے گہری واقفیت، علم کی جستجو اور نور احمدیت سے دوسروں کو منور کرنے کی تڑپ اور لگن، اصلاح احوال اور خلافت احمدیہ سے چمٹے رہنے کی دھن اور اسی دامن سے اپنے قریبیوں کو وابستہ کرنے کی سعی پیہم مکرم خالد یٰسین صاحب کے مشاغل اور محاسن تھے۔ آپ کے اچانک رخصت ہونے پر جہاں آپ کے چاہنے والے اور وسیع حلقہ احباب رنجیدہ ہیں وہاں وہ آپ کے اوصاف ِحمیدہ کے بیان پر رطب اللسان ہیں۔

جماعت احمدیہ ہیوسٹن امریکہ کے سیکرٹری تربیت محترمی خالد یٰسین صاحب 3جون 1959ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔کراچی سے ہی تعلیم حاصل کی۔ ایف ایس سی کے بعد 1977ء میں PIA میں آپرنٹس بھرتی ہوگئے۔ترقی کر کے ٹیکنیشن ہوئے اور Avionics اورAerospace کے امتحانات پاس کر کے ائیر کرافٹ انجینئر ہوگئے اور 2014ء میں PIA سے ریٹائرمنٹ لیکر امریکہ سیٹل ہوگئے ۔ امریکہ میں بھی آپ کو اپنے شعبہ کی ملازمت ہیوسٹن ائیر پورٹ پر مل گئی۔ PIA میں ملازمت کی بدولت آپ کو دنیا کے کئی ممالک کی سیرو سیاحت کا موقع ملا لیکن لندن آپ دربار خلافت میں حاضری کے لئے کھچے چلے جاتے تھے اور جماعتی خدمت کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے ۔ مکرم امیر صاحب کراچی کو لندن جانے کی اطلاع کرتے تا کوئی ڈاک یا ضروری سامان حضرت صاحب کے لئے ہے تو وہ لے جائیں اور اپنے سفر کو مبارک کریں۔

برادرم محمد ساجد قمر صاحب سابق زعیم اعلیٰ انصاراللہ ماڈل کالونی کراچی حال کرائیڈن لندن بیان کرتے ہیں کہ مکرم خالد یٰسین صاحب سے میرا چالیس سال پرانا تعلق تھا جب ہم ڈرگ روڈ میں اکٹھے تھے اور پی آئی اے میں بھی دونوں شعبہ انجینئر نگ سے وابستہ تھے پھر جب مکرم خالد یٰسین صاحب انصاراللہ میں داخل ہوئے تو میں زعیم اعلیٰ انصاراللہ تھا اور رہائش بھی ماڈل کالونی میں قریب قریب تھی۔ آپ کے والد مکرم یٰسین صاحب نمازوں اور چندوں میں بہت باقاعدہ تھے اور اسی طرح مکرم خالد یٰسین صاحب بھی نمازوں اور چندوں میں نہ صرف باقاعدہ بلکہ شرح کے ساتھ اور ذوق شوق کے ساتھ چندے ادا کرتے تھے۔نماز عصر اور مغرب پر اپنے چھوٹے بچوں کو مسجد ساتھ لے آتے ۔ توکل علی اللہ کے خاص مقام پر فائز تھے اور ایک نڈر احمدی تھے۔ جب بھی ان سے بات ہوتی تو کہتے ہماری کیا حیثیت ہے سب کچھ جماعت کی برکتوں کی وجہ سے ہے۔ آپ کا ایک خاص جملہ تھا کہ ہم سب جماعت کی وجہ سے رزق پا رہے ہیں۔ دین میں ایک باعمل انسان تھے۔ خدمت ِ خلق کے لئے ہر وقت تیار رہتے۔ کسی کو کہیں لیکر جانا یا لانا ہوتا تو تیار رہتے۔ائیر پورٹ پر لوگوں کو اکثر کام پڑجاتے تو آپ ان کی مدد کرتے۔

محترم سید منیر احمد صاحب امیر جماعت احمدیہ گلشن ِ جامی کراچی جن کے ساتھ آپ کا نصف صدی کا تعلق تھا وہ آپ کے محاسن کا ذکر کرتے ہوئے مجھے بتاتے ہیں کہ ستّر کی دہائی میں ہمارا قیام ڈرگ روڈ کی جماعت میں تھا اور قریبی جماعت ڈرگ کالونی بھی خدام الاحمدیہ ڈرگ روڈ کے ساتھ ایک ہی مجلس ہوا کرتی تھی اور ہم 1984ءتک وہاں رہے۔ اسی دور میں مکرم محمد یٰسین صاحب اور ان کے بیٹے مکرم خالد یٰسین صاحب سے ملاقات رہتی۔ بعدا زاں ہم ماڈل کالونی آگئے اور کچھ عرصہ بعد ان کا گھرانہ بھی آگیا۔ مکرم خالد صاحب کی طبیعت میں سادگی، بے ساختگی اور دوستی کا رنگ بھرا ہوا تھا۔ ان کے والد صاحب نے عین جوانی میں تحقیق کے بعد بیعت کی اور اپنے خاندان میں واحد احمدی تھے۔ مکرم خالد صاحب اکثر کہتے کہ ہمارا خاندان تو جماعت کے افراد ہی ہیں۔ اپنے رشتہ دار تو ملنا گوار اہی نہیں کرتے۔

آپ خاکسار سے عمر میں چند سال بڑے تھے مگر ہمیشہ ایسا تعلق رکھا کہ ہم عمر دوست ہوں۔ اگر کبھی کوئی بات نامناسب لگتی تو اس کا دیانت داری سے اظہار کرتے۔ نماز کی ادائیگی کے لئے مسجد کو ترجیح دیتے ۔یہی وجہ ہے کہ جب امریکہ منتقل ہو گئے تو اکثر فون کرتے اوریہ ذکر کرتے کہ میں نے ایسی جگہ گھر لیا ہے جو مسجد کے قریب ہے۔

خلافت سے اس حد تک ذاتی تعلق تھا کہ وہ بیان کیا کرتے تھے کہ ایک بار پریشانی کے عالم میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ کی خدمت میں فون پر دعا کی درخواست کے لئے رابطہ کیا تو مکرم خالد صاحب بتاتے تھے کہ اچانک حضور ؒکی آواز آئی کہ ہاں ان سے بات کروا دیں میں ان کو جانتا ہوں۔ اس کے بعد حضور سے بات ہوئی اور والدین اور بہنوں کے بارہ میں اس طرح دریافت کیا جس طرح کوئی خاندان کا بزرگ پوچھا کرتا ہے ۔

کراچی میں، پی آئی اے میں ملازمت کی وجہ سے اکثر ان کو یوکے جانے کا موقع بھی ملتا ۔ ایسے موقع پر وہ مکرم امیر صاحب ضلع کراچی کو اطلاع کرتے اور جماعتی ڈاک لے جانے اور وہاں سے لانے کی خدمت کرنے پر خوشی کا اظہار کرتے ۔ مکرم چوہدری احمد مختار صاحب مرحوم امیر جماعت کراچی اور مکرم نواب مودود احمد خان مرحوم امیر جماعت کراچی سے بھی ذاتی تعلق رکھا ۔

نومبائعین کے لئے ان کے دل میں ایک خاص مقام تھا۔ 2019ء میں ان کے ساتھ امریکہ میں ایک نومبائع، جن کی اہلیہ غیر احمدی ہیں، کراچی اپنے کسی کام سے آنے لگے تو خاکسار کو ان کا تمام پس منظر بتایا اور کہا کہ ان کو جمعہ کی نماز کے لئے رابطہ کروادیں۔ پھر جب وہ دوست کراچی آئے تو خاکسار کے گھر پر ملنے آئے اور خالد صاحب کی بہت تعریف کرتے رہے۔ اوراس امر کا اظہار کیا کہ مکرم خالد صاحب ان کا ہر طرح خیال رکھتے ہیں ۔

لوگوں کی ہمدردی اور انکی خدمت کا تذکرہ کرتے ہوئے ماڈل کالونی کے سابق زعیم اعلیٰ مکرم طاہر محمود صاحب (موجودہ زعیم اعلیٰ ملیر کالونی کراچی) بیان کرتے ہیں کہ مکرم خالد یٰسین صاحب مجلس ماڈل کالونی کے فعال ممبر انصاراللہ تھے اور آپ عاملہ میں کئی سال منتظم تعلیم کے طور پر خدمت کرتے رہے۔ ہمارا بہت قریبی تعلق تھا۔ جب میرے والد محترم کا 2011ء میں انتقال ہوا تو بوجہ موصی ہونے کے انکی میت PIA کے ذریعہ ربوہ لے جائیگی ۔مکرم خالد یٰسین صاحب ائیر پورٹ پر آئے اور پھر جہاز میں جا کر میت دیکھ کر آئے اور مجھے آکر تسلی دی کہ سب ٹھیک ہے۔ جب خاکسار والد صاحب کی تدفین کے بعد بہشتی مقبرہ سے باہر آرہا تھا تو مکرم خالد یٰسین صاحب کا مجھے فون آیا اور انہوں نے کہا کہ مبارک ہو! میں نے پوچھا کس بات کی مبارک دے رہے ہیں؟ تو کہنے لگے کہ آپ اپنے والد محترم کو بہت اعلیٰ مقام پر چھوڑ آئے ہیں۔ انکی یہ مبارک باد مجھے بہت بھلی لگی۔ اللہ تعالیٰ انہیں غریق ِرحمت کرے۔ آمین۔

مربیان کرام سے بہت تعلق رکھتے اور ان کے احترام کے ساتھ اس سے اکتساب علم بھی کرتے تھے۔ مکرم وسیم احمد شمس صاحب مربی سلسلہ جو 1993ء تا1998ء ماڈل کالونی کراچی متعین رہے وہ خالد یٰسین صاحب کے محاسن کا تذکرہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ماڈل کالونی کراچی قیام کے دوران مکرم خالد صاحب مرحوم کے ساتھ ایک خادم کی حیثیت سے گہرا تعلق رہا۔ان کے والد خود احمدی ہوئے جس پر باقی ساری فیملی نے آپ سے ناطہ توڑ لیا۔انکے والد اُن مثالی نومبائعین میں سے تھے جو حقیقی طور پر احمدیت کو سمجھ کر قبول کرتے اور پھر اپنے وجود کو تعلیمات سلسلہ کے مطابق ڈھال لیتےہیں۔ خالد کی تربیت بھی انہوں نے انہی بنیادوں پر کی تھی۔ وہ اپنے ہم عمروں میں سب سے مختلف مزاج رکھتا تھا۔ خدام کے سارے پروگراموں میں شریک ہوتا لیکن اس کا رویہ کبھی بھی نوجوانوں والا نہ تھا۔ بزرگ لڑکا ،کم گو،حلیم المزاج ، مسکراتا ہوا ،سب سے نہایت نرمی، خوش اخلاقی روا رکھنے کا عادی۔ اپنے ہم عمروں میں اجلاسات ، وقار عمل، پکنک جیسے مواقع پر کبھی بھی اس میں کوئی غیر معتدل رویہ مشاہدہ نہیں کیا گیا۔ خدام الاحمدیہ کی تمام تنظیمی میٹنگز میں مربی کو ضرورشامل کیا جاتا۔خالد بھی ہمیشہ ہی عاملہ کا ممبر ہوتا۔ انگریزی کا ایک محاورہ ہے جو دوستوں سے بچھڑتے ہوئے اس وقت بولا جاتا ہے جب دوبارہ ملنے کی امید کم ہو۔ Only the goods die young گویا مزاح کے رنگ میں اپنے دوست سے کہنا کہ جوانی کی موت اچھے لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔ تم اتنے اچھے نہیں کہ جلد مرجاؤ۔خالد کی وفات کا سُن کر فوراً میرے دماغ میں یہ محاورہ گھوم گیا۔ خاکسار کا ایک بچہ پیدائش کے چند دن بعد فوت ہو کر کراچی کے قبرستان میں مدفون ہے۔ جب بھی خالد والدہ کی قبر پر دُعا کے لئے جاتے تو میرے بیٹے کی قبر پر ضرور جاتے دُعا کرتے اور قبر کی دیکھ بھال کرتے اورواپس آکر مجھے فون پر سب کچھ بتاتے ۔ تادم واپسیں خالد یٰسین صاحب نے مجھ سے رابطہ رکھا اور وہ ہمیشہ علمی اور تربیتی باتیں میرے ساتھ شئیر کیا کرتے تھے۔‘‘

خالد یٰسین صاحب نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ زندہ تعلق قائم کر رکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل توکل تھا اور اس کے ساتھ وفا کرتے رہے۔ نماز باجماعت کے شروع سے عادی تھے جہاں بھی رہے اپنی مسجد سے مضبوط تعلق رکھا۔ آپ اپنے تمام پروگرام نماز باجماعت کو مد نظر رکھتے ہوئے بناتے تھے۔اپنے بچوں کو بھی یہی کہتے کہ اپنے پروگرام نمازوں کے مطابق شیڈول کریں تا آپ مسجد جا کر نماز پڑھیں۔ پہلے مسجد جائیں پھر دوسرے پروگرام رکھیں۔ اللہ تعالیٰ کی ذات پر اس قدر یقین تھا کہ آپ ہمیشہ گھر والوں کویہی تلقین کرتے کہ ہمارے لئے دعا ہی سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ اگر عزیزوں ، دوستوں ، احباب جماعت میں کوئی جھگڑے کی کیفیت پیدا ہوتی تو آپ انکو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ نصیحت دہراتے کہ کوئی بھی بڑا اقدام اٹھانے یا فیصلہ لینے سے پہلے انکے لئے پہلے چالیس روز تک دعا کریں۔ جب امریکہ آگئے تو اپنا گھر مسجد کے قریب لیا اور آپ روزانہ مسجد جاتے اگر ملازمت کی وجہ سے کوئی باجماعت نماز نہیں ملی تو نوافل کی ادائیگی کے لئے مسجد چلے جاتے ۔ مسجد کے کارپٹ کی صفائی سعادت سمجھتے ہوئے کرتے ۔آپ کے بیٹے راشد یٰسین کہتے ہیں کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی دن ایسا ہو جس دن آپ مسجد نہ گئے ہوں۔ آپ اپنے بچوں کو ہمیشہ نصیحت کرتے تھے کہ اگر ہم خدا کے گھر کو آباد رکھیں گے تو خدا ہمارے گھر کو آباد رکھے گا۔ آپ سیکرٹری تربیت کے طور پر ہیوسٹن میں خدمت بجا لارہے تھے آپ احباب جماعت کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھتے اور انہیں مسجد کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کرتے اور نمازوں کی طرف توجہ دلاتے۔

آپ خلافت کے شیدائی تھے ۔ نہ صرف خود بلکہ اپنے بیوی بچوں عزیزوں اور احباب کو شمع خلافت کا پروانہ بنے رہنے کی سعی کرتے رہے۔ پاکستان سے باقاعدگی سے لندن جاتے اور حضرت خلیفۃ المسیح کی ڈاک اور سامان ساتھ لے جانے کو سعادت گردانتے۔حضرت صاحب کا خطبہ امریکہ میں صبح کے وقت آتا آپ سب بچوں کو بیدار کر کے لائیو خطبہ سننے کا باقاعدہ انتظام کرتے تھے۔آپ کے بیٹے راشد بتاتے ہیں کہ 2013ء میں میں کچھ عرصہ کے لئے آپ کے ساتھ لندن آیا تو خصوصی درخواست کر کے میری دفتر پرائیویٹ سیکرٹری میں خدمت پر ڈیوٹی لگوائی اور پھر مجھ سے روز پوچھتے بھی رہے۔ آپ کی بہن قدسیہ بیان کرتی ہیں کہ خالد بھائی نے ہم دونوں بہنوں کو جائے نماز تحفہ میں دئیے جن پر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ نے نماز پڑھی ہوئی تھی یہ خلافت کے ساتھ عشق ، محبت اور وفا کے مختلف انداز تھے جو آپ نے اپنا رکھے تھے۔

اپنے والدین کی اطاعت اور انکی خدمت میں کمربستہ رہے۔ آپ کی بہن قدسیہ یٰسین صاحبہ کہتی ہیں کہ مجھے اپنے بھائی کا یہ جملہ بہت پسند ہے کہ اللہ تعالیٰ نے والدین کی اطاعت کا حکم دیا ہے یہ نہیں فرمایا کہ اس اس طرح کے والدین کی اطاعت کرو۔ اس لئے غیر مشروط اور مسلسل اطاعت ِ والدین کرنی ہے۔ الحمدللہ کہ بھائی نے اس پر عمل کر کے دکھا یا۔ آپ کو نوجوانی میں ہی PIA میں ملازمت کی وجہ سے مغربی ممالک جانے کا اتفاق ہوتا رہا لیکن آپ نے وہاں منتقل ہونے کا نہیں سوچا کیونکہ والدین کراچی میں تھے۔ آپ کے والد صاحب پاکستان کے نامساعد حالات کی وجہ سے چاہتے تھے کہ امریکہ شفٹ ہو جائیں لیکن امریکہ آکر یہاں کا ماحول اور موسم پسند نہ آیا تو واپس آگئے۔ آپ کی ہمشیرہ ثروت ملک بیان کرتی ہیں کہ خالد بھائی نے اپنی امیگریشن کی کارروائی کو ہمیشہ طول دیا صرف اس وجہ سے کہ ابا جان کے ساتھ کراچی میں رہیں۔ 2010ء میں ابا جان کی وفات کے بعد امیگریشن کی کارروائی کو آپ نے متحرک کیا اور پھر 2014ء میں امریکہ منتقل ہوگئے۔

اپنی بہنوں کے ساتھ مثالی تعلق رکھا۔ بہنیں دونوں چھوٹی تھیں انکا بہت احترام کرتے ۔ اپنی قدسیہ بہن کو باوجود چھوٹی ہونے کے باجی کہہ کر پکارتے تھے۔ آپ کی بہن ثروت ملک بیان کرتی ہیں کہ ہم بہنوں کے پاس جب آتے کوئی سوغات ضرور لیکر آتے۔ 1997ء میں ہماری والدہ کی وفات ہوئی توہم دونوں بہنیں بیرون ملک تھیں اور پاکستان نہ آسکیں تو بھائی ہم دونوں کو دلاسہ اور حوصلہ دینے کیلئے خاص طور پر پاکستان سے امریکہ آئے اور ہمارے لئے اس موقع پر الیس اللہ بکا فٍ عبدہ کی انگوٹھیاں لائے جو ہمارے لئے موجب ڈھارس ہوئیں۔ جب ملاقات ہوتی تو آپ ہمیں کسی کتاب کا تحفہ بھی ضرور دیتے اور پڑھنے کی تلقین کرتے تھے۔ آپ کی بہن قدسیہ بتاتی ہیں کہ میں 1982ء میں تین بار ربوہ گئی اور تربیتی کلاس، اجتماع اور جلسہ سالانہ میں شریک ہوئی۔ ان تینوں سفروں میں خالد بھائی ساتھ رہے۔ یہ یادگار سفر بھائی کی وجہ سے ممکن ہو سکےتھے۔

اپنے سسرال کے ساتھ تعلق بھی مثالی تھا۔آپ کے والدین کی طرف سے سب عزیز غیر از جماعت تھے اور بہت مخالف تھے پھر بھی ان کے ساتھ آپ نے رابطہ رکھا اور انکے کام بھی آتے رہے۔ مشکل میں پھنسے ہوئے مختلف ممالک میں موجود پناہ گزین احمدی دوستوں سے آپ مسلسل رابطے میں رہتے تھے اور انکی ہر ممکن مدد کرنے کے لئے بھی کوشش کرتے رہتے تھے۔

مطالعہ کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء سلسلہ کا جنون کی حد تک شوق تھا۔ بلا ناغہ کتب کا مطالعہ کرتے اور اپنے بچوں کے ساتھ بھی کچھ وقت مطالعہ کتب میں گزارتے۔ Covid-19 کے عرصہ میں مطالعہ کی عادت میں بہت شدت آگئی تھی اور دن کا کثیر حصہ مطالعہ میں گزارتے۔ مطالعہ کے دوران آپ مشکل الفاظ پر نشانات لگاتے اور پھر انکا حل نکالتے یا دوست مربیان سے ان کے بارہ میں استفسار کر لیا کرتے تھے۔ مجھ سے بھی بار ہا کئی حل اشکال کے لئے رابطہ کیا اور بہت سے مربیان سے اکتساب علم کرتے رہتے تھے۔

مطالعہ کتب کی شمع جو آپ کے سینہ میں روشن تھی آپ نے اس کو اپنے بچوں اور ارد گرد احباب میں بھی روشن کیا۔ کتب کا تحفہ دینا آپ کا مشغلہ تھا ۔ آپ کی بہن قدسیہ صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ حضرت مصلح موعود ؓ کی کتاب ’’ذکر الٰہی‘‘ کا بھائی کی زندگی پر بڑا گہرا اثر تھا۔ خدا کا قرب اور محبت پانے کے گر آپ نے اس کتاب سے سیکھے اور اس کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا اور ہمیں بھی اس کے بارہ میں توجہ دلاتے تھے۔ مطالعہ کتب کی عادت اور علم کی جستجو کے حوالہ سے ماڈل کالونی کراچی سے تعلق رکھنے والے ہمارے محترم مربی عزیزم راجہ برہان احمد صاحب استاد جامعہ احمدیہ یو کے خالد یٰسین صاحب کے بارہ میں اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ خاکسار کی والدہ محترمہ انیسہ رشیداحمد صاحبہ اور خالد بھائی کی والدہ محترمہ شمیم اختر صاحبہ گہری دوست تھیں اور متفرق جماعتی کام مل کرکیا کرتی تھیں ۔ ان کا ہمارے گھر اور ہمارا ان کے گھر آنا جانا سگے رشتہ داروں کی طرح تھا اور رشتہ احمدیت کا تھا جو سب سے بڑھ کر ہے۔خالد بھائی بچپن میں تو میرے بڑے بھائی کی طرح تھے لیکن خاکسار کے جامعہ احمدیہ میں داخلے کے بعد ان کا مجھ سے ادب و احترام کاتعلق ہوگیا ۔جب بھی خالد بھائی ربوہ آتے کوشش کرکے مجھ سے ملنے ضرور آتے۔ وقت کے ساتھ ساتھ مجھے اس بات کا بھی علم ہوا کہ خالد بھائی جب بھی اپنی PIA کی ڈیوٹی کے سلسلہ میں فیصل آباد، لاہور یا اسلام آباد آتے تو ربوہ کا چکر لگاتے اور بڑے اہتمام کے ساتھ جماعتی دفاتر جاتے اور ماڈل کالونی نیز کراچی کے مختلف احباب کا اگر کوئی دفتری کام ہوتا تو بخوشی کرتے ۔

خالد بھائی کی خوش مزاجی ،ملنسار طبیعت اور دیگر اعلیٰ اخلاقی خوبیوں کا تو اکثر کو علم ہے لیکن ان کی علم دوست شخصیت ہونے کے بارے میں شاید زیادہ دوست احباب نہ جانتے ہوں۔ بہت گہرا اور باقاعدہ مطالعہ کے عادی تھے ۔ویسے توجب بھی ان سے ملاقات ہوتی کوئی نہ کوئی علمی بات یا سوال ضروری موضوع گفتگو آتا۔ عمدہ کتب اپنے پاس رکھتے اور انہیں پڑھتے نیز مختلف مواقع پر آپ ایسی کتب جماعتی لائبریریوں کو بھی مہیا کرتے ۔جامعہ احمدیہ ربوہ اور جامعہ احمدیہ برطانیہ کے لئے بھی چند کتب بھجوائیں ۔ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی ’’قصیدہ بنام خیر الانام‘‘ کی پی ڈی ایف بھجوائی جو جناب قمر اجنالوی صاحب کا شا ہکار قصیدہ ہے اورساتھ لکھا کہ اپنے سسرالیوں پہ دباؤ ڈالیں کہ ’’قصیدہ بنام خیرالانام‘‘ کسی طرح اس کلام کے شایانِ شان طبع کروائیں۔ خاص طور پرقصیدہ کے ان اشعار کی تصویر بھیجی :

ہر حکم ترا صورتِ خورشید علم ہے
ہر بات تری لوحِ زمانہ پہ رقم ہے
کوثرسے لبِ خامہ کو دھولوں تو کروں ذِکر
حقّا کہ تِرا ذکر ہی معراجِ قلم ہے

خاکسار اپنی کم علمی یا سستی کی وجہ سے کبھی کسی سوال کا جواب دینے میں یا مطلوبہ چیز مہیا کرنے میں دیر کردیتا تو نہایت پیارے انداز میں اکثر فون کرکے یا میسج کے ذریعے توجہ دلاتے جس کی مثال خالد بھائی کا 23مارچ 2019 کا میسج ہے جس میں واقفین زندگی کے لئے آپ کے دل میں جو مقام تھا اس کا بھی اظہار ہے اور تحریر میں آ پ کا وسیع مطالعہ اور حس مزاح کا رنگ بھی ہے ۔ آپ لکھتے ہیں آپکے جواب دینے کا بہت بہت شکریہ دراصل اگر آپ یاد کریں تو اس سے بھی پہلے میں نے براہین احمدیہ میں سے ایک سوال آپ سے پُوچھا تھا جو کہ ہنوز باقی ہے۔جیسے کسی ملک کی اگر اقلیتی برادری اپنے حکمرانوں سے خوش ہے تو اسکا مطلب ہے کہ وہ حکمران باقی رعایا کا بھی مقدور بھر خیال رکھتے ہوں گےیاجیسے قرآن میں یتیموں کے حقوق کا خیال رکھنے پہ بےحد زور ہے ، اس لئے کہ جو یتیموں کا خیال رکھ سکتا ہے وہ ہر خاص و عام کی بھرپور دیکھ بھال کر سکتا ہے۔

ان تمام باتوں کا مدعا یہ ہے کہ ہم جیسے چھوٹے لوگوں کا خیال رکھا کریں تو آپ کا وقف جو کہ فوق العظیم ہے وہ اللہ تعالیٰ یقیناً کماحقہ ادا کرنے کی سعادت دن رات بڑھاتا رہے گا إن شاء الله۔ آپ تو ماشاءاللہ ان چند خوش قسمت خاندانوں میں سے ہیں کہ خلیفہ وقت نے خود آپ کے گھر آنے کی خواہش کا اظہار کیا اور آپکو یہ اعزاز بھی بخشا کہ آپ کے گھر اس دھرتی پہ خدا تعالیٰ کا نائب رونق افروز بھی ہوا۔ فالحمدللہ علی ذلک۔‘‘

بات خالد بھائی کی علم دوستی کی ہورہی تھی تو مجھے یاد آیا کہ ایک حوالہ سری نگر کشمیر محلہ خانیار میں حضرت عیسی علیہ السلام کے مزار کے بارے میں خالد بھائی نے مہیا کیا تھا جو ایم ٹی اے انٹرنیشنل کے پروگرام راہ ھُدٰی میں دکھا یا بھی گیا ۔

خاکسار کو اکثر کوئی اہم مضمون ،پروگرام یا کوئی بھی علمی بات چاہے اس کا تعلق دین سے ہو یا دنیا سے ضرور شئیر کرتے ۔ایسے پیغامات کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔یہاں صرف ایک اور موضوع کا ذکر کر دیتا ہوں ۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتب کے حوالے سے صفات باری تعالیٰ کے کسی پہلو پر بات ہورہی تھی تو بڑی محنت سے تلاش کرکے 7مارچ 2019ء کو یہ لسٹ بھیجی۔ ’’نُور کے موضوع پہ حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ کے خطبات کی تواریخ : ۱۹ جنوری۱۹۹۰، ۱۱ نومبر ۱۹۹۴ ۲۷ اکتوبر ۱۹۹۵، ۱۰ نومبر ۱۹۹۵، ۲۴ نومبر ۱۹۹۵، ۲۱ جون ۲۰۰۲، ۱۸ اکتوبر ۲۰۰۲‘‘

خالد بھائی کی اچانک وفات نے ان کے تمام ملنے والوں کو حیران اور افسردہ کردیا ہے ۔اللہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ۔آمین۔

خالد یٰسین صاحب نے اپنے بچوں کی بہت عمدہ طریق سے تربیت کی ۔ انہیں پیار محبت کے ساتھ سمجھانے کا انداز اپنایا۔ انہیں اچھے سکولز میں داخل کیا تا اچھے احمدی بن کر خدمت کر سکیں۔انکو جماعت اور خلافت کے ساتھ مضبوطی سے جوڑ دیا۔ پاکستان میں رہتے ہوئے کبھی فیملی کے ساتھ اور کبھی اپنے بیٹے راشد کے ساتھ ربوہ آیا کرتے تھے تا انکا جماعت کے ساتھ پختہ تعلق قائم ہو جائے۔ربوہ میرے گھر بھی تشریف لاتے رہے۔ بچوں کو مسجد ساتھ لیکر جانا۔ تمام جماعتی پروگرامز میں شریک کرنا آپ کی تربیت کا انداز تھے۔ تقریباً ایک گھنٹہ روزانہ بچوں کے ساتھ مطالعہ کتب سلسلہ کرتے تھے جو تربیت ِ اولاد کا بہت عمدہ طریق ہے۔ آپ کے تینوں بچے اللہ کے فضل سے نظام ِ وصیت سے منسلک ہیں۔

خالد یٰسین صاحب کی شادی 1991ء میں کوئٹہ میں نسیم ملک صاحب کی بیٹی سلمیٰ صاحبہ سے ہوئی ۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک بیٹا راشد یٰسین اور دو بیٹیاں عاصمہ اور ثاقبہ عطا کیں۔ آپ کے سسر نسیم ملک صاحب حضرت مولوی قدرت اللہ سنوری صاحب کے نواسے ہیں ۔ خالد یٰسین صاحب کی بیٹی کا 15 اگست کو نکاح ہونے والا تھا جس کی تیاریوں میں آپ مصروف تھے لیکن عمر نے وفا نہ کی۔

آپ تمام عمر ہی کسی نہ کسی رنگ میں جماعتی خدمت کرتے رہے۔ وفات کے وقت آپ سیکرٹری تربیت جماعت احمدیہ ہیوسٹن امریکہ کے طور پر خدمت کی توفیق پارہے تھے۔ قبل ازیں آپ ہیوسٹن میں نائب زعیم انصاراللہ بھی رہے ۔ کراچی میں سیکرٹری تعلیم اور سیکرٹری تربیت نومبائعین کے طور پر خدمت کرتے رہے۔ اس لحاظ سے آپ کا نومبائعین سے بہت مضبوط اور پیار محبت والا تعلق تھا۔

13اگست 2020ء ہمارے پیارے دوست اور فدائی احمدی خالد یٰسین صاحب کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی ۔ اگلے روز آپ کی نماز جنازہ مکرم رضوان خان صاحب مربی سلسلہ نے پڑھائی۔ آپ اللہ کے فضل سے موصی تھے اور ہیوسٹن کے احمدیہ قبر ستان میں آپ کی تدفین ہوئی ۔ اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت فرماتے ہوئے اعلیٰ علیین میں مقام عطافرمائے ۔ آپ کے لواحقین کو صبر جمیل دے اور بچوں کو آپ کی نیک روایات جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

٭…٭…٭

(مرسلہ: (محمد محمود طاہر))

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 26 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 27 اکتوبر 2020