• 17 مئی, 2024

واقعہٴ افک- تاریخ کے آئینہ میں (قسط 2)

واقعۂ افک اور اس سے ملنے والے سبق

قرآن کریم نے جب اس واقعہ کاذکرکیا تو کچھ اصولی باتیں بیان فرمائیں۔ مثلاً:

  1. معاشرے میں اس طرح کی برائیوں کے سد باب کے لئے قوانین و ضوابط نازل ہوئے۔
  2. ایک بات یہ بتائی کہ منافقین کی طرف سے جوہنگامہ برپاکیاگیاتھا ہرچندکہ ایک تکلیف دہ گھڑی تھی لیکن لَا تَحۡسَبُوۡہُ شَرًّا لَّکُمۡ ؕ بَلۡ ہُوَ خَیۡرٌ لَّکُمۡ انجام کار تمہارے لئے خیروبرکت کاباعث ہی بنی۔
  3. اور ایک بہت ہی بنیادی حکم اور تعلیم یہ دی کہ اس طرح کی جب بھی کوئی بات ہوتو مومن کاکام یہ ہے کہ وہ خیر اوربھلائی کی سوچ اپنے اندر پیداکرے لَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡہُ ظَنَّ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتُ بِاَنۡفُسِہِمۡ خَیۡرًا اور سب سے پہلا ردعمل یہ ہوناچاہیے هٰذَا إِفْكٌ مُبِينٌ۔یہ تو ایک جھوٹ اور اتہام ہی ہے۔
  4. اور جو اس طرح کی بات کرنے والے ہیں یاالزام لگانے والے ہیں ان کو چاہیے کہ وہ چارگواہ لائے اور اگر گواہ نہیں لاتے تو وہ جھوٹے ہیں لَوۡلَا جَآءُوۡ عَلَیۡہِ بِاَرۡبَعَۃِ شُہَدَآءَ ۚ فَاِذۡ لَمۡ یَاۡتُوۡا بِالشُّہَدَآءِ فَاُولٰٓئِکَ عِنۡدَ اللّٰہِ ہُمُ الۡکٰذِبُوۡنَ ﴿۱۴﴾

(النور: 14)

یہاں الزام لگانے والوں کی ذمہ داری ٹھہرائی گئی ہے کہ تم نے اگر ایسا فعل قبیح دیکھاہے تو اس کو لیکرہوانہ ہوجاؤ اور تشہیر کرتے رہو۔ بے شک تم نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے لیکن تمہارے لئے ضروری ہے کہ تمہارے علاوہ مزید چار اور لوگوں نے دیکھا ہو۔ جو گواہی دے سکیں اور اگراتنے گواہ نہ ہوں تو خاموش رہنا تمہارے لئے بہتر ہے۔ کیونکہ وہ خدا، غفور رحیم ہے، توّاب ہے، اور علیم اور حکیم بھی ہے۔ سورۃ نور میں نازل ہونے والے احکامات میں اس نے اپنی ان صفات کا ذکر فرماتے ہوئے توجہ دلائی کہ خداکی ان صفات کو سامنے رکھو اور اس نے قوانین بناتے وقت جو قاعدہ قانون بنایاہے وہ زیادہ علم رکھنے والا ہے اور حکمتوں کوجاننے والاہے۔ آخر کوئی تو وجہ اور حکمت ہوگی کہ قتل جیسے جرم کے لئے دوگواہ رکھے گئے اور بعض امور جیسے رضاعت وولادت میں تو ایک گواہی بھی کافی سمجھ لی جاتی ہے۔ لیکن زنا جیسے فعل کی سزا کے لئے چار گواہ رکھنے میں کوئی تو حکمت ہوگی۔ اور اگرجو چار گواہ نہیں لاتا اور اپنے الزام کی تشہیر کرنا شروع کر دیتا ہے تو خدا ایسے لوگوں کو جھوٹا اور فاسق قرار دیتا ہے۔ اس لئے اس کے بنائے ہوئے قانون کے آگے سرتسلیم خم کرناہی بہترہے۔ ہاں میاں بیوی کا ایک استثنائی تعلق تھا اس لئے اس میں یہ جواز رکھا کہ اگروہاں گواہ نہیں تو پھرمیاں بیوی قسم کھائیں گے جس کو اصطلاح میں ’’لعان‘‘ کہا جاتاہے لیکن یہ استثناء صرف اور صرف میاں بیوی کے لئے ہے۔ دوسروں کے لئے نہیں ہے۔ وہاں یاگواہ ہوں گے یا خاموشی ہوگی وگرنہ قذف کی سزا کے طورپر 80کوڑے لگیں گے اور خدا کی نظر میں اس کا جھوٹا اور فاسق ہونا الگ ہوگا اور ہمیشہ کے لئے کسی بھی قسم کی گواہی کے لئے نااہل قرار دیا جانا الگ ہوگا۔

حضرت مصلح موعودؓ قسم کے ضمن میں بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’بعض لوگ یہ بھی کہا کرتے ہیں کہ چونکہ یہاں یَرۡمُوۡنَ الۡمُحۡصَنٰتِ آیا ہے اس لئے جو واقع میں پاک دامن عورتیں ہوں اُن پر اتہام لگانے والے کیلئے سزا رکھی گئی ہے دوسروں کیلئے نہیں۔ حالانکہ اگر یہ درست ہو تو اس کا پتہ کون لگا سکے گا کہ جس پر الزام لگایا گیا ہے وہ فی الواقعہ پاک دامن ہے یا نہیں۔ایک خبیث اور بے باک آدمی بڑی دلیری کے ساتھ کہہ سکتا ہے کہ جس عورت پر میں نے الزام لگا یا ہے۔پہلے اس کی پاکدامنی تو ثابت کرو۔پھر مجھے سزا دو۔اور اس طرح ہر عورت کی عزت خطرہ میں پڑسکتی ہے۔پس اس کے یہ معنے نہیں کہ جب تک عورت کا پاک دامن ہونا ثابت نہ کیا جائے الزام لگانیوالے کو کوئی سزا نہیں مل سکتی بلکہ یَرۡمُوۡنَ الۡمُحۡصَنٰتِ کے یہ معنے ہیں کہ ایسی عورتیں جن پر بد کاری کا الزام لگا یا گیا ہو۔اگر وہ الزام شہادت سے ثابت نہیں ہوتا تو خدا تعالیٰ کی نگاہ میں وہ یقینی طور پر پاکدامن ہیں اور الزام لگانے والا کذاب اور جھوٹا ہے اور اس بات کا مستحق ہے کہ اسے سزا دی جائے۔کیونکہ قاعدہ ہے کہ بارِثبوت مدعی پر ہوتا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی فرمایا ہے چونکہ الزام لگانیوالا مدعی ہوتا ہے اس لئے ثبوت لانا بھی الزام لگانے والے کا ہی کام ہے۔ عورت کا یہ کام نہیں کہ وہ اپنی پاکدامنی کا ثبوت پیش کرے۔اگر یہ معنی نہ کئے جائیں تو جو شخص الزام لگانیوالا ہو وہ کہہ سکتا ہے کہ اگر چہ میں اتہام کا ثبوت نہیں لا سکا مگر ہے وہ درست۔ورنہ تم ثابت کرو کہ جس پر میں نے الزام لگا یا ہے وہ محصنات میں سے ہے۔بہر حال اتہام لگانے والا اگر شریعت کی بیان کردہ شرائط کے مطابق چار گواہ نہیں لائیگا تو وہ مجرم ہوگا اور اگر لے آئیگا تو جس پر اتہام لگا یا گیا ہو وہ مجرم ہو گا۔چونکہ بعض لوگوں کے دلوں میں یہ شبہ پیدا ہو سکتاہے کہ کیونکہ قرآن کریم نے چار گواہوں کی شرط لگا ئی ہے اور کیوں دوسرے الزامات کی طرح صرف دو گواہوں پر کفایت نہیں کی اس لئے یہ بتا نا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ دو کی بجائے چار گواہوں کی شرط لگانا بتا یا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس قسم کے واقعات میں کثرت سے جھوٹ بو لا جاتا ہے پس اس وجہ سے زیادہ گواہوں کی شرط لگا دی گئی ہے اور پھر ایک ہی واقعہ کے متعلق چار کی شرط اس لئے لگائی کہ ایک وقت میں پانچ آدمیوں کا اکٹھا ہونا یعنی الزام لگانے والے اور چار گواہوں کا۔ یہ ایک ایسا امر ہے کہ اس کا جھوٹ آسانی سے کھولا جا سکتا ہے اور جرح میں ایسے لوگ اپنے قدم پر نہیں ٹھہر سکتے۔کیونکہ پانچ آدمیوں کا ایک جگہ پر موجود ہونا ایک ایسا واقعہ ہے جس کا اخفاء مشکل ہو تا ہے اور پانچ آدمی مل کر یہ جھوٹ بہت کم بنا سکتے ہیں کیونکہ اُن میں سے بعض کی نسبت یہ ثابت کرنا آسان ہوتا ہے کہ یہ تو اُس وقت فلا ں جگہ پر بیٹھا تھا۔پس چونکہ زنا ایک ایسا فعل ہے جس کے لئے بیرونی دلائل نہیں ہوتے جس طرح چوری میں پہلے کسی کے گھر سے مال کا نکلنا ضروری ہے پھرکسی شخص کے پاس ا س کا موجود ہونا ضروری ہے یا قتل میں کسی کا جان سے مارا جانا ضروری ہے۔پھر دوسرے شخص کا اُس جگہ موجود ہونا ضروری ہے اور ایسے شواہد کسی شخص کے متعلق جمع کر دینے اگر نا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوتے ہیں۔لیکن زنا کیلئے اس کی بیرونی علامات موجود نہیں ہوتیں اس لئے اس پر الزام لگانا آسان ہوتا ہے اس وجہ سے شریعت نے چوری اور قتل کیلئے تو دو گواہوں کی گواہی کو تسلیم کیا۔لیکن بدکاری کے الزام کے متعلق چار گواہوں کی شرط لگائی اور الزام لگانے والوں سے ہمدردی کو بھی سخت جرم قرار دیا اور الزام سنتے ہی اس کو جھوٹا قرار دینے کی نصیحت کی۔

دوسر ی صورت انسان کے مجرم ہونے کی یہ ہے کہ وہ خود اقرار کرے۔مگر حدیثوں سے پتہ لگتا ہے کہ وہ بھی قاضی کے سامنے اپنے متعلق چار دفعہ گواہی دیگا کہ میں نے ایسا فعل کیا ہے۔ مگر ایسی صورت میں بھی شریعت صرف اسی کو مجرم قرار دیگی عورت کو مجرم قرار نہیں دیگی۔بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ دوسرے کی نسبت الزام لگانا اور بات ہے اور اپنی نسبت الزام لگانا اور کہنا کہ میں نے ایسا فعل کیا ہے یا کسی عورت کا یہ کہنا کہ میرے ساتھ کسی دوسرے نے ایسا فعل کیا ہے بالکل اور بات ہے۔یہ دونوں امور یکساں حیثیت رکھنے والے نہیں سمجھے جا سکتے بلکہ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ اپنی طرف اس الزام کی نسبت دینا کہنے والے کے تقویٰ اور اُس کی نیکی کا ثبوت ہوتا ہے۔حالانکہ اپنی نسبت الزام لگانا تو الزام لگانے والے کی وقاحت اور بے شرمی پر دلالت کرتا ہے نہ کہ اس کے تقویٰ اور پاکیزگی پر۔کیا یو سف علیہ السلام پر عزیز مصر کی بیوی نے اپنی ذات کے متعلق الزام نہیں لگا یا تھا۔پھر کیا اس سے زلیخا کے تقویٰ کا ثبوت ملتا ہے یا اس کی چالبازی اور مکاری کا ثبوت ملتا ہے۔پھر اسی طرح ایک واقعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی ہوا۔ ایک شخص رسول کریمﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! میں نے زنا کیا ہے اس پر آپ نے اس کو بلا کر اس کی پیٹھ پر ہاتھ نہیں پھیرا کہ شاباش تم نے کیسا اچھا فعل کیا ہے کہ اپنے جرم کا اقرار کیا ہے بلکہ آپؐ نے غصہ سے اُس کی طرف سے منہ پھیر لیا۔ اُس شخص نے دوسری طرف سے جا کر پھر یہی کہا کہ یا رسول اللہ! میں نے زنا کیا ہے۔لیکن پھر بھی آپؐ نے غصہ سے منہ پھیر لیا۔پھر اس نے تیسری جانب سے جا کر کہا کہ یا رسول اللہ! میں نے زنا کیا ہے مگر آ پؐ نے پھر بھی اس کی طرف سے منہ پھیر لیا۔ جب چوتھی دفعہ اُس نے کہا کہ یا رسول اللہ! میں نے زنا کیا ہے تو آپؐ نے فرمایا کیا تو دیوانہ ہے۔یعنی کسی طرح ممکن ہے کہ ایک انسان اپنی ہوش میں ایسی بات کہے جو تو کہہ رہا ہے۔ اُس نے کہا یا رسول اللہ! میں دیوانہ نہیں ہو ں۔تب آپؐ نے فرمایا چونکہ اس نے چار دفعہ اپنے جرم کا اقرار کیا ہے اس لئے اب اسے سزا دیدو۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کے اس اقدام کی تعریف نہیں کی بلکہ اسے دیوانگی کا فعل قرار دیا ہے۔اور دیوانگی کا شبہ تبھی ہو سکتا ہے جبکہ یہ سمجھا جائے کہ ایک انسان ہوش و حواس میں اپنے اوپر الزام نہیں لگا سکتا۔ورنہ اگر یہ امکان نہ ہوتا تو آپ اُسے دیوانہ کیوں قرار دیتے۔لیکن تعجب ہے کہ اس زمانہ میں بعض لوگ اس کو فرزانگی کا فعل قرار دیتے ہیں۔حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کے اقرار کو دیوانگی اور بے حیائی قرار دیا ہے۔ بہرحال اس صورت میں بھی صرف اقرار کرنے والے کوہی مجرم قرار دیا جائے گا۔عورت کو مجرم قرار نہیں دیا جائیگا۔ عورت سے اگر ا س کا نام معلوم ہو تو بغیر قسم کے صرف اتنا سوال کیا جا ئیگا کہ آیا یہ درست کہتا ہے یا غلط اور اگر وہ کہہ دے کہ غلط کہتا ہے تو عورت کو چھوڑ دیا جائیگا۔یہ کتنی بڑی خوبی ہے جو اسلام کے اس حکم سے ظاہر ہے۔ہو سکتا ہے کہ ایک ایسا شخص جو خود کوئی عزت نہیں رکھتا دوسروں کی عزت بر باد کرنے کیلئے جھوٹا الزام لگا دے اور کہے کہ میں نے فلاں سے ایسا فعل کیا ہے۔ اُس کی اپنی عزت تو ہوتی نہیں کہ اس کی اسے پرواہ ہو لیکن دوسروں کو بد نام کر سکتا ہے اگر اس کی اجازت دی جاتی تو کئی شریر النفس لوگ روزانہ اُٹھ کر دوسروں پر الزام لگا دیتے اور جب انہیں ملامت کی جاتی تو کہہ دیتے کہ ملامت اور غصہ کی بات نہیں میں تو خود اپنے آپ کو بھی ملزم قرار دے رہا ہوں۔پھر میری بات ماننے میں آپ کو کیا عذر ہے۔اگر کسی شریف انسان سے ایک بد معاش جا کر کہہ دے کہ اُس کی بیوی سے اُس نے زنا کیا ہے تو وہ آدمی اس پر ناراض ہوگا یا اُس کی نیکی اور تقویٰ کی تعریف کرنے لگ جائے گا اور اپنی بیوی کو بھی اس گناہ میں ملوث قرار دے گا۔اس راستہ کو کھو ل کر دیکھو تو دنیا میں کسی شخص کی عزت محفوظ نہیں رہ سکتی کیونکہ دنیا میں ایسے ہزاروں بے حیا مل سکتے ہیں جو کسی بُغض یا غصہ کی وجہ سے یا دوسروں کے کہے کہلائے صرف ایک شغل کے طور پر اپنے ساتھ دوسرے مردوں یا عورتوں کے ملوث ہونے کا اقرار کرنے کیلئے تیار ہو جائیں گے۔چنانچہ عرب میں تشبیب کا ایک عام رواج تھا یعنی وہ اپنی بے حیائی میں کسی عورت پر الزام لگادیتے کہ میرا اس کے ساتھ ناجائز تعلق ہے اور ان کی غرض یہ نہیں ہوتی تھی کہ وہ اپنا تقویٰ ظاہر کریں بلکہ اس سے اُن کی غرض یہ ہوتی تھی کہ دوسری عورت کو بد نام کریں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تشبیب کرنے والے کو واجب القتل قرار دیا ہے۔پس یہ طریق عقل کے بالکل خلاف ہے اور اس کی اجازت دینے سے فتنہ کا بڑا بھاری دروازہ کھل جاتا ہے۔اسی لئے ہماری شریعت نے ایک فریق کے اقرار سے دوسرے فریق کو مجرم قرار نہیں دیا۔چنانچہ اس بارہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فیصلہ بھی احادیث سے ثابت ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریمﷺ کے پاس ا یک شخص نے آکر بیان کیا کہ فلاں شخص کا بیٹا میرے بھائی کا ہے کیونکہ میرے بھائی نے کہا تھا کہ وہ لڑکا اصل میں میرا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سُن کر اس کی تعریف نہیں فرمائی یا یہ نہیں فرمایا کہ آ ؤ ہم دوسرے فریق کو قسم دیں بلکہ فرمایا اَلْوَلَدُ لِلْفَرَاشِ وَلِلْعَاھِرِ الْحَجَرُ۔یعنی بیٹا تو اسی کو ملے گا جس کی بیوی کہلاتی ہے لیکن جو شخص کہتا ہے میں نے زنا کیا ہے اُس کی سزا سنگساری ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے ثابت کر چکے ہیں کہ یہودی کتب میں یہی لکھا تھا۔اس واقعہ پر غور کر کے دیکھ لو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قرارِ جرم کرنے والے کی تعریف نہیں فرمائی بلکہ اس کی مذمت کی اور فرمایا کہ اس کے اقرار کا اثر خود اُسی پر پڑے گا نہ کہ دوسرے پر۔پس کسی کا اپنے جرم کو ظاہر کرنا یا اس کا اقرار کر لینا یہ ثابت نہیں کرتا کہ وہ بڑا نیک ہے کیونکہ شریعت تو گناہ کو ظاہر کرنے سے روکتی ہے۔جب تک قاضی کے سامنے شہادت کے موقعہ پر اس کا بیان کرنا ازروئے شریعت ضروری نہ ہو۔ پس جو شخص بلاوجہ اپنی طرف بد کاریاں اور عیوب منسوب کرتا ہے اس کو تو شریعت شاہد عادل قرار نہیں دیتی کُجا یہ کہ اس کے اقرار کو کوئی اہمیت دی جائے۔یا اسے اُس کے تقویٰ کا ثبوت سمجھا جائے۔لیکن اگر کوئی شخص اقرار کرنے کی بجائے کسی دوسرے پر اتہام لگائے تو جس پر اتہام لگایا جائیگا اس سے پوچھا بھی نہیں جائے گا اور نہ اُس سے قسم یا مباہلہ کا مطالبہ کرنا جائز ہو گا۔ کیونکہ حدود میں قسم یا مباہلہ کرنا شریعت کی ہتک کرنا ہے۔اور یہی پرانے فقہاء کا مذہب ہے۔چنانچہ امام محمدؐ جو امام ابو حنیفہؒ کے بعد اُن کے قائم مقام ہوئے۔اور جن کے متعلق علماء کایہ خیال ہے کہ امام یوسفؒ جو حضرت امام ابو حنیفہؒ کے اوّل شاگر دتھے۔اُن کا قول بھی فقہ میں اتنا قابلِ اعتماد نہیں جتنا امام محمدؐ کا۔وہ اپنی کتاب المبسوط میں لکھتے ہیں:وَالْحُدُوْدَ لَا تَقَامُ بِالاَیْمَانِ۔

(المبسوط جلد9 صفحہ502)

یعنی جن امور میں حد مقرر ہے اُن میں قسموں کی ذریعہ حد قائم نہیں کی جا سکتی۔ایسے امور کا فیصلہ بہر حال گواہوں کی گواہی پر منحصر ہوگا۔پھر اگر کوئی الزام لگانے والا تین گواہ بھی لے آئے تو ان گواہوں کو بھی اور اتہام لگانے والے کو بھی اَسّی اَسّی کوڑوں کی سزا دی جائیگی کیونکہ انہوں نے ایک ایسی بات کہی جس کا اُن کے پاس کو شرعی ثبوت نہیں تھا۔ ‘‘

(تفسیرکبیر جلد6صفحہ 262-265)

ایک موقعے پرکچھ اسی طرح کے تناظر میں کہ جب لوگوں کی طرف سے یہ مطالبہ کیاگیا کہ اس طرح کے الزام واتہام لگائے جانے پرمباہلہ کیوں نہیں کیاجاتا۔جوایک طرح کی قسم ہی ہے۔ تو حضرت مصلح موعودؓ نے بیان فرمایا:
’’بعض نادان کہتے ہیں کہ مباہلہ یامقدمہ کیوں نہیں کرتے لیکن سوال یہ ہے کہ اگران کی بیویوں، بیٹیوں، بہنوں اور ماؤں کے متعلق یہی کچھ لکھاجائے تو کیا وہ ان سے مقدمات دائر کرائیں گے؟ میں اخبار ’’انصاف‘‘، ’’ملاپ‘‘ اور دیگران اخبارات کے جومجھے مقدمہ کرنے کے لئے کہتے ہیں ایڈیٹروں اور مینیجروں سے پوچھتاہوں کہ اگریہی کچھ ان کے متعلق لکھاجائے توکیا وہ عدالت میں مقدمہ دائر کرنے کے لئے تیار ہیں؟ اگرتیارہیں تووہ صرف اس کااعلان کردیں ا س کے بعد ہم سمجھ لیں گے کہ وہ جوکچھ لکھ رہے ہیں جائز اور درست لکھ رہے ہیں۔اسی طرح جولوگ مباہلہ کرنے کوکہتے ہیں ان سے میں پوچھتاہوں کہ کیا اس قسم کامباہلہ اسلام میں جائز ہے…… ان سے میں پہلے بھی کہہ چکاہوں اوراب پھرکہتاہوں کہ وہ اپنے علماء سے دلیل کے ساتھ فتوے شائع کرائیں کہ فلاں امام یااس کے متبع کے قول سے ثابت ہوتاہے کہ اگرکوئی کسی پرحدود کے متعلق الزام لگائے توالزام لگانے والے کوجائزہے کہ مباہلہ کاچیلنج بھی دے سکے۔اس پرمیں ہرایک ایسی مثال کے لئے جووہ پیش کریں گے سوروپیہ انعام دوں گا۔پھریہ بھی شرط نہیں کہ حنفی حنفی کاہی قول پیش کریں بلکہ حنفی بے شک مالکیوں، حنبلیوں بلکہ شیعوں کاہی پیش کردیں وہ چاروں اماموں یاان کے شاگردوں اوراہل بیت یاان کے شاگردوں میں سے جس کاچاہیں حوالہ اس بارہ میں پیش کردیں۔کہ حدودوالے گناہوں کاالزام لگانے والامباہلہ کاچیلنج دے سکتاہے اورہرمثال کے لئے میں سَوروپیہ انعام دوں گا۔میرااپنا جومذہب ہے وہ تو قرآن کریم کی بناء پرہے اورمیں کسی رائے کی وجہ سے اسے بدل نہیں سکتا۔لیکن میراعلم یہی کہتاہے کہ پہلوں نے بھی اسے جائز نہیں بتایا…… بلکہ اس کے خلاف لکھاہے۔مثال کے طورپرحنفیوں کے ایک بڑے امام کی کتاب المبسوط کوہی دیکھ لیں کہ اس میں صاف الفاظ میں لکھا ہے کہ ایسی صورت میں قسم دینی بھی جائز نہیں۔ ‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ 11 اپریل 1930ءخطبات محمود جلد12صفحہ 359-361 الفضل 16اپریل 1930ء)

5. پھردوبارہ اس معاشرتی برائی کی خطرناکی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے بیان فرمایا کہ جب تمہیں حقیقت کاعلم ہی نہ تھا تو کیوں باتیں کرناشروع کردیں۔ یعنی کیاتم لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھاتھا۔ کیاتم لوگوں کے پاس کوئی ٹھوس شواہد اور ثبوت تھے اس الزام یاواقعہ کی بابت؟ اگرنہیں تھے تو کیوں باتیں کرنے لگے اور ہاں میں ہاں ملانے لگے ؟ اورتم اس طرح کے انداز اور ردعمل کومعمولی سمجھ رہے تھے۔ جبکہ خداکے نزدیک یہ بہت ہی بڑی گناہ اور ناراضگی کی بات ہے۔ اِذۡ تَلَقَّوۡنَہٗ بِاَلۡسِنَتِکُمۡ وَتَقُوۡلُوۡنَ بِاَفۡوَاہِکُمۡ مَّا لَیۡسَ لَکُمۡ بِہٖ عِلۡمٌ وَّتَحۡسَبُوۡنَہٗ ہَیِّنًا ٭ۖ وَّہُوَ عِنۡدَ اللّٰہِ عَظِیۡمٌ ﴿۱۶﴾

6. اورایک بارپھرمومن کی شان یہ بتلائی کہ جب بھی تم نے ایسی گندی باتیں سنیں تو تمہارا ردعمل تویہ ہوناچاہیے تھا کہ یہ کہتے کہ ہمارایہ کام نہیں کہ ان باتوں میں پڑیں۔یہ تو کوئی بڑاالزام اور اتہام ہی لگتاہے۔ وَلَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡہُ قُلۡتُمۡ مَّا یَکُوۡنُ لَنَاۤ اَنۡ نَّتَکَلَّمَ بِہٰذَا ٭ۖ سُبۡحٰنَکَ ہٰذَا بُہۡتَانٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱۷﴾

7. ایک اوراہم بات کی طرف توجہ دلائی کہ کوئی کہہ سکتاتھا کہ یہ ماضی کی بات ہے ایک واقعہ ہوا اور گزرگیا۔ لیکن یہ بات درست نہیں۔ حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے متعدد بار بیان فرمایاہے کہ قرآن کریم میں جوواقعات بیان ہوئے ہیں وہ محض تاریخ کے قصے کہانیوں کے طورپرنہیں ہیں بلکہ اس لئے ہیں کہ آئندہ بھی ایسی باتیں ہوں گی اور ہمیں دھیان رکھنا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں بھی ہرایک کوجوقرآن کامخاطب ہے متنبہ فرمایاہے یہ کہتے ہوئے کہ یَعِظُکُمُ اللّٰہُ اَنۡ تَعُوۡدُوۡا لِمِثۡلِہٖۤ اَبَدًا اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۸﴾ کہ اللہ تمہیں نصیحت کرتاہے مبادا تم آئندہ کبھی ایسی بات کااعادہ کرو اگرتم مومن ہو۔ اس سے صاف ظاہرہوتاہے کہ آئندہ اس طرح کی گھناؤنی حرکتیں اور سازشیں ہوناتھیں اس لئے مومنوں کوپہلے سے بتادیا، متنبہ کردیا وارننگ دے دی کہ خبردار محتاط رہنا اوران باتوں کوپلے باندھ لو کہ اب آئندہ ایسے نہ ہو ۔

8. برائی کی اشاعت نہ کرنا۔جولوگ تشہیرکریں گے اشاعت کریں گے وہ یادرکھیں کہ آخرت میں توان کے لئے دردناک عذاب ہوگاہی اسی دنیا میں بھی وہ بہت ہی دردناک عذاب کوحاصل کریں گے۔اِنَّ الَّذِیۡنَ یُحِبُّوۡنَ اَنۡ تَشِیۡعَ الۡفَاحِشَۃُ فِی الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ۙ فِی الدُّنۡیَا وَالۡاٰخِرَۃِ ؕ وَاللّٰہُ یَعۡلَمُ وَاَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۰﴾

اشاعت فحش کہیں زیادہ خطرناک
اور قابل سزا امرہے

آخرکار ایک ماہ سے کچھ زائد دنوں تک ہونے والی آزمائش کے بادل چھٹنے لگے اور عرش کے خدا کی طرف سے بذریعہ قرآنی وحی کے حضرت عائشہؓ کی معصومیت اور پاکیزگی اور تقویٰ وطہارت پرمہرالٰہی ثبت کی گئی۔یہ آیات سورت نورمیں نازل ہوئیں۔جس میں ایک اصولی رہنمائی یہ بھی کی گئی ہے کہ ہرچندکہ زناجیسافعل انتہائی قبیح فعل ہے اور خدائے جباروقہارکی ناراضگی کاباعث بن جاتاہے اور اس کی سزا 100کوڑے رکھی گئی لیکن ایسے برے افعال کی شہرت اور اشاعت کی شناعت وبرائی کوبھی کم وبیش ایسافعل کرنے کے برابربرابر ہی قراردیاگیا اور اسی لئے قرآنی حکم ہوا کہ اگرتم ایسافعل ہوتاہوادیکھ بھی رہے ہوتو محتاط رہنا خواہ مخواہ اس کی تشہیرنہ کرتے پھرنا کیوں؟ کیونکہ تمہارے لئے لازم ہے کہ شہادت کے طورپر چارگواہ پیش کرو۔اگرایسانہیں کرسکوگے تو 80کوڑے تمہیں لگائے جائیں گے۔جوکہ ایسافعل قبیح کے مرتکب کی سزاسے صرف 20کوڑے ہی کم ہے۔اور اگردوگواہ بھی ہوئے تب بھی تم گواہوں کوہی سزاملے گی اوراگرتین ہوئے تب بھی تمہیں ہی سزاملے گی یہاں تک کہ چارگواہ نہ ہوں اور گواہی کامعیاربھی ایساسخت ہے کہ شایدہی اس طرح کی گواہی کوئی دیکھ سکے۔ کیونکہ محض دیکھنا ہی کافی نہ ہوگا۔ جیساکہ عرض کیاگیاہے کہ جس معیارکی گواہی اورجوپیمانہ اس کے لئے مقرر کیاگیاہے۔اسلامی تاریخ کے ابتدائی بہترین نظام عدل یعنی خلافت راشدہ میں بھی ایسے گواہ میسرنہ آسکے اور ایک مشہورتاریخی واقعہ میں خلافت راشدہ کے زمانہ میں چارگواہ بھی مل گئے اور تین گواہوں نے عین مین ایسی گواہی بھی دے دی جومعیاری تھی لیکن چوتھے گواہ نے یہ کہا کہ میں نے انہیں عریاں حالت میں دیکھاتوہے لیکن اس فعل کواس طرح کرتے ہوئے نہیں دیکھا جیساکہ گواہی کامعیارہے تو حضرت عمرؓ جیسے خلیفہؓ نے ان چاروں گواہوں کواس قرآنی حکم کے مطابق 80/80 کوڑوں کی سزادی۔ اس لئے ایسے فعل کی تشہیر اور اشاعت کوقرآن کریم نے کہیں زیادہ قابل مذمت قراردیتے ہوئے روکاہے کہ خواہ مخواہ اس کاچرچانہ کرتے پھرو اور نہ صرف یہ کہ ایسے ’’گواہوں‘‘ کے لئے سزا کاارشادباری ہوابلکہ اس سزاکے ساتھ ساتھ یہ بھی حکم ہواکہ آئندہ کبھی بھی کسی بھی معاملہ میں ان کی گواہی ہی قابل اعتبارنہ ہوگی اورخداتعالیٰ نے ان لوگوں کو فاسق قراردیا۔

وَالَّذِیۡنَ یَرۡمُوۡنَ الۡمُحۡصَنٰتِ ثُمَّ لَمۡ یَاۡتُوۡا بِاَرۡبَعَۃِ شُہَدَآءَ فَاجۡلِدُوۡہُمۡ ثَمٰنِیۡنَ جَلۡدَۃً وَّلَا تَقۡبَلُوۡا لَہُمۡ شَہَادَۃً اَبَدًا ۚ وَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴿۵﴾

(النور:5)

وہ لوگ جوپاکدامن عورتوں پرتہمت لگاتے ہیں پھرچارگواہ پیش نہیں کرتے توانہیں اسی 80کوڑے لگاؤ اورآئندہ کبھی ان کی گواہی قبول نہ کرواوریہی لوگ ہیں جوفاسق ہیں۔

قرآن کریم میں سزاؤں کے جواحکامات نازل ہوئے ان کویکجائی نظرسے دیکھا جائے تو زناجیسے قبیح فعل سمیت ہم دیکھتے ہیں کہ ہر وہ برائی اور قبیح فعل جومعاشرے کے امن وسکون کو خراب کرنے والے ہیں ان کی سزابھی سخت رکھی گئی اور اس کے لئے کچھ اس طرح کے احکام دئے گئے کہ ان برائیوں کی اشاعت نہ ہونے پائے۔ کیونکہ کچھ برائیاں اپنی ذات میں تو ایک دوافراد کی حدتک نقصان دہ ہوتی ہیں لیکن جب ان کی تشہیر اور اشاعت ہونا شروع ہوجائے تو پھر وہ کینسر کی طرح پورے معاشرے اور پوری قوم کواپنی لپیٹ میں لے لیا کرتی ہیں اور یہ بات زیادہ بڑے نقصان کاموجب ہواکرتی ہے۔ چنانچہ اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ  اِنَّ الَّذِیۡنَ یُحِبُّوۡنَ اَنۡ تَشِیۡعَ الۡفَاحِشَۃُ کی تفسیر میں بیان فرماتے ہیں:
’’ ایسی باتیں کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ فحش پر دلیر ہو جاتے ہیں۔کیونکہ جب نوجوان سنتے ہیں کہ ہمارے بڑے بھی ایسے کام کر لیتے ہیں تو وہ بھی ایسے کام کرنے لگ جاتے ہیں۔پس اس جر م پر جو سخت سز ا تجویز کی گئی ہے تو وہ صرف فرد کی عزت کی حفاظت کیلئے نہیں بلکہ قوم کی عزت اور اس کے اخلاق کی حفاظت کیلئے ہے۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان اس قسم کی باتیں کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مستحق ہو جاتا ہے مگر بہت ہیں جو ایسی باتیں سنتے ہیں اور سنتے ہی نہیں آگے پہنچاتے ہیں۔اور جب پوچھا جائے تو کہہ دیتے ہیں کہ یونہی بات منہ سے نکل گئی تھی حالانکہ اللہ تعالیٰ واضح طور پر فرماتا ہے کہ یہ چیز اللہ تعالیٰ کے عذاب کا نشانہ بنا دیتی ہے۔ پس اس بہت بڑے گناہ سے بچو اور کوشش کرو کہ کبھی تمہارے منہ سے کسی کے متعلق ایسی بات نہ نکلے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے علم النفس کا ایک ایسا نکتہ بیان کیا ہے جو قرآن کریم کے کلام الہٰی ہونے کا ایک زبر دست ثبوت ہے۔کیونکہ علم النفس کی تحقیق پہلے زمانہ میں نہیں ہوئی تھی یہ تحقیق انیسویں صدی میں شروع ہوئی اور اب بیسویں صدی میں اس نے ایک علم کی صورت اختیار کی ہے۔وہ مسئلہ جو قرآن کریم نے ان آیات میں بیان فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ بری باتوں کا مجالس میں تذکرہ نہیں کرنا چاہیے ورنہ وہی برائیاں لوگوں میں کثرت کے ساتھ پھیل جائیں گی۔بے شک دنیا میں لوگ کثرت سے ڈاکہ اور چوری وغیرہ برے افعال سے نفرت کرتے ہیں لیکن باوجود اس کے میں سمجھتا ہوں کہ اگر ان کا ذکر لوگوں میں کثرت سے ہونے لگے تو تھوڑے ہی دنوں میں تم دیکھو گے کہ ڈاکہ کی وارداتیں زیادہ ہونے لگی ہیں…

غرض جب اشاعتِ فحش ہو اور بدی کا ذکر عام طور پر لوگوں کی زبان پر ہو۔تو وہ بدی قوم میں پھیل جاتی ہے۔اسی لئے ہماری شریعت نے عیوب کا عام تذکرہ ممنوع قرار دیا ہے۔اور فرمایا ہے کہ جو اولی الامر ہیں اُن تک بات پہنچا دو اور خود خاموش رہو۔اگر ایسا نہ کیا جائے اور ہر شخص کو یہ اجازت ہو کہ وہ دوسرے کا جو عیب بھی سُنے اُسے بیان کرتا پھرے۔تو اُس کے نتیجہ میں قلوب میں سے بدی کا احساس مٹ جاتا ہے اور بُرائی پر دلیری پیدا ہو جاتی ہے۔پس اسلام نے بدی کی اس جڑ کو مٹایا۔اور حکم دیا کہ تمہیں جب کوئی برائی معلوم ہو تو اولی الامر کے پاس معاملہ پہنچا ؤ جو سزا دینے کا بھی اختیار رکھتے ہیں۔اور تربیت نفوس اور اصلاح ِ قلب کیلئے اور تدابیر بھی اختیار کر سکتے ہیں۔ اس طرح بدی کی تشہیر نہیں ہو گی۔قوم کا کیر یکٹر محفوظ رہے گا اور لوگوں کی اصلاح بھی ہو جائیگی پس یاد رکھو کہ نیکی کی تشہیر اور بدی کا اخفاء یہ کوئی معمولی بات نہیں۔بلکہ قومیں اس سے بنتی اور قومیں اس کی خلاف ورزی سے بگڑتی ہیں۔جتنا تم اس بات کا زیادہ ذکر کرو گے کہ فلاں اتنی قربانی کرتا ہے۔فلاں اس طرح نمازیں پڑھتا ہے۔فلاں اس اہتمام سے روزے رکھتا ہے اتنا ہی لوگوں کے دلوں میں دین کیلئے قربانی کرنے اور نمازیں پڑھنے اور روزے رکھنے کی خواہش پیدا ہو گی اور جتنی تم اس بات کو شہرت دو گے کہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں وہ خیانت کرتے ہیں۔وہ چوری کرتے ہیں۔وہ ظلم کرتے ہیں اتناہی لوگوں کے دلوں میں اُن بدیوں کی طرف رغبت پیدا ہوگی اسی لئے قرآن کریم نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ جب تم کسی کی نیکی دیکھو تو اُسے خوب پھیلا ؤ اور جب کسی کی بدی دیکھو اس پر پر دہ ڈالو۔ ایک بلی بھی جب پاخانہ کرتی ہے تو اُس پر مٹی ڈال دیتی ہے۔پھر انسان کیلئے کس قدر ضروری ہے کہ وہ بدی کی تشہیر نہ کرے بلکہ اُس پر پردہ ڈالے اور اس کے ذکر سے اپنے آپ کو روکے۔اگر اس ذکر سے اپنے آپ کو نہیں روکا جائیگا تو متعدی امراض کی طرح وہ بدی قوم کے دوسرے افراد میں بھی سرایت کر جائے گی۔اور خود اس کا خاندان تو لازماً اس میں مبتلا ہو جا ئیگا۔کیونکہ انسان کا قاعدہ ہے کہ جو چیز کثرت سے اُس کے سامنے آئے وہ اس کی نظر میں حقیر ہو جاتی ہے اور جس بات کے متعلق یہ عام چرچا ہو کہ لوگ کثرت سے کرتے ہیں وہ بالکل معمولی سمجھی جاتی ہے۔ا س اصول کے ماتحت جو بات لوگوں میں عام طورپر پھیلائی جائے اس کا لوگوں پر یہ اثرپڑتا ہے کہ معمولی بات ہے۔اور جب اس قسم کے الزام کثرت سے لگائے جائیں اور لوگ اُن کے پھیلانے میں کسی کی عزت کی پرواہ نہ کریں تو لازماً وہ ان باتوں کو معمولی سمجھیں گے اور جب معمولی سمجھیں گے تو اُن کا ارتکاب بھی اُن کیلئے معمولی بات ہو گی۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم ایسا کرو گے اور اس قسم کی افواہوں کو نہیں روکو گے تو تمہاری قوم ان کو معمولی سمجھنے لگے گی۔اور جب معمولی سمجھے گی تو اس کا ارتکاب بھی کثرت سے کرے گی۔اس لئے ایسی باتوں کو پھیلنے ہی نہ دو۔اسی نکتہ کی طرف رسول کریمﷺ نے بھی ان الفاظ میں توجہ دلائی ہے کہ مَنْ قَالَ ھَلَکَ الْقَوْمُ فَھُوَ اَھْلَکَھُمْ۔یعنی جس شخص نے یہ اعلان کرنا شروع کر دیا کہ ہماری قوم تباہ ہو گئی وہ اپنی قوم کو تباہ کرنے والا ہے۔

بعض لوگوں نے اس حدیث سے یہ دھوکا کھایا ہے کہ کسی شخص کے یہ کہنے سے کہ قوم ہلاک ہوگئی۔ساری کی ساری قوم کس طرح ہلاک ہو سکتی ہے اور چونکہ یہ بات اُن کی سمجھ میں نہیں آئی اس لئے وہ کہتے ہیں کہ اس حدیث میں اَھْلَکَھُمْ کا لفظ نہیں بلکہ اَھْلَکُھُمْ کا لفظ ہے یعنی وہ شخص سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا ہے۔حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ انہوں نے قومی نفسیات کو سمجھا ہی نہیں۔یہ کہہ دینا کہ جو شخص کہتا ہے قوم ہلاک ہوگئی وہ سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا ہے۔اول تو بعض حالتوں میں درست ہی نہیں اور پھر یہ صحیح بھی نہیں کہ ان الفاظ کی وجہ سے وہ سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا بن جاتا ہے۔درحقیقت ان لوگوں نے اس بات کو نہیں سمجھا کہ جب کسی قوم میں مایوسی پیدا کر دی جائے تو وہ بڑے بڑے کام کرنے سے ہمیشہ کیلئے محروم ہو جاتی ہے۔کبھی کسی قوم کا دانا اور سمجھدار لیڈر ایسا نہیں ہو سکتا جو اُس کو مایوس کر دے اور آئندہ ترقیات کے متعلق اس کے دل میں نا امیدی پیدا کر دے۔کیونکہ جب کسی قوم کو مایوس کر دیا جائے تو وہ تباہ ہونی شروع ہو جاتی ہے …

پس یہ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ مَنْ قَالَ ھَلَکَ الْقَوْمُ فَھُوَ اَھْلَکَھُمْ یہ درحقیقت آپ نے ایک بہت بڑا نفسیاتی نکتہ بیان فرمایا تھا۔اگر قوم کے لیڈر اس حدیث کو ہی یاد رکھتے اگر وہ اپنی قوم کو مایوس نہ کرتے۔اگر وہ اپنی جہالت سے اُن کو یہ نہ کہتے کہ تمہارے لئے اب ترقی کا کوئی امکان نہیں۔تو مسلمان روحانی میدان میں بھی آگے رہتے۔اقتصادی میدان میں بھی آگے رہتے۔عملی میدان میں بھی آگے رہتے اور سائنٹفک میدان میں بھی آگے رہتے۔مگر ہمارے ہاں تو یہاں تک مصیبت بڑھی کہ مذہب تو الگ رہا مسلمانوں نے دنیوی علوم بھی پہلے لوگوں پر ختم کر دئیے۔بو علی سینا کے متعلق کہہ دیا کہ اُس نے طب میں جو کچھ لکھ دیا ہے اس سے بڑھ کر اور کچھ نہیں لکھا جا سکتا۔منطق کے متعلق کہہ دیا کہ اس بارہ میں فلاں منطقی جو کچھ لکھ گیا ہے اُس کے بعد منطق کے علم میں کوئی زیادتی نہیں کی جا سکتی۔ اسی طرح ایک ایک کرکے سارے علوم کے متعلق یہ فیصلہ کر دیا گیا کہ اُن کے متعلق پہلے لوگ جو کچھ لکھ چکے ہیں۔اُن سے زیادہ اب کوئی شخص نہیں لکھ سکتا۔گویا انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ ھَلَکَ الْقَوْمُ جو کچھ پہلوں کو مل گیا وہ اب دوسروں کو نہیں مل سکتا،اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمان بالکل تباہ ہو گئے۔نہ مسلمانوں میں خداپرست رہے۔نہ مسلمانوں میں فقیہہ رہے۔نہ مسلمانوں میں قاضی رہے نہ مسلمانوں میں عارف رہے نہ مسلمانوں میں محدث رہے کیونکہ جو چیز بھی تھی اُسے گزشتہ لوگوں پر ختم کر دیا گیا اور قوم کو مایوس کر دیا گیا۔غرض اس آیت میں خداتعالیٰ نے قوم کی اصلاح کا یہ ایک لطیف نکتہ بیان فرمایا ہے کہ جس فعل کو روکنا چاہو تم اُس کی تشہیر کو روکو اور قوم کو مایوسی کا شکار نہ ہو نے دو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتابوں میں تحریر فرمایا ہے کہ قرآن کریم کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ ہر بدی کی جڑ کو پکڑ تا ہے اور اُسے اکھیڑتا ہے۔اسی کے مطابق قرآن کریم بتا تا ہے کہ جس بدی کو تم روکنا چاہو اُس کے اتہام کو روکو اور اسی کا الٹ یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ جس نیکی کو قائم کرنا چاہو اُس کی عظمت اور اہمیت پھیلاؤ……پس اس بات کو یاد رکھو اور جو نواہی ہیں اُن کے اتہام کو برا سمجھو اور انہیں کبھی اپنی قوم میں پھیلنے نہ دو۔اگر تم ایسا کرو گے تو تھوڑے ہی عرصہ میں تمہارے اندر ایک عظیم الشان تغیر پیدا ہو جائے گا۔اور تم قومی اصلاح کے کام میں کامیاب ہو جاؤگے۔ ‘‘

(تفسیرکبیر جلد 6 صفحہ 274-280)

پس آج سے چودہ سوسال پہلے ہونے والے ایک واقعہ سے ہمیں سبق سیکھتے ہوئے ہمیں معاشرے میں رہتے ہوئے وہ عمل کرناچاہیے جوخداکی نظرمیں پسندیدہ اور قابل قبول ہو وگرنہ اسوقت بھی اوراس کے بعد جب بھی کسی نے چاندپرتھوکنے کی کوشش کی وہ تھوک انہیں کے مونہوں پرگرتارہا۔اورایسے لوگ پھرکبھی کسی کومونہہ دکھانے کے بھی قابل نہ رہے۔ اللہ کرے کہ ہم خدااوراس کے رسول اور اس کے پیارے امام کی رضااور خوشنودی حاصل کرنے والے ہوں اور امام کے پیچھے ہوکراس کی اطاعت کرتے ہوئے علم وعمل میں ترقی کرنے والے ہوں۔

(ابو مصور خان)

پچھلا پڑھیں

سگریٹ نوشی صحت کے لئے مضر ہے

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 27 اکتوبر 2022