• 20 مئی, 2024

گیانا جماعت کی پہلی مسجد

گیانا کا تعارف

گیانا ساؤتھ امریکہ کا ایک ملک ہے۔ جس کا سابقہ نام برٹش گیانا تھا۔ گیانا 1966ء میں برٹش سے آزاد ہوا اور 1970ء میں رپبلک گیانا بن گیا۔ گیانا کے مشرق میں سرینام، مغرب میں وینزویلا اور جنوب میں برازیل کے ممالک ہیں اور شمال میں شمالی بحر اوقیانوس ہے۔گیانا ویسٹ اینڈ یز اور کریبین کا حصہ ہے اور ساؤتھ امریکہ کا واحد ملک ہے جہاں انگریزی زبان بولی جاتی ہے۔

احمدیت کا نفوذ

گیانا میں جماعت احمدیہ کا تعارف اور نفوذکسی مبلغ کے آنے سےپہلے ہی ہوگیاتھا۔ 1956ء میں ایک نوجوان یوسف خان موکان صاحب نے ایک دوکان سے جماعت کے بارے ایک کتاب خریدی۔ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد انہوں نے ربوہ مرکز سے رابطہ کر کے مزید کتب حاصل کی اور جماعت کے بارے تحقیقات شروع کر دی۔ اگرچہ اس دوران ان کو مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا مگر انہوں نے اپنی تحقیق کو نہ روکا بلکہ مخالفوں کے دلائل بھی سنے اور ساتھ ساتھ تحقیق بھی کرتے رہے۔آپ کا علم جماعت کے بارے بہت بڑھ گیا تھا۔ یہاں تک کہ آپ مخالفوں کو دلائل کے میدان میں لاجواب کر دیتے تھے۔ مگر پھر بھی انہوں نے ابھی تک بیعت نہیں کی تھی۔

دوران تحقیق انہیں حضرت مسیح موعودؑ کی ایک تحریر ملی جس میں حضورؑ نے حق کے متلاشیوں کو خداسے دعا کر کے رہنمائی طلب کرنے کو کہا اور یہ کہ جو چالیس دن تک دعا کرے گا خدا ضرور ایسے مخلص لوگوں کی رہنمائی کرے گا۔چنانچہ یوسف خان صاحب نے اس پر عمل کرتے ہوئے دعا شروع کر دی۔ ایک دن آپ اپنے گاؤں سسٹر (Sisters) کی مسجد میں نماز عصر کے لئے آئے ہوئے تھے کہ آپ کو ایک آواز آئی وَلَا تَلۡبِسُوا الۡحَقَّ بِالۡبَاطِلِ وَتَکۡتُمُوا الۡحَقَّ وَاَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (اور حق کو باطل سے خلط ملط نہ کرو اور حق کو چھپاؤ نہیں جبکہ تم جانتے ہو۔سورةالبقرہ آیت 43)۔

اس آسمانی رہنمائی کے بعد آپ کو یقین ہو گیا کہ احمدیت حق پر ہے۔آپ نے بلا تعامل حضرت خلیفة المسیح الثانیؓ کی خدمت میں بیعت کا خط لکھ دیا اور جماعت احمدیہ میں شامل ہو گئے۔ اس کے بعد آپ نےایک مبلغ کی طرح تبلیغ کرتےہوئے جماعت کا پیغام پھیلانا شروع کر دیا۔ آپ کی تبلیغ سے بہت سےغیر احمدی مسلمانوں اور غیر مبائع احمدیوں نے حضرت خلیفة المسیح کی بیعت کی اور جماعت میں شامل ہو گئے۔ غیر مبائع احمدیوں میں نمایاں شخصیت مکرم محمد شریف بخش صاحب کی تھی جو آپ ہی کی تبلیغ سے بیعت کر کے جماعت میں شامل ہوئے۔ تبشیر کی فائل میں یوسف خان صاحب اور محمد شریف بخش صاحب کے بارے لکھا ہے کہ:
’’وہ تبلیغ احمدیت میں مشغول رہتے تھے۔ ابتدائی احمدیوں میں سے نیو ایمسٹرڈم کے ایک دوست محمد شریف بخش صاحب ایک مخلص اور ذوق و شوق سے تبلیغ کرنے والے احمدی ہیں۔ انہوں نے جماعت کو منظم کیا اور مرکز سے خط و کتابت کر کے عہدیداران کی منظوری حاصل کی انہیں پریذیڈنٹ اور مکرم محمد یوسف خان صاحب کو سیکرٹری مقرر کیا گیا۔۔۔ابتدائی احمدیوں کے ساتھ ساتھ بعض اور نوجوانوں نے بھی بیعت کی تھی جن کی تعداد محمد یوسف خان صاحب کے خط موٴرخہ 23؍نومبر 1959ء کے مطابق 34 تھی۔‘‘

(فائل امریکہ جنرل 1959ء صفحہ3 ازتبشیر فائل صفحہ2)

پہلی مسجد

جماعت احمدیہ گیانا کی پہلی مسجد تبلیغ کے ذریعہ سے ہی ملی۔ محمد یو سف خان صاحب اپنے گاؤں سسٹرز کے لوگوں اور خصوصاً اپنے رشتہ داروں کو تبلیغ کرتے تھے۔ اسی طرح آپ کے بڑےبھائی مکرم ابراہیم خان صاحب جو سسٹرز گاؤں کی مسجد کے امام تھےاُن کو بھی تبلیغ کرتے تھے۔ 1959ء میں مولانا بشیر آرچرڈ صاحب ٹرینیڈاڈ سے گیانا دورے کے لئے تشریف لائے۔آپ کے دورے سے بہت سے لوگ احمدی ہوئے۔ انہی بیعتوں میں امام ابراہیم خان موکان صاحب نے بھی بیعت کی اور امام صاحب کی کوششوں اور مدد سے مسجد کے لوگوں نے بھی بیعت کر لی۔ اس طرح سسٹر زگاؤں کی مسجد گیانا کی پہلی احمدیہ مسجد بن گئی۔

(ریویو آف ریلیجنز جون 1989ء)

تبشیر کی رپورٹ میں لکھا ہے:
’’بعض احمدیوں کی مرکز سے خط وکتابت کی وجہ سے ٹرینیڈاڈ سے مکرم بشیر احمد صاحب آرچرڈ کو مرکز نے گیانا بھیجا۔ مکرم آرچرڈ صاحب فروری1959ء میں گیانا تشریف لے گئے اور مرکز کو لکھا کہ گیانا میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک جماعت قائم ہے ان میں سے ایک اکیس سالہ نوجوان محمد یوسف خان ایک مبلغ کی طرح کام کر رہے ہیں اور ربوہ سے اپنے خرچ پر لٹریچر منگوا کر تقسیم کرتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ وقت تبلیغ کیلئے دیتے ہیں۔۔۔ یہاں مستقل مبلغ بھجوانے کی اشد ضرورت ہے یہا ں ترقی کے روشن امکانات ہیں۔ مکرم آرچرڈ صاحب ایک ہفتہ گیاناٹھہرنے کے بعد سورینام گئے واپسی پر پھر گیاناچند یوم ٹھہر کر ٹرینیڈاڈ تشریف لے گئے۔‘‘

(تبشیر فائل صفحہ2)

مسجد کی تاریخ

سسٹر گاؤں کی مسجد کی تاریخ یہ ہے کہ یہ مسجد سب سے پہلے ہمسایہ گاؤں فرینڈز (Friends) میں محمد یوسف خان کے والد کریم اللہ خان صاحب نے بنوائی تھی۔ فرینڈز اور سسٹرزکے گاؤں در اصل شوگر اسٹیٹس تھی جہاں چینی کے لئے گنے کی کاشت کی جاتی تھی۔ سسٹرز کے مسلمان فرینڈز میں جا کر نمازیں پڑھا کرتے تھے۔ بعد میں اس مسجد کو سسٹر ز منتقل کر دیا گیا۔ یہ زمین ابراہیم خان صاحب کی تھی جو ان کی والدہ ناضران موکان Naziran Moakan صاحبہ نے اپنے بچوں کو دی تھی۔ ابراہیم خان صاحب نے اپنی زمین مسجد کے لئے وقف کر دی۔ چنانچہ فرینڈ زگاؤں کی مسجد کو یہاں منتقل کر دیا گیا۔ یہ جماعت کے پیغام پہنچنے سے بہت پہلے کی بات ہے۔ مسجد کے پیچھے کی زمین یوسف خان صاحب کی ملکیت تھی جو انہوں نے بعد میں جماعت کو وقف کر دی۔

مسجد کی تعمیر نو

سسٹرز گاؤں کی مسجدبنیادی طور پر لکڑی کی مسجد تھی۔بعد میں مکرم میر غلام احمد نسیم صاحب کے دور میں اس کی تعمیر از سر نو کی گئی اور لکڑی کی بجائے اینٹوں سے تعمیر کی گئی۔

اس کے متعلق تبشیر کی رپورٹ میں لکھا ہے کہ:
’’سسٹرز ولیج (Sisters Village) میں ایک دوست نے مسجد کیلئے ایک قطعہ زمین تحفۃً پیش کیا ہوا تھا جس کی رجسٹریشن ہونے پر وہاں مسجد کی تعمیر کا کام شروع کیا گیا۔ 27؍فروری 1969ء کو مکرم میر غلام احمد نسیم صاحب نے مسجد کی بنیاد رکھی۔ 25؍اکتوبر 1969ء کو مسجد مکمل ہو گئی جس پر قریباً چھ ہزار ڈالر صرف ہوئے جو جماعت گیانا نے ادا کئے۔

سسٹرز ولیج کی پرانی مسجد کا ملبہ 26؍مارچ 1970ء کو Edinburgh Settlement منتقل کیا گیا جہاں مسجد کیلئے زمین حاصل کی جاچکی تھی اور ضروری تبدیلیوں کے ساتھ یہاں مسجد بنائی گئی جس کا افتتاح 3؍اپریل 1970ء کو ہوا اور مکرم حسن صاحب کو یہاں امام الصلوٰۃ مقرر کیا گیا جبکہ مکرم امین خان صاحب بچوں کو دینی تعلیم دینے پر مقرر ہوئے۔‘‘

(تبشیر فائل صفحہ6)

سسٹرز گاؤں کی مسجد کی تعمیر میں مقامی افراد نے مالی قربانیاں کی اور خصوصاًلجنہ نے بھرپور حصہ لیا تھا۔چنانچہ اس بارے تبشیر رپورٹ میں لکھا ہے کہ:
’’سسٹر ولیج کی رہنے والی ایک احمدی خاتون سسٹر نورن صاحبہ جو مکرم یوسف خان صاحب اور ابراہیم خان صاحب کی خالہ تھیں اس گاؤ ں میں جماعت کی مسجد کیلئے2000گیاناڈالر کی گرانقدر مالی قربانی دی۔ نماز کی اس قدر پابند کہ ہر نماز مسجد آکر ادا کرتیں۔‘‘

(فائل امریکہ جنرل 1959ء صفحہ3 ازتبشیر فائل صفحہ2)

مسجد کا نام

موجودہ مسجد کی تعمیر اسی دور کی ہے اور اس کی مرمت وقتاً فوقتاً کی جاتی ہے۔اس مسجد کا باقاعدہ کوئی نام نہ تھا۔ چنانچہ سن 2019ء میں حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں اس مسجد کے لئے نام کی درخواست کی گئی۔ پیارے آقا نے ازراہِ شفقت اس کا نام ’’مسجد مہدی‘‘ رکھا ہے۔

(تبشیر خطT-9041ء-2M/19-05-19)

دعا کی درخواست ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ابتدائی مسجد کو قائم کرنے والوں اور بسانے والوں پر اپنا فضل فرماتا چلا جائے اور انہیں اور ان کی نسلوں کو ہمیشہ خلافت کا وفادار رکھے اور گیاناجماعت مزید ترقیات کرتی چلی جائے۔آمین

(مقصود احمد منصور ۔مبلغ انچارج گیانا)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 26 دسمبر 2022

اگلا پڑھیں

فقہی کارنر