• 15 اپریل, 2024

سود

• شرع میں سود کی یہ تعریف ہے کہ ایک شخص اپنے فائدے کے لئے دوسرے کو روپیہ قرض دیتا ہے اور فائدہ مقرر کر تا ہے۔ یہ تعریف جہاں صادق آوے گی وہ سود کہلاوے گا لیکن جس نے روپیہ لیا ہے اگر وہ وعدہ وعید تو کچھ نہیں کرتا اور اپنی طرف سے زیادہ دیتا ہے اور دینے والا اس نیت سے نہیں دیتا کہ سود ہے تو وہ سود میں داخل نہیں ہے، وہ بادشاہ کی طرف سے احسان ہے۔ پیغمبر خدا نے کسی سے ایسا قرضہ نہیں لیا کہ ادائیگی کے وقت اسے کچھ نہ کچھ ضرور زیادہ (نہ) دے دیا ہو۔ یہ خیال رہنا چاہئے کہ اپنی خواہش نہ ہو خواہش کے برخلاف جو زیادہ ملے وہ سود میں داخل نہیں ہے۔

(ملفوظات جلد3 صفحہ166-167)

• مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض لوگ ان امور کی پروا نہیں کرتے اور ہماری جماعت میں بھی ایسے لوگ ہیں جو بہت کم تو جہ کرتے ہیں۔ اپنے قرضوں کے ادا کرنے میں۔ یہ عدل کے خلاف ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو ایسے لوگوں کی نماز نہ پڑھتے تھے۔پس تم میں سے ہر ایک اس بات کو خوب یاد رکھے کہ قرضوں کے ادا کرنے میں سستی نہیں کرنی چاہئے اور ہر قسم کی خیانت اور بے ایمانی سے دور بھاگنا چاہئے۔ کیونکہ یہ امر ِالٰہی کے خلاف ہے۔

(ملفوظات جلد4 صفحہ607 ایڈیشن1988ء)

• کسی طور سے لوگوں کو ان کے مال کا نقصان نہ پہنچاؤ اور فساد کی نیت سے زمین پر مت پھرا کرو۔ یعنی اس نیت سے کہ چوری کریں یا ڈاکہ ماریں یا کسی کی جیب کتریں یا کسی اور ناجائز طریق سے بیگانہ مال پر قبضہ کریں۔

(اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد10 صفحہ347)

پچھلا پڑھیں

خادم ترے اہلِ زمیں تُو عبدِ شاہِ آسماں

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 28 جنوری 2023