• 26 فروری, 2024

اپنے جائزے لیں (قسط 16)

اپنے جائزے لیں
ازارشادات خطبات مسرور جلد 15 (سال 2017ء)
قسط 16

ظاہری نمازوں کی اپنی حالت کا جائزہ لینا چاہئے

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ نماز برائیوں سے بچاتی ہے تو یقیناً یہ سچ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا کلام جھوٹا نہیں ہو سکتا۔ جن لوگوں میں نمازیں پڑھنے کے باوجود برائیاں قائم رہتی ہیں ان کی نمازیں صرف ظاہری نمازیں ہوتی ہیں وہ اس کی روح کو نہیں سمجھتے۔ پس یہ بہت ہی قابل فکر بات ہے جس پر ہم میں سے ہر ایک کو اپنی حالت کا جائزہ لینا چاہئے۔ اگر ہمیں لذت و سرور آ رہا ہو یا یہ پکا ارادہ ہو کہ میں نے لذت اور سرور حاصل کرنا ہے تو کس طرح ہو سکتا ہے کہ ہم میں سے کوئی اپنی نمازوں میں باقاعدگی اختیار نہ کرے۔ ہر ایک کو کبھی نہ کبھی اس لذت و سرور کا تجربہ ہو جاتا ہے اور ہوا ہو گا۔ مشکل اور پریشانی میں جب کوئی ہوتا ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ نمازوں میں بہت سے ایسے ہیں جو بڑے روتے ہیں، گڑگڑاتے ہیں۔ چلتے پھرتے بھی اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں۔ اس کی طرف توجہ رہتی ہے اور اسی وجہ سے پھر عبادت کی طرف بھی توجہ رہتی ہے تو کوئی نہ کوئی ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے اور کچھ نہ کچھ توجہ پیدا ہو رہی ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ تکلیف کی صورت میں مستقل دعاؤں میں لگے رہتے ہیں۔ لیکن جب اپنی خواہشات پوری ہو جائیں، جب مشکلات سے نکل جائیں تو پھر بہت سارے ایسے ہیں جن کی نمازوں میں، عاجزانہ دعاؤں میں سستی پیدا ہو جاتی ہے۔ پس جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ ہمیں مسلسل کوشش سے اپنے سامنے یہ ٹارگٹ رکھنا ہے کہ چاہے حالات اچھے ہوں یا برے، تنگی میں بھی اور کشائش میں بھی اس لذت و سرور کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی ہے جو نشہ کی کیفیت طاری کر دے اور صرف ذاتی حالات ہی نہیں ایک مومن کو تو معاشرے کے عمومی حالات بھی جو ہیں وہ بھی درد پیدا کرنے والے ہونے چاہئیں اور جب یہ درد کی کیفیت ہوتی ہے تو پھر درد سے دعائیں بھی نکلتی ہیں۔‘‘

(خطبات مسرور جلد15 خطبہ جمعہ بیان فرمودہ مؤرخہ 20؍جنوری 2017ء صفحہ33)

ہر شخص کو اپنا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے کہ اس کی نیکی اور تقوٰی کے کیا معیار ہیں؟

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’ہر عہدیدار یاد رکھے کہ اگر کسی کے اپنے خلاف بھی شکایت ہو، کسی عہدیدار کے خلاف اس کو یا اس کے خلاف اس کو شکایت پہنچے یا اس کے خلاف کوئی اس کے سامنے بات کرے تو اس کو سننے کا حوصلہ ہونا چاہئے۔ عہدیداروں میں سب سے زیادہ برداشت ہونی چاہئے اور بات کرنے والے سے بدلہ لینے کی بجائے سب سے پہلے اپنی اصلاح کی کوشش کرنی چاہئے، اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ کہیں میرے میں یہ برائی ہے تو نہیں۔ یہ ٹھیک کہہ رہا ہے یا صحیح کہہ رہا ہے۔ یہ بات بھی انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے ضروری ہے۔

افراد جماعت سے مَیں یہ کہنا چاہوں گا کہ وہ بھی اپنے تقوٰی کے معیار بڑھائیں۔ نیکی اور تقوٰی میں تعاون کا انہیں بھی حکم ہے۔ اگر افراد جماعت کے نیکی اور تقوٰی کے معیار زیادہ ہوں گے تو عہدیدار خود بخود نیکی اور تقوٰی پر چلنے والے ملتے جائیں گے۔ پس ہر شخص کو اپنا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے کہ اس کی نیکی اور تقوٰی کے کیا معیار ہیں اور کیا وہ اس میں اضافے کی کوشش کر رہا ہے یا نہیں۔ ہر فرد جماعت کو اپنا فرض بھی پورا کرنا چاہئے جو اس کے ذمہ اطاعت کے حوالے سے کیا گیا ہے۔ یہ ایک بڑا فرض ہے جو ہر فرد جماعت کے سپرد بھی ہے کہ تم اطاعت کرو۔ آپ کی اطاعت کے نمونے جہاں آپ کو جماعت سے تعلق میں بڑھائیں گے، وہاں آپ کی نسلوں کو بھی جماعت سے منسلک رکھیں گے۔اگر نسلوں کے تقوٰی کے، نیکی کے معیار بلند ہوں اور بڑھتے چلے جائیں تو پھر آئندہ نسلوں میں تقوٰی پر چلنے والے عہدیدار بھی ملتے چلے جائیں گے۔‘‘

(خطبات مسرور جلد15 خطبہ جمعہ بیان فرمودہ مؤرخہ 10؍مارچ 2017ء صفحہ110-111)

ہر ایک کو اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ کس حد تک اپنے آپ کو بیہودہ اور مشرکانہ مجلسوں سے بچایا ہوا ہے؟

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’ہر ایک کو اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ کس حد تک اپنے آپ کو بیہودہ اور مشرکانہ مجلسوں سے بچایا ہوا ہے۔ بہت سے ایسے ہیں جو کہیں گے کہ ہم تو ایک خدا پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم تو مشرکانہ مجلسوں میں نہیں بیٹھتے۔ لیکن یاد رکھیں کوئی مجلس ہو جیسے انٹرنیٹ ہے یا ٹی وی ہے یا کوئی ایسا کام ہے اور مجلس ہے جو نمازوں اور عبادت سے غافل کر رہی ہے وہ مشرکانہ مجلس ہی ہے۔

پس ہمیں اس گہرائی سے اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔ آپ علیہ السلام نے خاص طور پر توجہ دلائی کہ پانچ وقت نمازوں کو قائم کرو اور نمازوں کو قائم کرنا۔ باجماعت نماز کی ادائیگی ہے اور باقاعدہ اور وقت پر ادائیگی ہے۔ میں نے جائزہ لیا ہے۔ مجھے تو یہاں بھی اس میں ابھی بہت کمزوری نظر آ رہی ہے۔ مجھے دعا کے لئے لوگ کہتے ہیں اور جب پوچھو کہ تم خود دعا کرتے ہو؟ نمازیں پڑھتے ہو؟ باقاعدہ پڑھ رہے ہو؟ تو جواب نفی میں ہوتا ہے اور یہ کہ کوشش کرتے ہیں۔ پس اگر دعا کے لئے کہنے والے کے اپنے اندر اپنی تکلیف کو دُور کرنے کے لئے دعا کا درد پیدا نہیں ہوتا تو دوسرے کو کس طرح پیدا ہو سکتا ہے کہ اس کے لئے دعا کرے۔ ہاں خود اگر اپنی دعاؤں کا حق ادا کر رہے ہوں تو پھر دوسروں کی دعائیں مدد کرتی ہیں اور یہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔

(صحیح مسلم کتاب الصلوٰۃ باب فضل السجود والحث علیہ۔ حدیث 1094)

اسی طرح جو معاشرتی برائیاں ہیں جیسا کہ مَیں نے پہلے بھی مختصر ذکر کیا ہے کہ آپس میں محبت پیار اور بھائی چارے کے بعض لوگوں میں وہ معیار نہیں جو ہونے چاہئیں بلکہ بغض، حسد اور کینہ پایا جاتا ہے۔ پس اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی ہر ایک کو ضرورت ہے۔ دوسروں کو نہ دیکھیں کہ کوئی کیسا ہے۔ اپنی اصلاح کریں۔ اپنے آپ کو دیکھیں۔ اپنی اصلاح کر لیں گے تو باقی برائیاں بھی دور ہو جائیں گی۔ کوئی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ میں ہر لحاظ سے پاک ہوں۔ پس ہمیشہ ہمیں اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں کے لئے استغفار کرتے رہنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے اور ہم حقیقت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت میں آنے کا حق ادا کرنے والے ہوں۔‘‘

(خطبات مسرور جلد15 خطبہ جمعہ بیان فرمودہ مؤرخہ 21؍اپریل 2017ء صفحہ184-185)

بیویوں سے حسن سلوک کے حوالے سے اپنے جائزے لینے کی تلقین

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’ہر اس شخص کو جس کا اپنی بیویوں سے اچھا سلوک نہیں ہے جائزہ لینا چاہئے کہ اچھے اخلاق اور بیویوں سے اچھے سلوک کا مظاہرہ صرف ظاہری اچھا خُلق نہیں ہے۔ بلکہ آپؐ نے فرمایا کہ ایمان کے معیار کی بلندی کی بھی نشانی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام خاوند کے فرائض اور بیویوں سے حسن سلوک کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ فحشاء کے سوا باقی تمام کج خُلقیاں اور تلخیاں عورتوں کی برداشت کرنی چاہئیں اور فرمایا کہ ہمیں تو کمال بے شرمی معلوم ہوتی ہے کہ مرد ہو کر عورت سے جنگ کریں۔ ہم کو خدا نے مرد بنایا ہے۔ درحقیقت ہم پر اِتمام نعمت ہے۔ اس کا شکر یہ یہ ہے کہ ہم عورتوں سے لطف اور نرمی کا برتاؤ کریں۔‘‘

(خطبات مسرور 15 جلد خطبہ جمعہ بیان فرمودہ مؤرخہ 19؍مئی2017ء صفحہ226)

مَردوں کو پہلے اپنے جائزے لینے چاہئیں کہ کیا وہ دین کے معیار پر پورا اترنے والے ہیں؟

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’مَردوں کو پہلے اپنے جائزے لینے چاہئیں کہ کیا وہ دین کے معیار پر پورا اترنے والے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایسے ہی مَردوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:’’مرد اگر پارسا طبع نہ ہو تو عورت کب صالحہ ہو سکتی ہے۔‘‘ پہلی شرط تو یہی ہے کہ مرد نیک ہو تبھی اس کی بیوی بھی صالحہ ہو گی۔ فرمایا کہ ’’ہاں اگر مرد خود صالح بنے تو عورت بھی صالحہ بن سکتی ہے۔‘‘ فرمایا کہ ’’قول سے عورت کو نصیحت نہ دینی چاہئے بلکہ فعل سے اگر نصیحت دی جاوے تو اُس کا اثر ہوتا ہے۔‘‘ صرف باتوں کی نصیحت نہ کرو۔ صرف ڈانٹ پھٹک نہ کرو بلکہ اپنے عمل سے یہ ثابت کرو کہ تم نیک ہو اور تمہارا ہر قدم خدا تعالیٰ کے حکموں پر چلنے والا ہے۔ ایسی نصیحت جو عمل سے ہوگی تو فرمایا کہ اس کا اثر ہوتا ہے۔

فرمایا کہ ’’عورت تو درکنار اَور بھی کون ہے جو صرف قول سے کسی کی مانتا ہے۔‘‘ کوئی نہیں مانتا جب تک عمل نہ ہو۔ ’’اگر مرد کوئی کجی یا خامی اپنے اندر رکھے گا تو عورت ہر وقت کی اُس پر گواہ ہے۔‘‘ فرمایا کہ ’’……جو شخص خدا سے خود نہیں ڈرتا تو عورت اس سے کیسے ڈرے؟ نہ ایسے مولویوں کا وعظ اثر کرتا ہے نہ خاوند کا۔ ہر حال میں عملی نمونہ اثر کیا کرتا ہے۔‘‘ فرماتے ہیں کہ ’’بھلا جب خاوند رات کو اٹھ اٹھ کر دعا کرتا ہے، روتا ہے، تو عورت ایک دو دن تک دیکھے گی آخر ایک دن اسے بھی خیال آوے گا اور ضرور متأثر ہو گی۔‘‘ فرماتے ہیں کہ ’’عورت میں متأثر ہونے کا مادہ بہت ہوتا ہے۔ ……ان کی درستی کے واسطے کوئی مدرسہ بھی کفایت نہیں کر سکتا۔‘‘ عورتوں کو درست کرنے کے لئے کسی سکول کی ضرورت نہیں ہے، کسی ادارے کی ضرورت نہیں ہے۔ ’’جتنا خاوند کا عملی نمونہ کفایت کرتا ہے۔‘‘ اگر اصلاح کرنی ہے تو خاوند اپنی اصلاح کر لیں۔ اپنے عملی نمونے دکھائیں تو ان کی اصلاح ہو جائے گی۔ آپ فرماتے ہیں ’’…… خدا نے مرد عورت دونو کا ایک ہی وجود فرمایا ہے۔

یہ مَردوں کا ظلم ہے کہ وہ اپنی عورتوں کو ایسا موقع دیتے ہیں کہ وہ ان کا نقص پکڑیں۔ ان کو چاہئے کہ عورتوں کو ہرگز ایسا موقع نہ دیں کہ وہ یہ کہہ سکیں کہ تُو فلاں بدی کرتا ہے۔‘‘ کبھی ایسا موقع مردوں کو نہیں دینا چاہئے کہ عورت یہ کہے کہ تم میں فلاں بدی ہے۔ تم تو یہ بدیاں کرتے ہو۔ بلکہ فرماتے ہیں کہ انسان کو اتنا پاک صاف ہونا چاہئے کہ ’’بلکہ عورت ٹکّریں مار مار کر تھک جاوے اور کسی بدی کا اسے پتہ مل ہی نہ سکے تو اس وقت اس کو دینداری کا خیال ہوتا ہے اور وہ دین کو سمجھتی ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد5 صفحہ207-208)

(خطبات مسرور جلد15 خطبہ جمعہ بیان فرمودہ مؤرخہ 19؍مئی 2017ء صفحہ227-228)

آپ جائزہ لیں گھروں کی لڑائیاں، طلاق اور خلع کی نوبت اس لئے آتی ہے کہ جھوٹ کا سہارا لیا جاتا ہے؟

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’اگر آپ جائزہ لیں تو گھروں کی لڑائیاں، طلاق اور خلع کی نوبت اس لئے آتی ہے کہ جھوٹ کا سہارا لیا جاتا ہے جبکہ اسی بنیادی نفسیات کو سمجھتے ہوئے ہمیں نکاح کے خطبے میں جن آیات کی تلاوت کرنے کا کہا گیا ہے اس میں یہ آیت بھی شامل ہے کہ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَقُوۡلُوۡا قَوۡلًا سَدِیۡدًا ﴿ۙ۷۱﴾ (الاحزاب: 71) کہ اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کا تقوٰی اختیار کرو اور صاف اور سیدھی بات کیا کرو اور پھرآگے فرمایا یُّصۡلِحۡ لَکُمۡ اَعۡمَالَکُمۡ وَیَغۡفِرۡ لَکُمۡ ذُنُوۡبَکُمۡ ؕ وَمَنۡ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوۡلَہٗ فَقَدۡ فَازَ فَوۡزًا عَظِیۡمًا ﴿۷۲﴾ (الاحزاب: 72) کہ اگر تم ایسا کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے گناہوں کو معاف کر دے گا اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے وہ بڑی کامیابی حاصل کرتا ہے۔ اب ایک اطاعت تو یہی ہے کہ جب آزادیاں ہوتی ہیں تو آزادی کے نام پر پردے ختم ہوتے ہیں اور جب پردے ختم ہوتے ہیں تو پھر شکوک پیدا ہوتے ہیں اور اس طرح پھر بداعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ پھر جھوٹ کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ ایک سلسلہ چل پڑتا ہے جو نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔‘‘

(خطبات مسرور جلد15 خطبہ جمعہ بیان فرمودہ مؤرخہ 16؍جون 2017ء صفحہ282-283)

اپنا جائزہ لیں کہ ہم نے رمضان میں کیا حاصل کیا؟

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ رمضان کے بابرکت ایام کے بارے میں بیان فرماتے ہیں:
’’ہمیں اپنا جائزہ لینا چاہئے، ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے ان بابرکت ایام میں کیا حاصل کیا؟ چاہے روزے آرام سے گزر گئے یا ذرا سا احساس ہوا اور اس سے گزر گئے تو اس سے مقصد حاصل نہیں ہو جاتا۔ مقصد تبھی حاصل ہو گا جب ہم یہ دیکھیں، اپنا جائزہ لیں کہ ہم نے حاصل کیا کیا؟

اللہ تعالیٰ جو ان دنوں میں رمضان کے مہینہ میں ساتویں آسمان سے نچلے آسمان پہ آ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جو ان دنوں میں اپنے بندوں کے قریب ہو کر ان کی دعائیں سنتا ہے۔

(الجامع لشعب الایمان الجزء الخامس حدیث 3394، 3334 مطبوعہ مکتبۃ الرشد ناشرون بیروت 2004ء)

اللہ تعالیٰ جو ان دنوں میں روزہ رکھنے والوں کی خود جزا بن جاتا ہے۔

(صحیح البخاری کتاب التوحید باب قول اللہ تعالیٰ یریدون ان یبدلوا کلام اللہ … الخ حدیث 7492)

اللہ تعالیٰ جو ان دنوں میں شیطان کو جکڑ دیتا ہے۔

(صحیح مسلم کتاب الصیام باب فضل شھر رمضان حدیث 2495)

ہم نے اللہ تعالیٰ کے ان فضلوں اور اس کی رحمتوں سے فیض اٹھانے کے لئے کیا کیا یا کیا کیا عہد کئے ہیں۔ ہم نے اللہ تعالیٰ کے حکموں کو ماننے اور اس کی تعلیم کے مطابق زندگی گزارنے کے لئے گزشتہ کوتاہیوں کو چھوڑنے کے لئے کیا عہد کئے ہیں اور کس حد تک تبدیلیاں اپنے اندر پیدا کی ہیں۔ پس یہ جائزے ہمیں اللہ تعالیٰ کے مستقل فضلوں کے حصول کی طرف توجہ دلانے والے اور اس وجہ سے اپنی حالتوں میں مستقل تبدیلی لانے کی کوشش، اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو ہمیشہ جذب کرنے والا بنائے گی۔‘‘

(خطبات مسرور جلد15 خطبہ جمعہ بیان فرمودہ مؤرخہ 23؍جون 2017ء صفحہ292-293)

جلسہ سالانہ کا ہر ناظم
اپنے شعبے کے کاموں کی کمی بیشی کا جائزہ لے

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’جلسہ سالانہ کے انتظام کے تحت ایک شعبہ ایسا بھی ہوتا ہے جو نگرانی وغیرہ کا شعبہ ہے جو مختلف شعبوں کا معائنہ بھی کرتا ہے جس کے کارکنان شعبوں کا جائزہ لے کر کمیوں اور خامیوں کی طرف اپنے افسر کے ذریعہ سے جلسہ سالانہ کے نظام کو توجہ دلاتے ہیں لیکن ہر شعبہ کے افسر کو بھی چاہئے کہ اپنے شعبہ سے متعلقہ کمیوں کو دیکھنے کے لئے کچھ لوگوں کی ڈیوٹی لگا دیں جو اپنے شعبے کے کاموں کی کمی بیشی کا جائزہ لے کر شام کو اپنے افسر کو رپورٹ دیں۔ اس سے جلسہ کے دوران بھی اور آئندہ سال کے جلسہ میں بھی بہتری پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے جائزہ کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ایک موقع پر فرمایا تھا کہ لنگر کے مہتمم کو مہمانوں کی ضروریات کا جائزہ لیتے رہنا چاہئے لیکن کیونکہ وہ اکیلا آدمی ہے اس لئے بعض دفعہ خیال نہیں رہتا۔ بعض باتیں نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہیں اس لئے دوسرا شخص یاد دلا دے۔

(ماخوذ از ملفوظات جلد7 صفحہ220)

اور یاددہانی کے لئے بہترین طریق یہی ہے کہ افسر خود کسی کو اس یاد دہانی کے لئے مقرر کریں جو جائزہ لیتا رہے کہ کہاں کہاں کمی ہے۔ امیر غریب کی یکساں مہمان نوازی ہونی چاہئے۔‘‘

(خطبات مسرور15جلد خطبہ جمعہ بیان فرمودہ مؤرخہ 21؍جولائی 2017ء صفحہ242-243)

قرآن کریم کے احکامات اور اوامر و نواہی کا ہمیں جائزہ لینا ہو گا کہ کون کون سی نیک باتوں کو ہم کرنے والے ہیں اور کون سی ہم نہیں کر رہے؟

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’قرآن کریم کے احکامات کو دیکھ کر، اس کے اوامر و نواہی کو دیکھ کر ہمیں جائزہ لینا ہو گا کہ کون کون سی نیک باتوں کو ہم کرنے والے ہیں اور کون سی ہم نہیں کر رہے۔ کون سی برائیوں کو ہم چھوڑ رہے ہیں اور کن کو ہم نہیں چھوڑ رہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مقام اور دعوے کو صحیح رنگ میں پہچاننے کی ضرورت ہے۔

پس یہ زمانہ جو دنیا کو اللہ تعالیٰ سے دور لے گیا ہے اور ترقی کے نام پر ہر روز ہر آنے والا دن دور لے جانے کے لئے ایک نئی کوشش کرتا چلا جا رہا ہے اس وقت میں یہ احمدی کا ہی کام ہے کہ اپنے تعلق باللہ اور اللہ تعالیٰ کی معرفت کو حاصل کرنے کی کوشش کریں اور ہر چڑھنے والا دن اس معرفت میں ترقی کرنے والا ہو۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق و محبت صرف زبانی دعویٰ نہ ہو۔ اس کے صرف نعرے نہ لگائے جائیں بلکہ اس عشق و محبت کا اظہار آپ کے اُسوۂ حسنہ کو اپنا کر ہونا چاہئے۔ یہ نہیں کہ نعرے تو آپ کے نام کے لگا لئے اور اس کے بعد ظلم بھی آپ کے نام پر ہو رہا ہے۔ آجکل مسلمانوں کی یہی حالت ہے۔ اب دیکھتے ہیں بہت ساری تنظیمیں بنی ہوئی ہیں۔ حکومتیں بھی اور تنظیمیں بھی اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر ظلم کر رہی ہیں۔ وہ رحمت للعالمین جو تمام زمانے کے لئے رحمت بن کر آیا تھا ان کو انہوں نے اپنے عملوں سے ظلم کا نشان بنا دیا ہے گو ان کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکتیں۔ اس لئے اس زمانے میں مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام آئے تھے اور یہی ہم کوشش کرتے چلے جا رہے ہیں کہ اسلام کی حقیقی تصویر دنیا کے سامنے پیش کریں۔

پس ہمیں اس حقیقی تصویر کو پیش کرنے کے لئے آپ کے ہر اسوہ کو اپنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ قرآن کریم کی حکومت اپنے اوپر لاگو کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور ہر وقت اس کوشش میں رہنا چاہئے کہ ہمارا ہر عمل اعمال صالحہ میں شمار ہونے والا عمل ہو۔ ہمیں یہ کوشش کرنی چاہئے کہ ہم ہر لمحہ اور ہر روز بلکہ ہر لمحہ اس کوشش میں ہوں کہ ہم نے شیطان سے دور ہونا ہے اور رحمان کے قریب ہونا ہے۔ ورنہ جیسا کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا ہے غیر بھی نمازیں پڑھتے ہیں لیکن اکثر ان کی نمازیں زمین پر ہی رہ جاتی ہیں وہ عرش پر نہیں جاتیں۔ عرش کے خدا کو ان نمازوں سے کوئی بھی غرض نہیں ہے کیونکہ ان میں اخلاص نہیں ہے۔ ان میں دنیا کی ملونی ہے۔ ایسی نمازیں ہیں جو ہلاکت ہیں۔ پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہ ارشاد، یہ تنبیہ ہمیں سوچنے اور فکر کرنے کی طرف توجہ دلانے والی ہونی چاہئے اور آپ کی بیعت کی حقیقت کو سمجھنے والی ہونی چاہئے۔‘‘

(خطبات مسرور15 جلد خطبہ جمعہ بیان فرمودہ مؤرخہ 25؍اگست 2017ء صفحہ403)

انصار کو اپنی نمازوں کا جائزہ لیتے رہنے کی ہدایت

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’انصار اللہ والے بھی اپنی رپورٹوں سے جائزہ لیتے ہوں گے اور جائزہ لینا چاہئے کہ باوجود اس کے کہ انصار کی عمر ایک پختہ اور سنجیدگی کی عمر ہے نماز باجماعت کی طرف اس طرح توجہ نہیں ہے جو ہونی چاہئے۔ پس انصار اللہ کو خاص طور پر سب سے زیادہ اس بات کی طرف توجہ دینی چاہئے کہ ان کا ہر ممبر نماز باجماعت کا عادی ہو بلکہ ہر ناصر کو خود اپنا جائزہ لینا چاہئے اور کوشش کرنی چاہئے کہ وہ نماز باجماعت کے عادی ہوں۔ سوائے بیماری اور معذوری کی صورت کے نماز باجماعت ادا کرنے کی انتہائی کوشش کرنی چاہئے۔ اگر قریب کوئی مسجد اور نماز سینٹر نہیں ہے تو علاقے کے کچھ لوگ کسی گھر میں جمع ہو کر نماز باجماعت پڑھ سکتے ہیں۔ اگر یہ سہولت بھی نہیں تو گھر کے افراد مل کر نماز باجماعت پڑھیں۔اس سے بچوں کو بھی، نوجوانوں کو بھی نماز اور باجماعت نماز کی اہمیت کا احساس ہو گا۔

پس انصار اللہ حقیقی رنگ میں انصار اللہ تبھی بن سکتے ہیں جب اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کرنے اور اس پر عمل کرنے اور کروانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اگر اللہ تعالیٰ کی عبادت جو انسان کی پیدائش کا مقصد ہے اس پر عمل نہیں کر رہے اور جن کے نگران بنائے گئے ہیں ان سے عمل نہیں کروا رہے یا عمل کروانے کی کوشش نہیں کر رہے، اپنے نمونے پیش نہیں کر رہے تو صرف نام کے انصار اللہ ہیں۔ آج تلواروں اور تیروں کی جنگ نہیں ہو رہی جہاں مددگاروں کی ضرورت ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تو فرمایا ہے کہ ہمارا غالب آنے کا ہتھیار دعا ہے۔

(ماخوذ از ملفوظات جلد9 صفحہ28)

پس انصار اللہ بننے کے لئے اس دعا کے ہتھیار کو استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق اس ہتھیار کو استعمال کیا جائے اور جب یہ ہو گا تبھی ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت کا بھی صحیح حق ادا کرنے والے ہوں گے۔ ورنہ آپ نے بار بار یہی فرمایا ہے کہ اگر میری باتوں کو نہیں ماننا اور اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا نہیں کرنی، اپنی عبادتوں کے حق ادا نہیں کرنے تو پھر میری بیعت میں آنے کا کوئی فائدہ نہیں۔

(ماخوذ از ملفوظات جلد10 صفحہ140)

پس ہر ناصر کو خاص طور پر اپنے جائزے لینے چاہئیں کہ کس حد تک وہ نماز کے پابند ہیں۔ کس حد تک وہ اپنا نمونہ اپنے بچوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ ان کی نمازوں کی حالت اور کیفیت کیا ہے۔ کیا صرف ایک فرض اور بوجھ سمجھ کر نمازیں ادا ہو رہی ہیں یا حقیقت میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کے لئے ہم یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔‘‘

(خطبات مسرور15 جلد خطبہ جمعہ بیان فرمودہ مؤرخہ 29؍ستمبر 2017ء صفحہ462-463)

(ابو مصور خان۔ رفیع ناصر)

پچھلا پڑھیں

خادم ترے اہلِ زمیں تُو عبدِ شاہِ آسماں

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 28 جنوری 2023