• 14 اپریل, 2024

روس جاپان جنگ اور عالمی سطح پر طاقت کے توازن میں حیرت انگیز ڈرامائی تبدیلی

روس جاپان جنگ اور عالمی سطح پر طاقت کے توازن میں
حیرت انگیز ڈرامائی تبدیلی
مشرقی طاقت کے ظہور اور کوریا کی نازک حالت کے متعلق عظیم الشان پیش خبری

2012ء میں خاکسار کو جماعتی وفد کے ساتھ کوریا کے دارالحکومت سئیول (Seoul) میں واقع قدیم جاپانی جیل کی عمارت دیکھنے کا موقع ملا۔ یہ جیل جاپان کے نو آبادیاتی دور میں کورین پر ظلم وستم اور کوریا کی نازک حالت کی داستان عبرت کی ایک زندہ علامت ہے۔ مذکورہ جیل میں کورین کو قید کر کے ایسی اذیت ناک سزائیں دی گئیں کہ جس کے تصور سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس جیل کی باقیات میں موجود کوریا کی نازک حالت کے آثار و شواہد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیش خبری ’’ایک مشرقی طاقت اور کوریا کی نازک حالت‘‘ کی صداقت اور آپؑ کی سچائی کی گواہی دے رہے ہیں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اس جیل کے وزٹ سے جماعتی وفد نے آپؑ کی مذکورہ عظیم الشان پیش خبری کے مطابق ’’کوریا کی نازک حالت‘‘ کے بکثرت شواہد بچشم خود دیکھے اور اس عظیم الشان پیشگوئی کی صداقت کاگواہ بن گئے۔ الحمد للّٰہ

بیسویں صدی کے اوائل میں روس اور جاپان کی ہولناک جنگ کےباعث عالمی سیاسی منظر نامہ پر طاقت کے توازن میں حیرت انگیز ڈرامائی تبدیلی رونما ہوئی اور مغربی طاقتوں کے مقابلے میں ایک زبردست مشرقی طاقت کا ظہور ہوا۔روس وجاپان کے درمیان لڑی جانے والی اس جنگ کو Russo- Japanese War کہا جاتاہے۔دراصل بیسویں صدی کے آغاز میں دنیا کے نقشہ پرساری بڑی طاقتیں مغرب تک محدود تھیں اور اس کے بالمقابل مشرق میں کوئی ایسی طاقت موجود نہ تھی جو اہمیت کی حامل ہو یا جسے طاقت کہا جا سکے۔مذکورہ جنگ میں جاپان کی فتح اور روس کی شکست سے عالمی سطح پرطاقت کا تواز ن تبدیل ہوا اورجاپان افق عالم پر ایک مشرقی طاقت بن کر ابھرا۔جدید دور میں مغربی طاقتوں کے مقابل پر کسی بھی ایشیائی طاقت کی یہ پہلی بڑی فتح تھی۔مشرقی طاقت کی حیثیت سے افق دنیا پر نمودار ہونےسے جاپان نےمشرقی ایشیا میں روس کے توسیع پسندانہ اقدامات کےآگے بند باندھ کراس کے جارحانہ عزائم خاک میں ملا دیئے اور اس طرح ایشیا میں مغربی تسلط اپنے اختتام کی طرف بڑھنے لگا۔جاپان نے ایسی طاقت پکڑی کہ چین اور ایشیاء کے دیگر علاقے بھی آہستہ آہستہ جاپان کے قبضہ میں جانے لگے اور اس کے اثرورسوخ میں اسقدر اضافہ ہوا یہاں تک کہ جاپان کو برطانیہ اور دیگر بڑی طاقتوں کے ہم پلہ سمجھا جانے لگا۔ ابتدا میں جاپان اپنے آس پاس کے علاقوں کو قبضہ میں لیکر اپنی سلطنت کا حصہ بنا تا رہا اور ساتھ ہی اپنی فوجی قوت اور طاقت کو ناقابل تسخیر بنانے میں لگا رہا۔ 1920ء سے 1930ء کی دہائی میں جاپان ایک بہت بڑی طاقت کے روپ میں سامنے آیا۔ 1931ء میں جاپان نے چین کے شمال مشرقی صنعتی علاقے منچوریا پر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد 1937ء سے 1938ء کے دوران چین کے تمام اہم ساحلی علاقوں کو اپنے قبضہ میں لے لیا۔1939ء میں جاپان نے موجودہ ہانگ کانگ کے جزائر شانٹو اور کینٹن پر قبضہ کر لیا۔1940ء میں موجودہ میانمر، ملائیشیا، برونائی، ویتنام، تھائی لینڈ، لاؤس اور کمبوڈیہ پر اپنا قبضہ کر لیا۔ آخرکار جاپانی سامراج بڑھتے بڑھتے اپنے عروج کو پہنچ گیا۔ جاپان نے بڑی طاقتوں کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔

جاپان کے ساتھ جنگ روس کےلئے نقصان دہ ثابت ہوئی اور اسے اس کی بڑی بھاری قیمت چکانا پڑی۔اس جنگ نے روس پر ایسے گہرےاثرات چھوڑے کہ آئندہ کئی دہائیوں تک روس اندرونی طور پر خلفشار کا شکار رہا۔اس طویل جنگ کےباعث روس کی معیشت کی کمر ٹوٹ گئی اور عوام میں زار روس کےخلاف شدیدغم و غصہ پیدا ہوا اوران کے دلوں میں نفرت انگیزجذبات پروان چڑھنے لگے۔ ستمبر1905ء میں روس کو جاپان کے ہاتھوں ذلّت آمیز حتمی شکست ہوئی۔ابھی یہ جنگ جاری تھی اور بعض اہم محاذ پرروس کو شکست ہو چکی تھی کہ اس جنگ کے دوران ہی جنوری 1905ء میں انقلاب روس کے شعلے بھڑک اٹھےاو ر دیکھتے ہی دیکھتے روس کی پوری سلطنت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔حکمران طبقے اور اشرافیہ کے خلاف بڑے پیمانے پر سیاسی اور سماجی بدامنی کی لہر نےروسی سلطنت کو ہلا کے رکھ دیا۔1905ء کے انقلاب سے پہلے روسی سماج میں سیاسی، سماجی اور معاشی تبدیلیاں آ رہی تھیں، خاص طور سے بادشاہت کے اختیارات کے خلاف تعلیم یافتہ نوجوان طبقے میں، جو کہ مغربی تہذیب و افکار سے متاثر ہو رہا تھا۔ احتجاجی جلسوں اورہڑتالوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ مزدوروں کےایک احتجاج کے دوران ایک المناک سانحہ پیش آنے سے انقلاب کی چنگاری نے جنم لیا۔اس اندوہناک سانحہ کو ’’خونی اتوار‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ 22؍جنوری 1905ء میں اتوار کے دن پیٹرز برگ میں ایک لاکھ مزدوروں نےزار روس کو اپنے حقوق کےلئے عرضداشت پیش کرنے کےلئے مارچ شروع کیا اور جب مزدوروں کا یہ جلوس زارؔ کے محل کے سامنے پہنچا تو زارؔ کے حکم پر جلوس کو سختی سے کچلنے کےلئے طاقت کا استعمال کیا گیا اور جلوس پر گولی چلائی گئی جس سے بہت سے مزدور مارے گئے اور بڑی تعداد میں زخمی ہوئے۔ شہر کی گلیاں مزدوروں کے خون سے بھر گئیں۔ اس پر سارے ملک میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔ زارؔ کی حکومت کے خلاف عوامی تحریک کا آغاز ہوگیا۔بعد میں اس تحریک کو سختی سے بظاہر کچل دیا گیا لیکن اندر ہی اندر لاوا پکتا رہا۔اس صورتحال سے روس ابھی سنبھل نہ پایا تھا کہ چند سالوں بعد پہلی عالمی جنگ چھڑ گئی اور روس بھی جرمنی اور آسٹریا کے خلاف جنگ میں شریک ہو گیا۔ جس نے روس کی معیشت کو مزید برباد اور قوم کو بدحال کر دیا۔ بھوک وافلاس نے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔اس صورت حال میں بڑ ے پیمانے پر بغاوت اورعوامی تحریک کے سائے منڈلانے لگ گئے مظاہروں اور ہڑتالوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا۔1905ء کے انقلاب کا دبالاوا ابل پڑااور فروری 1917ء میں ایک ایسا خونی انقلاب آیاجس نے روس کی سیاست کا رخ بدل کے رکھ دیا اورزارروس کی حالت زار پر منتج ہوا۔روسی زار شاہی خاندان کے افراد کا بہیمانہ قتل کیا گیا اورتین سوسال سے روس کےمطلق العنان حاکم زارؔ خاندان کی حکمرانی اپنے انجام کو پہنچی۔ 1905ء کا انقلاب 1917ء کے انقلاب کا پیش خیمہ بنا۔

یاد رہے کہ روس وجاپان کے درمیان جنگ (1904ء – 1905ء) جزیرہ نما کوریا اور شمال مشرقی چین کے علاقے پر اپنا تسلط قائم کرنے کے لئے لڑی گئی۔ روس یہ چاہتا تھا کہ کسی طرح کوریا پر قبضہ کرلے مگر جاپان کوریا پر روس کے قبضہ کو اپنی موت سمجھتا تھا۔ اس وقت جزیرہ نما کوریا (اب شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے دو ممالک پہ مشتمل ہے) اس قدر غیر معروف ملک تھا کہ عام پڑھے لکھے لوگ بھی اس کے نام سے ناآشنا تھے۔اس زمانے میں جاپان اور روس کا کوئی مقابلہ نہیں تھا کیونکہ روس ایک عالمی طاقت تھا اور اس کی جنگی طاقت کے مقابل پر جاپان کی کوئی حیثیت نہ تھی۔ یہ جنگ شروع ہوئی تھی اورابھی جاپان نے کوئی میدان نہیں مارا تھا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو 29؍اپریل 1904ء کوالہام ہوا کہ ’’ایک مشرقی طاقت اور کوریا کی نازک حالت‘‘۔اس الہام کے دیگر الفاظ یہ ہیں۔ ’’کوریا خطرناک حالت میں ہے۔مشرقی طاقت‘‘ (تذکرہ) اس الہام میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو قبل از وقت اس جنگ کے نتائج کی خبر دی کہ مغربی طاقتوں کے مقابل مشرق میں ایک زبردست طاقت کا ظہور ہوگا۔جاپان اس معرکہ میں فاتح ٹھہرے گی اور روس کو شکست ہوگی جبکہ کوریا کی حالت نازک ہو جائے گی۔حضرت مسیح موعودؑ کی یہ پیشگوئی بڑی آب و تاب کے ساتھ آپؑ کے زمانہ میں پوری ہوئی اور آپؑ کی پیشگوئی کے عین مطابق اس جنگ میں جاپان نے فتح حاصل کی اور روس کو شکست ہو ئی اور اس جنگ کے کوریا پہ بڑے بھیانک اثرات ہوئے۔جاپان ایک زبردست مشرقی طاقت بن کر دنیا کے افق پر نمودار ہوا۔آپ کی پیشگوئی سے پہلے مغربی طاقتوں کے مقابلہ میں کسی مشرقی طاقت کا کوئی وجود نہ تھا۔جس وقت یہ الہام ہوا بڑے بڑے سیاسی مدبر بھی روس کی زبردست طاقت کو دیکھتے ہوئے جاپان کی نسبت یہ خیال نہیں کر سکتے تھے کہ جاپان اس معرکہ میں فتح حاصل کر لے گا اوراس کے ہاتھوں روس کو ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔اس جنگ میں دنیا کے اندازوں اور امیدوں کے صریح برخلاف روس باوجود اپنی طاقت کے شکست کھا گیا اور جاپان عالمی افق پر ایک مشرقی طاقت کے طور پہ ابھرا۔

روس اور جاپان کی یہ جنگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مبارک حیات کے دوران 1904ء میں ہوئی۔اس جنگ کا تذکرہ آپؑ کی مبارک مجلس میں بھی ہوا اوریہ جنگ ایسی ہولناک اور خونخوار تھی کہ ایک موقع پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے مخالفین کی طرف سے برپا مخالفت کو اس جنگ سے تشبیہ دی۔ آپ اپنے منظوم کلام میں فرماتے ہیں کہ:

؎ جنگ روحانی ہے اب اس خادم و شیطان کا
دل گھٹا جاتا ہے یا رب سخت ہے یہ کارزار
اے خدا شیطاں پہ مجھ کو فتح دے رحمت کے ساتھ
وہ اکٹھی کر رہا ہے اپنی فوجیں بے شمار
جنگ یہ بڑھ کر ہے جنگ روس اور جاپان سے
میں غریب اور ہے مقابل پر حریف نامدار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد12 صفحہ149)

حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے اپنے دورہ یورپ کے دوران 28؍جولائی 1967ء کو لندن میں وانڈزورتھ ٹاؤن ہال میں ایک روح پرور اور عظیم الشان لیکچر ارشاد فرمایا جس میں آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کے وقت سے لے کر آئندہ عالمی سطح پر طاقت کے توازن میں ہونے والے تغیرات کا تجزیہ پیش کرتے ہوئے فرمایا:
’’آپؑ کے دعویٰ کے وقت مہذب اور فاتح مغربی طاقتوں کے مقابلہ میں کسی مشرقی طاقت کا کوئی وجود نہ تھا لیکن 1904ء میں آپ نے دنیا کو یہ بتایا کہ عنقریب مہذب اور فاتح مغربی طاقتوں کے رقیب کی حیثیت میں دنیا کے افق پر ایسی مشرقی طاقتیں ابھرنے والی ہیں جن کی طاقت کا لوہا مغربی طاقتوں کو بھی ماننا پڑے گا۔ چنانچہ جلد ہی اس کے بعد جنگ روس و جاپان میں جاپان نے فتح پائی اور وہ ایک مشرقی طاقت کے طور پر افق دنیا پر نمودار ہوا۔ پھر دوسری جنگ عظیم میں جب جاپان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تو چین ایک مشرقی طاقت کی حیثیت سے افق دنیا پر اپنی پوری مشرقیت اور طاقت کے ساتھ نمودار ہوا اور انسانی تاریخ میں ان ہر دو طاقتوں کے عروج کے ساتھ ایک نیا موڑ آیا، جن کے اثرات انسانی تاریخ میں اتنے وسیع اور اہم ہیں کہ کوئی شخص ان سے انکار نہیں کر سکتا اور یہ جو کچھ ہوا الٰہی منشاء اور حضرت مرزا غلام احمد صاحب علیہ السلام کی پیشگوئیوں کے عین مطابق ہوا۔‘‘

(امن کا پیغام اور ایک حرف انتباہ، صفحہ7-8)

روس اور جاپان کے مابین جنگ کا تاریخی پس منظر

دراصل انیسویں صدی کے آخر میں جاپان کی روس کے ساتھ جنگ سے پہلے جاپان اور چین کے درمیان کوریا پراپنا اثرو رسوخ اور اقتدار قائم کرنے کے لئے ایک طویل جنگ (1894ء – 1895ء) ہوئی۔ اس جنگ کو Japanese War Sino کہا جاتا ہے۔ 9 ماہ کی اس طویل جنگ کے بعد جاپان نے کوریا پہ قبضہ کر لیا اور چین کے بعض علاقوں کو بھی اپنے قبضہ میں لے لیا۔بالآخر شکست خوردہ چین کو جاپان کے ساتھ بلا شرائط جنگ بندی کے لئے معاہدہ کرنا پڑا۔جس میں اسے اپنےبعض علاقے بھی چھوڑنے پڑے۔ روس نے خطہ میں جاپان کے اس بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ کے خدشہ سے مداخلت کی۔ روس،فرانس اور جرمنی کی دھمکی کےپیش نظرجاپان نےان طاقتوں کے سامنے بے بس خیال کرتےہوئےجنگ کے دوران قبضہ کئے ہوئے چین کے علاقے اسےواپس کر دیئے۔جاپان کے اس اقدام سے مسئلہ حل نہ ہوا بلکہ تناؤ اور کشیدگی مزید بڑھ گئی جب روس نے انہی علاقوں کو اپنے قبضہ میں لے لیا جو جاپان سے خالی کروائے گئے تھے۔ دراصل روس کو اپنے تجارتی اور جنگی مقاصد کے پھیلاؤ کے لئے بحر اوقیانوس میں گرم پانیوں تک رسائی حاصل کرنے کی ضرورت تھی۔ روس کی بندر گاہ Vladivostok موسم سرما میں بند ہوجاتی تھی۔ اس کی اس مقصد کے لئے چین میں پورٹ آرتھر (Port Arthur) پر نظر تھی جسے آج کل Lushun Port کہا جاتا ہے۔روس نے 1896ء میں چین سے بندرگاہ آرتھرکو لیز (Lease) پر لیکر بعد میں اپنے قبضہ میں لے لیا اور دوسری مغربی طاقتوں کے بل بوتے پہ ان علاقوں کو اپنے تسلط میں لے لیا جو جاپان نے چین کے ساتھ جنگ میں قبضہ کئے تھے۔ روس نے چین کے مشرقی ساحل کو بھی ریل کے نظام سے منسلک کر کے جاپان کی سالمیت کو خطرہ سے دوچار کر دیا۔ جاپان نے اس پہ احتجاج کیا۔روس اور جاپان کے درمیان مذاکرات ہوئے۔ابتداء میں روس کی جنگی جارحیت کی تاریخ کو مد نظر رکھتے ہوئے جاپان نے روس کو یہ پیشکش کی کہ وہ شمال مشرقی چین کے علاقہ منچوریا پر روس کا تسلط تسلیم کرلے گا اوراس کے بدلے جزیرہ نما کوریا پہ جاپان کا اثرورسوخ تسلیم کیا جائے۔ لیکن روس نے جاپان کی اس پیشکش کو رد کر دیا اور اس طرح روس اور جاپان کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے۔ جاپان نے روس کے ایشیا میں جنگی عزائم کا ادراک کرکے جنگ کی ٹھان لی۔ اس وقت زار روس نکولس ثانی کا اقتدار تھا۔ باوجود اس کے دونوں کے درمیان مذکرات ناکام ہو چکے تھے۔نکولس کو اس کے مشیروں نے یہ بتایا کہ جاپانی فوج روس کی ملٹری کو چیلنج نہیں کرے گی۔غالباً اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ جاپان کو کمزور حریف خیال کر رہے تھے۔ 8؍فروری 1904ء کو اپنی سالمیت پہ خطرہ کو بھانپتے ہوئے چین میں روس کی نیول بیس پورٹ آرتھر پہ جاپانی نیوی نے اچانک حملہ کر دیا۔مارچ 1904ء میں جاپان نے کوریا کے ساتھ ایک معاہدہ کے ذریعے اپنی فوج داخل کرکے کوریا پر اپنا کنٹرول حاصل کر لیا۔ جنوری 1905ء میں ایک لمبے محاصرہ اور متواتر جاپانی نیوی کے حملوں کےروس کو پورٹ آرتھر کو جاپان کی تحویل میں دینا پڑا۔ 20؍فروری تا 10؍مارچ 1905ء میں روس اور جاپان کے درمیان آخری زمینی جنگ Mukden کے مقام پہ لڑی گئی جسے آج کل Shenyang کہا جاتا ہے جو کہ چین کے صوبہ لیاؤننگ میں واقع ہے۔یہ لڑائی جنگ عظیم اول سے پہلے سب سے بڑی لڑائی تھی جس میں تقریباً نصف ملین لوگ جنگ میں شامل ہوئے۔روس کی فوج 3 لاکھ تیس ہزار تھی اور دوسری طرف جاپانی فوج کی تعداد2 لاکھ ستر ہزار تھی۔ شدت کی اس لڑائی میں 89 ہزار روسی 71 ہزار جاپانی مارے گئے۔بالآخر روس کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ 27؍مئی 1905ءکو شروع ہونے والاآخری فیصلہ کن معرکہ آبنائے سوشیما (tsushima strait) پر تھا جس میں روس کےمایہ ناز بحری بیڑہ جسے بحیرہ بالٹک میں تیار کیا گیا تھا اور آدھی دنیا کا سفر طے کرنے کے بعد میدان جنگ میں پہنچا تھا اسےتباہ کر دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں روسی بحری قوت کی کمر ٹوٹ گئی۔ دو دن کی اس مختصر جنگ میں روس کے دو تہائی جنگی بحری جہاز پانی میں غرق کر دئے گئے اور متعدد جہازجاپانی فوج نے اپنی تحویل میں لے لئے۔ اس ڈرامائی اور فیصلہ کن معرکہ کے بعد روس کو گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ 5؍ستمبر 1905ء میں معاہدہ صلح مرتب کیا گیاجس کے مطابق کوریا اور دیگر جزائر پہ جاپان کے اقتدار کو تسلیم کیا گیا اور پورٹ آرتھر اور دوسرے علاقے روس کے ہاتھ سے جاتے رہے۔ جاپان کی اس زبردست فتح نےدنیا کو ورطہء حیرت میں ڈال دیا۔حضرت مسیح موعودؑ کی پیشگوئی حرف بحرف پوری ہوئی۔ ’’مشرقی طاقت‘‘ کے الہامی الفاظ کے مطابق دنیا کے انتہائی مشرق میں واقع ملک جاپان اس جنگ کے نتیجہ میں دنیا کے نقشہ پہ عظیم مشرقی طاقت کے طور پہ ابھرا اوراس جنگ نے ایشیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔نہ صرف کوریا میں بلکہ دیگر ایشیائی علاقوںمیں جاپان کا اثر و نفوذ غیر معمولی طور پہ بڑھنے لگا۔ اس جنگ نے روس پہ بڑے گہرے اثرات چھوڑے۔ 1905ء میں انقلاب روس برپا ہوا اور بالآخر 1917ء میں زار روس کی حالت زار کا نظارہ بھی دنیا نے دیکھا۔ان انقلابات کے ذریعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک اور پیشگوئی بڑی شان کے ساتھ پوری ہوئی۔ ’’زار بھی ہو گاتو ہوگا اس گھڑی باحال زار۔‘‘

جاپان کے نوآبادیاتی نظام کے زیر تسلط
کوریا کی نازک حالت

روس کے ساتھ جنگ میں جاپان نے فتح کےچند سال بعد 1910ء میں جزیرہ نماکوریاکامکمل کنٹرول اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور اپنے ساتھ زبردستی الحاق کرکےکوریا کی آزادی مکمل طور پر سلب کرلی اوراس کے ساتھ ہی کوریا کےرہنے والوں کےلئے مصائب و مشکلات اور ظلم و جبر کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیش خبری کے مطابق ’’کوریا کی نازک حالت‘‘ اپنی پوری شان کے ساتھ حرف بحرف پوری ہوئی۔جاپان کے کوریا میں قبضہ کے دوران کورین قوم پرظلم وستم کے پہاڑ توڑےگئے اور کئی دہائیوں تک ظلم کا بازار گرم رہا۔ اس طرح کے ظلم کی مثالیں تاریخ عا لم میں کم ہی یکھنے میں ملتی ہیں۔اس دور میں کوریا کے رہنے والوں پر ان کی اپنی زمین تنگ کر دی گئی اور ایسی عبرت ناک سزائیں دی گئیں جس کے تصور سے بدن کانپ اٹھتا ہے۔یہ کوریا کی نازک و ابتر حالت کا سیاہ ترین دور تھا۔

جاپان کے کوریا پر قبضہ کے دوران1912ء میں جاپان نے کوریا کی زرعی اراضی اپنے شہریوں کی ملکیت میں دینے کے لئے قوانین بنائے اور بڑے پیمانہ پر جاپانیوں کو کوریا میں آباد کرنے کے لئےایک پروگرام تشکیل دیا۔ان قوانین کی آڑ میں بہت سے کورین کو ان کی اپنی اراضی سے بے دخل کرکےسستے داموں جاپانیوں کو فروخت کیا گیا۔اس طرح زرعی اراضی ہتھیا کر نہ صرف کورین کسانوں کو ان کے حقوق سے محروم کیا گیا بلکہ جبری مشقت لے کر جاپان کے نو آبادیاتی نظام کو فائدہ پہنچایا گیا اور کورین کسان بیچارے بھوک اور فاقوں سےمرتے رہے۔جاپان نےکوریا کے قدرتی وسائل اپنے قبضہ میں لے کر لاکھوں ایکڑ پرپھیلے وسیع جنگلات جاپانی لمبرنگ کومپنیز کے سپردکئے جنہوں نے جنگلات کاٹ کر تباہ کر دیئے۔ ماہی گیری کی انڈسٹری جاپانی شہریوں کے کنٹرول میں تھما دی گئی اور لاکھوں کورین جن کی زندگی کا انحصار اس پر تھااپنے حق سے محروم کر دیئے گئے۔ کورین لیبر (Labour) کو اپنے ذاتی مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہوئےلاکھوں کی تعدادمیں کورین مزدوروں سے بلا معاوضہ جاپان کی فیکٹریوں میں جبری مشقت لی گئی۔جاپان نےاپنے مفاد کی خاطر کوریابھر میں مواصلات اورنقل وحمل کا نیا نیٹ ورک بناکر ایک نیا مانیٹری اور مالیاتی نظام قائم کردیا۔جاپانی کامرس کو پروموٹ کیا اور ناانصافی سے کام لیتے ہوئےکورین کو اس مالیاتی نظام سےبالکل دور رکھا اوراس پر صرف اپنی اجارہ داری قائم کی۔کوریا پر جاپان کے قبضے دوران کوریائی نوجوانوں کو زبردستی فوج میں بھرتی کرکےدوسری عالمی جنگ میں ایشیا کی کالونیز میں اگلے محاذ پر لڑنے کےلئےبجھوایا جاتا رہا۔اس طرح کورین کی بڑی تعداد محاذ جنگ پر ماری گئی اورکوریا کی اپنی فوج بھی ختم کر دی گئی۔ جاپان کے سامراجی نظام نے کورین ثقافت و کلچر پر بھی حملہ کیا۔کورین ثقافت کوختم کرنے کے لئے سکولز، یونیورسٹیوں اور پبلک مقامات پر کورین زبان بولنے اور پڑھانے پر پابندی عائد کر دی گئی اورسکولوں کی تعداد کو کم کر دیا گیا۔کورین تاریخ پر مشتمل لاکھوں کی تعداد میں ڈاکومنٹس اور کاغذات کو نذر آتش کر دیا گیااور کتابوں پرپابندی عائد کردی گئی تاکہ کورین لوگوں کے ذہنوں سے کوریا کی تاریخ کو محو کر دیا جائے۔اس کے متبادل کوریا میں جاپانی ثقافت و زبان کو رائج کر دیا گیا اورکورین باشندوں کو اپنی زبان ترک کرکے جاپانی زبان بولنے اور پڑھنے کے لئے مجبور کیا گیا۔ جاپان نے مذہبی رسومات کو ادا کرنے کے لئے کوریا بھر میں شنٹو خانقاہیں تعمیر کروائیں جہاں کورین لوگوں کو پوجا کے لئے مجبور کیا جاتا اوربہت سے کورین نے ڈر اورخوف سے شنٹو کی مذہبی رسومات کو اختیار کر لیا۔ جا پانی سامراج نے کورین قوم کی پہچان اور شناخت یکسر مٹانے کےلئے ایک اور بھرپور وار یہ کیا کہ کورین زبان میں رکھے گئے ناموں کو برقرار رکھنے کا اختیار بھی کورین قوم سےچھیننےکی کوشش کی اور نام تبدیل کرنے کے لئے دباؤ ڈالا۔اس طرح کورین باشندوں کی بڑی تعداد کو جاپانی زبان میں نام رکھنے پڑے اور نام تبدیل نہ کرنے والوں کو امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جاتا۔جاپان کے کوریا پر تسلط کے دوران جاپانی فوج کےکوریائی عورتوں سےجنسی جنگی جرائم کی داستان الگ ہے۔گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ معاملہ جاپان اور کوریا کے تعلقات میں رخنہ کا باعث بنتا چلا آرہا ہے۔آخرکا جب کورین قوم نے ان مظالم سے تنگ آکرجاپان کے آبادیاتی نظام کے خلاف آواز بلند کرنے کی کوشش کی تو ان پر ان کی زمین مزید تنگ کر دی گئی۔ ان کو مارا گیا اور جیلوں میں بند کرکے سخت سزائیں دی گئیں۔جاپان کے کوریا پرقبضے کے دوران کورین قوم پرظلم کی اندوہناک تاریخ رقم کی گئی۔

کوریا میں جاپان کے نو آبادتی دور کے ظلم وستم کی علامت کوریا میں جاپانی جیل کاوزٹ

یکم مارچ 1919ء میں کورین راہنماؤں نےجاپانی نوآبادیاتی نظام سے آزادی حاصل کرنے کے لئے احتجاجی مظاہروں کا آغاز کیا جس پر بہت سے لوگ احتجاج کے لئے سڑکوں پر باہر نکلے۔ آزادی کی یہ تحریک سیئول سے شروع ہوئی اور کوریا کے طول وعرض میں پھیل گئی۔ دو ملین لوگوں نے اس تحریک میں حصہ لیا۔ یہ مارچ فرسٹ موومنٹ کے طور پر مشہور ہے۔ اس احتجاج سےآہنی ہاتھوں سے نپٹا گیا اور بہت سے کورین باشندوں کوقتل کر دیا گیا۔ ایک بڑی تعداد کو جیل کی سلا خوں کے پیچھے بند کر کے عبرت ناک سزائیں دی گئیں۔

یہ جیل ’’سادے من‘‘ (seodaemun) آزادی پارک میں واقع ہے۔اس جیل کی تعمیر کا آغاز 1907ء کے اوائل میں ہوااور اکتوبر 1908ء میں اسے اوپن کیا گیا۔ اس جیل کمپلیکس کی اصل پندرہ عمارتوں میں سے سات تاریخی عمارات کو بطور یاگادر محفوظ کیا گیا ہے۔ کوریا کی آزادی کے بعد اس جیل کو مختلف نام دئیے گئے۔ 1987ء تک بطور جیل کےہی اس کا استعمال ہوتا رہا لیکن 1992ء میں اس جیل کو جاپان کے نوآبادیاتی دور میں بےمثال قربانی کرنے والوں اوراپنی جان کا نذرانہ پیش کی یاد میں میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا۔اس میوزیم کو Seodaemun Prison Histroy Hall کے نام سے موسوم کیاگیا ہے۔اس جیل کے وزٹ سے جاپان کے کوریا پر قبضے کے دوران اس دور کی ہولناکیوں کا تجربہ اور احساس کیا جا سکتا ہے۔ اس جیل کی عمارت میں قدم رکھتے ہی اس کے درو دیوار کورین قوم پر ظلم وجبر کی ایک المناک داستان بیان کرتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ اس جیل کے ’’عارضی حراستی کمرہ‘‘ اور ’’ٹارچر روم‘‘ میں تخلیق کردہ تشدد کے مناظر خوفناک حد تک حقیقت پسندانہ ہیں۔ جاپان کے نوآبادیاتی دور میں کورین قیدیوں پرکئےگئے ان تخلیق کردہ مظالم کے مناظر کو دیکھ کر دل خوف سے لرز جاتاہے۔اس جیل کے واچ ٹاورز، ٹارچر سیل، پھانسی گھاٹ،اور تہہ خانہ میں موجود عقوبت خانے قیدیوں کی لاشوں کو ٹھکانے لگانے کے لئے خفیہ راستہ آج بھی اپنی اصلی حالت میں موجود ہیں جن کےدرو دیوار کوریا کی اس دور کی نازک حالت بیان کر رہے ہیں۔اس جیل میں موجودتاریک اور تنگ کمرے ہیں جہاں کورین لوگوں کو قید کرکے تنگ دیواروں کے درمیان رکھا جاتا تاکہ وہ نہ تو بیٹھ سکیں اور نہ ہی ٹھیک سے کھڑے ہو سکیں۔ایک چھوٹے سے ’’کانٹے دار ڈبہ یا باکس‘‘ میں بھی بعض قیدیوں کو بند کیا جاتا۔اس باکس کے اندر کی طرف بھالے لگے ہوتے اور مزید اذیت دینے کےلئےاسے زور سے ہلایا جاتاجس سے قیدی کا جسم زخموں سے چھلنی ہو جاتا۔اگست 2015ء میں اس جیل وزٹ کے دوران، جاپان کے سابق وزیر اعظم ہاتویاما(Hatoyama) نے دوسری جنگ عظیم میں جاپان کے کوریا پہ قبضے کےدوران مارے گئے شہداء کی یادگارکے سامنے احتراماً جھک کر کوریائی آزادی کے جانثاروں کو خراج عقیدت پیش کیا اور جاپانی جیلوں میں تشدد کی وجہ سے ہونے والی متعدد کورین لوگوں کی موت پر معافی مانگی۔اس سے قبل جاپانی وزیر اعظم ناؤتوکان نےکوریا پر جاپانی قبضہ کے دوران ہونے والی زیادتیوں،نقصانات کےلئے متاثرین سے معافی مانگی۔ جاپان کوریا سے متعدد بار کوریا پر اپنے تسلط کے دوران اپنے غلط اقدامات پرمعافی مانگ چکا ہے۔ کوریا 35سال تک جاپان کے زیر تسلط رہا۔ 1945ء میں جاپان کی جنگ عظیم دوم میں شکست کے بعد تسلط ختم ہوا۔لیکن اس درد ناک دور کی تلخ یادیں آج بھی دونوں ملکوں کےتعلقات میں رخنہ اور تنازع کا باعث بنی ہیں۔کوریا کی تاریخ کا ایک اور سیاہ ترین باب اسکی آزادی کےمعاً بعد شروع ہوا۔ جنگ عظیم دوم کے بعد جزیرہ نما کوریا آزاد ہوا تو یہ دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا۔ ایک جنوبی کوریا اور ایک شمالی کوریا کے نام سے دوالگ ملک وجود میں آئے۔ایک بار پھر کوریا اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سےگزرا جب کوریا کے راہنماؤں نے کوریا کو متحد کرنے کی کوشش کی لیکن بڑی طاقتوں کی وجہ سے متحدہ کوریا کی تشکیل نہ ہو پائی اوردونوں کوریا ئی ملکوں کے درمیان خون ریز جنگ ہوئی۔اس جنگ میں کئی ملین لوگ مارے گئے۔املاک اور صنعت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ سرحد کے آر پارلاکھوں خاندان تقسیم ہو کر رہ گئے۔تین سال کی اس خون ریز جنگ کے بعد جزیرہ نما کوریا دو مستقل ریاستوں میں تقسیم ہو گیا آج تک اس ہولناک جنگ کی یادیں کوریا کے باشندوں کے دلوں میں پیوست ہیں۔

روس اور جاپان معرکہ پرمؤرخین کی آراء اور تجزیے

بیسویں صدی کے اوائل میں لڑی جانے والی روس جاپان میں جاپان کی فتح نے بین الاقوامی مبصرین کو ششدر کر دیا۔ اس جنگ کے نتائج نے مشرقی ایشیا میں طاقت کے توازن کو بدل دیا اورجاپان عالمی منظر نامے پر ایک زبردست مشرقی طاقت بن کر نمودار ہوا۔ جاپان نے مشرقی ایشیا میں اپنا اثرو رسوخ میں خاصہ اضافہ کر لیا۔اس مذکورہ جنگ میں روس کی شکست سےانقلاب روس برپا ہوا اور سلطنت روس اندرونی طور پر خلفشار کا شکار ہوئی اور آخرکار 1917ء کے خونی انقلاب نےروسی سلطنت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔ بہت سے سیاسی مدبرین اور تجزیہ نگاروں نےروس جاپان جنگ پر اپنے خیالات کا اظہارکیاہے اور اس جنگ کے نتائج پر بحث کی ہے۔

پروفیسرجان ڈبلیو لکھتے ہیں:

The Russo-Japanese War was the first global conflict of the modern era and the first war in which an emerging Asian nation defeated a European great power.

(The Russo-Japanese War in Global Perspective Edited by John W. Steinberg)

روس اور جاپان کے مابین جنگ موجودہ زمانہ کا پہلا عالمی تنازعہ تھا اور پہلی جنگ تھی جس میں ایک ابھرتی ہوئی ایشیائی طاقت نے یورپ کی ایک عظیم طاقت کو شکست دیدی۔

ولیم ودڈرف اپنی کتاب‘‘جدید دنیا کی مختصر تاریخ’’ میں لکھتے ہیں کہ:

In 1905 Russia was defeated by Japan on land and sea. Japan’s victory signaled the beginning of the end of western hegemony in the Orient. Russia’s defeat in eastern Asia was so humiliating that it gave rise to the Russian revolution of 1905.

(A Concise History OF Modern World by William Woodruff page 108)

1905ء میں جاپان نے روس کو سمندر اور خشکی دونوں جگہ پر مات دی۔ جاپان کی فتح نےمشرق میں مغرب کی بالا دستی کے اختتام کا اشارہ دے دیا۔ مشرقی ایشیا میں روس کی شکست اتنی شرمناک تھی کہ اس نے 1905ء کے روسی انقلاب کو ابھار دیا۔

جورج پیٹرک روس کے متعلق اپنی کتاب میں اس جنگ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ:

This was the first time in history that an Asian nation had defeated a major European power. This was important because at the end of the war the treaty forced Russia to leave Korea and Japan got land from Russia. This was their first time influencing Korea and expanding into the rest of Asia.

(Eastern Destiny Russia in Asia and the North Pacific by G.PatrickMarch)

تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ اس جنگ میں ایک ایشیائی قوم نے ایک یورپ کی بڑی طاقت کو شکست سے دوچارکیا۔جنگ کےخاتمہ پر جاپان نے روس سے کئےگئے معاہدہ کےذریعہ روس کو کوریا سےنکلنے پہ مجبور کیااور کوریا پہ اپنا تسلط قائم کیا۔یہ پہلی مرتبہ تھا کہ جاپان کوکوریا میں اپنا اثرو رسوخ استعمال کرنے کا موقع ملاا ور دیگر ایشیائی علاقوں میں اس کا اثرونفوذ بڑھنے لگا۔

روس اور جاپان کے معرکہ میں جاپان کی فتح اور عالمی نقشے پرابھرنے کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسر روتم اپنی کتاب کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں:

The Russo-Japanese War, which occurred a century ago pitted on of the major Western powers against an emerging but amazingly dynamic nation in Asia. It affected the balance of Power in Europe, causing shifts that were played out over the next several decades….. The Russo–Japanese War was indisputably the biggest and most significant conflict in the first decade of the 20th century. The object of the war was control of northeast Asia in general and Korea in particular, areas not then deemed of great importance, but the war’s implications resounded across the world.. . Japan’s unexpected victory changed the course of modern history in a moment.. Finally, many nations viewed the Russo-Japanese War as the first evidence in the modern age that an Asian nation, which just a few decades earlier had begun the process of modernization, was able to overcome a European nation by force of arms alone.

(Historical Dictionary of the Russo-Japanese War by Rotem Kowner page xi .xiv)

روس اور جاپان کے درمیان جنگ ایک صدی قبل ہوئی جو بڑی مغربی طاقتوں اورایشیا میں ایک ابھرتی ہوئی حیرت انگیز طور پرمتحرک قوم کےخلاف لڑی گئی۔اس جنگ نے یورپ میں طاقت کے توازن کو متاثر کیا جوآئندہ کئی دہائیوں تک ظہور پذیر ہونے والی تبدیلیوں کاباعث بنا۔۔۔روس اورجاپان کے درمیان جنگ بلاشبہ 20ویں صدی کی پہلی دہائی میں سب سے بڑا اور اہم ترین تنازعہ تھا۔ اس جنگ کا مقصد عمومی طور پر شمال مشرقی ایشیا اور خاص طور پر کوریا پرکنٹرول حاصل کرنا تھا، ایسےعلاقےجنہیں تب زیادہ اہمیت کے حامل نہ سمجھا گیا، لیکن جنگ کے مضمرات پوری دنیا میں گونج اٹھے۔ جاپان کی غیر متوقع فتح نے ایک لمحے میں جدید تاریخ کا دھارا بدل کر رکھ دیا ..بالآخر دنیا کی بہت سی اقوام نے روس جاپان جنگ کو عصر حاضر میں پہلے ثبوت کے طور پر دیکھا کہ ایک ایشیائی قوم جس نے ابھی چند دہائیاں قبل پہلے موڈرنائزیشن کا آغاز کیا تھا، اکیلے ہتھیاروں کے زور پر ایک یورپی قوم پر فتح پانے کے قابل ہوئی۔

انسائیکلوپیڈیا آف برٹینیکا نے لکھا کہ:

Japan won a convincing victory over Russia, becoming the first Asian power in modern times to defeat a European power.

(Encyclopaedia Britannica under word Russo-Japanese War)

جاپان روس کے خلاف شاندار فتح حاصل کرتے ہوئے جدید دور میں ایک یورپی طاقت کو شکست دینے والی پہلی ایشیائی طاقت بن گیا۔

1894ء میں چین اور جاپان کی جنگ کے اختتام پر چین کے جن علاقوں پہ قبضہ کیا تھا روس، فرانس اورجرمنی کی مداخلت پر جاپان کوآرتھر پورٹ اورجزیرہ لیاؤتنگ سے دستبردار ہونا پڑا تھا۔ تاریخ کے پروفیسر پال کینڈی اپنی کتاب ’’عظیم طاقتوں کے عروج و زوال‘‘ میں اس تناظر میں روس اور جاپان کے مابین جنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:

It’s time for revenge came ten years later, when its Korean and Manchurian ambitions clashed with those of czarists Russia. While naval experts were impressed by Admiral Togo’s fleet when it destroyed the Russian ships at the decisive battle of Tsushima, it was the general bearing of Japanese society which struck other observers …Japan was not a full-fledged Great Power …. its status as a great power admitted by all. Japan had come of age.

(The rise and fall of great powers by Pal Kennedy page209)

دس سال بعدجاپان کو بدلہ لینے کا موقع اس وقت مل گیا جب کوریا اور منچوریا سے وابستہ اس کے مفادات زار روس کے مفادات سے متصادم ہوئے۔چنانچہ جب جاپان کے ایڈمیرل ٹوگو کے بحری بیڑے نے سوشیما کے مقام پہ فیصلہ کن جنگ کے وقت روسی جہازوں کو تباہ کر دیا اس سے دیگر ملکوں کے بحریہ کے ماہرین خاصے متاثر ہوئے لیکن جاپانی معاشرے نے دیگر مبصرین کوبھی اپنے کارناموں سے حیرت میں ڈال دیا۔۔۔جاپان کو بڑی طاقت کا درجہ حاصل نہ تھا۔سب نے اسے بطور بڑی طاقت کے تسلیم کر لیا۔ غرض جاپان اس عہد پر چھا گیا۔

ڈیوڈ جے ڈیلن اپنی کتاب میں روس اور جاپان کی جنگ کا تجزیہ پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:

The war against Japan was from the first a series of unprecedented defeats for the Russian Army and Navy. The military debacle brought catastrophe to the international political system as well, and by the end of war the centuries-old Russian monarchy was shaken to its roots. The peace of Portsmouth, which brought to an end the eighteen months’ war, reduced Russia’s position in the Fareast as well as her prestige in Europe….No other war had engendered among the Russian people so strong a defeatist attitude as did that against Japan.

(The Rise of Russia in Asia by David J.Dallin page78- 80)

جاپان کے خلاف جنگ روسی فوج اور بحریہ کی بے مثال شکستوں کا پہلا سلسلہ تھا۔ فوجی شکست نے بین الاقوامی سیاسی نظام میں بھی تباہی مچا دی اور جنگ کے اختتام پر صدیوں پرانی روسی بادشاہت اپنی جڑوں تک ہل گئی۔ پورٹسمتھ کا امن معاہدہ، جس نے اٹھارہ ماہ کی جنگ کا خاتمہ کیا، مشرق بعید میں میں روس کی پوزیشن کو نہ صرف کم کیا بلکہ یورپ میں اس کے وقار کو بھی کم کر دیا۔ روسی عوام کے درمیان کسی اور جنگ نے اتنے مضبوط شکست خوردہ رویے کو جنم نہیں دیاجتنا کہ جاپان کے خلاف جنگ نے پیدا کیا۔

(محمد داؤد ظفر)

پچھلا پڑھیں

خادم ترے اہلِ زمیں تُو عبدِ شاہِ آسماں

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 28 جنوری 2023