• 25 جون, 2024

دعا کی قبولیت

دعا کی قبولیت کے لئے نیکیوں میں
روز ترقی کرنا ضروری ہے

پھر دعاؤں کی قبولیت کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ انسان ہر روز نیکیوں میں ترقی کرے۔ جیسا کہ پہلے بھی بتایا۔ آپ نے فرمایا ہے کہ ایک جگہ کھڑے نہیں ہونا چاہئے بلکہ چلتے پانی کی طرح ہر روز مستقل انسان کو آگے بڑھتے چلے جانا چاہئے۔ آپ مزید فرماتے ہیں کہ:

’’خدا تعالیٰ کی نصرت اُنہیں کے شامل حال ہوتی ہے جو ہمیشہ نیکی میں آگے ہی آگے قدم رکھتے ہیں۔ ایک جگہ نہیں ٹھہر جاتے اور وہی ہیں جن کا انجام بخیر ہوتا ہے۔ بعض لوگوں کو ہم نے دیکھا ہے کہ ان میں بڑا شوق ذوق اور شدّتِ رقّت ہوتی ہے مگر آگے چل کر بالکل ٹھہر جاتے ہیں اور آخر ان کا انجام بخیر نہیں ہوتا‘‘۔ آپ فرماتے ہیں کہ ’’اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں یہ دعا سکھلائی ہے کہ اَصۡلِحۡ لِیۡ فِیۡ ذُرِّیَّتِیۡ (الاحقاف:16)۔ میرے بیوی بچوں کی بھی اصلاح فرما۔ اپنی حالت کی پاک تبدیلی اور دعاؤں کے ساتھ ساتھ اپنی اولاد اور بیوی کے واسطے بھی دعا کرتے رہنا چاہئے کیونکہ اکثر فتنے اولاد کی وجہ سے انسان پر پڑ جاتے ہیں اور اکثر بیوی کی وجہ سے۔‘‘ (اولاد کی وجہ سے بھی اور بیوی کی وجہ سے بھی۔) فرمایا کہ’’دیکھو !پہلا فتنہ حضرت آدم پر بھی عورت ہی کی وجہ سے آیا تھا۔ حضرت موسیٰؑ کے مقابلے میں بلعم کا ایمان جو حبط کیا گیا اصل میں اس کی وجہ بھی توریت سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ بلعم کی عورت کو اس بادشاہ نے بعض زیورات دکھا کر طمع دے دیا تھا اور پھر عورت نے بلعم کو حضرت موسیٰ پر بددعا کرنے کے واسطے اُکسایا تھا‘‘۔ آپ فرماتے ہیں ’’غرض ان کی وجہ سے بھی اکثر انسان پر مصائب شدائد آ جایا کرتے ہیں‘‘۔ (یعنی اولاد اور بیوی کی وجہ سے) فرمایا کہ’’تو ان کی اصلاح کی طرف بھی پوری توجہ کرنی چاہئے اور ان کے واسطے بھی دعائیں کرتے رہنا چاہئے۔‘‘

(ملفوظات جلد 10صفحہ 138-139 ایڈیشن 1985ء )

پس صرف دعاؤں کی طرف توجہ کرنے اور نیکیوں میں بڑھنے کے لئے ایک مومن کو اپنی ذات تک ہی محدودنہیں رہنا چاہئے بلکہ اگلی نسل میں بھی نیکیوں کو اختیار کرنے کی طرف جہاں کوشش کرنی چاہئے، انہیں توجہ دلانی چاہئے وہاں ان کے لئے دعا بھی کرنے کی ضرورت ہے تا کہ ان میں بھی نیکیوں میں آگے بڑھتے چلے جانے کی روح پیدا ہو۔

ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ:
’’ایک شخص جو اولیاء اللہ میں سے تھے ان کا ذکر ہے کہ وہ جہاز میں سوار تھے۔ سمندر میں طوفان آ گیا۔ قریب تھا کہ جہاز غرق ہو جاتا۔ اس کی دعا سے بچا لیا گیا۔‘‘ (یعنی اس بزرگ کی وجہ سے) ’’اور دعا کے وقت اس کو الہام ہوا کہ تیری خاطر ہم نے سب کو بچا لیا‘‘۔ فرمایا کہ’’مگر یہ باتیں نرا زبانی جمع خرچ کرنے سے حاصل نہیں ہوتیں۔‘‘ ان کے لئے تو بڑی محنت کرنا پڑتی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ ’’ہماری طرف سے تو یہی نصیحت ہے کہ اپنے آپ کو عمدہ اور نیک نمونہ بنانے کی کوشش میں لگے رہو۔ جب تک فرشتوں کی سی زندگی نہ بن جاوے تب تک کیسے کہا جا سکتا ہے کہ کوئی پاک ہو گیا۔ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ۔‘‘

(ملفوظات جلد 10صفحہ 138 ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

یعنی وہی کرتے ہیں جو حکم دیئے جاتے ہیں۔ یعنی اپنی عملی حالتوں کو ایسے بناؤ جیسے تم کو حکم دیا جاتا ہے۔

(خطبہ جمعہ 29؍ دسمبر 2017ء بحوالہ الاسلام ویب سائٹ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 27 فروری 2023

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالی