• 6 مئی, 2021

دعا کی فلاسفی

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک موقع پر دعا کی فلاسفی بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ:
’’ایک بچہ جب بھوک سے بیتاب ہو کر دودھ کے لئے چلّاتا اور چیختا ہے تو ماں کے پستان میں دودھ جوش مار کر آ جاتا ہے۔ بچہ دعا کا نام بھی نہیں جانتا لیکن اُس کی چیخیں دودھ کو کیونکر کھینچ لاتی ہیں؟‘‘۔ فرمایا کہ ’’بعض اوقات دیکھا گیا ہے کہ مائیں دودھ کو محسوس بھی نہیں کرتیں مگر بچہ کی چلّاہٹ ہے کہ دودھ کو کھینچے لاتی ہے‘‘۔ آپ فرماتے ہیں ’’تو کیا ہماری چیخیں جب اللہ تعالیٰ کے حضور ہوں تو وہ کچھ بھی نہیں کھینچ کر لا سکتیں؟ آتا ہے اور سب کچھ آتا ہے۔ مگر آنکھوں کے اندھے جو فاضل اور فلاسفر بنے بیٹھے ہیں وہ دیکھ نہیں سکتے‘‘۔ آپ نے فرمایا کہ ’’بچے کو جو مناسبت ماں سے ہے اس تعلق اور رشتے کو انسان اپنے ذہن میں رکھ کر اگر دعا کی فلاسفی پر غور کرے تو وہ بہت آسان اور سہل معلوم ہوتی ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد اوّل صفحہ129۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

اللہ تعالیٰ کا ہم احمدیوں پر بڑا فضل ہے کہ ہمارے اکثر چھوٹے بڑے اس بات کو سمجھتے ہیں کہ اگر بیتاب ہو کر، گڑ گڑا کر عاجزی سے اللہ تعالیٰ کے حضور جھکا جائے اور اس سے دعا مانگی جائے تو اللہ تعالیٰ دعاؤں کو سنتا ہے۔ اور بعض دفعہ دعا کی قبولیت کے ایسے واقعات ہوتے ہیں جو غیروں کو بھی حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ بہت سے لوگ مجھے لکھتے ہیں کہ بعض دفعہ ایسی ناامیدی کی کیفیت ہو جاتی ہے اور کس طرح ہر طرف سے ناامید ہو جاتے ہیں اس وقت جب ہم اللہ تعالیٰ کے آگے جھکے تو اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا جو ہمارے ایمانوں میں مضبوطی کا باعث بنا۔ مَیں اس وقت بعض ایسے واقعات پیش کروں گا جو مختلف رپورٹس میں آتے ہیں۔ ناظر دعوت الی اللہ قادیان لکھتے ہیں کہ ضلع ہوشیار پور کے امیر نے بتایا کہ چند سال قبل ان کے گاؤں کھیڑا اچھروال میں بارش نہ ہونے کی وجہ سے گاؤں والے بہت پریشان تھے حتی کہ کنوئیں کا پانی بھی نچلی حد تک پہنچ گیا تھا۔ یہاں کی ہندو اکثریت نے وہاں کے معلم کو دعا کرنے کو کہا۔ مشرقی پنجاب میں معلم کو، مولوی کو ’میاں جی‘ کہتے ہیں۔ انہیں یقین تھا کہ احمدی معلم کو دعا کے لئے کہیں گے تو ضرور بارش ہو گی۔ بہرحال ہمارے معلم نے پہلے تو ان کو اسلامی دعا کے آداب بتائے اور اللہ تعالیٰ کی صفات بتائیں۔ پھر دعا کروائی۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کے اس معلّم کی دعا کو قبول فرمایا اور اپنے فضل سے دو تین گھنٹے کے اندر موسلادھار بارش برسا دی اور اپنے سمیع الدعا ہونے کا ثبوت دیا۔ اس واقعہ کا اللہ تعالیٰ کے فضل سے پورے گاؤں میں اچھا اثر ہوا اور گاؤں والوں نے برملا کہا کہ احمدیوں کی دعا کی وجہ سے بارش ہوئی۔

پھر اسی طرح جزائر فجی کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ طوالو فجی کے قریب ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے۔ اس کے دورے پر جانے سے قبل طوالو کے مبلغ نے بتایا کہ یہاں ایک عرصے سے بارش نہیں ہوئی اور پانی کا انحصار بارش پر ہی ہوتا ہے۔ چنانچہ دورہ پر جانے سے پہلے انہوں نے مجھے بھی دعا کے لئے خط لکھا کہ بارش کے لئے دعا کریں۔ کہتے ہیں جب ہم شام کو طوالو پہنچے تو وہاں کے لوگوں نے بہت زیادہ پریشانی کا ذکر کیا کہ اب پانی بالکل خشک ہو رہا ہے۔ یہ کہتے ہیں کہ مَیں نے اسی دن رات کو نماز عشاء پر اعلان کیا کہ ہم نماز کا جو آخری سجدہ پڑھیں گے اس میں بارش کے لئے بھی دعا کریں گے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرمائی اور رات کو اللہ تعالیٰ کی رحمت کی بارش ہوئی اور اس کے بعد تین چار دفعہ بارش ہوئی جبکہ محکمہ موسمیات کے مطابق ایک لمبے عرصے کے لئے خشک موسم کی پیشگوئی تھی۔ کہتے ہیں کہ اس کے بعد ہم جہاں بھی گئے لوگوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ آپ کے آنے پر یہاں بارش ہوئی ہے۔ چنانچہ کیتھولک چرچ کے بشپ اور فونا فوتی قبیلے کے ایک بڑے چیف نے بھی اس بات کا اظہار کیا کہ یہ محض خدا تعالیٰ کا فضل ہے اور جماعت اور آپ کے خلیفہ وقت کی دعائیں ہیں جو اس طرح غیر معمولی طور پر یہاں بارش ہوئی اور یہ بارش نہ صرف احمدیوں کے لئے ازدیاد ایمان کا باعث بنی بلکہ غیر از جماعت کے لئے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا ایک نشان بنی۔

بعض جگہ بارش کا ہونا خدا تعالیٰ کی تائید اور قبولیت کا نشان بن جاتا ہے تو بعض جگہ بارش کا رکنا دعا کی قبولیت کا نشان بن جاتا ہے۔ اور غیر، چاہے اسلام کو قبول کریں یا نہ کریں لیکن اس بات کا ضرور اعتراف کرتے ہیں کہ اسلام کا خدا دعاؤں کو سننے والا خدا ہے۔

(خطبہ جمعہ 26؍ جنوری 2018ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 27 اپریل 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 28 اپریل 2021