• 6 مئی, 2021

سیرا لیون ۔مبارک صد مبارک

2021ء وہ مبارک سال ہے جس میں تین ممالک کی جماعتہائے احمدیہ اپنے سو سال مکمل ہونے پر اپنا صد سالہ جشن ِ تشکر منا رہی ہیں وہ یہ ہیں۔ امریکہ ، سیرا لیون اور غانا۔

سیرا لیون، مغربی افریقہ میں بحر او قیا نوس کے کنارے واقع ہے۔ جس کی کل آ بادی سات ملین سے زائد ہے۔ حضرت الحاج مولانا عبد الرحیم نیّر ؓ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام 19 فروری 1921ء کو بحری سفر کے ذریعہ فری ٹاؤن تشریف لائے۔ آپ کا قیام یہاں صرف تین دن تھا جس میں آپ انمٹ نقوش چھوڑ گئے۔ آپ نے اِن تین دنوں میں کئی ایک مجمعوں میں محاسن اسلام پر لیکچر دئے۔ ان میں ایک مجمع 15 ہزا ر مسلمامانوں کےنمائندوں پر مشتمل تھا اور کچھ بیعتیں بھی ہوئیں۔ اور آپ 21 فروری 1921ء کو گولڈ کوسٹ (غانا) کو روانہ ہو گئے۔

ادارہ الفضل آن لائن لندن مکرم مولانا سعید الرحمٰن امیر و مشنری انچارج، تمام نیشنل ممبران عاملہ، مرکزی و مقامی مبلغین و معلمین کرام ، تمام جماعتی و ذیلی تنظیموں کے عہدیدان اور تمام احباب جماعت کو اس مبارک تاریخی موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامی الفاظ میں «مبارک صد مبارک «پیش کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس تاریخی موقع کو جماعت سیرا لیون اور عالمگیر جماعت کے لئے خیرو برکت اور تر قیات و فتوحات کا پیش خیمہ بنائے ۔آمین

گو سیر الیون میں حضرت مولانا نیّر ؓ کی آ مد سے قبل مکرم موسیٰ کے گابا قرآن کریم کے ایک پارے کے ترجمہ کی وجہ سے احمدیت قبول کر چکے تھے اور مرکز سے بھی رابطہ تھا ۔ حضرت مولانا نیّر ؓ کی سیرالیون آمد سے بر ا عظم افریقہ میں سیرا لیون کو یہ فخر حاصل ہے کہ مرکزی نمائندہ کسی جگہ سب سے پہلے پہنچا۔ ایک سرکردہ مسلمان لیڈر جناب احمد الہادی بیان کیا کرتے تھے کہ
’’نیّر صاحب کیا تھے ۔ ایک چلتا پھرتا جادو تھے ۔ ایک روز ہزاروں کے مجمع میں لگا تار5 گھنٹے کی تقریر کرتے رہے ۔ سامعین پر وجد کا عالم طاری تھا ۔ 5 گھنٹے کی تقریر سننے کے بعد بھی لوگوں کا اصرار رہا کہ تقریر جاری رکھیں ۔ جب قرآن کی تلاوت کرتے تو حاضر ین جھوم جھوم جاتے‘‘

(روح پرور یادیں از مولوی محمدصدیق امر تسری صفحہ23)

حضرت مولانا نیّرصاحب کے بعد مکرم الحاج حکیم فضل الرحمن غانا سے واپسی پر 1922ء میں تین ماہ کے لئے فری ٹاؤن رُ کے اور تبلیغ و تر بیت کے فرائض سر انجام دئے۔ لیکن پہلے با قاعدہ مبلغ مکرم الحاج مولانا نذیر احمد علی1937ء میں سیرالیون پہنچے اور مشن کا باقاعدہ اجراء عمل میں آیا ۔فری ٹاؤن میں 30 افراد کی جماعت قائم ہوئی۔ آپ کی ٹاؤن کے مختلف ہالز میں محاسن اسلام پر مشتمل تقاریر کا خوب چرچا ہوا۔ جس میں مُسلم کا نگرس کے ایک بہت بڑے اجتماع سے خطاب شامل ہے۔ اس کے پیش نظر جہاں سعید الفطرت روحیں جماعت میں داخل ہونے لگیں وہاں سنت الہٰی کے مطابق مخالفت کے سلسلہ کا بھی آغاز ہوا۔

مخالفت کا آغاز

مسلم کا نگرس کے اجتماع کے شاملین میں سے صدر اجلاس شیخ حید ر الدین نے کہا کہ اس مسیح (مرزا غلام احمد) کو ماننے سے بہتر ہے کہ میرا دماغ کام کرنا چھوڑ دے۔ عین ایک سال کے بعد یہ شخص دماغی عارضہ میں مبتلا ہوا اور اڑھائی سال میں کسمپرسی کے عالم میں اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔

( روح پرور یادیں صفحہ223)

مخالفت کے سلسلہ میں مزید تحریر ہے کہ وقت گزرنے اور جماعتی پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ احمدی مسلمانوں پر احمدیت قبول کرنے کے صلے میں جرمانے کئے گئے۔ قید کی صعو بتیں برداشت کیں ۔ نظر بند کیا گیا اور کئی قسم کی اذیتیں دی گئیں ۔ ٹو نکیا میں روزے دار احمدیوں کو دھوپ میں کھڑا کر دیا جاتا رہا ۔ کسی احمدی کو مسجد یا گھر میں نماز اداکرنے کی اجازت نہ تھی ۔ ایک افریقن احمدی معلم کو ننگا کر کے ساری رات ہاتھ پاؤں باندھ کر پاؤں میں چھ من کی بھاری لکڑی پھنسا دی گئی۔ باڈو چیف ڈم کے مانووا ٹاؤن میں پیرا ماؤنٹ چیف بہت سخت گیر تھا جس نے احمدی امام الفاہم سنوسی کو ننگا کر کے پاؤں میں بیڑیاں ڈال کر دو ہفتہ تک قید کر دیا ۔ چیف کینیما نے ڈسڑکٹ کمشنر کو درخواست دی جس میں یہ عہد کیا کہ میں احمدیوں کو اپنی ریاست سے نکال کر دم لوں گا ۔ چیف کے حکم پر احمدی امام کی ٹوپی کو اُتار کر ٹھڈے مارے گئے ۔ اس پر پیشاب کیا گیا۔

روح بلال کے حا مل ان مخلص احمدیوں نے حضرت بلال ؓ کے نقشِ قدم پر چل کر صعو بتیں بر داشت تو کر لیں مگر نہ متزلزل ہوئے اور نہ ذرا بھر ڈگمگائے ۔ اور اثبات قدم کے ساتھ نہ صرف آ گے بڑھتے رہے بلکہ اپنے عزیزو اقارب اور دوست احباب کو اپنے روحانی قافلے میں تبلیغ کے ذریعہ شامل کرتے چلے گئےاور اب اس قافلہ کی تعداد 5 لاکھ کے لگ بھگ ہے جو مکرم امیر صاحب کی زیر قیادت تیز قدموں کے ساتھ اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے ۔

مبلغین کی آ مد سے قبل خوابوں کے ذریعہ اطلاع

ایک طرف مخالفت ہو رہی تھی تو دوسری طرف ’’یَنْصُرُکَ رِجَالٌ نُّوْ حِیْۤ اِلَیْھِمْ مِنَ السَّمَآءِ‘‘ کے تحت اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں کی زمین حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے ہموار کر رہا تھا۔ رو کو پُر جماعت کے ابتدائی احمدی الفا احمدو کمارا نے 1936ء میں خواب میں دیکھا کہ دو سفید ریش شخص جن کے سروں پر عمامے ہیں۔ آ کر کہتے ہیں کہ ہم مشرق سے آ ئے ہیں اور جس مہدی کے آنے کا انتظار تھا اس کے بارے بشارت دینے آئے ہیں کہ وہ آ چکا ہے۔ تم ہمارا یہ پیغام اپنے گاؤں رو کو پُر والوں کو دے دو ۔ چنانچہ چند دنوں کے بعد مکرم الحاج مولانا نذیر احمد علی کی صورت میں یہ خواب پوری ہوئی جب آپ نے روکو پُر پہنچ کر پیغام پہنچایا۔

جنوبی صوبہ کے ٹاؤن

باوماہون کے ایک باشندے پاسانفا تولا نے خواب میں دیکھا کہ میں گاؤں کی مسجد کے ارد گرد گھاس کاٹ رہا ہوں اور تھک کر سستانے کے لئے ایک طرف کھڑا ہوا ہوں کہ ایک سفید رنگ کے ایک اجنبی دوست قرآن اور بائبل ہاتھ میں پکڑے میری طرف آرہے ہیں۔ انہوں نے قریب آ کر مسجد کے امام کےبارےمیں دریافت کیا۔ میں بلانے چلا گیا۔ تو واپسی پر مسجد میں ایک سایہ دار کھڑکی تیار ہے اور اجنبی شخص محراب میں کھڑا ہو کر ہمیں کہتا ہے کہ اس سایہ دار جگہ پر کھڑے ہو کر قرآن سناؤ۔ پھر صحیح طریق پر نماز کی ادائیگی کا بتایا۔ ٹھیک ایک ہفتہ بعد مکرم الحاج مو لانا نذیر احمد علی میری طرف آرہے ہیں اور میں مسجد کے ارد گرد صفائی کے بعد سستانے کے لئے کھڑا تھا جس طرح خواب میں دیکھا تھا۔ انہوں نے آ کر السلام علیکم کہا اور رہائش کے لئے جگہ مانگی۔ جو خاکسار نے مہیا کر دی اور بہت سے لوگوں نے بیعت کر لی۔ اسی علاقے کے گور ا ماکے پیرا ماؤنٹ چیف بایو نے بھی 1939ء میں بیعت کر لی۔ جن کا اسلامی نام صلاح الدین بایو رکھا گیا۔ ان کے احمدی ہونے سے عیسائی حلقوں میں تہلکہ مچ گیا۔

مباحثے و مناظرے

اسی چیف نے عیسا ئیوں کو مباحثہ کی دعوت دی ۔ مگر ہمارے دو مجاہد ایک دوسرے کو کندھوں پر اُ ٹھا تے 22 میل کا تکلیف دہ پہاڑی علاقہ طے کر کے یہاں پہنچے تو عیسائی پادریوں نے آ نے سے انکار کر دیا۔

(روح پرور یادیں صفحہ240)

1942ء میں BO میں جب احمدیوں کو اسکول اور مسجد کے لئے زمین الاٹ کرنے کا مسئلہ در پیش تھا تو مخالفین نے سر کاری افسران اور پیراماؤنٹ چیف کو احمدیت کے خلاف بہت اکسایا ۔ مبلغین کو زدو کوب کیا۔ جس پرپیراماؤنٹ چیف نے ان کو مناظرہ کرنے کو کہا ۔ احمدی مبلغین جب کتب لے کر پہنچے اور ہال میں کتب کو قرینہ سے سجا دیا تو احمدیوں کی اس تیاری کو دیکھ کر عیسائی ڈر گئے ۔ مکرم الحاج مولانا نذیر احمد علی نے ایک ایک کوبڑے رعب دار لہجے میں بلایا ۔ مگر تمام بول اٹھے کہ پیرا ماؤنٹ صاحب ! یہ تو ہمارے بھائی اور دوست ہیں ہماری ان سے کوئی مخالفت نہیں ۔جس پر چیف ان سے ناراض ہوئے اور کہا پہلے مجھےان کے خلاف اکساتے تھے اب بحث بھی نہیں کرتے ۔ اور زمین احمدیوں کو دے دی ۔

مالی تنگی

ابتدا ء میں مبلغین کو بہت مالی تنگی کا سامنا کرنا پڑا ۔ 1942ء میں مرکز سے صرف پانچ اور پھر دس پونڈ ماہوار آتے تھے ۔ ان مبلغین نے کتب کے بکس کندھوں پر اٹھا کر پہاڑوں کو پیدل طے کر کے تبلیغ کا کام جاری رکھا ۔ بھوک برداشت کی ۔خانہ بدوشوں کی طرح سفر کر کے دین کی اشاعت میں لگے رہے۔ جس کے صلے میں اب سیرا لیون میں ہزارسے زائدمساجد، پرائمری اور سیکنڈری سکولز اور ہسپتالز موجود ہیں۔ احمدی مساجد کے منار، پاکستان میں مساجد کی طرز پر ہیں۔ جو دور سے پہچانی جاتی ہیں ۔ اگر اس پر احمدیہ مسلم مسجد نہ بھی لکھا ہو تو ہر ایک کی توجہ اس طرف جائے گی یہ احمدیوں کی مسجد ہے ۔ ملک کے جس طرف بھی مین روڈ پر آپ سفر کریں تو ہر 10 یا 15 میل کے بعد بر لبِ سڑک آپ کو احمدیہ مسلم مسجد اوراحمدیہ مسلم سکول کا بورڈ نظر آئے گا ۔ جن کو دیکھ کر ہرایک احمدی کا سر اپنے اللہ کے حضور جھک جاتا ہے ۔ گزشتہ سال 2020ء میں جب خاکسار کو حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ کی نمائندگی میں جلسہ سالانہ سیر الیون میں شمولیت کی سعادت نصیب ہوئی تو جلسہ سالانہ میں شاملین کی تعداد 24700 تھی ۔جمعہ کے روز جب افتتاحی تقریب میں معمولی تا خیر ہوئی تو محترم مولانا سعید الرحمٰن نے جمعہ کا ساتھ ہی اعلان کر دیا تو ملک کے وائس پر یذ یڈنٹ نے اعلان کر دیا کہ میں بھی آپ کے ساتھ جمعہ پڑھوں گا۔ میں نے اس وقت کیا روحانی نظارہ دیکھا کہ وائس پریذیڈنٹ کے ساتھ آنے والے 50 سر کردہ لوگوں نیز وائس پریذ یڈ نٹ کی عزت کی خاطر دیگر چیفس، پیرا ماؤنٹ چیفس ، سر کردہ سر کاری افسران، مذہبی سکالرز اور مولویوں نے صفیں سیدھی کر لیں ۔ خاکسار نے خطبہ جمعہ دیا اور امام کی جائے نماز کے عین پیچھے وائس پریز یڈنٹ نے نماز ادا کی ۔

محترم امیر صاحب نے مجھے اس دورہ کے دوران بتایا کہ جب غانا کے ایک سفیر یہاں متعین ہوئے تو میں انہیں مبارکباد دینے گیا اور جماعت کی مساجد، اسکولز، ہسپتالز کی تعداد بتا کر طبی و تعلیمی سر گر میوں کا ذکر کیا تو کہنے لگے کہ ہاں ہاں!میں ملک کے ایک طرف بارڈر تک گاڑی پر سفر کر آیا ہوں اور جگہ بہ جگہ احمدیہ مسلم مساجد، احمدیہ مسلم اسکولز کے بورڈدیکھ کر اندازہ ہو رہا تھا کہ جماعت احمدیہ نے طبی اور تعلیمی میدان میں بہت کام کیا ہے ۔ مکرم امیر صاحب نے مجھے مزید بتایا کہ اس وقت مرکزی مبلغین کی تعداد 25 ہے اور 99 لوکل مبلغین ملک بھر میں خدمات دینیہ بجا لا رہے ہیں جو جامعہ احمدیہ سیرا لیون کی پیداوار ہیں اور مکرم مولانا مبارک احمد گھمن صاحب پر نسپل جامعہ احمدیہ سیرالیون کی نگرانی میں یہ روحانی سپوت تیار ہو رہے ہیں ۔ آ ج سے قریباً 33 سال قبل خاکسار کے دور میں بطور پرنسپل 5 طلبہ سے اس جامعہ کا آ غاز ہوا تھا۔ اور آج بفضلہٖ تعالیٰ ان کی تعداد چھپن طلبہ کے لگ بھگ ہے۔

دورہ جات خلفاء و مرکزی نمائندگان

حضرت حافظ مرزا ناصر احمد صاحب خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے 1970ء اور حضرت مرزا طاہر احمد صاحب خلیفۃالمسیح الرابعؒ نے 1988ء کو سرزمین سیرا لیون پر قدم رنجا فرما کر برکت بخشی اور تر بیتی، تنظیمی اور تبلیغی سر گرمیوں کا تفصیلی جائزہ لے کر ہدایات سے نوازا۔ اس کے علاوہ حضرت چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحبؓ نے 1973ء ،مکرم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل اعلیٰ و وکیل التبشیر نے 1965ء، مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب وکیل اعلیٰ نے 1985ء جبکہ مکرم نور محمد نسیم سیفی صاحب وکیل التعلیم نے 1976ء اور مکرم چوہدری مبارک مصلح الدین احمد نے مرکزی نمائندوں کی حثییت سے سیرالیون کے دورے کئے۔ نیز سیرا لیون کی آزادی کی تقریبات 1961ء میں آ نر یبل جسٹس شیخ بشیر احمد صاحب نے مرکزی نمائندہ کے طور پر ان تقریبات میں جماعت احمدیہ کی نمائندگی فرمائی۔ مکرم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل اعلیٰ کے دورہ پر وزیر مواصلات نے ایک محفل میں اس امر کا اظہار کیا :
’’اگر احمدی مبلغین اِن علاقوں میں آ کر تبلیغ اسلام نہ کرتے اور مسلمان بچوں کی تعلیم کے لئے سکولوں کا اجراء نہ کرتے تو اب تک مسلمان یہاں ڈھونڈے سے نہ ملتے ……… سیر الیون کے مسلمانوں کی آ ئندہ نسلیں بھی احمدیت کے احسان کے زیر بار رہیں گی اور تاریخ کبھی اس کو فر اموش نہ کر سکے گی ۔سیرا لیون کے مسلمانوں کی بر وقت اور صحیح امدا دکو اگر کوئی آیا تو صرف احمدی مبلغین تھے۔‘‘

1960ء کے جلسہ سالانہ میں ایک مسلمان لیڈر مکرم عبد اللہ بیٹ صاحب نے اپنے خطاب میں فرمایا :
’’سیرا لیون میں احمدی مبلغین کی آمد سے قبل ہمارے دل میں کبھی بھی یہ گمان نہ گزر سکتا تھا کہ ایک مسلمان بھی عیسائیت کے مقابل پر بولنے کی جرات کرسکتا ہے ۔ اکثر مسلمان عیسائیت کی طرف مائل تھے لیکن احمدیت کے آنے سے حالات یکسر تبدیل ہو گئے اور عیسائیت کو شکست ہونے لگی اور اسلام ہر میدان میں فتح یاب ہوتا چلا گیا۔‘‘

(الفضل 3 مارچ 1966ء)

1970ء کے جلسہ سالانہ پر وزیر خزانہ ڈاکٹر ایم ایس فورنا صاحب نے کہا:
’’احمدیت نے ہمارے تعلیمی نظام پر عیسائیت کی گہری چھاپ کے اثر کو کم کرنے کے لئے صحت مندانہ اقدام کیا ہے۔‘‘

(الفضل یکم مئی 1970ء)

اپریل 1974ء میں وزیر اعظم جناب ایس آئی کروما صاحب نے احمدی وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا :
’’نہ جانے احمدی ڈاکٹروں کے پاس کون سا جادو ہے کہ جو مریض بھی وہاں جاتا ہے ان کی تعریف میں رطب اللسان ہو جاتا ہے‘‘

(رسالہ تحریک جدید ستمبر 1974ء)

مرحوم مبلغین

مکرم الحاجی نذیر احمد علی صاحب نے سیرالیون میں ہی خدمت کے دوران وفات پائی اور ساوتھرن پراونس کے ہیڈکوارٹربو میں مدفون ہیں۔ نیز تین سیرالیونین نوجوا ن مکرم ہارون جالو صاحب، مکرم محمد یوسف ڈوروی صاحب، مکرم فواد کانو صاحب سیرالیون سے ربوہ جامعہ احمدیہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے پاکستان گئے ۔ وہاں سے مبلغ بن کر واپس سیرالیون میں خدمات بجا لانے کی سعادت پائی مگر تینوں نوجوان یکے بعد دیگرے جوانی کے عالم میں ہی اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے ۔ إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ

تمام مبلغین نے وقفِ عارضی کا نظام جاری کیا۔جلسہ ہائے سالانہ اور لنگرخانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جاری ہوا ۔ مجلس مشاورت کا مبارک نظام متعارف کروایا گیا ۔ ذیلی تنظیموں کے اجتماعات منعقد ہوئے۔ الغرض مجموعی طور پر مبلغین و معلمین کی کاوشوں سے جماعت دن بدن مضبوط ہوتی چلی گئی ۔ اب کیفیت یہ ہے کہ مکرم مولانا سعید الرحمٰن صاحب امیر جماعت نے مجھے میرے دورہ کے دوران بتایا کہ میں ایک جمعہ کے روز صدر مملکت کو ملنے صدارتی محل گیا ۔ میں نے ملاقات کے بعد جمعہ کے لئے اجازت مانگی تو صدر مملکت نے آ نمحتر م سے کہا کہ آپ آج ہمیں جمعہ پڑھا دیں ۔ میں نے درود شریف پر خطبہ دیا جو صدر مملکت کو اپنے آ قا و مولیٰ حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ سے محبت کی وجہ سے اتنا پسند آیا کہ مجھے کہنے لگے کہ آپ صدارتی محل میں ہر ماہ ایک خطبہ دیا کریں۔ محترم مولانا نے کچھ عرصہ صدارتی محل میں خطبات جمعہ پڑھائے ۔

آ نحضورﷺ اور حضرت عائشہ ؓ کے خلاف زہرآفشانی اور جماعت کی کوششیں

1948ء میں آ نحضرت ﷺ کے خلاف زہر افشانی پر مشتمل ایک کتاب عیسائی دنیا نے شائع کی اور عیسائی اسکولز کے نصاب میں شامل کر دی گئی۔ جماعت احمدیہ نے ہائی لیول پر کو شش کر کے اس کتاب پر نہ صرف پابندی لگوائی بلکہ نصاب سے بھی خارج ہوئی ۔

اسی طرح حضرت عائشہ ؓ پر ’’عائشہ نامی‘‘ کتاب میں گندے الزامات لگائے گئے ۔ جماعت نے وزیر اعظم کو اس پر احتجاجی خط لکھا جس پر بک شاپس کی انتظامیہ نے معذرت کی اور بک اسٹالز سے اس کتاب کو اٹھوایا گیا نیز سیکر ٹری وزیر اعظم نے جماعت کے خط کے جواب میں معذرت کی ۔

ایک اور ایمان افروز واقعہ

ایک مذہبی سماجی لیڈر اور وزیر مملکت مکرم مصطفیٰ سنوسی صاحب نے 1980ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ کی خصوصی دعوت پر ربوہ جلسہ سالانہ میں شرکت کی ۔ وہ جب واپس سیرا لیون آئے تو لمبا عرصہ غیر حاضری کی وجہ سےان کو وزارت سے ہاتھ دھونا پڑا۔ آ پ نے اس پر فرمایا :
’’مجھے وزارت سے علیحدگی کا کوئی دُکھ نہیں۔ اس کے مقابل پر احمدیہ جلسہ میں شرکت کا جو اعزاز ملا ہے وہ اس وزارت کے عہدے سے بدر جہا بہتر ہے‘‘

خاکسار کو بھی ساڑھے سات سال سیرا لیون خدمت کرنے کا موقع ملا ہے۔ میں نے تو ’’صحابہ سے ملا جب مجھ کو پا یا‘‘ ہر احمدی مسلمان کو پورا ہوتے دیکھا۔ سیرا لیون کے احمدی مسلمان حضرت محمد مصطفےٰﷺ اور آپؐ کے صحابہ کے اسوہ پرہو بہو عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ احمدی آنحضور ﷺ اور صحابہ سے مثالی پیار کا اظہار کرتے دیکھے جاتے ہیں۔ باڈو جماعت کے ایک دوست مکرم پاءکروما صاحب نے عید الاضحی کے روز نماز عید سے قبل بکرے کی قربانی کردی۔ جب ان کو بتایا گیا کہ ایسی غلطی ایک صحابی رسولؐ سے ہوئی تھی تو انہوں نے آ نحضور ﷺ کے کہنے پر دوبارہ قر بانی کی تھی۔ اس پر مکرم پاءکروما صاحب نے بڑے جلالی انداز میں مجھے مخاطب ہو کر کہا کہ میں بھی تو اسی محمدؐ کا حواری ہوں۔ اگر صحابی نے غلطی پر دوبارہ قر بانی کی تھی تو میں بھی دوبارہ قر بانی کرتا ہوں۔

اسی طرح Bo میں میرے قیام کے دوران ایک میاں بیوی کا جھگڑا ہوا۔ میرے پاس ان دونوں کولایا گیا ۔یہ دونوں اس حد تک لڑائی میں آ گے جاچکے تھے کہ ان میں سے کوئی بھی ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کو تیار نہ تھے۔ خاکسار نے مرد کو خَیْرُ کُمْ خَیْرُ کُمْ لِاَھْلِہٖ اور عورت کو اگر خدا کے بعد سجدہ جائز ہوتا تو عورت کو خاوند کا سجدہ کرنے کا ہی حکم دیاجاتاکی حدیث سنائی ۔ ان الفاظ کا ترجمہ جونہی عورت کے کانوں میں پڑا تو اس نے اٹھ کر خاوند کے آگے سر جھکا دیا اور صلح صفائی کے ساتھ گھر چلے گئے۔

اللہ تعالیٰ ان احمدیوں کی قر بانیوں کو قبول فر مائے اور اُس کی نیک جزا عطا فر مائے۔ ان قر بانیوں کے طفیل اللہ تعالیٰ جماعت اور سیرالیون کی اگلی صدی کو بہت برکت بخشے اور اس سے کہیں بڑھ کر ایمان و یقین عطا کرے اور سیرالیون جماعت کو دن دوگنی رات چوگنی ترقی عطا فر مائے۔ آمین

ہمارے پیارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے سیرالیون میں احمدیت کے قیام کے صد سالہ جشن تشکر کے لئے جو پیغام بھجوایا اس کا عکس بھی قارئین روزنامہ الفضل آن لائن لندن کے استفادہ کے لئے اس آرٹیکل کا حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں پیارے امام کی خواہشات کو پورا کرنے والا بنائے۔ آمین

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 27 اپریل 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 28 اپریل 2021