• 20 جون, 2021

میرے ساتھ ساتھ چلا کرے، کوئی ایسی راہ وفا کرے

میرے ساتھ ساتھ چلا کرے، کوئی ایسی راہ وفا کرے
وہ ترا خیال جمال ہے جو قدم قدم پہ نبھا کرے
تیرے بعد اے میرے راہنما! یہ عجیب عالم شوق ہے
نہ ہی تارے دل کو بھلے لگیں، نہ ہی چاند اچھا لگا کرے
’’جسے ڈھونڈتی ہیں گلی گلی میری خلوتوں کی اداسیاں‘‘
وہ خدا رسول کے پاس ہے، وہ بہشت میں ہی رہا کرے
تو نے دیپ ایسے جلا دئیے کہ کبھی نہ پھر سے اندھیر ہو
اے مرے وطن کے مسافر! تری لحد پہ وہ ضیاء کرے
کبھی دوریاں، کبھی رت جگے، کبھی سلسلے ہیں ملال کے
مرے پاس دل بھی تو ایک ہے جو یہ سارے درد سہا کرے
’’مری چاہتیں، مری قربتیں، جسے یاد آئیں قدم قدم‘‘
کبھی اس طرف، کبھی اس طرف، کبھی دل کے پار صدا کرے
یہ خدا کا ہی بڑا فضل ہے کہ وطن وطن میں ہے روشنی
اگر ایک چاند ہے چھپ گیا تو نیا بھی آ کے ضیاء کرے
ترے ساتھ بھی ہے وہی خدا جو سدا سے کرتا رہا وفا
ترے منہ سے جو بھی نکل گیا، ہے مرا یقیں، وہ خدا کرے
ترے لفظ لفظ حقیقتیں، یہ جو حکم ہیں یا نصیحتیں
مری روح بھی، مرا جسم بھی، مرا رؤاں رؤاں وفا کرے
وہی راستے، وہی منزلیں، فقط ایک چاند بدل گیا
جسے خود خدا نے کھڑا کیا، تو وہ قافلہ نہ لٹا کرے
مرا دل جگر کوئی تھام لے کہ فراز! اب ہوئی انتہا
مری دسترس میں نہیں ہے دل، یہ عجیب حشر بپا کرے

(اطہر حفیظ فراز)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 27 مئی 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 28 مئی 2021