• 13 جولائی, 2024

غم میں لپٹی ہوئی خوشی کی خبر

غم میں لپٹی ہوئی خوشی کی خبر
28 مئی کے حوالے سے ایک تحریر

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں بیان فرماتا ہے

وَ لَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنۡ یُّقۡتَلُ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَمۡوَاتٌ ؕ بَلۡ اَحۡیَآءٌ وَّ لٰکِنۡ لَّا تَشۡعُرُوۡنَ

اور جو اللہ کی راہ میں قتل کئے جائیں ان کو مُردے نہ کہو بلکہ (وہ تو) زندہ ہیں لیکن تم شعور نہیں رکھتے۔

(سورہ البقرہ آیت 155)

28مئی 2010 ء کے دن کا آغاز معمول کے مطابق ہوا۔جمعہ کا دن تھا اور احمدی گھرانوں میں فرمان رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق جمعہ کا دن عید کی ہی طرح ہوتا ہے ۔28 مئی کو بھی احباب نہا دھو کر صاف ستھرے کپڑے پہن کر جمعہ کی نماز پڑھنے مساجد گئے۔ لیکن نہیں ۔۔۔ یہ معمول کا دن نہیں تھا ۔۔یہ ایک بہت خاص دن تھا ۔۔ اس دن نے جماعت احمدیہ کی تاریخ کو ایک نیا موڑ دینا تھا ،ایک نئی تاریخ رقم کرنی تھی ۔آج احمدیوں کے صبر اور حوصلے کو آزمایاجانا تھا ۔آج ہی کے دن نے تو بتانا تھا کہ چاہے کیسا ہی ابتلاء کیوں نہ آجائے، احمدی صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔ آج ہی کے دن تو معلوم ہونا تھا کہ کیسے آخرین اوّلین سے جا ملیں گے۔ چودہ سو سال پہلے کی قربانیاں جو صحابہ کرامؓ نے دیں آج اس یاد نے تازہ ہونا تھا ۔

اس دن جماعت احمدیہ لاہور کی دو بڑی مساجد دارالذکر گڑھی شاہو اور بیت النور ماڈل ٹاؤن پر دہشت گردوں نے اس وقت حملہ کیا جب تمام احمدی احباب انصار ،خدّام، اور اطفال مساجد میں جمعہ کی نماز کے لئے جمع ہو چکے تھے ۔

دہشت گردوں نے ظلم و بربریت کی انتہا کردی تو دوسری طرف جماعت احمدیہ نے صبر کی انتہا کردی۔ نہتے نمازیوں پر فائرنگ، بم اور گرنیڈ سے حملہ کرنا ، بےدریغ معصوم لوگوں کو شہید کرنا ،لاشوں پر لاشیں گرانا ۔ایسے میں تو چیخوں اور آہ و بُکا پر قابو پانا مشکل ہو جاتا ہے لیکن آفرین ہے اس خدائی جماعت پر ،اس روحانی زخمی فدائیان علی اللہ پر کہ کہیں سے آہ بُکا کی آواز نہیں آئی ۔کہیں چیخ و پُکار سنائی نہیں دی ۔بیت النور میں مربی سلسلہ مکرم محمود احمد شاد صاحب نے احباب کو دعائیں پڑھنے کے لئے کہا اور خود اونچی آواز سے درود شریف پڑھتے رہے ،دعائیں کرتے رہے اور آہستہ آہستہ یہ آواز دھیمی ہوتی چلی گئی اور پھریہ آواز تاریخ احمدیت میں امر ہو گئی۔ ۔۔۔۔۔ آہ ۔۔۔ مربی سلسلہ شہید ہوگئے۔

دارالذکر میں بھی صورتحال بیت النور سے مختلف نہ تھی بلکہ زیادہ سنگین تھی ۔یہاں احباب جماعت کی تعداد کافی زیادہ تھی ۔دہشت گرد بھی زیادہ تھے ۔لیکن جماعت کا صبرو ہمت کا نمونہ ایک دنیا نے دیکھا۔

اس نہایت ظالمانہ اور بہیمانہ حملہ کے نتیجہ میں 86 احمدی شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔ جماعت احمدیہ کی تاریخ میں اجتماعی شہادت کا یہ سب سے بڑا اور نہایت درد ناک واقعہ ہے ۔

امیر صاحب لاہور شیخ منیر احمد صاحب کو خدّام نے کہا کہ آپ چلے جائیں آپ کی جان زیادہ عزیز ہے ۔آپ نے فرمایا جب تک یہاں ایک شخص بھی جماعت کا ہو میں نہیں جاؤں گا ۔پھر امیر صاحب لاہور نے خدّام کو کہا کہ آپ اپنی جانیں بچائیں تو خدّام نے کہا کہ جہاں امیر صاحب ہیں وہاں ہم ہیں ۔ان خدّام کا جذبہ موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں کا نہ تھا بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بُلند پایہ صحابہ اجمعین کے مشابہہ تھااور یہی خدّام امیر صاحب کے دائیں اور بائیں فائرنگ سے گرتے رہے ۔امیر صاحب لاہور کے سینے میں تین گولیاں لگیں اور وہ اللہ کی بارگاہ میں سُرخرو ہوئے اوررُتبہ شہادت پا گئے ۔آخری وصیت امیر صاحب کی جماعت کے لئے یہی تھی کہ درود شریف پڑھیں

(یہ واقعہ امیر صاحب لاہور کی اہلیہ نے بوقت تعزیت بیان کیا)

کیا ایسے مخلص لوگ جماعت احمدیہ کے علاوہ کہیں اور مل سکتے ہیں ،جہاں ہر شخص دوسرے کو بچانے کی کوشش میں تھا ۔ہر زخمی دوسرے کو پانی پلانا چاہتا تھا ۔بچے جو زندہ بچ گئے تھے ،وہ کہہ رہے تھے کہ کاش ہم بھی شہید ہوتے ۔اس وقت کی صدر مجلس بیت التوحید محترمہ تبسم زکریا صاحبہ کا بیٹا اس خون کی ہولی سے بچ کر آیا تو گھر والوں نے کہا کہ ہمیں تمہارے غازی ہونےکی خوشی ہے لیکن اگر تم شہید ہوتے تو ہمیں فخر ہوتا ۔مکرمہ عطیہ عارف صاحبہ اہلیہ محمد عارف نسیم صاحب کے بیٹے نے گرنیڈ ہاتھ سے روک کر اپنی قربانی دے کر اپنے احمدی بھائیوں کو بچایا ۔بہت سی مائیں ایسی تھیں کہ جن کا ایک بیٹا شہید تو دوسرا ہاسپٹل میں زخمی تھا ۔ایک شخص کے دو جوان بیٹے شہید ہو گئے تھے۔ یہ ہے وہ خدائی جماعت اور یہ ہیں وہ عظیم مائیں جو عام دنیاوی ماؤں کی طرح آہ بُکا کرنے ،بین کرنے اور ماتم کرنے کے بجائے خدا تعالیٰ کی رضا میں راضی بہ رضا تھیں ۔

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے مرزا غلام قادر شہید کی شہادت پر فرمایا تھا کہ

’’ناز بھی ہے اور غم بھی ۔۔۔۔‘‘

(خطبات طاہر بابت شہداء صفحہ نمبر10)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں
’’غم اور خوشی کی خبر ہے خوشی اسلئے کہ شہادت جو اللہ کی طرف سے نصیب ہو وہ دائمی زندگی کی بشارت ہوتی ہے ۔بہت عظیم خبر ہوتی ہے اور اس میں پہلوں کے لئے غم بھی ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔‘‘

(اردو کلاس سے اپریل 1999)

پس یہ غم میں لپٹی ہوئی خوشی کی خبریں ہیں کہ نم ناک آنکھوں سے مائیں بیٹوں کی شہادت کی مبارکبادیں وصول کر رہی تھیں اوربیویاں اپنے خاوندوں کی شہادت پر شاداں و فرحاں تھیں ،اور یوں جماعت نے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کے مندرجہ بالا بیان کو عملی طور پر پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔

محترمہ اہلیہ امیر صاحب لاہور صبرو سکون اور حوصلےکی ایک چٹان دکھائی دے رہی تھیں ۔وہ بیان کر رہی تھیں کہ امیر صاحب نے دنیاوی اور جماعتی طور پر ایک شاندار زندگی گذاری اور ایک شاندار طریقے سے انہوں نے دنیا سے ناطہ توڑا۔ آپ بیان کرتی ہیں کہ تین دن پہلے انہیں خواب میں آواز سنائی دی کہ ’’خاتمہ بالخیر‘‘۔ یہ آواز انہیں تین مرتبہ سنائی دی ۔آپ نے یہ خواب امیر صاحب کو سنائی تو انہوں نے جواب دیا کہ میرے یا آپ کے جس کے بارے میں بھی یہ خواب ہے۔ اچھا خواب ہے ۔حضور کو بھی یہ خواب فیکس کی گئی اور بالاخر امیر صاحب کا خاتمہ ،خاتمہ بالخیر ہو گیا ۔دہشت گردوں نے اپنے ہاتھ بے گناہوں کے خون سے رنگ دئے لیکن شہدائے جماعت کو ہمیشگی کی زندگی عطا کر گئے۔ ۔

مکرم ملک عبد الرشید صاحب شہید شمالی چھاؤنی کی اہلیہ بیان کرتی ہیں کہ ملک صاحب اکثر کڑک ہاوس لاہور میں جمعہ پڑھتے تھے ۔28 مئی کو انہوں نے کہا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتےہیں کہ ثواب کی خاطر بڑی مساجد میں بھی جمعہ ادا کرنا چاہیے ۔آپ جمعہ ادا کرنے دارالذکر گئے اور شہادت کا درجہ پا گئے ایسا لگتا تھا کہ جیسے انہیں بلاوا آیا ہو ۔

مکرم رشید ہاشمی صاحب شہید کی اہلیہ بیان کرتی ہیں کہ دو تین جمعہ سے طبیعت کی خرابی کی وجہ سے آپ جمعہ پڑھنے نہیں جا رہے تھے ۔اس دن آپ نے صبح سے کہنا شروع کر دیا کہ جمعہ پڑھنے دارالذکر جانا ہے کہ کہیں بیٹیاں طبیعت کی خرابی کی وجہ سے روک نہ لیں ۔سو آپ دارا لذکر گئے اور شہادت کا درجہ پا گئے ۔ایسے معلوم ہوتا تھا کہ شہادت کا درجہ پانے کے لئے یہ لوگ خود بخود کھنچےکھنچے دارالذکر اور بیت النور گئے ۔

مکرم رشید ہاشمی صاحب کی بیٹی خالدہ تنویر صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ ان کے والد دارالذکر مسجد میں اور شوہر بیت النور میں جمعہ کی ادائیگی کے لئے گئے تھے ۔میں دعائیں کر رہی تھی کہ والد صاحب کی شہادت کی خبر اور شوہر کے غازی ہونے کی خبر ملی ۔الحمدللہ

جنرل (ر) ناصر احمد صاحب کے اہل خانہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شاندار فوجی افسر کی زندگی انہوں نے فوج میں گذاری ۔فوج میں تو انہیں شہادت کا موقع نہیں ملا کیونکہ انہوں نے دین کی راہ میں شہادت کا مرتبہ پانا تھا سو ایک شاندار موت سے ان کا خاتمہ خاتمہ بالخیر ہو گیا ۔

شیخ محمد یونس صاحب چند ماہ پہلے اقبال ٹاؤن سے واپڈا ٹاؤن شفٹ کر گئے ،شاید شہادت کی خوشبو انہیں کھینچ کر لے گئی۔یہ فیملی تقریباً دو سال پہلے ربوہ سے لاہور شفٹ ہوئی تھی ۔

دارالذکر کے باہر ایک ملا جماعت احمدیہ کی مساجد پر حملے کی لوگوں کو مبارکباد دے رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ حملہ کرنے والے سیدھے جنت میں جائیں گے ۔بعض جگہوں پر مولویوں نے مٹھائیاں بھی تقسیم کیں۔ کیا یہ لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امّت ہونے کے دعویدار ہیں کہ جن کا فرمان تھا کہ دشمن کی موت پر بھی خوشی مت کرو۔ ایک خادم نے بتایا کہ اس حادثے نے اس کی سستی اور کمزوریاں دور کر دیں اور اس کا ایمان پہلے سے بھی بڑھ گیا ۔بے شک آزمائشیں اور ابتلاء خدائی جماعتوں کو ختم نہیں کر سکتیں بلکہ ان کو حوصلہ اور ثبات دینے کے لئے آتی ہیں ۔ان کو مضبوط کرتی ہیں اور پہلے سے کئی گنا زیادہ ایمان اور تعداد میں بڑھاتی ہیں۔

ایک دنیا نے جماعت کے صبر ،عزم وہمت اور حوصلے کا یہ نظارا دیکھا ۔مساجد سے انہیں کہیں چیخ و پُکار سنائی نہ دی ۔ربوہ تدفین کے لئے جنازے جاتے رہے اور نہایت صبر اور حوصلے سے ان کی تدفین ہوتی رہی ۔ہر آنکھ اشکبار تھی لیکن ہمت بُلند تھی ،اگر کسی کے رونے کی آواز نکلتی تو دوسرا اسے تسلی دیتا کہ یہ جماعت احمدیہ کا شیوہ نہیں ۔

رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے ان کے بیٹے حضرت ابراہیم کی وفات پر ایک صحابی نے دریافت کیا کہ حضور آپ بھی روتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو اولاد سے محبت کا جذبہ ہے کہ آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل غمگین ہے مگر ہم ایسی کوئی بات نہیں کہیں گے کہ جس سے ہمارا رب ناراض ہو

ہو فضل تیرا یا رب یا کوئی ابتلاء ہو
راضی ہیں ہم اُسی میں جس میں تیری رضا ہو

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز شہدائے لاہور کے بارے میں بیان فرماتے ہیں
’’ان جانے والے ہیروں کو اللہ تعالیٰ نے ایسے چمکدار ستاروں کی صورت میں آسمان اسلام اور احمدیت پر سجا دیا جس نے نئی کہکشائیں ترتیب دے دی ہیں اور ان کہکشاؤں نے ہمارے لئے نئے راستے متعین کر دئے ہیں ۔۔‘‘

’’یہ سب لوگ ۔۔۔ احمدیت کی تاریخ میں ان شاء اللہ تعالیٰ ہمیشہ روشن ستاروں کی طرح چمکتے رہیں گے۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ 4 جون 2010ء)

آج اس روئے زمین پر جماعت احمدیہ ہی وہ واحد جماعت ہے جو وہ پاکیزہ نمونے دکھا رہی ہے جو اوّلین نے دکھائے اور بے شک جماعت احمدیہ ہی آخرین کی وہ جماعت ہے جو اوّلین سے جاملے گی۔

نوٹ: مکرمہ صاحبزادی بی بی فوزیہ شمیم صاحبہ صدر لجنہ اماء اللہ ضلع لاہور اور ان کے زیر نگرانی صدرات و عاملہ مجالس لاہور نے 28 مئی کے شہداء کے گھروں میں جا کر تعزیت کی ۔دوران تعزیت گھر والوں نے جو بیان کیا۔ ان کو اسی وقت احاطہ تحریر میں لایا گیا اور وہ اس مضمون میں درج کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام شہداء کے درجات بُلند فرماتا چلا جائے آمین۔

(شاذیہ باسط خان۔ آسٹن امریکہ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 27 مئی 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 28 مئی 2021