• 15 اگست, 2022

موت

موت
(کلام حضرت مرزا بشیر احمدؓ)

ہر ایک کو دکھاتی ہے اپنی بہار موت
ہر ایک ہی کے ہوتی ہے سر پر سوار موت

پنجے سے اُس کے چھوٹ کر جائے کوئی کہاں
پھیلائے جال بیٹھی ہے ہر سُو ہزار موت

جو مر مٹے ہیں، مر کے بھی زندہ رہیں گے وہ
جتنا نکالنا ہو نکالے بخار موت

تیغِ نگاہِ یار کا کشتہ ہوں مَیں، جبھی
ڈرتا نہیں کبھی بھی، ڈرائے ہزار موت

میری دکھوں میں شدتِ طبع کو دیکھ کر
ہوتی ہے دل ہی دل میں بہت شرمسار موت

مرنا تو وصلِ یار ہے، یہ جانتا ہوں میں
مجھ کو بھلا ڈراتی ہے کیوں بار بار موت

مسلم کو وصلِ یار ہے، کافر کو وصلِ نار
اخبارِ آخرت کا ہے نامہ نگار موت

خواہش اگر کوئی ہے تو احمدؐ کی ہے یہی
اسلام پر ہی دے مجھے پروردگار موت

(کلام بشیر صفحہ5-6 ایڈیشن 1963ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 27 جون 2022

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ