• 29 ستمبر, 2020

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کامیاب ہوئے

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔

إِنَّ الَّذِينَ قَالُوْارَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْاتَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلاَئِكَةُ أَلاَّ تَخَافُوْا وَلاَ تَحْزَنُوْاوَأَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِى كُنْتُمْ تُوعَدُونَ۔

ترجمہ:یقیناً وہ لوگ جنہوں نے کہا اللہ ہمارا رب ہے، پھر استقامت اختیار کی، ان پر بکثرت فرشتے نازل ہوتے ہیں کہ خوف نہ کرو اور غم نہ کھاؤ اور اس جنت (کے ملنے) سے خوش ہو جاؤ جس کا تم وعده دیئے جاتے ہو۔

(حٰم السجدة : 31)

حضرت حسینؓ کی پیدائش سے پہلے حضرت ام الفضل بنت حار ثؓ نے رؤیا میں دیکھا کہ کسی نے آنحضر تﷺ کے جسم اطہر کا ٹکڑا کاٹ کر ان کی گود میں رکھ دیا ہے انہوں نے آنحضرتﷺ سے عرض کیا کہ یا رسولﷺ میں نے ایک ناگوار اور بھیانک خواب دیکھا ہے۔ فرمایا کیا دیکھا ہے؟ عرض کیا ناقابل بیان ہے۔ فرمایا بیان کرو، آخر ہے کیا؟ آنحضرتﷺ کے اصرار پر انہوں نے خواب بیان کر دی۔ آپﷺ نے فرمایا کہ نہایت مبارک خواب ہے۔ فاطمہؓ کے لڑکا پیدا ہو گا اور تم اسے گود میں لوگی۔ چنانچہ حضرت حسینؓ پیدا ہوئے۔

(مستدرک حاکم معرفۃالصحابہ باب اول فضائل ابی عبدالله الحسین جلد 3 ص 194 حديث 4818)

حضرت اقدس مسیح موعود (آپ پر سلامتی ہو) آل محمدؐ سے محبت کا اظہار اپنے منظوم کلام میں فرماتے ہیں:

جان و دلمفدائے جمال محمد است
خاکم نثار کوچۂ آل محمد است

ترجمہ :میری جان اور دل حضرت محمد مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ وسلم کے جمال پر فدا ہے اور میری خاک آل محمدﷺ کے کوچہ پر نثار ہے۔

فرمایا: خدا کا کلام میرے پر نازل ہوتا ہے خدا نے میرے پر ظاہر کیا ہے۔ کہ خلفاء ثلاثہ اور ان کی جماعت کے لوگ نیک اور ناصر دین تھے اور نیز علیؓ اور حسنؓ اور حسینؓ یہ سب نہایت درجہ مقدس تھے۔ جن کا بغض کسی لعنتی کا کام ہے۔ الله تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے وَنَزَعْنَا مَا فِى صُدُوْرِهِم مِّنْ غِلٍّ إِخْوَاناً عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقَابِلِينَ۔ (الحجر: 48) یعنی صحابہؓ اور اہل بیت میں جو کچھ باہم رنج واقعہ ہو گئے تھے قیامت کو ہم وہ رنجشیں ان کے سینوں میں سے دور کر دیں گے اور وہ باہم بھائی ہوں گے۔ جو ایک دوسرے کے مقابل پر تختوں پر آبیٹھیں گے۔

(الفضل 6 نومبر 1937ء بحو الہ الفضل 6 اکتوبر 2016ء)

فرمایا:امام حسینؓ کو دیکھو کہ ان پر کیسی کیسی تکلیفیں آئیں۔ آخری وقت میں جو ان کو ابتلاء آیا تھا کتنا خو فناک ہے۔ لکھا ہے کہ اس وقت ان کی عمر ستاون برس کی تھی اور کچھ آدمی ان کے ساتھ تھے۔ جب سولہ یا سترہ آدمی ان کے مارے گئے اور ہر طرح کی گھبراہٹ اور لاچاری کا سامنا ہوا تو پھر ان پر پانی کا پینا بند کر دیا گیا۔ اور ایساند ھیر مچایا گیا کہ عورتوں اور بچوں پر بھی حملے کئے گئے اور لوگ بول اٹھے کہ اس وقت عربوں کی حمیت اور غیرت ذرا بھی باقی نہیں رہی۔ اب دیکھو کہ عورتوں اور بچوں تک بھی ان کے قتل کئے گئے اور یہ سب کچھ درجہ دینے کے لئے تھا۔

(ملفوظات جلد 5 ص 336)

حضرت خلیفۃالمسیح الثانی نوّر الله مرقده ٗفرماتے ہیں: بعض لوگ پوچھ بیٹھا کرتے ہیں کہ حضرت امام حسینؓ کیوں ناکام ہوئے اور یزید کیوں کامیاب ہوا۔ حالانکہ اگر غور کرتے تو یزید باوجود مال و دولت اور جاہ و حشم کے ناکام رہا اور حضرت امام حسینؓ با وجود شہادت کے کامیاب رہے۔ کیونکہ ان کا مقصد حکومت نہیں بلکہ حقوق العباد کی حفاظت تھا۔ تیرہ سو سال گزر چکے ہیں مگر وہ اصول جس کی تائید میں حضرت امام حسینؓ کھڑے ہوئے تھے یعنی انتخاب خلافت کا حق اہل ملک کو ہے۔ کوئی بیٹا اپنے باپ کے بعد بطور وراثت اس حق پر قابض نہیں ہو سکتا۔ آج بھی ویسا ہی مقدس ہے۔ جیسا کہ پہلے تھا بلکہ ان کی شہادت نے اس حق کو اور بھی نمایاں کر دیا ہے۔ پس کا میاب حضرت امام حسینؓ ہوئے نہ کہ یزید۔

(الفضل 12 جولائی 1929ءص7 بحوالہ 2 دسمبر 2011ء)

ہمارے پیارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
حضرت امام حسینؓ نے جن کے بارے میں حضرت مسیح موعودؑنے فرمایا کہ وہ سرداران بہشت میں سے ہیں، ہمیں صبر اور استقامت کا سبق دے کر ہمیں جنت کے راستے دکھا دیئے۔ ان دنوں میں یعنی محرم کے مہینہ میں خاص طور پر جہاں اپنے لئے صبر اور استقامت کی ہر احمد ی دعا کرے، وہاں دشمن کے شر سے بچنے کے لئے رَبِّ کُلُّ شَیْئٍ خَادِمُکَ رَبِّ فَاحْفَظْنِیْ وَانْصُرْنِیْ وَارْحَمْنِیْ، کی دعا بھی بہت پڑھیں۔ پہلے بھی بتایا تھا کہ ہمیں یہ دعا محفوظ رہنے کے لئے پڑھنے کی بہت ضرورت ہے۔ اَللّٰهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُورِهِمْ وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ، کی دعا بھی بہت پڑھیں۔ درود شریف پڑھنے کے لئے میں…… پہلے بھی کہتا رہتا ہوں کہ اس طرف بہت توجہ دیں۔ اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو اپنی حفاظت میں رکھے۔

(خطبہ جمعہ بیان فرموده 23نومبر 2012ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 27 اگست 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 28 اگست 2020