• 1 دسمبر, 2020

تبلیغ میں پریس اور میڈیا سے کس طرح کام لیا جاسکتا ہے

تبلیغ میں پریس اور میڈیا سے کس طرح کام لیا جاسکتا ہے ذاتی تجربات کی روشنی میں
(قسط ہفتم)

یو ایس ایشیا نیوز نے 9 مارچ 1996ء کی اشاعت میں نصف صفحہ پر ہماری عیدالفطر کی خبر دی۔ خبر قریباً اوپر درج شدہ کے مطابق ہی ہے۔ خبر کے ساتھ تصویر بھی دی ہے جس میں خاکسار عید کا خطبہ دے رہا ہے اور سامعین بھی نظر آرہے ہیں۔

انڈیا ہیرلڈ نے 15 مارچ 1996 ء کی اشاعت میں نصف صفحہ کی خبر عیدالفطر کی دی ہے۔ خبر کا متن قریباً اوپر والا ہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی تصویر بھی دی ہے جس میں ہم عید پڑھ رہے ہیں۔

انڈو امریکن نیوز نے بھی اپنی اشاعت میں 20 فروری کو ہماری عیدالفطر کے منانے کی خبر مع تصویر کے شائع کی ہے۔ تصویر میں ہم نماز عید ادا کر رہے ہیں۔ تصویر کے نیچے لکھا ہے ’’احمدی مسلم نماز پڑھتے ہوئے‘‘ خبر کا متن قریباً وہی ہے جو اوپر لکھا جا چکا ہے۔

دی مارننگ نیوز۔ آرکنساس نے 20 مارچ 1996ء صفحہ 8A پر خاکسار کی تصویر کےساتھ نصف صفحہ کی خبر شائع کی ہے۔ تصویر میں خاکسار نے ہاتھ میں قرآن مجید پکڑا ہوا ہے جبکہ بیک گراؤنڈ میں خانہ کعبہ کی بہت بڑی تصویر ہے۔ خبر کی تفصیل کچھ اس طرح ہے۔ باسکٹ بال کے ایک بہت مشہور کھلاڑی جو مسلمان تھے انہوں نے امریکہ کے قومی ترانہ سنائے جانے کے وقت کھڑے ہونے سے انکار کر دیا تھا۔ اس پر بہت بڑا شور برپا ہوا۔ یہ چونکہ مسلمان تھے اس لئے لوگوں نے خیال کیا اور ان کے بیانات کی وجہ سے بھی کہ اسلام قومی ترانہ کا ادب نہیں سکھاتا اس پر خاکسار نے انٹرویو دیا اور اس مذکورہ بالا اخبار نے شائع کیا۔ خاکسار نے بتایا کہ اسلام تو ہر ایک کی عزت و احترام سکھاتا ہے۔ قومی ترانہ کے وقت کھڑے ہونا عبادت نہیں ہے بلکہ احترام ہے۔ اسلام کی تعلیم تو احترام اور عزت سکھاتی ہے اس لئے لوگوں کو غلط فہمی نہ ہو کہ یہ اسلام کی تعلیم ہے جو مسلمان کھلاڑی مسٹر رؤف نے کیا ہے۔ جس پر باسکٹ بال کی لیگ نے ان کی رکنیت ختم کر دی۔ بعد میں جب مسٹر رؤف نے دوسرے مسلمانوں سے مشورہ کیا اور پھر اپنی غلطی کا اعتراف کیا۔ شمشاد نے یہ بھی کہا کہ اسلام تو ہر ملک کے شہری کویہ بات سکھاتا ہے کہ وہ ملک کے قوانین کی پابندی اور احترام اور اطاعت کرے۔

مکرم حمید نسیم جو کہ آرکنساس یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ (یاد رہے کہ مکرم حمید نسیم بھی احمدی ہیں) حمید نسیم نے بتایا کہ ملک سے محبت کرنا بھی ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ شمشاد کے وزٹ (اس علاقہ میں) کا مقصد یہ ہے تا اسلام کی تعلیمات کو پھیلایا جائے اور خصوصیت کے ساتھ کہ اسلام محبت، امن اور ایک دوسرے کو سمجھنے کا مذہب ہے۔ ’’ہم چاہتے ہیں کہ لوگ خداتعالیٰ کے نزدیک آجائیں۔‘‘ شمشاد نے بتایا۔

شمشاد نے یہ بھی کہا کہ ہم چاہتے ہیں معاشرہ میں اخلاقی اور روحانی تبدیلی لائیں۔ قرآن کریم کے اب تک 60 سے زائد زبانوں میں تراجم ہو چکے ہیں۔

شمشاد نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان میں ایک آئینی ترمیم کی وجہ سے احمدیوں پر مختلف قسم کے مظالم ڈھائے جا رہے ہیں کیونکہ قانونی طور پر انہیں اپنے آپ کو مسلمان کہلانے اور اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے سے روکا گیا ہے اگر وہ کریں گے تو سیدھا جیل جائیں گے۔ شمشاد نے تفصیلات بیان کیں کہ اس وقت تک ہمارے بہت سے لوگوں کو جیل میں بند کر دیا گیا ہے اور 23 لوگوں کو قتل کیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ احمدیوں کے بہت سے گھر جلا دیئے گئے۔ مساجد کو سیل کر دیا گیا ہے اور احمدیوں کے خلاف بہت سے جھوٹے مقدمات بنائے گئے ہیں ۔ شمشاد نے بتایا کہ خود ان کے والد سید شوکت علی کو بھی ایک اسی قسم کے جھوٹے مقدمہ کی بناء پر 2 ہفتے تک جیل میں رہنا پڑا ہے۔ ’’ہمیں کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمیں صرف خدا کی مدد چاہئے ہم چاہتے ہیں کہ احترام کیا جائے۔‘‘ شمشاد نے کہا۔

1960 East Sun نے 13 مارچ 1996ء صفحہ2B پر ہماری عیدالفطر کی خبر دی ہے۔ عیدالفطر کی تفصیل گزشتہ صفحات میں گزر چکی ہے۔ وہی متن ہے۔

وائس آف ایشیا نے 6 مئی 1996ء کی اشاعت میں ہماری عید الاضحیہ کی خبر دی ہے۔ خبر میں خاکسار کے حوالہ سے حج کی فلاسفی، یہ اسلام کا رکن ہے اور دیگر امور بیان کئے گئے ہیں۔ جس میں نماز عید اور دعا کے بعد خاکسار ایک بچے عزیزم سعد خان کی آمین کرا رہا ہے۔ خبر میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اس موقعہ پر قرآن کریم کی مختلف زبانوں میں تراجم کی نمائش بھی لگائی گئی تھی۔ 250 سے زائد لوگ شامل ہوئے۔

ہیوسٹن کرانیکل نے 18 مئی 1996ء کی اشاعت میں صفحہ 2E پر ہمارے خدام اور لجنہ کے ریجنل اجتماع کے بارے میں خبر شائع کی ہے جو کہ 25 اور 26 مئی کو ریجنل ہیڈکوارٹر ہیوسٹن میں ہونا ہے۔ جس میں لوزیانا، آرکنساس، اُوکلوہوما سے قریباً 300 افراد شامل ہوں گے۔ اس موقعہ پر کھیلوں کے علاوہ علمی مقابلہ جات بھی ہوں گے۔
نارتھ ویسٹ آرکنساس ٹائمز (آرکنساس) نے 23 مارچ 1996ء کی اشاعت صفحہ 9 A پر اس عنوان کے ساتھ خبر دی ہے۔

Muslim Missionary spreads beliefs.

’’مسلمان مبلغ اپنے عقائد کو پھیلا رہا ہے۔‘‘

یہ خبر ٹائمز کے نیوز رپورٹر Rusty Garret نے دی ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ آج کی تاریخ احمدی مسلمانوں کے لئے بڑی مقدس ہے۔ کیونکہ 107 سال پہلے بانی جماعت احمدیہ نے 23 مارچ 1889ء کو بیعت لی تھی۔ اس وقت سے اب تک یہ 150 سے زائد ممالک میں پھیل چکی ہے۔ سید شمشاد احمد ناصر جو جماعت احمدیہ کے ساؤتھ ریجن کے مبلغ ہیں اس ہفتہ ہمارے شہر میں تھے۔ جو یہاں اپنا جماعت احمدیہ کا پیغام لے کر آئے تھے۔ اس موقعہ پر انہوں نے پیار اور محبت کی اسلامی تعلیمات کو بیان کیا۔ یہ مبلغ ہیوسٹن میں ہوتے ہیں اور ان کے تحت ٹیکساس، لوذیانا، اوکلوہوما اور آرکنساس کی سٹیٹس ہیں یہ اپنے عقائد بیان کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی اسلام کے بارے میں غلط فہمیوں کو بھی دور کرتے ہیں۔

شمشاد نے حال ہی میں اپنے ایک بیان میں اس غلط بات کی تردید کی ہے جس میں باسکٹ بال کے کھلاڑی مسٹر رؤف نے قومی ترانہ کے احترام میں کھڑے ہونے سے انکار کیا تھا۔ ناصر شمشاد نے کہا کہ اسلام تو حقیقت میں احترام سکھاتا ہے اور اسلام کی یہ بھی تعلیم ہے کہ اس کے ماننے والے ہر جگہ وہاں کے قانون کا احترام بھی کریں اور اطاعت بھی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمارے عقائد میں سے ایک یہ بھی ہے جو لوگ حضرت عیسیٰ کا دو ہزار سال سے انتظار کر رہے ہیں۔ کیونکہ اس وقت عیسائیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ عیسیٰ آسمان پر ہیں اور آخری زمانے میں تشریف لائیں گے، اس کے برعکس جماعت احمدیہ کا عقیدہ اس طرح نہیں ہے جس طرح سمجھا جا رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی صفات لے کر اللہ تعالیٰ امت محمدیہ میں ایک شخص کو اس نام کے ساتھ بھیجے گا چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی وہی مسیح موعود اور زمانے کے امام ہیں۔

جماعت احمدیہ کی طرف سے اس سلسلہ میں ایک پمفلٹ بھی تقسیم کیا گیا ہے جس کا عنوان ہے ’’The Promised Messiah has come.‘‘ یعنی مسیح موعود آچکے ہیں۔ اس میں یہ تمام تفاصیل موجود ہیں۔ اس میں سے ایک بات یہ ہے کہ جس طرح حضرت عیسیٰ کے وقت میں یہود نے ان کو پہچاننے سے انکار کر دیا اسی طرح اس زمانے میں بانی جماعت احمدیہ کے ساتھ ہوا ہے۔

شمشاد ناصر نے یہ بھی بتایا کہ عیسائی اور یہودی مذہب میں جن انبیاء کا ذکر ہے مسلمان ان سب کو خدا کا برگزیدہ مانتے ہیں۔ایک وقت آئے گا کہ سب لوگ امۃ واحدہ بن کر مسلمان ہو جائیں گے۔ بعض متشدد قسم کے مسلمان مذہب کی غلط تشریح کر کے دوسروں کو بہکا رہے ہیں۔ شمشاد کے خیال میں جہاد کا اس وقت مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو اسلام کی صحیح تعلیمات سے آگاہ کیا جائے۔ اس وقت جماعت احمدیہ خداتعالیٰ کے فضل سے مساجد، ہسپتال اور سوشل ویلفیئر کی خدمات، نوع انسان کے لئے بجا لارہی ہے۔ ایک پمفلٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جماعت احمدیہ کے لوگوں کی روحانی اور اخلاقی قدروں کو بڑھانے کے لئے کام کر رہی ہے۔ یہ انٹرویو اور خبر نصف سے زائد صفحہ کی ہے۔ جس میں خاکسار کی ایک تصویر بھی شامل ہے۔ اور خاکسار نے ہاتھ میں قرآن کریم مع انگریزی ترجمہ پکڑے ہوئے ہے۔

ہیوسٹن کرانیکل نے 3 اپریل 1996ء صفحہ 10 کی اشاعت میں احمدی مسلم یوتھ (اطفال الاحمدیہ) کے ایک تربیتی کیمپ کا ذکر کر کے خبر دی ہے کہ 7 سے 15 سال تک کا تربیتی کیمپ ہوا جس میں 45 بچوں نے شرکت کی۔ اخبار نے لکھا کہ اس کیمپ کا مقصد علاقہ کے ریجنل مبلغ سید شمشاد احمد ناصر نے یہ بتایا کہ انہیں تربیت دیں اور سوسائٹی کے لئے مفید وجود بن سکیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی صحیح رنگ میں عبادت کر سکیں۔ بچوں کو اس کلاس میں قرآن بھی عربی زبان میں سکھایا گیا۔ نماز اور دعائیں بھی سکھائی گئیں۔

بچوں اور بچیوں کے نام بھی اخبار نے دیئے ہیں جنہوں نے قرآن پڑھا۔ دعائیں یاد کیں اور انعامات حاصل کئے۔

دی ہیوسٹن پنچ نے مارچ 1996ء کی اشاعت میں صفحہ 17 میں ہماری عیدالفطر منانے کی مع تصویر خبر شائع کی ہے۔

قبل ازیں اقساط میں 1988ءسے 1996ء قریباً 8 سال تک کی پریس سے رابطہ اور خبروں کی قدرے تفصیل آچکی ہے۔ ایک بات جو نہیں آسکی وہ یہ کہ ڈیٹن، ڈیٹرائیٹ اور ہیوسٹن کے علاقہ میں خاص طور پر جہاں اخبارات میں خبریں آئیں وہاں پر TV کے قریباً سبھی چینلز جن میں چینل نمبر 2 ، نمبر5، نمبر7 اور 22 اور 27 خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔ ان چینلز پر ہمارے رمضان ، عیدالفطر، عیدالاضحیہ، ریجنل اجتماعات کے علاوہ گلف میں جنگ پر ہماری پریس کانفرنسز اور جلسہ کی خبریں بھی آئیں۔ ہیوسٹن میں قیام کے دوران تو ایک چینل نے حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کے جلسہ کا خطاب کا حصہ خود لے کر اپنی خبروں میں دیا۔

یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل اور احسان ہے کہ اس نے ہماری حقیر کوشش کو برکت بخشی۔ اور ہر لحاظ سے اس وقت پیغام حق پہنچانے کی ان ذرائع کے ذریعہ سے توفیق ملی جو اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پیغام پہنچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے مہیا فرمائے تھے۔ اس وقت خاکسار اس قسط میں دو تین امور بیان کرے گا۔ ایک تو یہ کہ جب ان اخبارات کے تراشے اور رپورٹس حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی خدمت اقدس میں پیش ہوتی تھیںاس پر حضورانورؒ کے ریمارکس، ہدایات اور اسی طرح وکیل التبشیر صاحب کی طرف سے اور وکیل اعلیٰ صاحب کی طرف سے ریمارکس آتے تھے وہ لکھنے کی کوشش کروں گا۔

دوسرےیہ کہ اخبارات میں خبر شائع کرنے یا کرانے کے لئے کس قدر محنت درکار ہوتی ہے یا ہمیں کرنی چاہئے اس کا بھی ذکر کرنا چاہتا ہوں ۔تیسرے یہ کہ بعض اوقات خبر شائع ہو جاتی ہے اور بعض اوقات نہیں، لیکن خبر شائع نہ ہونے پر بھی مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ ہمارا کام کوشش اور دعا ہے اللہ تعالیٰ کوشش کو ضرور پھل لگاتا ہے۔

ایک اور بات اس رپورٹ میں یہ لکھنے لگا ہوں کہ بعض اوقات جو خبر شائع ہوتی ہے اس کا پس منظر معلوم نہیں ہوتا لیکن خاکسار ہر امر کی تفصیل حضرت خلیفۃ المسیح کی خدمت میں اپنی ماہانہ رپورٹس میں لکھ دیتا تھا اس لئے میں وہ حصہ بھی اپنی رپورٹس سے لکھتا ہوں تا معلوم ہو کہ آپ نے جو پڑھا ہے اس کا کیا پس منظر ہے۔ اور اس کے لئے کیا کچھ کرنا پڑتا ہے۔ یہ ایک قسم کی گائڈ لائن بھی ہو سکتی ہے جس سے میدانِ عمل میں فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

اس وقت اگرچہ حالات بدل چکے ہیں۔زمانہ ترقی کی رفتار بڑی تیزی سے چل رہا ہے۔ایک خبر، ایک بات آناً فاناً سیکنڈوں میں کہیں سے کہیں چلی جاتی ہے۔ ہمیں ان سب ذرائع سے فائدہ حاصل کرنا چاہئے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ پرنٹ میڈیا سے غافل نہ ہوں۔ ابھی ایک کثیرتعداد ایسی ہے جو اخبار پڑھنا پسند کرتی ہے۔ اور ریٹائرڈ لوگوں کو تو پڑھنے کا کافی وقت مل جاتا ہے اور وہ پسند بھی کرتے ہیں کہ ان کے ہاتھ میں کچھ چیز ہو جسے پڑھا جائے۔

میں نے قریباً ہر جگہ یہ دیکھا ہے کہ جب صبح کی نماز پڑھ کر مسجد سے گھر آتا ہوں تو بہت سارے لوگ اپنے گھروں سے نکل کر اپنے گھر کے سامنے سے اخبارات اٹھاتے ہیں۔ یا میل بکس سے اخبار اٹھاتے ہیں اور پڑھتے ہیں۔ اس لئے یہ میں اپنے تجربہ کی بناء پر بات کر رہا ہوں کہ پریس اور پرنٹ میڈیا سے جس حد تک ممکن ہو فائدہ اٹھانا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ سب کو توفیق دے اور ہم سب سلطان القلم کے سپاہی اور خلیفہ وقت کے سلطان نصیر بنیں۔ آمین

جیسا کہ میں نے شروع میں لکھا تھا کہ ڈیٹن میں جب پریس اور میڈیا سے رابطہ کیا گیا تو اس کے بعد میرے فولڈر میں سب سے پہلا اخبار کا تراشہ جنرل ضیاء کے بارے میں ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے اسےمباہلہ کا چیلنج دیا تھا۔ اس کے کیسٹ سنانے کا ایک مختصراً اعلان ڈیٹن کے سب سے بڑے اخبار میں ہے۔ اس لئے میں اپنی رپورٹس کے حصہ جات جو پریس سے تعلق رکھتے ہیں اور اپنی رپورٹس میں ذکر کئے گئے ہیں ان میں سے کچھ لکھتا ہوں۔

خاکسار نے جولائی 1988ء کی جو رپورٹ حضورؒ کی خدمت میں بھجوائی تھی اس میں سے دو باتیں خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

ایک تو یہ کہ رپورٹ میں اس عنوان سے ‘‘حضور کا دعوت مباہلہ اور پاکستان میں احمدیوں پر مظالم’’یہاں کے اخبارات میں ڈیلی ڈیٹن نیوز اور نیوڈیفنڈر میں خبر بھجوائی گئی۔

دوسری بات جو میرے لئے بہت اہم ہے اور اس رپورٹ میں درج ہے اور وہ یہ ہے:
عیدالاضحیہ کا پروگرام اور تبلیغ کے عنوان سے خاکسار نے لکھا ہے کہ یہ عیدالبقر 23 جولائی 1988ء بروز ہفتہ منائی گئی۔ خاکسار نے خطبہ عید میں حضرت خلفیۃ المسیح الثانیؓ کا ایک خطبہ عید الاضحیہ پڑھ کر سنایا۔ عید کا پروگرام یہ بنایا گیا تھا کہ مسجد کے ہمسایوں کو کھانے پر بلایا جائے اور تبلیغ کی جائے۔ چنانچہ خاکسار نے عید سے 3۔4روز قبل ہمسایوں کے گھر گھر جا کر انہیں عید میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ چنانچہ 40 مرد و زن اور بچے (ہمسائے) عید میں بھی شامل ہوئے۔ بعض نے تو عید کی نماز میں بھی شرکت کی۔ اس موقع پر ایک بک سٹال بھی لگایا گیا تھا اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی مجلس عرفان کی ایک کیسٹ جو ستمبر 1984ء کی تھی جس میں ’’اسلام میں عورت کا مقام اور بچوں کی تربیت کے بارہ میں تھی سب کو سنائی گئی۔ خاکسار نے کہا کہ ہمارے امام نے لندن سے یہ پیغام بھجوایا ہے کہ آپ لوگوں کے ساتھ بہت پیار اور محبت کی جائے۔ اس پر سننے والوں کے چہروں پر نہ صرف خوشی کا اظہار تھا بلکہ ان کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔ خاکسار نے ان کے اس رد عمل سے محسوس کیا کہ وہ اس بات پر حیران تھے کہ ہمارے لئے محبت اور پیار کرنے کے لئے کوئی شخص ہے جو اپنی جماعت کو یہ تعلیم دے رہا ہے۔‘‘

اگست 1988ء کی رپورٹ میں خاکسار نے حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی خدمت میں لکھا کہ اس ماہ دو جنرل میٹنگز جماعت کی بلائی گئیں۔ دوسری میٹنگ میں جماعت کے سب چھوٹوں بڑوں کو خصوصیت کے ساتھ مدعو کیا گیا تھا۔ جس میں ’’ضیاء کی عبرت ناک موت‘‘ کے بارے میں بتایا گیا۔ مکرم برادر مظفر احمد ظفر صاحب نے 45 منٹ تک تقریر کی اور پھر خاکسار نے آخر میں مباہلہ کا پس منظر، کن وجوہات کی بناء پر مباہلہ دیا گیا اور پھر اسلم قریشی کی برآمدگی (بازیابی) اور ضیاء کی موت کا تازہ اور اعجازی نشان کے بارہ میں بیان کیا گیا۔

مباہلہ کی انگریزی کی کاپیاں فوٹو سٹیٹ کر کے لوگوں کو دی گئیں اور مزید فوٹو کاپیاں کروائی جارہی ہیں۔

اس جنرل میٹنگ کا اعلان بھی اخبار میں شائع کرایا گیا۔ خاکسار نے مزید لکھا :
سیدی! 9 جولائی 1988ء کے اخبار میں ہم نے جو اعلان کرایا تھا اس میں صدر ضیاء کا نام شائع کرایا تھا کہ اسے مباہلہ کا چیلنج دیا گیا ہے۔

فرعون کی عبرت ناک موت پر پریس کانفرنس کے عنوان سے خاکسار نے حضورؒ کی خدمت میں اپنی رپورٹ ماہ اگست 1988ء میں لکھا:
سیدی! اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے یہاں ڈیٹن میں ایک پریس کانفرنس بلائی گئی۔ جس میں اخبار اور ٹی وی کے نمائندے اور ریڈیو کے نمائندے آئے۔ 35 منٹ تک انٹرویو ہوا۔ مکرم برادر مظفر صاحب نے ایک پریس ریلیز تیار کیا تھا وہ پڑھ کر سنایا پھر خاکسار نے مباہلہ کے بارہ میں اور تازہ نشان جو ظہور پذیر ہوا تھا (یعنی ضیاء کی عبرت ناک موت) اس کےبارہ میں بیان کیا اور سوالوں کے جواب دیئے۔ اس کی خبر اخبار ڈیلی ڈیٹن نے دی ہے۔

پریس کے نمائندگان کو پریس ریلیز کے ساتھ اس صدارتی آرڈیننس کی کاپیاں بھی دی گئیں جس نےا حمدیوں کو بنیادی حقوق سے محروم کیا۔ساتھ ہی مباہلہ کی انگریزی کاپیاں بھی دی گئیں۔

مباہلہ کے بارہ میں پٹس برگ میں پریس کانفرنس۔ اس وقت پٹس برگ کی جماعت بھی خاکسار کے ریجن میں تھی۔ چنانچہ یہاں پر بھی صدر جماعت مکرم برادر جمیل الرحمٰن صاحب مرحوم کو خاکسار نے فون کر کے بتایا کہ وہ یہاں پر جمعہ کے دن ایک پریس کانفرنس بلائیں۔ چنانچہ پریس کے نمائندگان آئے ۔جن میں TV، ریڈیو اوراخبارات کے نمائندے تھے۔خاکسار نے 35 منٹ تک مباہلہ کے بارہ میں اور جنرل ضیاء کی ہلاکت کے بارہ میں تفصیل سے بتایا اور ان کے سوالوں کے جواب دیئے۔ اخبار نے 14 ستمبر 1988ء کی اشاعت میں خبر لگائی۔

اکتوبر 1988ء کی رپورٹ میں خاکسا رنے حضورؒ کی خدمت میں لکھا:
’’اس وقت تک 5 مرتبہ یہاں کے ایک لوکل اخبار ڈیٹن ڈیفنڈر میں ہمارا یہ اشتہار ’’مسیح موعود آچکے ہیں‘‘ تصویر کے ساتھ شائع کرایا۔

’’TV اور پریس سے رابطہ‘‘ کے بارہ میں لکھا کہ‘‘خاکسار نے مباہلہ اور فرعون ثانی کی موت کا پرچار کرنے کے لئے یہاں کے دو TV سٹیشنز پر خود جا کر رابطہ کیا۔ ان کے نیوز ڈائریکٹر صاحبان سے ملا اور مباہلہ کے بارہ میں وضاحت کی۔ نیز جو کچھ احمدیوں کے پاکستان میں حالات ہیں ان کی تفاصیل بیان کیں ۔ نیز 6-7 اخبارات کے مختلف تراشے ایک پریس ریلیز، مباہلہ کی کاپیاں اور پاکستان میں جو احمدیت کے خلاف پروپیگنڈا ہو رہا ہے اس کے کاپیاں ڈائریکٹر صاحبان کو دی گئیں۔ انہوں نے کچھ سوالات بھی کئے……اس کے علاوہ یہاں کے کثیر الاشاعت اخبار ڈیٹن ڈیلی نیوز کے ساتھ رابطہ کیا اور انہیں بھی حالات بتائے۔ مگر انہوں نے دلچسپی کا اظہار نہیں کیا۔ البتہ ہمارے جلسہ سیرت النبی ﷺ کی خبر شائع کی۔

خاکسار نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ بعض اوقات ہم کوشش کرتے ہیں لیکن اخبارات پریس اور میڈیا اس میں دلچسپی نہیں لیتا۔ نہ لے، ہم نے اپنا کام کئے جانا ہے اور جب بار بار رابطہ کریں گے، بار بار ملاقات کریں گے، بار بار فون کریں گے تو ان کے دماغ اور ذہن میں ضرور آپ کے بارہ میں آئے گا۔ اور پھر ایک دن ان شاء اللہ آپ کی خبر شائع ہو جائے گی۔ ہمت نہیں ہارنی، بد دِل اور مایوس نہیں ہونا۔ اپنی پوری کوشش اور دعا ہو تو نتیجہ اللہ تعالیٰ نکالے گا۔

کلیولینڈ کے بارہ میں خاکسار نے اپنی رپورٹ اکتوبر 1988ء میں لکھا:
کلیو لینڈ کے اخبارات سے بھی رابطے کی کوشش کی گئی۔ مگر انہوں نے کوئی دلچسپی نہیں لی۔ البتہ مکرم نسیم رحمت اللہ صاحب صدر جماعت کلیو لینڈ نے ضیاء کے مرنے پر ایک خط وہاں کےاخبارات کو لکھا انہوں نے وہ خط بھی شائع نہیں کیا۔ خاکسار نے ان سے وہ خط لے لیا تھا چنانچہ نیو ڈیٹن ڈیفنڈر کے ایڈیٹر کے پاس خاکسار گیا اور انہیں وہ خط دیا جسے انہوں نے مضمون کی شکل دے کر شائع کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا۔ چنانچہ یہ مضمون شائع ہوا۔ چنانچہ خاکسار کو مکرم محترم مبارک احمد صاحب ساقی مرحوم ایڈیشنل وکیل التبشیر لندن نے 27 مارچ 1989ء بحوالہ T2047 اس مضمون کے بارہ میں یوں تحریر کیا:

مکرم سید شمشاد احمد ناصر۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ

’’آپ کی طرف سے ارسال کردہ The New Dayton Defender کا تراشہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں موصول ہوا۔ جس میں جماعت کا تعارف شائع ہوا ہے اور ایک خط ڈاکٹر نسیم رحمت اللہ صاحب کا بھی طبع ہو اہے۔ حضور نے فرمایا: جزاک اللہ۔ اس بات کی خوشی ہے کہ جماعت کی مساعی او ر لٹریچر کے بارہ میں پورے صفحہ پر مشتمل یہ مضمون اخبار نے لکھا ہے۔ الحمدللہ ۔ اللہ تعالیٰ آپ کی مساعی میں برکت ڈالے۔‘‘

والسلام خاکسار
مبارک احمد ساقی
ایڈیشنل وکیل التبشیر لندن

ریڈیو پروگرام۔ اسی رپورٹ میں ریڈیو پروگرام کے عنوان سے خاکسار نے حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی خدمت میں لکھا کہ :
’’مباہلہ کی اشاعت ریڈیو پر بھی کرنے کی کوشش کی گئی اور وہ اس طرح کہ مکرم برادر شکور صاحب کے ذریعہ ایک ریڈیو سٹیشن پر رابطہ ہوا۔ انہوں نے مباہلہ کے بارہ میں ان کو مواد بھجوایا اور مکرم برادر مظفر احمد ظفر صاحب کا انٹرویو رکھا۔ مکرم برادر مظفر صاحب نے اسلام کے بارے میں تعارف کرایا۔ ریڈیو پر انٹرویو لینے والے اناؤنسر نے کافی سوالات اسلام کے بارہ میں کئے۔ مگرمباہلہ کے بارہ میں سوال نہ کیا۔ اس پروگرام کی خصوصیت یہ تھی کہ دوران انٹرویو ہر شخص سوال پوچھ سکتا تھا چنانچہ خاکسار نے فوراً ہی فون پر مکرم برادر مظفر صاحب سے مباہلہ کے بارہ میں سوال کیا۔ یہ سوال ریڈیو پر بھی اسی وقت نشر ہو رہا تھا۔ چنانچہ مکرم برادر مظفر صاحب نے مباہلہ کی تفصیلات بتائیں۔ خاکسار نے پھر دوسرا سوال احمدیت کے بارے میں کیا اور پھر مکرم برادر مظفر صاحب نے احمدیت کا تعارف بھی کرایا۔ ہمارے احمدی بھائی مکرم عبدالشکورصاحب نے اخبار کے حوالہ سے پوچھا کہ احمدی سیرت النبی ﷺ کا جلسہ کر رہے ہیں اس بارہ میں معلومات دیں۔

چنانچہ مکرم مظفر صاحب نے جلسہ سیرت النبی ﷺ کا پروگرام بھی ریڈیو پر بتایا اور اس طرح ریڈیو پر احمدیت، مباہلہ اور ہمارے جلسہ سیرت النبی ﷺ کا پروگرام بھی ہزاروں آدمیوں نے سنا۔ الحمدللہ علی ذالک‘‘

کولمبس اوہایو کے اخبار میں انٹرویو:
کوشش کی گئی تھی کہ کولمبس میں پریس کانفرنس ہو۔ پہلے تو وہاں کےاخبارات نے مثبت جواب دیا مگر جب وقت آیا تو انہوں نے جواب دے دیا کہ ہم فارغ نہیں ہیں۔ لیکن کولمبس ہی کے ایک کثیر الاشاعت اخبار کولمبس ڈسپیچ نے کہا کہ آپ ہمارے دفتر میں ہی آجائیں۔ چنانچہ خاکسار ان کے دفتر چلا گیا اور ایک گھنٹہ سے زائد کا انٹرویو دیا۔ خاکسار نے مباہلہ کے بارہ میں جس قدر میرے پاس مواد تھا پمفلٹ جماعت کے بارے میں تعارف وہ سب کچھ ان کو دیا۔ خیال تھا کہ یہ مباہلہ کے بارے میں ہماری خبر دیں گے۔ مگر مباہلہ کے بارہ میں کچھ شائع نہ کیا بلکہ کولمبس میں جماعت کے بارے میں (جو کہ نئی جماعت حال ہی میں بنی تھی) ہمارے عقائد اور پاکستان میں احمدیوں پر مظالم کے بارے میں انہوں نے مضمون شائع کر دیا۔ اور پھر خاکسار کے انٹرویو کے بعد کولمبس میں ہی مسلمانوں کے دوسرے گروہ سے مل کر بھی کچھ معلومات حاصل کیں۔ کولمبس میں مسلمانوں کے گروہ کے صدر مسٹر سہیل خان صاحب نے جو انہیں جواب دیا تھا اس سلسلہ میں خاکسار نے ایک صفحہ پر مشتمل خط لکھ کر کولمبس ڈسپیچ کے ایڈیٹر صاحب کو بھجوا دیا اور اخبار کی معرفت ہی مکرم سہیل صاحب کو بھی ایک کاپی مباہلہ کی بھجوا دی۔ اس سے قبل بھی انہیں مباہلہ کی کاپی بطور پوسٹ بھجوا دی گئی تھی ۔ جو انہیں مل گئی تھی۔

یہاں کئی باتیں سوچنے والی ہیں۔ نمبر ایک ہمیں اپنا کام کرتے رہنا چاہئے اس بات کی قطعاً فکر نہیں کرنی چاہئے کہ ہماری خبر یا مضمون شائع نہیں ہوا۔ اپنا کام، کوشش ہے اور دعا ہے بس!

دوسرے خاکسار کو یہ احساس ہوا کہ ضیاء کی عبرت ناک موت جس کا حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے بار بار ذکر کیا اور مباہلہ کی دعوت دی اس کی موت پر غالباً امریکہ کے تمام سیاسی حلقے، پریس اور میڈیا خاموش رہا ہے۔ یہ ان کی کوئی سیاسی چال معلوم ہوتی تھی۔

تیسرے یہ کہ اصل کام تو پیغام حق پہنچانے کا ہے وہ کسی صورت میں بھی ہو تے رہنا چاہئے اگر انہوں نے مباہلہ کی خبر تو شائع نہ کی لیکن جماعت کی خبر تو شائع ہو گئی۔

چوتھے یہاں کے اخبارات اور پریس کی ایک اور اچھی بات یہ ہے کہ وہ ہر دو کا نقطہ نگاہ معلوم کر کے عوام تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ صرف ایک طرف یا یکطرفہ کارروائی نہیں کرتے جس طرح پاکستان میں ہورہا ہے۔ وہ صرف غیرازجماعت کی خبریں اور باتیں شائع کریں گے۔ جماعت احمدیہ کا نقطہ نگاہ نہ پوچھتے ہیں نہ معلوم کرتے ہیں اور نہ ہی بیان کرتے ہیں۔ یہ صحافت کا فرق نمایاں ہے۔ مغرب کا اور پاکستانی صحافت کا۔ پاکستان میں احمدیوں پر ہر قسم کی پابندی ہے اور ہمارے مخالفوں کو ہر طرح آزادی ہے کہ وہ صرف اپنا نقطہ نظر ہمارے خلاف بیان کریں۔ ہمیں جواب دینے کا موقع نہیں دیتے اور یہی ان سب کی سب سے بڑی کمزوری معلوم ہوتی ہے۔ ان کے پاس ہمارے دلائل کا جواب نہیں ہے۔

خاکسار نے اپنی اکتوبر کی رپورٹ میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی خدمت میں اس امر کا بھی اظہار کیا کہ عرصہ زیر رپورٹ میں مباہلہ کی 475 کاپیاں اور انگریزی زبان میں مباہلہ کی 30 کاپیاں بذریعہ پوسٹ لوگوں کو بھجوائی گئیں یہ کاپیاں ڈیٹن اور کولمبس کے گردو نواح میں بھجوائی گئی تھیں۔

Marfressboro۔ مرفریس برو،ڈیٹن سے قریباً پونے چار سو(375) میل ہے۔ خاکسار نے اپنی فروری 1989ء کی رپورٹ میں لکھا: یہاں پر خاکسار دورہ پر گیا اور یہاں کے ایک بڑے اخبار The Daily News Jornal (دی ڈیلی نیوز جرنل) کے ایک رپورٹر سے مل کر وقت لیا۔ انہیں اپنی صد سالہ جوبلی (1989ء۔1889ء) کے بارہ میں تفصیلات بتائیں اور اس کے بعد ان کے ساتھ مسلسل رابطہ بھی رکھا گیا۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مربی جہاں متعین ہو وہاں پر تو موجودگی کی وجہ سے پریس اور میڈیا سے جب چاہے رابطہ کر کے وقت لے سکتا ہے۔ لیکن اسے اپنی دیگر جماعتوں (جو بھی ان کے سپرد ہوں) یعنی ریجن کی جماعتوں میں بھی پریس اور میڈیا سے رابطہ رکھنے اور رابطہ کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ بعض اوقات تو معلوم ہوتا ہے کہ اخبار کے ایڈیٹر کو اور نہ ہی کسی رپورٹر کو اسلام کے بارہ میں کچھ بھی معلومات ہیں وہ اسلام اور مسلمان کو اچھا نہیں سمجھتے۔ بلکہ پوچھتے ہیں کہ اسلام کیا ہے اور مسلمان کیا ہے دونوں میں کیا فرق ہے، وغیرہ۔

پھر جہاں آپ کسی ایڈیٹر سے ملتے ہیں یا رپورٹر سے ملتے ہیں اس کا نمبر ضرور لیں یا آجکل ای میل چلتی ہے۔ اسے بار بار یاد دہانی کرانی چاہئے تا اسے معلوم ہو کہ آپ اپنی خبر کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں گویا یہ خبر آپ کی بہت اہمیت کی حامل ہے۔ اگرچہ ایک دو دفعہ وہ انکار بھی کرے، نہ بھی شائع کرے۔ آخر ایک دن وہ ضرور خبر شائع کرے گا۔ اس کے لئے مستقل مزاجی ہمت اور یاددہانی اور پھر دعا کرتے چلے جانا چاہئے۔ برکت اور کامیابی اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔

بدنام زمانہ سلمان رشدی کے بارہ میں انٹرویو۔ گزشتہ تحریر میں آپ نے پڑھا ہو گا کہ گستاخ رسول سلمان رشدی نے جو کتاب لکھی اور اس پر جو تمام مسلمانوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑی اس پر ڈیٹن کے سب سے بڑے اخبار ’’ڈیٹن ڈیلی نیوز‘‘ کے رپورٹر نے فون پر خاکسار کو سلمان رشدی کی کتاب کے بارہ میں انٹرویو کے لئے کہا۔ خاکسار نے جواب دیا کہ آپ میرے مشن ہاؤس تشریف لائیں اور تسلی کے ساتھ بیٹھ کر باتیں پوچھیں۔ چنانچہ وہ اگلے دن مشن ہاؤس آئے اپنے آنےسے پہلے انہوں نے اخبار کا فوٹو گرافر بھی بھجوایا جس نے احمدیہ مسجد (مسجد فضل) مشن ہاؤس، دفتر وغیرہ کی مختلف تصاویر لیں پھر وہ خود آئے اور ایک گھنٹہ 10 منٹ سے زائد کا انٹرویو لیا۔ چنانچہ 15 مارچ کےا خبار میں انہوں نے خاکسار کے انٹرویو کی فرنٹ پیج پر تصویر کے ساتھ خبر دی۔ خاکسار نے اس کا ذکر اپنی رپورٹ محررہ یکم مارچ تا 16 مارچ 1989ء میں کیا۔ اسی رپورٹ میں خاکسار نے مزید لکھا کہ ڈیٹن ہی میں اسی اخبار (ڈیٹن ڈیلی نیوز) کے دوسرے رپورٹر جس کے ساتھ خاکسار کا پہلے ہی سے رابطہ تھا اور انہیں صد سالہ جوبلی کے بارے میں پروگرام اور جماعت کے متعلق تعارف پر مبنی لٹریچر دیا ہوا تھا (یاد رہے کہ جماعت احمدیہ کی صدسالہ جوبلی کے موقعہ پر جماعت نے مختلف قسم کا لٹریچر معلومات کے لئے شائع کیا تھا) انہوں نے بھی فون کر کے انٹرویو لینا چاہا۔ خاکسار نے انہیں بھی مشن ہاؤس آنے کی دعوت دی، انہوں نے کہا کہ میرے پاس اس وقت گاڑی نہیں ہے چنانچہ خاکسار انہیں خود جا کر اپنی گاڑی پر مشن ہاؤس لے آیا اور½ 1گھنٹہ انٹرویو ہوا۔ یہ اخبار دو لاکھ پچاس ہزار کی تعداد میں شائع ہوتا ہے۔ خداتعالیٰ کےفضل سے ہماری صد سالہ جوبلی کے پروگراموں کی خبر بہت عمدہ طو رپر اس اخبار نے شائع کی۔

ڈیٹن میں ہی ٹی وی اور ریڈیو سٹیشن سے رابطے کئے اور انہیں 23 اور 25 مارچ 1989ء کے پروگراموں میں شرکت کی دعوت دی۔

پٹس برگ میں 3 اخبارات کے دفاتر میں جا کر جوبلی کی خبریں اور معلومات دی گئیں۔

صد سالہ جشن تشکر کی رپورٹ۔ خاکسار نے 28مارچ 1989ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی خدمت اقدس میں صد سالہ جشن تشکر جماعت احمدیہ ڈیٹن مڈ ویسٹ کی ریجنل رپورٹ بھجوائی۔ جس میں لکھا: 25 مارچ کو ڈیٹن میں ریجنل جلسہ ہوا جس میں ڈیٹرائٹ سے کثیر تعداد میں احمدی احباب خداتعالیٰ کے فضل سے شامل ہوئے۔ اسی طرح کلیو لینڈ، کولمبس اور ایتھنز سے بھی احباب نے شرکت کی۔ جلسہ کی 400 کے قریب حاضری رہی۔ 150 غیراز جماعت شامل ہوئے۔ علاقہ کے میئر نے بھی شرکت کی اور Proclamation بھی پڑھا اور تقریر کی۔ نیز انہوں نے جماعت کی خدمات کو بھی سراہا۔ سٹیٹ ڈسٹرکٹ کے نمائندہ نے بھی شرکت کی اور تقریر کی۔ جلسہ میں 3 تقاریر ہوئیں ایک ڈاکٹر محمد سوہنا صاحب آف گیمبیا نے جو ڈیٹرائیٹ سے تشریف لائے تھے حضرت مسیح موعودؑ کی سیرت و سوانح پر تقریر کی ۔مکرم ڈاکٹر سید جعفر علی صاحب نے حضرت مسیح موعود ؑ کی پیشگوئیوں پر، برادر مظفر احمد صاحب صدر جماعت ہیوسٹن نے حضرت مسیح موعودؑ کے روحانی انقلاب پر، خاکسار نے جلسہ کی صدارت کی اور آخر میں ریمارکس دیئے۔

اس موقعہ پر حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کا پیغام ٹی وی پر موجود احباب کو دکھایا اور سنایا گیا۔

یہ پیغام ریڈیو اور ٹی وی اور پریس کو بھی بھجوایا گیا اس کے ساتھ پریس کٹ بھی بھجوائی گئی۔

صد سالہ جوبلی کے بارہ میں ڈیٹن کے سب سے بڑے اخبار (ڈیٹن ڈیلی نیوز) نے انٹرویو لیا تھا۔ اخبار نے اپنے سیکنڈ فرنٹ پیج پر خبر دی۔ الحمدللہ

اسی طرح مرفریس بروٹینیسی سٹیٹ کے اخبار The Daily News (دی ڈیلی نیوز جرنل) کو بھی جوبلی کے بارے میں میٹریل مہیا کیا گیا۔ اس نے بھی بڑی اچھی خبر دی۔

خاکسار نے لعین سلمان رشدی کا ذکر کیا تھا اس کی کتاب پر جو خاکسار کا انٹرویو ہوا تھا وہ 3 مرتبہ ڈیلی ڈیٹن نیوز میں شائع ہوا۔

فروری 1990ء کی رپورٹ میں خاکسار نے حضورؒ کی خدمت میں لکھا کہ:
’’ڈیٹن ڈیلی نیوز کو ’’احمدیوں پر مظالم کی داستان‘‘ کے عنوان سے مرکز کی طرف سے ایک شائع شدہ کتاب مہیا کی اور سٹاف رائٹر سے رابطہ کر کے اس کی اشاعت کے بارہ میں کہا گیا۔‘‘

ڈیٹن ڈیفنڈر اخبار کے ایڈیٹر کے ساتھ رابطہ کیا گیا کیونکہ ان کے سٹاف کے کچھ لوگ تبدیل ہو گئے تھے۔ ان کے دفتر جا کر 45 منٹ تک سب نئے سٹاف کے لوگوں سے گفتگو، تعارف اور تعاون کی اپیل کی گئی۔

ایک اور اخبار۔ زینیا گزٹ سے پہلی مرتبہ رابطہ کیا گیا۔ (خداتعالیٰ کے فضل سے یہ رابطہ مسلسل رہا اور اس اخبار نے ہماری خوب کورج دی اور جو خبر اور پریس ریلیز انہیں بھجوایا گیا اسے شائع کیا اور انٹرویوز لئے۔ خصوصاً گلف کرائسس کے بارے میں جماعت احمدیہ کا نقطہ نظر اس نے شائع کیا۔ الحمدللہ)

(باقی آئندہ بدھ ان شاء اللہ)

٭…٭…٭

(مولانا سید شمشاد احمد ناصر ۔ امریکہ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 27 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 28 اکتوبر 2020