• 30 نومبر, 2021

معاشرے میں جب برائیوں کا احساس مٹ جائے

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں :
’’معاشرے میں جب برائیوں کا احساس مٹ جائے تو ایسے معاشرے میں رہنے والا ہرشخص کچھ نہ کچھ متاثر ضرور ہوتا ہے اور اپنے نفس کے بارے میں، اپنے حقوق کے بارے میں زیادہ حساس ہوتا ہے اور دوسرے کی غلطی کو ذرا بھی معاف نہیں کرنا چاہتا، چنانچہ دیکھ لیں، آج کل کے معاشرے میں کسی سے ذرا سی غلطی سرزد ہو جائے تو ایک ہنگامہ برپا ہو جاتا ہے چاہے اپنے کسی قریبی عزیز سے ہی ہو اور بعض لوگ کبھی بھی اس کو معاف کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ اور اسی وجہ سے پھر خاوند بیوی کے جھگڑے، بہن بھائیوں کے جھگڑے، ہمسایوں کے جھگڑ ے، کاروبار میں حصہ داروں کے جھگڑے، زمینداروں کے جھگڑے ہوتے ہیں حتیٰ کہ بعض دفعہ راہ چلتے نہ جان نہ پہچان ذرا سی بات پہ جھگڑا شروع ہو جاتا ہے۔ مثلاً ایک راہ گیرکا کندھا رش کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے ٹکرا گیا، کسی پر پاؤں پڑ گیا تو فوراً دوسرا آنکھیں سرخ کرکے کوئی نہ کوئی سخت بات اس سے کہہ دیتا ہے پھر دوسرا بھی کیونکہ اسی معاشرے کی پیداوار ہے، اس میں بھی برداشت نہیں ہے، وہ بھی اسی طرح کے الفاظ الٹا کے اس کو جواب دیتا ہے۔ اور بعض دفعہ پھر بات بڑھتے بڑھتے سر پھٹول اور خون خرابہ شروع ہو جاتا ہے۔ پھر بچے کھیلتے کھیلتے لڑ پڑیں توبڑے بھی بلاوجہ بیچ میں کود پڑتے ہیں او رپھر وہ حشر ایک دوسرے کا ہو رہا ہوتا ہے کہ اللہ کی پناہ۔ اور اس معاشرے کی بے صبری اور معاف نہ کرنے کا اثر غیر محسوس طریق پر بچوں پر بھی ہوتا ہے، گزشتہ دنوں کسی کالم نویس نے ایک کالم میں لکھا تھا کہ ایک باپ نے یعنی اس کے دوست نے اپنے ہتھیار صرف اس لئے بیچ دئیے کہ محلے میں بچوں کی لڑائی میں اس کا دس گیارہ سال کا بچہ اپنے ہم عمر سے لڑائی کر رہا تھا کچھ لوگوں نے بیچ بچاؤ کروا دیا۔ اس کے بعد وہ بچہ گھر آیا اور اپنے باپ کا ریوالور یا کوئی ہتھیار لے کے اپنے دوسرے ہم عمر کو قتل کرنے کے لئے باہر نکلا۔ اس نے لکھا ہے کہ شکر ہے پستول نہیں چلا، جان بچ گئی۔ لیکن یہ ماحول اور لوگوں کے رویے معاشرے پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ اور معاشرے کی یہ کیفیت ہے اس وقت کہ بالکل برداشت نہیں معاف کرنے کی بالکل عادت نہیں، اور یہ واقعہ جو میں نے بیان کیا ہے پاکستان کا ہے لیکن یہاں یورپ میں بھی ایسے ملتے جلتے بہت سے واقعات ہیں جن کی مثالیں ملتی ہیں۔ بعض دفعہ اخباروں میں آ جاتا ہے۔ تو جب اس قسم کے حالات ہوں تو سوچیں کہ ایک احمدی کی ذمہ داری کس حد تک بڑھ جاتی ہے۔ اپنے آپ کو، اپنی نسلوں کو اس بگڑتے ہوئے معاشرے سے بچانے کے لئے بہت کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘

(خطبہ جمعہ 20فروری 2004ء بحوالہ الاسلام ویب سائٹ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 27 اکتوبر 2021

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ