• 4 دسمبر, 2021

صداقت کا پرچم اُٹھائے ہوئے ہیں

قدم کارواں سے ملائے ہوئے ہیں
صداقت کا پرچم اُٹھائے ہوئے ہیں
تمہارے نشانے پہ آئے ہوئے ہیں
ستم سَہ کے بھی مسکرائے ہوئے ہیں
بگاڑیں گیں کیا یہ مخالف ہوائیں
زمیں پر قدم ہم جمائے ہوئے ہیں
ہمی روشنی کا سب ہیں جہاں میں
ہمی ظلمتِ شب مٹائے ہوئے ہیں
بھٹک جائے رستہ نہ کوئی یہاں اب
چراغِ ہدیٰ ہم جلائے ہوئے ہیں
کبھی تم بھی بیٹھوں گے چھاؤں میں اِس کی
شجر اُلفتوں کے اُگائے ہوئے ہیں
دعاؤں کے ہم لے کے ہتھیار بشریٰؔ
مقابل پہ دشمن کے آئے ہوئے ہیں

(بشریٰ سعید عاطف۔ مالٹا)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 27 اکتوبر 2021

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ