• 27 جنوری, 2021

مصائب، مشکلات، صبر و استقامت اور اس کا اجر

اللہ تعالیٰ نے جب سے روحانی دنیا بسائی اور اصلاح خلق کے لئے انبیاء علیہم السلام کا سلسلہ جاری فرمایا تب سے انبیاء علیہم السلام اور اُن کے ماننے والوں کی مخالفت کا سلسلہ جاری ہے۔ ان انبیاء کو نہ ماننے والوں کی طرف سے شدید مخالفت اور مخاصمت کا سامنا رہا۔ ان انبیاء کے تبلیغ کے راستے روکے گئے‘ ان کے راستوں پر کانٹے بچھائے گئے۔ ان میں سے بعض کو آروں سے چیرا گیا۔ ان کے ماننے والوں کا سماجی بائیکاٹ کیا گیا۔ مشکلات کی آندھیاں چلیں۔ ان پر مصائب کے پہاڑ توڑے گئے۔ کیا کیا ظلم تھے جو ان پر نہ ڈھائے گئے ہوں۔ اپنے ہی عزیزوں سے دور کر دیا گیاالغرض ان کے الہٰی پیغام کو روکنے کے لئے دشمنوں اور معاندین نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ان تمام تکلیف دہ حالات میں ان اللہ کے پیاروں نے استقامت دکھلائی۔ صبرو شکر سے وقت گزارا۔ ذرا بھر بھی اپنی تعلیمات سے انحراف نہ کیا۔

ایک دفعہ صحابہ ؓ نے آنحضرت ﷺ سے اپنی تکالیف کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ سے سختیوں کے دن ختم کرنے کے لئے دعا کی درخواست کی۔ آپؐ نے فرمایا:
’’تم سے پہلے ایسا انسان بھی گزرا ہے جس کے لئے مذہبی دشمنی کی وجہ سے گڑھا کھودا جاتا اور اس میں گاڑ دیا جاتا۔ پھر آرا لایا جاتا اور اس کے سر پر رکھ کر اُسے دو ٹکڑے کر دیا جاتا لیکن وہ اپنے دین اور عقیدے سے نہ پھرتا اور بعض اوقات لوہے کی کنگھی سے مومن کا گوشت نوچ لیا جاتا۔ ہڈیاں اور پٹھے ننگے کر دیئے جاتے مگریہ ظلم اس کو اپنے دین سے نہ ہٹا سکتا‘‘۔

(بخاری کتاب المناقب)

آنحضورﷺ نےایک دفعہ اپنے انبیاء بھائیوں میں سے ایک کا ذکر فرمایا کہ اس نبی کو قوم نے مارا اور زخمی کر دیا وہ نبی اپنے چہرے سے خون پونچھتا جاتا اور کہتا جاتا کہ اے اللہ! میری قوم کو بخش دے کیونکہ یہ نہیں جانتے اور اپنی جہالت کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں۔ (غالباً حضور ؐ کا ارشارہ اپنی طرف ہی تھا)

(بخاری کتاب الانبیاء)

اللہ تعالیٰ نے اس مخالفت، تنگی، دشواری اور تکلیفوں کے سبب ان انبیاء اور ان کے ماننے والوں کو سرخرو فرمایا‘ غیر معمولی ترقیات سے نوازا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ اصول ہے کہ سختی اور تلخی کے بعد اللہ تعالیٰ انعامات سے نوازتا ہے۔ سونا بھٹی سے گزر کر ہی کندن بن کر خوبصورت زیورات کی شکل اختیار کرتا ہے۔ ہیرا تراشے جانے کے بعد ہی چمک دکھلاتا اور کسی کی انگشتری کی زینت بنتا ہے۔ ایک عورت کی گود مشکل اور کٹھن مرحلہ سے گزر کر ہی اولاد سے ہری ہوتی ہے۔ ایک طالب علم اپنے آپ کو جان جوکھوں میں ڈال کر ہی سالانہ امتحان میں کامیابی حاصل کرتا ہے۔ اس اصول کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مختلف جگہوں پربیان فرمایا ہے، جیسے فرمایا اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا (الم نشرح:7) کہ یقینا تنگی کے ساتھ آسائش آنے والی ہے۔

پھر ایک جگہ پرفرمایا:

اَلَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا

(الملک : 2)

ترجمہ:وہی جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل کے اعتبار سے بہترین ہے۔

حضرت سفیانؓ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ سے سوال کیاکہ مجھے اسلام کی کوئی ایسی بات بتائیں کہ اس کے بعد مجھے کسی اور سے پوچھنے کی ضرورت نہ ہویعنی میری پوری تسلی ہو جائے۔ آنحضور ﷺ نے جواباً فرمایا کہ تم اللہ پر ایمان لانے کے بعد اس بات پر پکے ہو جاؤ اور اس ایمان باللہ پر استقلال کے ساتھ قائم رہو۔

(مسلم کتاب الایمان)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:

اسلام چیز کیا ہے خدا کے لئے فنا
ترک رضائے خویش پئے مرضی خدا

کہ کسی نبی پر ایمان لانے کا مطلب ہی اپنے آپ کو خدا کے لئے فنا کر دینا ہے۔ جو تکالیف اور مشکلات کے مراحل سے گزر کر ہی حاصل ہوتا ہے۔

آئیں! دیکھتے ہیں کہ روحانی دنیا میں نیک اور روحانی بندوں کو مشکلات اور امتحان کے ذریعہ جب آزمایا گیا تو پھر ان مصائب کو برداشت کرنے کے سلسلہ میں کون کون سی ترقیات، فتوحات اور انعامات سے بطور اجر نوازے گئے اور دشمنوں کو کیفرکردار تک پہنچایا گیا۔

سب سے پہلے حضرت ابراہیم ؑ کو دیکھتے ہیں۔ آپؑ کو کنعان کی زمین کو خیر آباد کہنا پڑا۔ان ابتلاؤں سے ہی گزر کر آپ کو ابوالانبیاء ؐ کے لقب سے پکارا گیا۔آپؑ اور آپؑ کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانیوں اور اَسْلِمْ کے جواب میں اَسْلَمْتُ لِرَبِّ العَالَمِیْنَ کہنے اور اللہ کی پوری پوری اطاعت کرنے کے عوض اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفی ﷺ کی مبارک صورت میں عظیم نبی کا تحفہ سارے عالم کو عطا فرمایا۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنے نہ ماننے والوں کی طرف سے مقدس زمین سے دیس نکالا دیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے اس قربانی کے بدلے فرعون کی غرکابی کا معجزہ دکھلایا۔

آنحضورﷺپر کون کون سے مظالم نہ ڈھائے گئے کہ ان کو دیکھ کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ آپؐ پر پتھر پھینکے گئے، آپؐ کے راستے پر کانٹے بچھائے گئے۔ آپؐ کا گلا دبایا گیا۔ آپؐ کے اوپر اونٹ کی بچہ دانی پھینکی گئی۔ آپؐ پر سڑک کا کوڑا کرکٹ بھی پھینکا گیا۔ اور آپؐ کے صحابہ کو عرب کی تپتی ریت پر لٹایا گیا۔ دہکتے کوئلوں پر کھڑا رہنے پر مجبور کیا گیا۔ آپؐ کے صحابہؓ کو شعب ابی طالب میں محصور کر دیا گیا۔مخالف سمت اونٹوں سے باندھ کر صحابیات کو چیرا گیااور کئی صحابہ اور صحابیات نے جام شہادت نوش فرمایا۔

حدیث میں آتا ہے کہ آنحضورﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں جتنا مجھے ڈرانے کی کوشش کی گئی۔ کسی اور کے لئے ایسی کوشش نہیں ہوئی اور راہ مولیٰ میں جتنی اذیت مجھے دی گئی اتنی کسی اور کو نہیں دی گئی۔

(جامع ترمذی ابواب الذھد)

حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں:
’’رسول اللہ ﷺ کی تیرہ سالہ زندگی جو مکہ میں گزری۔ اس میں جس قدر مصائب اور مشکلات آنحضرت ﷺ پر آئیں ہم تو اس کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔ دل کانپ اٹھتا ہے جب ان کا تصور کرتے ہیں۔ اس سے رسول اللہ ﷺ کی عالی حوصلگی، فراخ دل، استقلال اور عزم و استقامت کا پتہ لگتا ہے کیسا کوہ وقار انسان ہے کہ مشکلات کے پہاڑ ٹوٹے پڑتے تھے مگر اس کو ذرا بھی جنبش نہیں دے سکتے۔ وہ اپنے منصب کے ادا کرنے میں ایک لمحہ سست اور غمگین نہیں ہوا۔ وہ مشکلات اس کے ارادے کو تبدیل نہیں کر سکیں‘‘۔

(ملفوظات جلد اول ص 516)

ان تمام اذیت ناک تکالیف کو نہایت صبر و شکر کے ساتھ برداشت کرتے ہوئے صحابہ اپنے ایمان پر استقامت دکھلاتے ہوئے آگے سے آگے بڑھتے چلے گئے اور منہ پر کوئی شکایت لائے بغیر اپنے روحانی آقا و رہنما و پیشوا حضرت محمد مصطفی ﷺ کی تعلیم کو حرز جان بنایا۔

ان تکالیف کو برداشت کرنے کے صلہ میں سرکار دو عالم حضرت محمد مصطفی ﷺ کو الہٰی دنیا تک تمام مخلوقات کے لئے رحمۃ العالمین اور خاتم النبین بنا دیا گیا۔ اور آپ کے صحابہ کو رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَ رَضُوْاعَنْہُ کے مبارک سرٹیفیکیٹ سے نوازا۔

قیصر روم نے آنحضور ﷺ کو زندہ پکڑ کر لانے کے لئے اپنا سفیر عرب بھیجا۔ اللہ تعالیٰ نے اسی رات اس کے ہلاک ہونے کی خبر حضرت محمد ﷺ کو دی۔ حضرت محمد ﷺ اگر مکہ سے نہ نکالے جاتے تو إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا کے الفاظ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے فتوحات کی نوید کیسے سنائی جاتی۔ اور اسلام آپؐ کے مختصر سے دَور میں عرب سے عجم تک نہ پھیلتا۔

آج کے مامور زمانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے ماننے والوں کو تمام سابقہ انبیاء بالخصوص سیدنا، امامنا، آقا ومولانا حضرت محمد مصطفی ﷺ کی اقتداء میں گزشتہ 130سال سے مخالفت کاسامنا ہے۔ یہ درحقیقت اُسی مخالفت کا تسلسل ہے جو کفار مکہ نے آنحضور ﷺ اور آپؐ کے صحابہ کی تھی۔

مولوی تاج محمد ناظم اعلیٰ ختم نبوت بلوچستان نے احمدیوں کے خلاف ایک مقدمہ میں 21دسمبر 1985ء کو اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ کی عدالت میں یہ بیان ریکارڈ کروایا:
’’یہ درست ہے کہ یہ اسلام کی تعلیمات کے مطابق ہر آدمی کو آزادی ہے کہ وہ مذہب پر عمل کرے۔ میں تحفظ ختم نبوت کا ناظم اعلیٰ ہوں ۔ یہ درست ہے کہ ختم نبوت نے اپنا مذہبی فریضہ سمجھا ہوا ہے کہ جس احمدی کو کلمہ لگایا ہوا دیکھے تو اسے توہین اسلام کے مرتکب ہونے کے جرم میں پکڑے اور اسی سلسلے میں ملزمان (اسیران کوئٹہ) کو ہم نے پکڑا۔ مجھے کسی غیر مذہب کے ہاتھ میں قرآن دیکھ کر جوش نہیں آتا البتہ اس کے سینے پر کلمہ لگا ہوا ہو تو اُس وقت میرا دل چاہتا ہے کہ اس کو قانون کے حوالے کرے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق کوئی بھی غیر مذہب لا الہ اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ کا بیج نہیں لگا سکتا۔یہ درست ہے کہ حضورﷺ کے زمانے (میں) جو آدمی نماز پڑھتا تھا، آذان دیتا تھا یا کلمہ پڑھتا تھا اس کے ساتھ مشرک یہی سلوک کرتے تھے جواب ہم احمدیوں سے کر رہے ہیں‘‘

جماعت احمدیہ کے خلاف مخالفت اور تلخیوں کا دَور آج بھی جاری ہے۔ یہ مخالفت اب انفرادی نہیں رہی۔ اس میں مختلف فرقے، جمعیتیں، جماعتیں بلکہ حکومتیں بھی شامل ہو گئی ہیں۔ لیکن یہ پودا خود اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھوں سے لگایا ہے،جس کی حفاظت بھی خود اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجانے، مکھی کی طرح مسل دینے اور پیشاب کے زور سے قادیان کو بہا دینے کا دعویٰ کرنے والے کہاں ہیں۔ ان کا نام و نشان مٹ چکا ہے۔

1991ء میں جب حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ خلافت پر متمکن ہونے کے بعد پہلی بار قادیان تشریف لے گئے تو آپ نے ایک وفد بٹالہ بھجوایاتھا تا وہاں کے قبرستانوں میں مولوی محمدحسین بٹالوی کی قبر تلاش کر سکیں مگر بسیار کوشش کے نام و نشان تک نہ ملا تھا۔ اس شخص کا جو بٹالہ اسٹیشن پر قادیان کا رُخ کرنے والوں کو روکا کرتا تھا جبکہ اس کے بالمقابل قادیان سے اٹھنے والی ایک آواز 130سالوں میں 30کروڑ سے بڑھ چکی ہیں۔ اور 60 کروڑ آنکھیں حضرت محمد مصطفی ﷺ پر نچھاور ہونے کے لئے موجود ہیں۔

1934ء میں جماعت احمدیہ کی مخالفت کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے تحریک جدید بطور انعام کے عطا کی جس کے ذریعہ دنیا بھر میں مشن ہاؤسنر، مساجد کی تعمیر کے علاوہ مربیان کرام کی ترسیل اور قرآن کریم کے مختلف زبانوں میں تراجم کا کام جاری ہے۔

1953ء میں جماعت احمدیہ کی مخالفت کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے وقف جدید کا تحفہ جماعت کو عطا فرمایا۔ جس کے ذریعہ پاکستان میں خیبر سے کراچی تک تعلیم و تربیت، اصلاح احوال اور دعوت الی اللہ کا کام ہورہا ہے اور خلافت رابعہ میں اس کا دائرہ کار ساری دنیا تک پھیلا دیا گیاہے۔

1974ء کی مخالفت کی جب منصوبہ بندی مخالفین کی طرف سے ہورہی تھی تو اللہ تعالیٰ نے صد سالہ جوبلی کا تحفہ دیا۔ جس کے تحت سو سالہ جشن پوری آب وتاب کے ساتھ منایا گیااور اسلام کی تمام دنیا بھر میں خوب تشہیر ہوئی۔ نیز احمدی احباب کے ہجرت کا سلسلہ شروع ہوا۔ جن کی وجہ سے نہ صرف خاندان مالی لحاظ سے مضبوط ہوئے بلکہ چندوں میں بھی بہت اضافہ دیکھنے کو ملا اور جماعت مالی لحاظ سے مضبوط ہوئی۔

اور 1984ء کی مخالفت کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے خلیفۃ المسیح کو مغربی دنیا میں پہنچا کر جماعت احمدیہ کے لئے ایک نئے era کا انتظام فرما دیا۔ اور اسلام احمدیت ایک دفعہ پھر پوری شان و شوکت کے ساتھ دنیا میں پھیلنے لگا۔ایم ٹی اے کی نعمت جماعت کو عطا ہوئی جس سے خلیفۃ المسیح اور احباب کے درمیان رابطہ مضبوط ہوا۔ عالمی سربراہوں سے ملاقاتوں میں تیزی آئی۔ مساجد کی تعداد ہزاروں میں دیکھتے ہی دیکھتے جا پہنچی۔ مبلغین و معلمین کا جال ساری دنیا میں پھیلا۔ جامعات بڑی تیزی کے ساتھ دنیا بھر میں قائم ہوئے۔ خلیفۃ المسیح کے پارلیمنٹس سے خطاب اور عالمی رہنماؤں کو امن کے پیغام بڑی تیزی سے پہنچائے جانے لگے۔ جماعت احمدیہ کے جلسہ ہائے سالانہ کی تعداد میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوا۔ 1891ء میں پہلے جلسہ سالانہ میں 75احباب نے شرکت کی اور اب 75سے زائد ممالک میں یہ جلسے بڑی شان کے ساتھ منعقد ہوتے ہیں۔ جماعت کے مخالفت کرنے والے دو جابر سربراہوں میں سے بھٹو کو پھانسی اور ضیاء الحق کو طیارے کے حادثے میں پرخچے اُڑا کر عبرت کا نشان بنا دیا۔

ایسا کیوں ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک موقع پر بیان فرمایاتھا کہ ایک دفعہ لیمپ میں پانی ملے تیل سے پانی اور تیل میں بحث جاری تھی۔ پانی کہہ رہا تھا کہ میں صاف ستھرا ہوں لوگ مجھے اپنی پاکی کے لئے استعمال کرتے ہیں حتی کہ وضو کرتے ہیں۔ تم گدلے ہو تم سے بدبو آرہی ہے پھر تم میرے سے اوپر کیوں ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تیل کو زبان عطا کی اور وہ یوں گویا ہوا کہ میں چھوٹا سرسوں کا بیج تھا۔ زمین پر پھینک دیا گیا کچھ میرے ساتھیوں کو چڑیا چگ گئیں۔ کسی ساتھی نے ابھی زمین سے سر نکالا ہی تھا کہ وہ تیز ہواؤں اور بارشوں کی نذر ہو گیا یا کوئی پرندہ اُسے کھا گیا۔ جو کچھ بچ گئے ان میں، مَیں بھی شامل تھا۔ سورج کی تپش میں مَیں پلا بڑھا مجھے کاٹ کر دھوپ میں ڈال دیا گیا۔ پھر کوہلوں میں ڈال کر پیسا گیا اور تیل کی شکل اختیار کر گیا۔ ابھی بھی مجھے چین سے نہ بیٹھنے دیا گیا بلکہ مجھے آگ لگا کر جلایا جا رہا ہے۔ کیا اتنی مشکلات اور تکلیفیں اٹھانے کے بعد بھی میرا حق نہیں بنتا کہ میں تمہارے اوپر آؤں؟

پس اے احمدی بھائیو! تم اوپر آنے اور دنیا پر مسلط ہونے اور حکمرانی کرنے کے لئے پیدا کئے گئے ہو۔ کچھ وقت درکار ہے، انتظار کرو، اور بس انتظار کرو اور دعائیں کرو اللہ تعالیٰ وہ دن بہت جلد لائے گا جب تمہاری حکمرانی ہوگی اور تم سیدنا حضرت محمد مصطفی ﷺ کی طرح یہ کہہ رہے ہو گے کہ جوکوئی خانہ کعبہ میں داخل ہو گیا وہ امن میں ہوگا۔ جو فلاں کے جھنڈے تلے آیا وہ امن میں ہے۔ جس نے خلافت احمدیہ کی امان حاصل کر لی وہ امن میں ہو گا بس

تندہی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے

ایک فارسی مقولہ ہے:

آوازسگاں کم نہ کند رزق گدا گر

کہ کتوں کے بھونکنے سے گداگر کے رزق میں کمی نہیں آتی۔

ہم احمدی بھی تو اللہ تعالیٰ کے درکے گداگر ہیں۔ جس طرح ایک گداگر، فقیر کسی کے گھر جا کر دھونی رما بیٹھتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بھی اپنے اللہ کے در کے گداگر ہو کر اس سے مانگیں، دعائیں کریں، استغفار کریں۔ا س پر توکل کریں۔ اس پر بھروسہ کریں، اس سے کبھی نااُمید نہ ہوں۔

عدّو جب بڑھ گیا شور وفغاں میں
نہاں ہم ہو گئے یار نہاں میں

اوراس میں دوسرابڑا سبق یہ ہے کہ جماعت احمدیہ کے حق میں اللہ تعالیٰ کے انعامات بصورت رزق کے کبھی کمی نہیں آئے گی۔ بلکہ جہاں انعامات میں بڑھوتی ہو گی وہاں جماعت احمدیہ بڑھے گی۔ پھیلے گی، پھولے گی۔ دنیا کی کوئی طاقت ہمیں روک نہیں سکتی۔

کہتے ہیں کہ فزکس کا یہ اصول ہے۔ جو Lavity کا اصول کہلاتا ہے

The more you press more will rise

جتنی زور سے ربڑ کی گیند کو زمین پر پٹکو گے یہ اتنا ہی اونچا جائے گی۔

ایک حدیث میں آتا ہے کہ آنحضور ﷺ نے صحابہ کی مشکلات اور مصائب دیکھ کر ان کو مخاطب ہو کر فرمایا کہ
’’اللہ تعالیٰ اس دین اسلام کو ضرور کمال اور اقتدار بخشے گا یہاں تک کہ اس کے قائم کردہ امن وامان کی وجہ سے ’’صنعاء‘‘ (یمن کا دارلخلافہ اور فیڈرل ایریا ہے)سے ’’حضر موت‘‘ (یمن کا مشہور علاقہ) تک اکیلا شُتر سوار چلے گا۔ اللہ کے سوا اسے کسی کا ڈر نہ ہو گا۔ بھیڑیا اور بکریوں کی رکھوالی کرے گایعنی وہ لوگ جو اس وقت وحشی ہیں (مخالفت اور ایذاء دے رہے ہیں ان کی نسلیں) تربیت پا کر دنیا کے والی اور رکھوالے بنیں گے لیکن تم جلد بازی دکھا رہے ہو‘‘

(بخاری کتاب المناقب)

آج بھی ہم میں سے بعض لوگ دشمنوں کی تکالیف اور مصائب اور ایذاء رسانیوں کو دیکھ کر مَتٰی نَصۡرُ اللّٰہِ کی آواز میں بلند کرتے ہیں۔ ان کے لئے اس حدیث میں پیغام ہے کہ جلد بازی نہ کریں اور اَلَانَصْرُاللّٰہِ قَرِیْبٌ کی صدا سننے کے لئے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں۔ دعاؤں میں جُت جائیں۔ اپنی اصلاح کریں۔ اپنی کمزوریوں کو دُور کریں اور روزانہ اپنا محاسبہ کریں۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’جو شخص چاہتا ہے کہ صحت و عافیت بھی رہے۔ مال و دولت میں بھی ترقی ہو اور ہر طرح کے عیش و عشرت کے سامان اور مالی و جانی آرام بھی ہو، کوئی ابتلاء بھی پیش نہ آوے پھر یہ کہ خدا بھی راضی ہو جائے وہ ابلہ ہے وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ جن لوگوں پر خدا راضی ہوا وہ طرح طرح کے امتحانوں میں ڈالے گئے اور مختلف قسم کے مصائب اور شدائد سے ان کا سامنا ہوا‘‘

ایک دفعہ ایک شخص حضرت ابو بکر ؓ کو آنحضور ﷺ کی موجودگی میں بُرا بھلا کہہ رہا تھا۔حضرت ابو بکر ؓ چپ رہے اور حضورؐ بیٹھے مسکراتے رہےاور تعجب کرتے رہے جب اس شخص نے گالیاں دینے میں حد کر دی تو ابو بکرؓ نے بھی جواباً کچھ الفاظ کہے۔ جس پر حضور ؐ ناراضگی کے انداز میں اُٹھ کھڑے ہوئے اور چل پڑے۔ حضرت ابو بکرؓ نے عرض کی کہ حضورؐ! جب وہ مجھے گالیاں دے رہا تھا تو آپؐ سنتے رہے اور جب میں نے جواب دیا توآپؐ چلے آئے۔ آپؐ نے فرمایا کہ اے ابو بکرؓ! جب تک تم خاموش رہے فرشتے تمہاری طرف سے جواب دے رہے تھے لیکن جب تم نے جواب دیا تو فرشتے جگہ چھوڑ گئے اور شیطان آگیا۔ پھر میں اس جگہ پر کیسے بیٹھ سکتا تھا۔

(حدیقۃ الصالحین ص 796)

پس آج بھی فرشتے ہماری طرف سے جواب دے رہے ہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ اپنے خطبات جمعہ میں احباب کو دعاؤں کی طرف بلا رہے تھے۔آپ خطبہ جمعہ 21 اگست 2020ء میں فرماتے ہیں:
’’آجکل مخالفت پاکستان میں پھر زوروں پر ہے بلکہ ممبران اسمبلی بھی جھوٹی باتیں ہماری طرف منسوب کر کے عوام کے جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ غلط طور پر ان لوگوں کی غلط حرکات کو پیش کیا جاتا ہے جن کا جماعت سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے اور پھر پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ احمدی تھے حالانکہ وہ ان کا ان حرکت کرنے والوں کا جماعت سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ اسی طرح آجکل سستی شہرت کے لئے ہر گھسا پٹا انسان جو ہے وہ یوٹیوب پر جماعت کے خلاف اپنے پروگرام بنا کر اور غلط باتیں منسوب کر کے سمجھتا ہے کہ میں بڑا ثواب کا کام کر رہا ہوں حالانکہ نیک نیت نہیں ہیں وہ لوگ صرف اپنی سستی شہرت چاہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان شریروں کے شر ان پر الٹائے۔ان دنوں میں خاص طور پر پاکستان کی جماعت کو بھی دنیا میں بھی دعائیں ہمیں بہت زیادہ کرنی چاہئیں۔

رَبِّ کُلُّ شَیْءٍ خَادِمُکَ رَبِّ فَاحْفَظْنِیْ وَانْصُرْنِیْ وَارْحَمْنِیْ۔

ترجمہ: اے میرے رب! ہر چیز تیری خادم ہے۔ اے میرے رب!پس تو میری حفاظت فرمااورمیری مدد فرما اور مجھ پر رحم فرما۔

اَللّٰہُمَّ إِنَّا نَجْعَلُکَ فِیْ نُحُوْرِہِمْ وَنَعُوْذُ بِکَ مِنْ شُرُوْرِہِمْ بہت پڑھیں۔

ترجمہ نمبر1۔: اے اللہ! ہم تجھے ان کے سینوں میں ڈالتے ہیں اور ان کی شرارتوں سے تیری پناہ طلب کرتے ہیں۔

ترجمہ نمبر2۔: اے اللہ! تو ہی ان پر ایسا وار کر جس سے ان کی زندگی کا سلسلہ منقطع ہو جائے اور ہم ان کی شرارتوں سے بچ جائیں۔

(خطبہ جمعہ 30 مئی 2014ء)

درود شریف بہت پڑھیں

اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو محفوظ رکھے ان شریروں کے شر سے۔ جوں جوں یہ دشمنی بڑھ رہی ہے توں توں ہمیں زیادہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی طرف جھکنا چاہئے۔“

روزنامہ الفضل ہر سال دسمبر کے مہینے میں کسی نہ کسی موضوع پر سالانہ نمبر نکالتی رہی ہے۔ 2016ء کو ’’صبر و استقامت‘‘ کے عنوان پر نمبر تیار ہو رہا تھا کہ حکومت کی پابندی کی وجہ سے شائع نہ ہو سکا۔ مگر حضور نے اس کے لئے ایک پیغام بھجوایاجس میں آپ نے تحریر فرمایا:
’’دین کی خاطر صبر اور استقامت دکھانا بہت ہی بابرکت کام ہے۔ اور آج یہ وصف اللہ تعالی نے جماعت احمدیہ کو عطا فرمایا ہے۔ سب دنیا جانتی ہے کہ احمدی کس قدر سختیاں محض للہ برداشت کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ جب کوئی احمدی ہو تا ہے تو عزیز واقارب اور دوست تعلقات منقطع کر لیتے ہیں۔ ماحول میں نفرت پھیلائی جاتی ہے۔ معاشرتی بائیکاٹ کیا جاتا ہے۔ ہر طرح سے حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ ملکی قوانین بھی ایسے ہیں جس میں اختلاف عقیدہ کی بناء پر ان سے اپنے ہی ملک میں امتیازی سلوک روارکھا جاتا ہے۔ جھوٹے مقدمات میں ملوث کیا جاتا ہے اور کئی بے گناہ احمدی ابھی بھی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔ اب تک کون سا ظلم ہے جو احمدیوں پر ڈھایا نہیں گیا۔ جائیدادیں چھینی گئیں۔ آگیں لگائی گئیں۔ کاروبار لوٹے گئے۔ مارا پیٹا گیا یہاں تک کہ کتنے ہی احمدی اپنے دین اور عقائد کی حفاظت کرتے ہوئے راہ مولیٰ میں قربان ہو گئے۔ ایسے لوگ آسمان احمدیت کے روشن ستارے ہیں۔

یہ واقعات انفرادی بھی ہیں اور اجتماعی بھی جن میں سے نمایاں طور پر 2010ء کا وہ دکھ بھر اواقعہ ہے جب لاہور میں دو مقامات پر احمدیوں کو عین عبادت کرتے ہوئے بڑی بے دردی کے ساتھ جان سے مار دیا گیا۔ مگر اس مشکل وقت میں بھی وہاں پر موجود ہر احمدی کو ہ و قار بن کر صبر و استقامت کا نہایت شاندار نمونہ پیش کر تا رہا۔ اس وقت ان میں سے کوئی درود شریف کا ورد کر رہا تھا تو کوئی کلمہ پڑھ رہا تھا اور کوئی اپنے ساتھی کی ضرورت پوری کرنے میں مصروف تھا۔ وہ ذرا بھر بھی ڈگمگائے نہیں اور نہ ہی ان کے قدموں میں کوئی لغزش آئی بلکہ وہ احمدیت پر اپنے ایمان کو سچا ثابت کرتے ہوئے اپنے مولیٰ کے حضور حاضر ہو گئے۔ یہی وہ صبر و استقامت ہے جو خدا کے فضل سے سب دنیا میں جماعت کو کامیابیوں اور ترقیات سے ہمکنار کر رہا ہے۔ پس اے خدا کی خاطر دکھ سہنے والے وفا شعار احمد یو! تمہیں مبارک ہو کہ تم اس آسمانی نظام خلافت کے ساتھ منسلک ہو جس سے وابستگی کے نتیجے میں اللہ نے تمکنت دین اور خوفوں سے امن دلانے کے وعدے فرمائے ہیں۔ تم اپنے آپ کو اکیلا مت سمجھو۔ خلیفہ وقت کی دعائیں ہر دم آپ کے ساتھ ہیں۔ عرش کا خدا آپ کی قربانیوں کو ہر گز ضائع نہیں کرے گا اور وہ دن ضرور طلوع ہو گا جب آپ امن و سکون کے ساتھ اور مذہبی آزادی کے ماحول میں اپنے دین پر عمل کر سکیں گے۔‘‘

استغاثہ اللہ تعالیٰ پر ہے

جہلم سے کرم دین نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایک مقدمہ دائر کیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:
’’اب یہ ان لوگوں کی طرف سے ابتداء ہے کیا معلوم کہ خدا تعالیٰ ان کے مقابلہ میں کیا کیا تدابیر اختیار کرے گا۔ یہ استغاثہ ہم پر نہیں اللہ تعالیٰ پر ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ مقدمات کرکے تھکانہ چاہتے ہیں ۔ الہام اِنَّ اللّٰہ مَعَ عِبَادہٖ یُوَاسِیْکَ اسی کے متعلق اجتہادی طور پر معلوم ہوتا ہے اور ایسا ہی الہام سَاُکْرِمُکَ اِکْرَامًا عَجَبًا سے معلوم ہوتا ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد3 صفحہ61-62)

پچھلا پڑھیں

ماں کی محبت اور خدمت کا دعویٰ

اگلا پڑھیں

آج کی دعا