• 27 جنوری, 2021

فن لینڈ میں جلسہ سالانہ کی تاریخ

اللہ تعالیٰ کے سب سے پیارے یعنی آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں إِنَّ الْمُؤْمِنَ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا‘ (صحیح بخاری جلد اول، کتاب الصلاۃ، باب تشبیک 481) کہ مومن ایک دوسرے کی مضبوطی کا باعث ہوتے ہیں ۔ اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود ؑ کو پہلے ہی سے یہ خبر دے دی تھی کہ لوگ تیرے پاس جوق در جوق آئیں گے اور یہ کہ ان کی ملاقات سے تھکنا نہیں اسی وجہ سے اور اپنے متبعین کو صحبت صالحین اور خالص دینی اور روحانی ماحول مہیا کرنے کی غرض کی خاطر آپ علیہ السلام نے جلسہ سالانہ کے مبارک نظام کی بنیاد رکھی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل اور احسان سے 1891 ء میں شروع کیا جانے والا جلسہ سالانہ جو کہ قادیان میں چند سو شاملین کے ساتھ منعقد ہوا اب اُسی خدا کی رحمت اور خلافت کی برکات سے تمام دنیا کے اکثر ممالک میں پھیل چکا ہے اور اس دور میں صحیح اسلام کے پیروکار دنیا میں ہر جگہ جلسہ سالانہ کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کہ ’کونوا مع الصادقین‘ ( سور ہ التوبہ 119) یعنی صادقوں کی صحبت اختیار کرو پر عمل درآمد کرتے ہیں اور خاص روحانی فیض حاصل کرتے ہیں ۔

اس جلسہ کی عظمت الحمد اللہ تمام احمدیوں کے دلوں میں ہر جگہ ایسے راسخ ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس جلسہ کے شاملین کے لیئے کی جانے والی دعاوں سے حصہ پانے کی جستجو اتنی بڑھی ہوئی ہے کہ لوگ خاص اہتمام سے اور کوشش کر کے دور دور سے اس جلسہ میں شمولیت اختیار کرتے ہیں ۔

اللہ تعالیٰ کا نہایت شکر اور اس کا احسان ہے کہ اُس نے فن لینڈ جیسے دور دراز ملک کو بھی اپنی ان برکات سے محروم نہیں رکھا اور فن لینڈ میں جلسہ کی بنیاد اور ترقی بھی اصل میں جماعت احمدیہ عالمگیر کی ترقی کا ایک حسین نشان ہے۔

چونکہ خاکسار کو پہلے جلہ سالانہ سے 2017 ء تک مختلف حیثیتوں میں خدمت کرنے کی توفیق ملتی رہی اور فن لینڈ میں جلسہ سالانہ کی تدریجی ترقی کا شاہد رہا تو خاص طور پر ان دنوں جب کہ وبائی مرض کورونا کی وجہ سے جلسہ برطانیہ بھی منعقد نہیں ہو سکا اورتقریبا ہر ملک کے جلسہ سالانہ کینسل، ملتوی یا پابند ماحول میں ہو رہے ہیں نیز فن لینڈ میں بھی حضور انور اید ہ اللہ کی اجازت سے امسال کا جلسہ کینسل کرنا پڑا تو گزشتہ جلسہ جات کی یادوں نے ذہن اور دل کو گرما دیا اور انہیں جذبات کے اثر میں کچھ یادیں ، تاثرات اور احوال تحریرِ خدمت ہیں۔

1987ء کے جلسہ سالانہ یوکے کے موقع پرحضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمۃ اللہ نےپہلی دفعہ فن لینڈ میں احمدیت کے قیام کاعلان فرمایا اور محترم سید کمال احمد یوسف صاحب مبلغ انچارج ناروے اور مخلص داعیان الیٰ اللہ کے 2 دوروں کاذکر فرمایا جن کی کوششوں سے 15 افراد نے احمدیت اسلام میں شمولیت اختیار کی ۔

اس قیام کے بعد 2000 ء تک جب فن لینڈ میں باقاعدہ صدارت کا قیام عمل میں آیا تب تک گنتی کے 2۔4 افراد ہی موجود تھے اور جب خاکسار 2006 ء میں فن لینڈ پڑھنے کے لیے آیا تو اُس وقت ہم پورے فن لینڈ میں کم و بیش صرف دس لوگ ہوتے تھے اور اکژ مختلف شہروں میں پڑھ رہے تھے۔

خاکسار 2006 ء میں جب یوئینسوشہر میں جب پڑھنے کے لیے آیا جس کی سرحد ایک طرف سے روس کے ساتھ ملتی ہے۔ یہاں پڑھائی کا ایسا ذبردست نظام دیکھ کر پڑھنے کا ایسا دل کرتا تھا کہ مزہ ہی آ گیا۔ دن یونیورسٹی میں اور شامیں لائیبریریز میں گزرتیں، ویک اینڈ پر اکثر اگر گرمیاں ہوں تو دوستوں کی معیت میں ٹریکنگ، سائیکلنگ اور فارسٹ ایکسپلوریشن کے لئیے چل پڑتے اور سردیوں میں باربی کیو، گیٹ ٹو گیدر یا مختلف کلچر اور مذاہب کے لوگوں سے ملنے اور بات چیت میں صرف ہوتا ۔ مختلف لوگوں کو جاننے اور مختلف کلچرز اور مذاہب والوں سے گفتگو اور ان کو اپنے مذہب اسلام اور احمدیت کے بارے میں بتانے کا ایسا چسکا پڑا کہ شاموں کو لائیبریریز میں بتانے والے وقت کو ان پر قربان کر دیا۔

اُس وقت خاص طور پر اسلام کے بارے میں بہت کم علمی پائی جاتی تھی اور اکثر کلاس فیلوز احمدیہ اسلام کے بارے میں جان کر بہت حیرت کا اظہار کرتے تھے۔ بہرحال ان دلچسپیوں میں اور پڑھائی میں احمدیوں سے ملنے کا واحد وقت عیدین ہوا کرتا تھا۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہوا 2006 ء میں اُس وقت ہم پورے فن لینڈ میں کم و بیش صرف دس لوگ ہوتے تھے اور اکژ مختلف شہروں میں پڑھ رہے تھے۔ ایسے میں نماز عید کے لئیے راتوں کو سفر کر کے ہیلسنکی پہنچنا اور وہاں اپنے لوگوں سے مل کر ایسا دلی سکون ملتا تھا جس کی مثال ناپید ہے۔ اس دور میں ہم بیٹھ کر فن لینڈ میں احمدیت کی ترقی کی باتیں کر کے اور جلسہ سالانہ اور اجتماعات اور نماز سینٹر کے قیام اور مربی صاحب کی آمد وغیرہ کے بارے میں اور نا جانے کس کس مستقبل کی باتیں کر کے دل خوش کیا کرتے تھے۔ الحمد اللہ کہ اتنی جلد ان ترقیات کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر دل اللہ کی حمد اور اس کی قدرت پر جھوم اٹھتا ہے۔آہستہ آہستہ اور سال بہ سال اور احمدی بھائی پڑھائی کے لئیے فن لینڈ آتے رہے اور یہ کارواں کب اتنا بڑا بن گیا کہ پتا ہی نہ چلا۔ مجھے یاد ہے 2010 ء میں پہلی نیشل مجلس عاملہ کے انتخاب و منظوری کے بعد جب 2011 ء میں یہ فیصلہ ہو ا کہ ہم اپنا پہلا جلسہ سالانہ منعقد کریں گے توہر ایک کے چہرے پر اتنی خوشی تھی کہ بیان سے باہر ہے ۔ اُس وقت کےنیشنل صدر جماعت مکرم احمد فاروق قریشی صاحب نے حضور انور کی خدمت میں جلسہ کی منظوری کے لیئے لکھا اور حضور ِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز کی منظوری سے 2011 ء میں عید الاضحیٰ سے ایک روز قبل میں پہلا جلسہ سالانہ منعقد ہوا۔ خاکسار جو نیشل جنرل سیکریٹری کے طور پر خدمت کر رہا تھاکواس تاریخی جلسہ پر صدر صاحب کی زیر قیادت افسرجلسہ سالانہ کے طورخدمت سر انجام دینے کی سعادت نصیب ہویی ۔ حضور انور نے ازراہِ شفقت مشنری انچارج سویڈن مکرم آغا یحیٰ خان صاحب کو بطور اپنے نمائیندہ کے اس جلسہ میں شمولیت کی منظوری عطا فرمائی۔ مکرم و محترم سید کمال احمد یوسف صاحب سابق مشنری انچارج سکینڈینیویا جن کی محنت و قربانیوں نے فن لینڈ میں احمدیت کی بنیاد رکھی تھی کو بطور خصوصی مہمان جلسہ سالانہ پر مدعو کیا گیا۔ ، صدر صاحب کی معیت میں سب نے مل کر ہر ایک کام انجام دیا ، ہم نے سفید کپڑے پر کاغذ کے پرنٹس سے جلسہ سالانہ لکھا اور ایک چھوٹے سے کرایہ کے حال میں ہم نے اپنا پہلا جلسہ کیا۔

جلسہ سالانہ کی وسعت اور تدریجی موازنہ

جب فن لینڈ کی چھوٹی سی جماعت جو کہ 95 فیصد نوجوانوں پر مشتمل تھی کو اللہ تعالیٰ نے 2011 ء میں پہلے جلسہ سالانہ کرنے کے توفیق عطا فرمائی تووہ دن خاص خوشی کا حامل تھا تمام جماعت کے ممبران میں عجیب سی خوشی تھی کہ وہ دن آ گیا ہے جس کا برسوں سے انتظار تھا۔ یہ خاص جلسہ اس لحاظ سے خاص ہے کہ اس جلسے میں سب نے کیا عہدے دار، کیا افسر اور کیا غیر عہدے دار سب نے اتنے خلوص اور محنت سے اس میں شمولیت سے لے کر کاموں اور ڈیوٹیاں دیں کہ باہمی یگانگت ااور بھائی چارہ کی مثال تھا۔ اس موقع پر محترم سید کمال احمد یوسف صاحب (سابق مشنری انچارج سکینڈے نیویا ) اور محترم آغا یحیٰ خان صاحب نے بھی اس جلسہ بلکہ بعد میں بھی کئی بار کیا۔ اس وقت یہ جلسہ صرف ایک روز کا کیا گیا اور اس مقصد کے لیئے وہی ہال کرائے پر لیا گیا جو کہ عموما عید کے لیئے لیا جاتا ہے۔ جلسہ سے پہلے سب نے مل کر وقار عمل کے ذریعہ ہال کو تیار کیااور اس میں وقار عمل کر کے لجنہ کے حصے کے لیئے پارٹیشن تیار کی۔ شاملین کی کل تعداد 75تھی۔

اس جلسے کہ بعد حوصلہ اور ٹریننگ بھی بڑھ گیا اور اگلے سال دوسرا جلسہ سالانہ 2012ء ایک مقامی ہوٹل کے 2 ہال کرائے پر حاصل کر کے وہاں کیا گیا۔ اس جلسے پر ڈیوٹیوں کی تقسیم میں بہتری آئی اور تقاریر اور نظموں اور تلاوت کے لیئے تیاری کروائی گئی جس کی وجہ سے میعار پہلے سے بہتر رہا، اس جلسے پر پہلی دفعہ بیک گراونڈ بینر ڈیزائن کروا کے پرنٹ کروا یا گیا جبکہ پچھلے جلسہ پر پیپر پنٹینگ پر اکتفا کیا گیا تھا۔ کھانے کا انتظام باہر کے ریستورنٹس سے ہی کیا جاتا رہا جبکہ تقسیم کا کام احسن طریق پر جاری رہا۔ اس جلسے پر مردوں کے علاوہ خواتین کی رہائش کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔

2013 ء میں جماعت کو تیسرا جلسہ سالانہ کرنے کی توفیق حاصل ہوئی اور اس جلسے میں حاضری کی طرف خاص توجہ کی گئی جس کا نمایاں اثر جلسہ سالانہ پر نظر آیا ، ٹرانسپورٹ اور رہائش کے شعبوں میں بہتری آئی اور ممبران کو موٹیویٹ کیا گیا جس پر بہت لوگوں نے اپنی خدمات پیش کیں، کاموں کی تقسیم کار میں مزید بہتری آئی ، نیز اس جلسہ پرانگلش ٹرانسلیشن کے لیئے ایف۔ ایم ریڈیو کا استعمال پہلی دفعہ کیا گیا، بہت سے عارضی میٹرس اور گدے رہائش کے لیئے حاصل کیئے گئے ۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی افسر جلسہ سالانہ کی طرف سے انفورمیشن پیکج جماعت کے لیئے تیار کر کے بھجوایا گیا۔

2014 ء کا جلسہ سالانہ کئی لحاظ سے نئے پہلو لیئے ہوئے تھا، اس جلسے سے پہلے ہمارے اپنے مبلغ سلسلہ حضور انور اید ہ اللہ تعالیٰ نے منظور فرما لیے اور مکرم مصور احمد شاہد صاحب بطور مربی سلسلہ فن لینڈ تعینات ہو گے تھے۔ نیز اس جلسہ سالانہ پر پہلی دفعہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے اپنا خصوصی پیغام جماعت احمدیہ فن لینڈ کے نام ارسال فرمایا نیز محترم آغا یحیٰ صاحب کو بطور اپنا نمائیندہ کے بھجوایا۔ نو منتخب نیشل صدر مکرم عطا الغالب صاحب کی زیر قیادت جلسہ کے پروگرام اور تقاریر کے میعار میں مزید اضافہ ہوا اور اس جلسہ میں پہلی بار غیراحمدی؍ غیر مسلم مہمانوں کے لیئے ایک سیشن مختص کیا گیا اور اس میں لوگ اپنے اپنے تبلیغی رابطے لے کر آئے جو کہ بعد میں فن لینڈ میں پیس سمپوزیم کی ابتدا ثابت ہوا۔ اس پیغام کے ایک حصہ میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں۔ ’’سیدنا حضرت مسیح مو عود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جلسوں کی غرض و غا یت یہ بیان فر مائی ہے کہ تقویٰ میں تر قی ہو۔دل بکلّی آخرت کی طرف جھک جائیں۔ اللہ تعا لیٰ کی رضا کا حصول ہو ۔پس آ پ جو اس جلسہ کےلئے ہی سفر کر کے آ ئے ہیں ۔آپ ان اغراض و مقاصد کو اپنے پیشِ نظر رکھیں ۔ ایّامِ جلسہ میں دین کا علم حا صل کریں ۔ نیک ماحول کے ریزِ اثر رہ کر رو حا نیت میں تر قی کر نے کی کو شش کریں ۔اپنی زبانوں کو ذکرِ الہٰی سے تر رکھیں ۔ عبا دتوں کے معیار کو بڑھا ئیں اور اس معیار پر لانے کی کو شش کریں جو معیار اللہ اور اس کے رسول ﷺنے چا ہا ہے۔‘‘

2015 ء کا جلسہ کاموں اور پریکٹس کے لحاظ سے بہت ہی شاندار رہا اس جلسہ میں بہت سےشعبہ جات کی صحیح پریکٹس ہوئی ، پہلی بار مہمانوں کے لیئے 2 دنوں میں 2 دفعہ کا کھانا خود ضیافت کی ٹیم نے بنایا اور کھانا پکانے کے لیے چولہے خریدے گے۔ حاضری کا میعار بہت اچھا رہا اور رضاکارانہ طور پر پیش کرنے کا جذبہ لوگوں میں بڑھا۔ جلسہ کے دنوں میں فن کی تاریخ سے متعلق ایک انٹرویو سیسشن بھی خاکسار کو ارینج کرنے کا موقع ملا جس میں سابق نیشل صدرصاحب فن لینڈ، نیشل صدر صاحب فن لینڈ، مربی صاحب سلسلہ فن لینڈ ، محترم سید کمال احمد یوسف صاحب ناروے، مکرم مبلغ انچارج صاحب سویڈن اور شمس صاحب سویڈن شامل تھے ۔ اس سے پہلے اسی نوعیت کا انٹرویو سیشن 2014 ء کے جلسہ میں بھی خاکسار کو تاریخ محفوظ کرنے کے سلسلے میں ارینج کرنے کی توفیق ملی تھی۔

2015 ء کے جلسہ پر بھیجے گے پیغام کے ایک حصہ میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں ۔
’’اللہ تعا لیٰ کا جماعت احمدیہ پر بے حد فضل اور احسان ہے کہ اُس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے بعد خلافت کے نظام کو جا ری فر مایا جو قیا مت تک جا ری رہے گا ۔ ہم سب کا یہ فرض ہے کہ ہم اس نظام سے منسلک رہیں او راس نعمتِ عظمٰی سے چمٹے رہیں ۔ اسلام احمدیت کی مظبوطی اوراپنے تقویٰ میں تر قی کے لیئے خلافت سے خود بھی وا بسطہ ہوں اور اپنی اولادوں کو بھی اس سے وا بسطہ رہنے کی تلقین کریں اور ان کے دلوں میں خلیفہ وقت سے محبت پیدا کریں۔‘‘

  افسر جلسہ سالانہ افسر جلسہ گاہ افسر خدمت خلق افسر رابطہ
پہلا جلسہ سالانہ 2011 ء نیشنل صدر: مکرم احمد فاروق قریشی صاحب خاکسارطاہر احمد (نیشنل جنرل سیکریٹری) مکرم منیب احمد ڈوگر صاحب ( نیشنل سیکریٹری مال) مکرم شاہد محمود ڈوگر صاحب (صدر خدام الاحمدیہ)  
دوسراجلسہ سالانہ 2012 ء نیشنل صدر: مکرم احمد فاروق قریشی صاحب مکرم منیب احمد ڈوگر صاحب ( نیشنل سیکریٹری مال) خاکسارطاہر احمد (نیشنل جنرل سیکریٹری) مکرم شاہد محمود ڈوگر صاحب (صدر خدام الاحمدیہ) مکرم احمد قاسم صاحب (نیشنل سیکریٹری تبلیغ)
تیسرا جلسہ سالانہ 2013 ء نیشنل صدر: مکرم احمد فاروق قریشی صاحب خاکسارطاہر احمد (نیشنل جنرل سیکریٹری) مکرم احمد قاسم صاحب (نیشنل سیکریٹری تبلیغ) مکرم شاہد محمود ڈوگر صاحب (صدر خدام الاحمدیہ) مکرم عطاالغالب صاحب (نیشنل سیکریٹری تعلیم و تربیت)
چوتھا جلسہ سالانہ 2014 ء نیشنل صدر: مکرم عطا الغالب صاحب مکرم منیب احمد ڈوگر صاحب ( نیشنل سیکریٹری مال) مکرم احمد فاروق قریشی صاحب (نائب صدر و نیشنل سیکریٹری امور خارجیہ) مکرم شاہد محمود ڈوگر صاحب (صدر خدام الاحمدیہ)  
پانچواں جلسہ سالانہ 2015 ء نیشنل صدر: مکرم عطا الغالب صاحب خاکسارطاہر احمد (نیشنل جنرل سیکریٹری) مکرم مصور احمد شاہد صاحب (مربی سلسلہ ) مکرم بشارت الرحمٰن صاحب (صدر خدام الاحمدیہ و نیشنل سیکریٹری تعلیم و تربیت)  
چھٹا جلسہ سالانہ 2016 ء نیشنل صدر: مکرم عطا الغالب صاحب خاکسارطاہر احمد (نیشنل جنرل سیکریٹری) مکرم مصور احمد شاہد صاحب (نائب صدر و مشنری انچارج) مکرم بشارت الرحمٰن صاحب (صدر خدام الاحمدیہ و نیشنل سیکریٹری تعلیم و تربیت)  
ساتواں جلسہ سالان2017 ء نیشنل صدر: مکرم عطا الغالب صاحب خاکسار طاہر احمد (نیشنل جنرل سیکریٹری) مکرم مصور احمد شاہد صاحب (نائب صدر و مشنری انچارج) مکرم وقار جاوید صاحب( صدر خدام الاحمدیہ و نیشنل سیکریٹری وصایا)  

2016 ء کے جلسہ کے لیئے پھر ایک نئی جگہ لی گئی جس کی وجہ سے پلاننگ بہت مختلف رہی اور بہت اچھی پریکٹس رہی۔ دونوں دنوں کے لئیے کھانا خود تیار کیا گیا، ٹرانسپورٹ اور رہائش کے شعبے میں مزید بہتری لائی گئی۔ اس جلسہ سالانہ پر بھی جماعت کی خوش قسمتی رہی کہ حضور انور نے ہمیں اپنے پیغام سے نوازا۔

2016 ء کے جلسہ پر بھیجے گے اس پیغام کے ایک حصہ میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں ۔
’’اللہ تعا لیٰ کا آ پ پر یہ بھی احسان ہے کہ اس نے حضرت مسیح مو عود علیہ السلام کے فیض کو قیا مت تک جا ری رکھنے کے لیئے خلا فت کے سلسلہ کو قا ئم فر ما یا ہے ۔ عبا دات اور تقویٰ میں تر قی کے لیئے اس رو حا نی نظام سے وا بسطہ ہونا ضروری ہے۔ آ پ خلافت سے وا بستگی سے ہی رو حانی کا میا بیوں کے حا صل کر نے والے ہوں گے ۔ خلیفہ وقت سے ذا تی تعلق بنا نے اور اطا عت کے معیار کو بلند کرنے کیلئے کو شش اور جدو جہد کر تے رہیں ۔ خلیفہ وقت کے خطبات خود بھی سنیں اور اپنی اولاد کو بھی سنا ئیں ۔خلا فت سے گہری محبت ہو نی چا ہیئے اور اطا عت کا مثا لی رشتہ قا ئم ہو نا چا ہیئے ۔

للہ تعالیٰ آ پ سب کو خلافت احمدیہ کا سچا مطیع و فرمانبرادار بنائے۔ اللہ تعا لیٰ آ پ کو اپنے فضلوں کا وا رث بنا ئے ۔ آمین‘‘

2017 ء کا جلسہ اپنے انتظامات اور میچورٹی کی وجہ سے ایک بہت ہی ٓرگنائزڈ ایونٹ تھا، ہال کو مطلوبہ وقت پر واپس کرنا تھا جس کی وجہ سے بھرپور کوشش کر کے تمام کارکنان و افسران نے وائینڈ اپ میں حصہ لیا اور برادرانہ سپرٹ سے وقت پر بہترین حالت میں ہال واپس کر دیا۔ اس جلسہ میں 217 لوگ شامل ہوے جن میں 100 خدام و انصار، تقریبا60 لجنہ اور 40 سے زائد بچوں نے شرکت کی ان کے علاوہ 6 ملکوں سے مختلف مہمانان بھی شامل ہوے۔2011ء میں پہلے جلسہ میں سے2017ء میں ساتویں جلسہ میں 7 سال کے قلیل عرصہ میں جلسہ کے شاملین کی تعداد 75 سےبڑھ کر 217 تک جا پہنچی الحمد اللہ۔

2017 ء کے جلسہ پر الحمد اللہ ایک بار پھر ہمیں اپنے آقا اور حضور کی طرف سے پیغام موصول ہوا،بھیجے گے اس پیغام کے ایک حصہ میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں ۔

’’پس یہ اصل تقوی کی راہیں ہیں جو قرآن کریم کی روشنی میں حضرت اقدس مسیح موعودؑ نے ہمارے لئے بیان فرمائی ہیں۔ پہلے نفس امارہ کے برتن کو صاف کریں ۔ جب یہ صاف ہو جائے تو اس میں نیکیاں ڈالیں۔ بلند مراتب قرب الٰہی ان باتوں کے بعد ہی حاصل ہو سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ میں سے ہر احمدی کو نیکیوں اور زہد میں بڑھنے کی توفیق دے۔ اللہ آپ کو اپنے فضلوں کا وارث بنائے۔ خلافت احمدیہ جو حضرت مسیح موعود کے فیض کو جاری رکھنے کے لئے قیامت تک قائم کی گئی ہے اس سے کامل وفا کا تعلق پیدا کریں۔ اس سے آپ کی ہدایت کے سامان پیدا ہوں گے۔خلافت کی اطاعت اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ بنے گی۔‘‘

2018 ء میں نارڈک ممالک کا اکٹھا جلسہ سالانہ ناروے منعقد ہوا نیز 2019ء کا جلسہ سالانہ فن لینڈ بھی ہر جلسہ کی طرح برکتوں سے بھرا ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے اس انعام کو دیکھتے ہوئے اور اس حیثت کو دیکھتے ہوئے جو کہ پہلے جلسہ سالانہ میں تھی اور اب جس مقام پر پہنچ گئی ہے ، دل حمد کے جذبات سے بھر جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہمیں ان برکات سے حصہ لینے کی توفیق عطا فرماتا چلا جائے اور ہمیں حضرت مسیح موعودؑ کی دعاوں کا وارث بنائے ۔ آمین ۔ اللہ تمام خدمت گزاروں کی خدمت قبول فرمائے اور ان کو اپنا بنا لے۔ آمین

٭…٭…٭

(مرسلہ: طاہر احمد)

پچھلا پڑھیں

ماں کی محبت اور خدمت کا دعویٰ

اگلا پڑھیں

آج کی دعا