• 4 فروری, 2023

اے چھاؤں چھاؤں شخص! تیری عمر ہو دراز

ڈائری عابد خان سے ایک ورق
اے چھاؤں چھاؤں شخص! تیری عمر ہو دراز

ایک بہت جذباتی ملاقات

اللہ کے فضل سے میں مختلف ممالک میں کئی احمدیوں سے ملا ہوں اور گزشتہ چند سالوں کے ان کے تجربات سنے ہیں۔ تاہم میری ایک نہایت غیر معمولی اور جذباتی گفتگو Nagoya میں اس شام کوہوئی جب میں ایک انڈونیشین خاتون مکرمہ Ina Sakinnah Gunawem سے ملا۔

6؍فروری 2011ء کو ان کے شوہر ان تین احمدیوں میں سے ایک تھے ،جنہیں نہایت بے دردی سے اور ظالمانہ طریق پر انڈونیشیا کی گلیوں میں ایک مشتعل ہجوم نے شہید کردیا گیا تھا۔ اس دوران پولیس اور دیگر صاحبان اقتدار پاس کھڑے رہے مگر کوئی کاروائی عمل میں نہ لائی گئی۔مجھے ان حملوں کی چند ویڈیو کلپس یاد ہیں جو میں نے دیکھے تھے اور جن میں انسانیت کی سفاکانہ طور پر دھجیاں اڑائی گئی تھیں۔ مجھے یاد ہے کہ وہ ہو لناک مناظر دیکھنے کے بعد میری طبیعت نہایت بوجھل ہو گئی تھی۔

جب Ina صاحبہ سے میری ملاقات ہوئی تو ابتدا میں مجھے نہیں پتا تھا کہ وہ ان تین شہداء میں سے ایک کی بیوہ ہیں کیونکہ انہوں نےخود اپنا تعارف نہیں کروایا تھا۔ تا ہم 2011ء کے حملوں کے بعد انہوں نے دوبارہ شادی کرلی تھی اور اب وہ اپنے نئے خاوند کے ساتھ تھیں جنہوں نے مجھے ان کی گزشتہ کہانی سنائی۔ تب میں نے Ina صاحبہ سے ان کی زندگی کے بارے میں پوچھا جو انہوں نے اپنے سابق شوہر Tubaqus Chandra Mubarak شہید کے ساتھ گزاری تھی اور اب جو وقت ان کی شہادت کے بعد گزرا تھا۔ Ina صاحبہ نے بتایا کہ:
’’مبارک صاحب سے شادی کے بعد ایک لمبے عرصے تک میں امید سے نہ ہو پا رہی تھی لیکن الحمد لله شادی کے آٹھ سال بعد اللہ نے ہماری دعاؤں کو سنا اور میں امید سے ہو گئی۔ تاہم یہ اللہ کی رضا تھی کہ جب میں پانچ ماہ کی حاملہ تھی تو میرے شوہر کی شہادت ہوگئی۔ اس لئے انہیں اپنے بیٹے کو دیکھنے کا موقع نہ ملا۔‘‘

پھر انہوں نے ایک بچے کی طرف اشارہ کیا جو چند میٹر دور کھیل رہا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ان کا ’’معجزاتی بچہ‘‘ ہے جو ان کے شوہر کی شہادت کے چند ماہ بعد پیدا ہوا۔انہوں نے مجھے بتایا کہ جب وہ حاملہ ہوئیں توان کے شوہر نے انہیں کہا کہ ان کے بچے کو احمدیہ مشنری بننا ہے اور یہ کہ وہ دعا کرتی ہیں کہ ان کی یہ خواہش پوری ہو۔

Ina صاحبہ نے مجھے اپنے شوہر کی شہادت کے بارے میں بتایا کہ:
’’چونکہ میں امید سے تھی ۔اس لئے میں نے انہیں گھر پر رہنے کو کہا۔ مگر انہوں نے مجھے بتایا کہ یہ ان کا فرض ہےکہ وہ مسجد کی حفاظت کریں اس لئے وہ چلے گئے۔ کچھ دیربعد میں مجھے پتہ چلا کہ ان پر حملہ ہوا ہے اور وہ جانبر نہ ہو سکے۔ یہ سن کرمجھے نہ تو غصہ آیا اور نہ بےچینی ہوئی۔ میں مکمل پرسکون رہی۔ میں اس کیفیت کو بیان تو نہیں کر سکتی لیکن ایسا ہی تھا جو میں نے محسوس کیا یا جو اس وقت سے اب تک میں محسوس کر رہی ہوں۔‘‘

ہماری ملاقات کے دوران اس موقع پر Ina صاحبہ جذباتی ہوئیں جب انہوں نے اپنے شوہر کی شہادت کے بعد حضور انور کی شفقت اور محبت کا ذکر کیا۔ بہتے ہوئے آنسؤوں سے کہنے لگیں۔

’’جب میرے شوہر کی شہادت ہوئی مجھے حضور انور کی طرف سے ایک پیغام ملا کہ آپ نےفرمایا ہےکہ اگر مجھے کبھی بھی کسی چیز کی ضرورت ہو تو آپ کو بتاؤں۔ ہمارے لئے اتنی فکرمندی کے ساتھ حضور انور نے لوکل جماعت کو ہدایت فرمائی کہ میرے لیے ایک گھر کا انتظام کریں اور مالی معاونت بھی کریں۔ تاہم جب مجھے بتایا گیا تو میں نے جماعت کو بتایا کہ مجھے گھر یا پیسے نہیں چاہیئیں اور میں صرف پیارے آقا کی دعاؤں کی طلبگار ہوں۔ کیو نکہ حضور انور کی دعائیں میرے شامل حال ہیں اس لئے نہایت خوش قسمت ہوں۔ میں ہمیشہ حضور انور کی شفقت اور محبت کی وجہ سے ممنون رہتی ہوں۔ زندگی میں ہر لحاظ سے میں خوش اور مطمئن ہوں۔‘‘

Ina صاحبہ نے اپنی گفتگو کے اختتام پر مجھے اپنی ایک خواب سنائی اور یہ بھی کہ وہ کس طرح پوری ہوئی جو انہوں نے اپنے شوہر کی شہادت سے قبل دیکھی تھی۔ انہوں نے بتایا:
’’اپنے شوہر کی شہادت سے دوماہ قبل میں نے خواب میں دیکھا کہ وہ مجھے کہہ رہے ہیں کہ وہ اس بات کو بہتر سمجھتےہیں کہ جماعت میرا خیال رکھے بجائے اس کے کہ وہ رکھیں۔ اور پھر ان کی شہادت کے بعد حضور انور نے مجھے فرمایا کہ جماعت ہمیشہ میرا اور میری فیملی کا خیال رکھے گی۔ الحمد للّٰه‘‘

میری ملاقات Ina صاحبہ کے موجودہ شوہر سے بھی ہوئی جن سے انہوں نے پہلے شوہر کی شہادت کے بعد شادی کی تھی۔ ان کا نام بشارت احمد محمود تھا اور تعلق قادیان سے تھا۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ جب انہیں انڈونیشیا کے شہداء کے بارے میں علم ہوا تو ان کو یہ خواہش پیدا ہوئی کہ وہ ان شہداء میں سے کسی کی بیوہ سے شادی کریں۔ بعد ازاں انہوں نے مناسب وقت پر رشتہ بھجوایا جس کو Ina صاحبہ نے دعا کے بعد قبول کر لیا۔ موصوف ان کے شہید شوہر اور بیٹے کا بہت احترام اور محبت سے ذکر کرتے رہے۔

مکرم بشارت صاحب نے بتایا کہ:
’’میں نے دو سال کی عمر میں اپنے والد کو کھویا تھا اور میں ہمیشہ ایک کمی کا احساس اپنے اندر محسوس کرتا تھا۔ تا ہم Ina صاحبہ کے بیٹے نے تو پیدائش سے پہلے ہی اپنے والد کو کھو دیا ہے۔ اگرچہ میں اس کا حقیقی والد نہیں ہوں لیکن میں قسم کھاتا ہوں کہ میں اس سے محبت اور خیال رکھنے میں اپنے بچے سے زیادہ توجہ دوں گا۔‘‘

احمدیوں کے جذبات

ایک دوسرے دوست جن سے میں ملا وہ مکرم محمد ابراہیم صاحب (بعمر 24 سال) تھے۔ موصوف جاپان میں پیدا ہوئے اور پلے بڑھے۔ اب جامعہ احمدیہ کینیڈا کے پانچویں سال میں زیر تعلیم تھے۔ وہ جاپان کے تین طلباء میں سے ایک تھے جو جامعہ احمدیہ کینیڈا میں زیر تعلیم تھے۔ دورہ کے دوران ابراہیم صاحب میرے اچھے دوست بن گئے اور جاپانی غیر مسلموں سے ملاقات کے دوران بطورمترجم خدمات بجا لاتے رہے۔

حضور انور کے دورہ کی اہمیت کے بارے میں ابراہیم صاحب نے بتایا:
’’جاپان ایک ایسا ملک ہے جہاں بہت سے لوگ خدا پر ایمان نہیں رکھتے اور جھوٹے خداؤں کو پوجتے ہیں اس لئے میں ذاتی طور پر نہایت مشکور ہوں کہ حضور انور پوری دنیا میں دورہ فرماتے ہیں اور خدائے واحد کا پیغام پھیلاتے ہیں خاص طور پرحضور نے جاپانی قوم کے لئے بھی دوره فرمایا ہے۔‘‘

میری ملاقات ایک ملائیشئن نو مبائع مکرم Musa Masran صاحب (بعمر 56 سال) سے ہوئی۔ انہوں نے مجھے ملائیشیا آنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے بتایاکہ:
’’میں نے یہ سفر صرف اپنے روحانی لیڈر سے ملاقات کے لئے اختیار کیا ہے۔ کیونکہ میرے دل میں یہ خواہش تھی کہ اپنے خلیفہ کو دوبارہ دیکھوں۔ حضور انور کر دیکھنے کے بعد مجھے لگتا ہے کہ میں ریچارج ہو گیا ہوں اور میرے ایمان میں اضافہ ہوا ہے۔ میرے نزدیک صرف ایک لفظ ہے جس سے خلافت کو بیان کیا جا سکتا ہے اور وہ ہے ’’محبت‘‘۔ میرے اور خلافت کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ہے۔ ہماری محبت دو طرفہ ہے نہ کہ یک طرفہ جیسا کہ دنیاوی لیڈرز اور لوگوں کے درمیان ہوتی ہے۔‘‘

ایک بے ضرر ٹینس کورٹ

نماز مغرب و عشاء کی ادائیگی کے بعد واپسی پر رات 10 بجے حضور انور نے مسجد کے ساتھ ملحقہ ایک ٹینس کورٹ دیکھا جہاں دو جاپانی لڑکیاں کھیل میں مشغول تھیں۔

صدر صاحب جماعت کچھ پریشان لگ رہے تھے کہ حضور انور مسجد سے ملحقہ ٹینس کورٹ کو نماز میں خلل کی وجہ سے شایدنا پسند فرمائیں۔ غالباً حضور انور نے ان کے خیالات کو بھانپ لیا اور فرمایا :
’’اس میں کیا مسئلہ یا دقت ہے؟ آخر کار مسجد فضل لندن کے ساتھ بھی تو ایک ٹینس کورٹ ہے۔‘‘

وقف نو کلاس

19 نومبر 2015 کو حضور انور نے واقفین نو اور واقفات نو کی الگ الگ کلاسز کا انعقا د فرمایا۔ واقفین نوکی کلاس میں ایک نوجوان جاپانی بچے نے تلاوت کی لیکن بدقسمتی سے لوکل جماعت نے ترجمہ کا انتظام نہ کیا جیسا کہ بالعموم وقف نو کلاسز میں ہوتا ہے۔

اس پر حضور انور نے فرمایا ’’پروگرام میں ترجمہ کو شامل کرنا ضروری ہے ورنہ بچے کس طرح سمجھیں گے کہ کیا پڑھایا جا رہا ہے اور کیسے سیکھیں گے؟‘‘

میرا ذاتی خیال تھا کہ فوری طور پر ترجمہ کا انتظام اسی وقت کیا جا سکتا تھا۔ اگرچہ قرآن کریم کے ترجمہ کی کوئی کاپی نہ بھی ہوتی پھر بھی کئی احباب کے مو بائل پر یا Tablet کی مدد سے قرآن کریم کا ترجمہ لیا جا سکتا تھا۔ اس طرح alislam.org سے بھی مدد لی جا سکتی تھی۔

افسوس ہے کہ کلاس کے بعض دوسرے حصوں میں تیاری کی کمی نظر آئی۔ مثال کے طور پر جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض اقتباسات پیش گئے تو ان میں اردو تلفظ کی کئی اغلاط تھیں۔ تاہم کلاس کے آخر میں حضور انور نے انتظامیہ کو مخاطب ہو کرفرمایا کہ یہ بات نہایت اہم ہے کہ ایسی کلاسز کے لئے بچوں کو اچھی طرح تیاری کروائی جائے۔حضور انور نے فرمایا کہ بچوں کا قصور نہیں ہے کیونکہ ان سے توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ جملہ تلفظ درست طور پر ادا کر سکیں لیکن یہ دراصل بڑوں کی ذمہ داری ہے کہ انہیں پڑھائیں اور اچھی طرح تیاری کروائیں۔

حضرت مسیح موعودؑ کے لئے حضور انور کی تعظیم

دوران کلاس ایک خادم نے اردو نظم پڑھی جو حضور انور کے بارے میں لکھی گئی تھی۔ اس نظم میں الفاظ ’’امام الزمان‘‘ بھی استعمال کیا گیا تھا۔ جونہی یہ نظم ختم ہوئی حضور انور نے فرمایا کہ یہ اصطلاح امام الزمان صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے مستعمل ہے۔ اس لئے اس کو بدل دینا چاہئیے کیو نکہ یہ نظم خلیفہ وقت کے لئے ہے۔ حضور انور نے ایم ٹی اے کو ہدایت فرمائی کہ آن ائر کرنے سے پہلے اس حصہ کو بدل لیں۔

یہ حضور انور کی عاجزی اور آپ کی حضرت مسیح موعور علیہ السلام کے لئے تعظیم اور اکرام کی ایک مثال ہے۔ حضورانور نے پسند نہ فرمایا کہ کوئی بھی ایسی چیز آن ائر ہو جو (نعوذ بالله) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے مقام و مرتبہ کو کسی طرح سے بھی تذبذب میں ڈالے یا اس کے مخالف ہو۔

صدر صاحب مجلس خدام الاحمدیہ سے ملاقات

کلاس کے بعد میری ملاقات مکرم احسان رحمت اللہ صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ جاپان سے ہوئی۔ مکرم احسان صاحب کا تعلق انڈونیشیا سے ہے اور آپ کو حضور انور نے گزشتہ دورہ جاپان 2013ء میں صدر مجلس خدام الاحمدیہ مقرر فرمایا تھا۔

اپنے فرائض کی ادائیگی اور حضور انور کی قربت کی سعادت حاصل ہونے کے بارے میں مکرم احسان صاحب نے بتایا کہ:
’’گزشتہ چند دنوں میں مجھے حضور انور کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ مثال کے طور پر مجھے، حضور انور کی معیت میں لفٹ میں ساتھ رہنے کی سعادت نصیب ہوئی اور ایک موقع پر حضور نور نے میرا ہاتھ بھی پکڑا۔ ان لمحات میں مجھے ایسے لگا جیسے میں کسی الگ دنیا میں ہوں اور کسی روحانی دنیا میں ہوں۔‘‘

مکرم احسن صاحب نے مزید بتایا کہ:
’’حضور انور کی اقتداء میں جو پہلی نماز میں نے ادا کی وہ نہایت جذبات سے پر تھی۔ ابھی حضور انور نے تکبیر تحریمہ ہی کہی تھی کہ میں بے اختیار رونے لگا۔ یہ خیال کہ دنیا بھر کے لاکھوں احمدیوں میں سے ایک میں ہوں جس کو حضرت خلیفہ المسیح کی اقتدار میں نماز پڑھنے کا موقع مل رہا ہے، نہایت غیر معمولی تھا۔‘‘

(حضور انور کا دورہ جاپان نومبر 2015ء از ڈائری عابد خان)

(مترجم: ابو سلطان)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 26 نومبر 2022

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالی