• 23 جنوری, 2021

جماعت کی معمولی سی کوشش و کاوش ایسے حیرت انگیز نتیجے ظاہر کرتی ہے

جماعت کی معمولی سی کوشش و کاوش ایسے حیرت انگیز نتیجے ظاہر کرتی ہے جو ایک بے دین اور دنیا دار کی سینکڑوں سے زیادہ کوشش سے بھی ظاہر نہیں ہوتی

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
اس آیت میں جس کی مَیں نے تلاوت کی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اور ان لوگوں کی مثال جو اپنے اموال اللہ کی رضا چاہتے ہوئے اور اپنے نفوس میں سے بعض کو ثبات دینے کے لئے خرچ کرتے ہیں ایسے باغ کی سی ہے جو اونچی جگہ پر واقع ہو اور اسے تیز بارش پہنچے تو وہ بڑھ چڑھ کر اپنا پھل لائے اور اگر اسے تیز بارش نہ پہنچے تو شبنم ہی بہت ہو، اور اللہ اس پر جو تم کرتے ہو گہری نظر رکھنے والا ہے۔

یعنی جو لوگ چندہ دینے والے ہیں، صدقہ دینے والے ہیں ان کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا چاہنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر جو کچھ بھی تم خرچ کرو گے اور اس کی مخلوق کی خاطر جو کچھ بھی خرچ کرو گے وہ یقینا اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا باعث بنے گا۔ اس سے دین کو بھی مضبوطی حاصل ہو گی اور تمہارے دینی بھائیوں کوبھی مضبوطی حاصل ہو گی۔ پھر ایسے لوگوں کی مثال بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس سرسبز باغ کی طرح ہیں جو اونچی جگہ پر واقع ہو جہاں انہیں تیز بارش یا پانی کی زیادتی بھی فائدہ دیتی ہے۔ نچلی زمینوں کی طرح اس طرح نہیں ہوتا کہ بارشوں میں فصلیں ڈوب جائیں یا باغ ڈوب جائیں۔ یہ خراب نہیں ہو جاتے بلکہ وہ ایسے سیلابوں سے محفوظ رہتے ہیں اور زائد پانی نیچے بہہ جاتا ہے اور باغ پھلوں سے لدا رہتا ہے، اس کو نقصان نہیں پہنچتا۔ جو لوگ زمیندار ہیں زمیندارہ جانتے ہیں ان کو پتہ ہے کہ اگر پانی میں درخت زیادہ دیر کھڑا رہے تو جڑیں گلنی شروع ہو جاتی ہیں، تنے گل جاتے ہیں اور پودے مر جاتے ہیں۔ اور اسی طرح جو زمینیں پانی روکنے والی ہیں ان میں بھی یہی حال ہوتا ہے۔ تو بہرحال اس جذبہ قربانی کی وجہ سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ٹھہرو گے۔ یہ بڑھ چڑھ کر قربانی کرنے کا جذبہ پھر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی وجہ سے اور زیادہ پھل لانے کا، تمہارے اموال و نفوس میں برکت کا باعث بنتا ہے۔ اگر کبھی حالات موافق نہ بھی ہوں، بارشیں نہ بھی ہوں، تو بھی۔ اگر زیادہ بارشیں ہوں تو بھی نقصان دہ ہوتی ہیں اور کم بارشیں ہوں توبھی نقصان دہ ہوتی ہیں۔ لیکن ایک اچھی زرخیر زمین پر جو محفوظ زمین ہو، زیادہ بارشیں نہ بھی ہوں تو تب بھی ان کو ہلکی نمی جو رات کے وقت پہنچتی رہتی ہے یہ بھی فائدہ دیتی ہے۔ تو فرمایا کہ اگر ایسے حالات بہتر نہیں بھی تو تب بھی اللہ تعالیٰ تمہاری اس قربانی کی وجہ سے جو تم اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے کر رہے ہو تمہاری تھوڑی کوششوں میں بھی اتنی برکت ڈال دیتا ہے کہ پھلوں کی کوئی کمی نہیں رہتی۔ اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور برکتوں کی کوئی کمی نہیں رہتی۔ تمہارا کسی کام کو تھوڑا سا بھی ہاتھ لگانا اس میں برکت ڈال دیتا ہے کیونکہ تمہاری نیت یہ ہوتی ہے کہ مَیں نے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنی ہے اس کی خاطر خرچ کرنا ہے۔

جماعتی طور پر بھی اگر دیکھیں تو بڑی بڑی رقمیں چندوں میں دینے والے تو چند ایک ہی ہوتے ہیں۔ اول تو اگر دنیا کی امارت کا آج کا معیار لیا جائے تو جماعت میں اتنے امیر ہیں ہی نہیں۔ لیکن پھر بھی جو زیادہ بہتر حالت میں ہیں وہ چند ایک ہی ہوتے ہیں۔ اور اکثر جماعت کے افراد کی تعداد درمیانے یا اوسط درجے بلکہ اس سے بھی کم سے تعلق رکھتی ہے۔ تو ایسے لوگوں کی جو معمولی سی قربانی کی کوشش ہوتی ہے وہ جماعتی اموال کو اتنا پانی لگا دیتی ہے کہ اس سے نمی پہنچ جائے جتنا شبنم کے قطرے سے پودے کو پانی ملتا ہے۔ لیکن کیونکہ یہ رقم نیک نیتی سے دی گئی ہوتی ہے اس لئے اس میں اتنی برکت پڑتی ہے جو دنیا دار تصور بھی نہیں کر سکتا۔ جماعت کی معمولی سی کوشش و کاوش ایسے حیرت انگیز نتیجے ظاہر کرتی ہے جو ایک بے دین اور دنیا دار کی سینکڑوں سے زیادہ کوشش سے بھی ظاہر نہیں ہوتی۔ صرف اس لئے کہ غیر مومنوں کے اعمال کی زمین پتھریلی ہے۔ اور ایک مومن کے دل کی زمین زرخیز اور تقویٰ کے اونچے معیاروں پر قائم ہے۔ اور اس تقویٰ کی قدر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ ان قربانی کرنے والوں کو انفرادی طور پر بھی نوازتا ہے اور جماعتی طور پر بھی ان کی جیب سے نکلے ہوئے تھوڑی سی رقم کے چندے میں بھی بے انتہا برکت پڑتی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی تو تمہارے دل پہ بھی نظر ہے اور تمہاری گنجائش پر بھی نظر ہے۔ وہ جب تمہاری قربانی کے معیار دیکھتا ہے تو اپنے وعدوں کے مطابق اس سے حاصل ہونے والے فوائد اور ان کے پھل کئی گنا بڑھا دیتاہے۔ اور یہی جماعت کے پیسے میں برکت کا راز ہے جس کی مخالفین کو کبھی سمجھ نہیں آ سکتی۔ کیونکہ ان کے دل چٹیل چٹانوں کی طرح ہیں، پتھروں کی طرح ہیں جن میں نہ زیادہ بارش نہ کم بارش برکت ڈالتی ہے۔ برکت ان میں پڑ ہی نہیں سکتی۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والوں کا ہی خاصہ ہے اور آج دنیا میں اس سوچ کے ساتھ قربانی کرنے والی سوائے جماعت احمدیہ کے اور کوئی نہیں اور یقینا یہی لوگ قابل رشک ہیں۔ اور اللہ کے رسولؐ نے ایسے ہی لوگوں پر رشک کیا ہے۔

ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا دو شخصوں کے سوا کسی پر رشک نہیں کرنا چاہئے۔ ایک وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور اس نے اسے راہ حق میں خرچ کر دیا، دوسرے وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے سمجھ، دانائی اور علم و حکمت دی جس کی مدد سے وہ لوگوں کے فیصلے کرتا ہے اور لوگوں کو سکھاتا ہے۔

(بخاری -کتاب الزکوٰۃ -باب انفاق المال فی حقہ)

تو یہ علم و حکمت بھی ایک نعمت ہے۔ ہمارے مخالفین جو ہر وقت اس بات پر پیچ و تاب کھاتے رہتے ہیں کہ جماعت کے افراد چندہ کیوں دیتے ہیں۔ چندہ ہم اپنی جماعت کو دیتے ہیں، تمہیں اس سے کیا؟کبھی یہ شور ہوتا ہے کہ فلاں دکانداروں کا بائیکاٹ ہو جاتا ہے کہ ان سے چیز نہیں خریدنی کہ وہ جو منافع ہے اس پہ چند دے دیں گے۔ تمہارے پیسے سے چندہ جائے گا۔ ہمارے شیزان جو س کے خلاف اکثر بڑا محاذاٹھتا رہتا ہے کہ یہ چندہ دیتے ہیں۔ اور حکومت کو بھی یہ مشورہ ہوتا ہے اور مخالفین کا یہ مطالبہ ہے کہ جماعت کے تمام فنڈ حکومت اپنے قبضے میں لے لے۔ تو یہ بیچارے حسد کی آگ میں جلتے رہتے ہیں۔ کیونکہ ان کی چٹیل زمین میں یہ برکت پڑ ہی نہیں سکتی۔ اور پھر سوائے حسد کے ان کے پاس اور کچھ رہ نہیں جاتا۔

ہم تو اس بات پر خوش ہیں کہ اللہ کے حکموں پر عمل کر رہے ہیں اور اس بات سے اللہ کے رسولؐ نے ہم پر رشک کیا ہے۔ صحابہ ؓ تو ہر وقت اس فکر میں رہتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی تحریک ہو اور ہم عمل کریں۔ امراء تو اپنی کشائش کی وجہ سے خرچ کر دیتے تھے لیکن غرباء بھی پیچھے نہیں رہتے تھے۔ وہ بھی اپنا حصہ ڈالتے رہتے تھے۔ چاہے وہ شبنم کے قطرے کے برابر ہی ہو۔

(خطبہ جمعہ 7؍ جنوری 2005ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 26 دسمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 28 دسمبر 2020