• 14 جولائی, 2024

نیوزی لینڈ کی پہلی مسجد، مسجد بیت المقیت، آکلینڈ

نیوزی لینڈ کا ملک دنیا کا ایک کنارہ شمار کیا جاتا ہے۔ اس ملک میں جماعت کا باقاعدہ قیام مئی 1987ء میں عمل میں آیا تھا۔ آغاز سے ہی مرکز کی ہدایت پر جماعتی مرکز کے لئے زمین یا عمارت کی تلاش کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ اس دوران جماعتی انتظامیہ نے احباب جماعت سے اس غرض سے مالی عطیات بھی اکھٹے کرنے شروع کر دئے تا کہ بوقت ضرورت سہولت رہے۔ اس سلسلہ میں بعض احمدیوں نے بڑے اخلاص کا مظاہرہ کیا۔ ایک مخیر احمدی جن کا شمار فجی کے ابتدائی احمدیوں میں ہوتا ہے نے نہ صرف جگہ کی تلاش میں غیر معمولی سعی کی توفیق پائی بلکہ اپنی وفات سے قبل ایک خطیر رقم مرکز میں امانتاً جمع کروادی کہ جب بھی جماعت نیوزی لینڈ کو اپنے مشن ہاؤس کے لئے جگہ مل جائے اس کی خرید کے لئے ان کے عطیہ کو بھی شامل کرلیا جائے۔ جماعتی مرکز کے لئے زمین یا عمارت کی تلاش کا سلسلہ ایک عرصہ تک جاری رہا یہاں تک کہ 1999ء میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کو اپنے مشن ہاؤس کے لئے ایک مناسب پراپرٹی مل گئی جس کی خرید میں اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر سہولت کا انتظام فرمایا۔ آکلینڈ شہر کے ایک مضافاتی علاقہ وِری میں واقع اس پراپرٹی کا کل رقبہ ڈیڑھ ایکڑ سے زائد ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس مرکز کا نام بیت المقیت عطافرمایا۔

خرید کے وقت ہی اس پراپرٹی میں ایک بڑا ہال موجود تھا جس کو نماز کے لئے استعمال کیا جانے لگا۔ 2001ء میں اس ہال کی شرقی جانب لجنہ ہال کیلئے توسیع اور اس کی بالائی منزل پر مشینری کوارٹرز کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا گیا جس کی تکمیل 2003ء میں ہوئی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے پہلی مرتبہ موٴرخہ 4 – 8 مئی 2006ء کو نیوزی لینڈ کا دورہ فرمایا۔ اس دورہ کے دوران حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مذکورہ بالا ہال میں نمازوں کی امامت کروائی۔ حضور انور نے اس دورہ کے موقع پر جماعت نیوزی لینڈ کو مسجد تعمیر کرنے کی ہدایت بھی فرمائی۔ چنانچہ حضور انور کی ہدایت کے مطابق مسجد کی تعمیر کے لئے ایک کمیٹی کا قیام عمل میں آیا اور اس کے لئے ابتدائی منصوبہ بندی کا آغاز ہوگیا۔ بعدازا ں جماعت نیوزی لینڈ کی طرف سے بھجوائی گئی مختلف تجاویز پر حضور انور نے اسی مرکز کے احاطہ میں باقاعدہ میناروں والی مسجد تعمیر کرنے کا ارشاد فرمایا۔ اس ارشاد کی تعمیل میں جماعت نے چالیس سے زائد آرکیٹیکٹس کو مسجد کا ڈیزائن جمع کروانے کے لئے مدعو کیا۔ موصول ہونے والے ڈیزائن اور نقشوں کا جائزہ لینے کے بعد تین ڈیزائین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں منظوری کے لئے بھجوائے گئے۔ حضور انور ایدہ اللہ نے آرکیٹیکٹس کے ڈیزائن کو تعمیر کے لئے منظور فرمایا۔

اللہ تعالیٰ کا اپنے پیارے مسیح محمدی علیہ السلام کی جماعت کے ساتھ پیار اور لطف کے سلوک کے غیر معمولی نظارے ہمیں ہر روز نظر آتے ہیں۔ خاص طور پر جب بھی جماعت کو کسی قسم کے چیلنجز اور مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ نیوزی لینڈ کی جماعت اس مسجد کی تعمیر کے وقت چند سو نفوس پر مشتمل تھی اور اس کے لئے یہ ایک بہت بڑا پراجیکٹ تھا جس کے لئے فنڈز کی فراہمی ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔تاہم چونکہ خدا تعالیٰ کے پیارے خلیفة نے اس مسجد کی تعمیر کا ارشاد فرمایا تھا اس لئے ہر مرحلہ بآسانی طے ہوگیا۔ جولائی 2012ء میں اس مسجد کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ سنگ بنیاد کےلئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے از راہ شفقت دارالمسیح قادیان کی ایک اینٹ دعا کر کے عنایت فرمائی تھی۔ نقشہ کے مطابق اس دو منزلہ مسجد کی تعمیرتقریباً ایک سال کےعرصہ میں پایہ ٴتکمیل کو پہنچ گئی اور وہ انتہائی مبارک اور سعید دن بھی جلد طلوع ہوگیا جب ہمارے پیارے امام خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نےموٴرخہ یکم نومبر 2013ء کو اپنے دورہ نیوزی لینڈ کے دوران اس مسجد کا افتتاح فرمایا اور خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جو کہ ایم ٹی اے کے ذریعہ ساری دنیا میں نشر ہوا۔ حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا: ’’آج اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ نیوزی لینڈ کو باقاعدہ اپنی مسجدبنانے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ جماعت کے لئے یہ مسجد ہر لحاظ سے مبارک فرمائے۔ نیوزی لینڈکی جماعت چھوٹی سی جماعت ہے۔ کُل چار سو افراد چھوٹے بڑے ملاکر ہیں۔ لیکن مسجداللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی اچھی اور خوبصورت بنائی ہے اور جماعت کی موجودہ تعداد سے زیادہ کی گنجائش اس میں ہے۔ اللہ کرے کہ یہ جلداپنی گنجائش سے بھی باہرنکلنا شروع ہو جائے۔ بہت سے کام کرنے والوں نے دن رات بڑی محنت سے کام کیا۔ مجھے بتایاگیا ہے کہ بہت ساکام بعض افرادِ جماعت نے بغیراس بات کی پرواہ کئے کہ دن ہے یا رات، بڑی لگن اور بڑے جذبے سے یہاں خدمت کی ہے اور یوں جیسا کہ ہماری روایت ہے، خودکام کرکے اخراجات کی بچت بھی کی ہے۔ اس مسجد پر مسجد، ہال اور دوسری چیزیں ملاکے کُل ساڑھے تین ملین کے قریب خرچ ہوا ہے۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ یکم نومبر 2013ء)

اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ دو منزلہ مسجد نیوزی لینڈ میں باقاعدہ مسجد کے طور پر تعمیر ہونے والی مساجد میں سب سے بڑی ہے جس میں سات سو افراد کے نماز پڑھنے کی گنجائش ہےاور اگر پرانے ہال کو بھی شامل کیا جائے تو دونوں عمارتوں میں ایک ہزار افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔ اس مسجد کا نام حضور انور نے مسجد بیت المقیت عطا فرمایا۔ مسجد کی پہلی منزل لجنہ کے لئے ہے، جبکہ اوپر والی منزل مردوں کے لئے ہے۔ مسجد کا نیچے والا اور اوپر والا ہال ایک ہی سائز کا ہے۔ ہر ہال کا رقبہ 239مربع میٹر ہے جبکہ دونوں منزلوں پر الگ الگ وضو وغیرہ کی سہولیات ہیں۔ نیچے والی منزل پر چھوٹے بچوں اور ان کی ماؤں کے لئے ایک الگ بڑا کمرہ ہے جبکہ اوپر والی منزل پر ایک آڈیو وڈیو روم اور کانفرنس روم ہے۔ مسجد کا اٹھارہ میٹر بلند مینار دور سے نظر آتا ہے۔ اسی طرح آٹھ میٹر قطر کا گنبد بھی دیکھنے والوں کے لئے پر کشش نظارہ پیش کرتا ہے۔ یہ مسجد اگرچہ ایک صنعتی علاقہ میں واقع ہے لیکن اس لحاظ سےبہت اچھی ہے کہ ریلوے اسٹیشن اور شہر کی دو بڑی موٹرویز اس سے چند منٹ کی دُوری پر واقع ہیں۔ مسجد کے احاطہ میں پارکنگ کے لئے ایک سو سات کاروں کی پارکنگ کی گنجائش ہے۔

مسجد کے افتتاح کی خبر نیو زی لینڈ کے نیشنل ٹی وی نے حضور انور ایدہ اللہ کے مختصرانٹرویو کے ساتھ نشر کی۔ اسی طرح بعض اخبارات نے بھی اس کا ذکر کیا۔ مورخہ 2 نومبر 2013ء، بروز ہفتہ ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی جو کہ مسجد کے افتتاح اور قرآن کریم کے ماؤری ترجمہ کی اشاعت کے حوالہ سے رکھی گئی تھی۔ اس تقریب میں حکومتی وزراء، اراکین پارلیمنٹ، ماؤری بادشاہ اور کئی دیگر عمائدین اور معزز مہمانوں نے شرکت کی۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس تقریب کے موقع پر حاضرین سے خطاب فرمایا۔

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز نے اس مسجد کی تعمیر کے لئے مالی قربانی اور دیگر خدمات بجالانے والوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ کے فضل سے جیسا کہ مَیں نے ذکر کیا جماعت کی روایت ہے، افرادِ جماعت نے بڑی بڑھ چڑھ کر قربانیاں دی ہیں۔ خواتین نے اپنے زیور پیش کئے، بچوں نے اپنی جمع کی ہوئی جیب خرچ کی رقم پیش کی، مسجد فنڈ میں دی اور پھر یہ کہتے ہیں کہ دو موقع ایسے آئے، مہینے کے آخر میں جماعت کے اکاؤنٹ میں رقم نہیں ہوتی تھی اور کنٹریکٹر کو ادائیگی کرنی تھی تو نیشنل عاملہ اور ذیلی تنظیموں اور دوسرے افرادنے، فوری طور پر لاکھ ڈالر یا ان سے بھی اوپر ڈالر جمع کرکے ادا کر دئیے۔ بعض افرادنے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک ایک لاکھ ڈالر سے اوپر قربانیاں پیش کیں۔ اس کے علاوہ حسبِ توفیق ہر ایک نے اپنی اپنی بساط کے مطابق قربانیاں دیں۔ غیر معمولی قربانیوں کی توفیق ملی ہے۔ جیسا کہ میں نے کہا جماعت بہت چھوٹی سی ہے اور خرچ بہت زیادہ ہوا ہے۔ بہر حال اللہ تعالیٰ اُن سب کو جنہوں نے یہ قربانیاں دی ہیں اور جنہوں نے وقارِ عمل کئے ہیں، قربانیاں مالی طور پر نہیں دے سکے، وقت کی قربانی دی۔ اُن سب کے اموال و نفوس میں بے انتہا برکت ڈالے۔ ان کے اخلاص و وفا کو بڑھاتا چلا جائے۔ ان کی نسلوں کو بھی احمدیت سے ہمیشہ جوڑے رکھے اور ایمان اور ایقان میں بڑھاتا چلا جائے۔ نمازوں کا حق ادا کرنے والے ہوں۔ مسجد میں آ کر مسجد کا حق ادا کرنے والے ہوں۔ اپنے گھروں کو بھی ذکرِ الٰہی سے بھرنے والے ہوں۔ حقوق العباد کے جذبے سے پُر ہوں۔ حقیقی اسلام کے پیغام کو پھیلانے کی طرف توجہ دینے والے ہوں۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ یکم نومبر 2013ء)

اللہ تعالیٰ حضور پرنور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکی دعاؤں کو جماعت نیوزی لینڈ کے ہر فرد کے حق میں پورا فرمائے۔ آمِیْن اَللّٰہُمَّ آمِیْن

(شفیق الرحمٰن ۔نمائندہ الفضل آن لائن نیوزی لینڈ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 27 دسمبر 2022

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالی