• 3 اگست, 2020

دین کی اشاعت اور مال کی قربانی

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’دنیا میں انسان ذاتی تسکین کے لئے بھی،ذاتی مقاصد کے حصول کے لئے بھی مال خرچ کرتا ہے اور کبھی صدقہ و خیرات بھی کر دیتا ہے۔لیکن آج دنیا میں کوئی ایسا گروہ نہیں ہے، کوئی ایسی جماعت نہیں ہے جس کے ممبران اور افراد دنیا کے ہر شہر اور ہر ملک میں ایک مقصد کے لئے ایک ہاتھ پر جمع ہو کر اپنے مال خرچ کرنے کے لئے پیش کر رہے ہوں اور وہ مقصد بھی دین کی اشاعت اور خدمت خلق کا مقصد ہو۔ہاں صرف ایک جماعت ہے جو یہ کام کر رہی ہے اور وہ وہ جماعت ہے جس کو خدا تعالیٰ نے اس مقصد کے لئے قائم فرمایا ہے۔ … وہ جماعت ہے جو مسیح موعودؑ اور مہدی معہودؑ کی جماعت ہے جس کے سپرد اسلام کے ساری دنیا میں قیام کا کام ہے جو گزشتہ تقریباً 128 سال سے خدمت اسلام اور خدمت انسانیت کے لئے اپنا مال قربان کر رہی ہے۔ اور یہ اس لئے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے اس جماعت کو قرآنی تعلیم کی روشنی میں مال کے صحیح مصرف اور مال کی قربانی کا ادراک عطا فرمایا ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ’’میں بار بار تاکید کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو۔یہ خدا تعالیٰ کے حکم سے ہے‘‘۔ ’’کیونکہ اسلام اِس وقت تنزل کی حالت میں ہے۔ بیرونی اور اندرونی کمزوریوں کو دیکھ کر طبیعت بے قرار ہو جاتی ہے اور اسلام دوسرے مخالف مذاہب کا شکار بن رہا ہے‘‘۔ فرمایا ’’جب یہ حالت ہو گئی ہے تو کیا اسلام کی ترقی کے لئے ہم قدم نہ اٹھائیں۔ خداتعالیٰ نے اسی غرض کے لئے تو سلسلے کو قائم کیا ہے۔ پس اس کی ترقی کے لئے سعی کرنا یہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور منشاء کی تعمیل ہے‘‘۔

پھر فرمایا ’’یہ وعدے بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کہ جو شخص خدا تعالیٰ کے لئے دے گا میں اس کو چند گنا برکت دوں گا۔دنیا میں ہی اسے بہت کچھ ملے گا اور مرنے کے بعد آخرت کی جزا بھی دیکھ لے گا کہ کس قدر آرام میسر آتا ہے۔ غرض اس وقت میں اس امر کی طرف تم سب کو توجہ دلاتا ہوں۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ ’’مَیں اس امر کی طرف تم سب کو توجہ دلاتا ہوں کہ اسلام کی ترقی کے لئے اپنے مالوں کو خرچ کرو‘‘۔

پس آپؑ کے (رفقاء) نے اس بات کو سمجھا اور اپنے مال دینی مقاصد کے لئے پیش کئے جس کاذکر بھی کئی مواقع پر آپؑ نے فرمایا کہ کس طرح آپؑ کے ماننے والے مالی قربانیوں میں بڑھنے والے ہیں۔ مثلاً منارۃ المسیح کی تعمیر کے لئے جب تحریک ہوئی۔ آپؑ بہت ساری تحریکات فرماتے تھے۔ اشاعت لٹریچر کے لئے اور بعض دوسرے مقاصد کے لئے، اسی طرح منارۃ المسیح کے لئے بھی جب آپؑ نے تحریک کی تو منشی عبدالعزیز صاحبؓ پٹواری نے جو قربانی کی اس کا ذکر کرتے ہوئے بلکہ دو افراد عبدالعزیز صاحبؓ اور شادی خان صاحبؓ کا ذکر فرمایا۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ: ’’میری جماعت میں سے دو ایسے مخلص آدمیوں نے اس کام کے لئے چندہ دیا ہے جو باقی دوستوں کے لئے درحقیقت جائے رشک ہے۔ ایک ان میں سے منشی عبدالعزیز نام ہے۔ ضلع گورداسپور میں پٹواری ہیں جنہوں نے باوجود اپنی کم سرمائیگی کے ایک سو روپیہ اس کام کے لئے چندہ دیا ہے۔ اور مَیں خیال کرتا ہوں کہ یہ سو روپیہ کئی سال کا ان کا اندوختہ ہو گا‘‘۔ فرمایا کہ ’’یہ اس لئے زیادہ قابل تعریف ہیں کہ ابھی وہ ایک اور کام میں بھی ایک سو چندہ دے چکے ہیں‘‘۔ پھر فرمایا کہ ’’دوسرے مخلص جنہوں نے اس وقت بڑی مردانگی دکھلائی ہے میاں شادی خان لکڑی فروش ساکن سیالکوٹ ہیں۔ ابھی وہ ایک کام میں ڈیڑھ سو روپیہ چندہ دے چکے ہیں اور اب اس کام کے لئے دو سو روپیہ چندہ بھیج دیا ہے۔ اور یہ وہ متوکّل شخص ہے کہ اگر اس کے گھر کا تمام اسباب دیکھا جائے تو شاید تمام جائیداد پچاس روپے سے زیادہ نہ ہو۔‘‘ فرمایا کہ ’’انہوں نے لکھا ہے کہ کیونکہ ایام قحط ہیں اور دنیوی تجارت میں صاف تباہی نظر آتی ہے تو بہتر ہے ہم دینی تجارت کر لیں اس لئے جو کچھ اپنے پاس تھا سب بھیج دیا‘‘۔

(خطبہ جمعہ مورخہ 6جنوری 2016ء)

پچھلا پڑھیں

طلوع و غروب آفتاب

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 29 جنوری 2020