• بدھ 1 اپریل 2020   (8 شعبان 1441)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کےحجرِ اسود کے متعلق سوالات کے جواب

سوال:رسول کریم ﷺنے حجرِ اسود کو بوسہ دیا۔ اس کی وجہ پوچھنی ہے؟
جواب:۔ اس لئے کہ اللہ نے آپ کو یہ تعلیم دی ۔ کسی چیز کی محبت اور تقدس ذاتی تو ہوتا ہی کچھ نہیں ۔اصل محبت الله کی تھی ناں تو اللہ نے تعلیم دی کہ بوسہ دوتو آپ نے دےدیا۔ اطاعت ہی میں اصل کمال ہے۔ وہ کیوں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا اس کی وضاحت جہاں تک میراعلم ہے کوئی موجود نہیں ہے۔ 100 فیصدی قطعی وضاحت کہ کیا واقعہ ہوا ہوگا لیکن بعض باتوں سے ہم نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں۔ مثلاً

إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا

پہلا گھر جو انسانوں کے لئے بنایا گیا خدا کی عبادت کی خاطر وہ مکہ تھا۔ تو پہلے گھر میں کوئی پتھروتھر استعمال ہوا ہو گا ناں۔ پھر وہ مٹ گیا۔ پھر وہ دوبارہ آباد ہوتا رہا پھر

کھنڈروں میں تبدیل ہوتا رہا۔ مگر حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت ابراہیمؑ نے بھی کھنڈر سے ہی تلاش کیا تھا۔ تو کوئی بنیادیں موجود رہی ہیں آخر تک ۔بعید نہیں کہ یہ وہ پہلا پتھر ہو جو خانہ کعبہ کی تعمیر میں استعمال ہوا ہو۔ گھستے گھستے چھوٹا رہتے رہتے آخر وہ یہاں تک پہنچ گیا ہے۔ تو چونکہ اس کو ایک عظمت حاصل ہوگئی تاریخی۔ پہلا پتھر جو خدا کی عبادت کے لئے استعمال ہوا اس لئے پیار کے لائق بن گیا۔ یعنی یہ میں امکان بتارہا ہوں۔ امکان ہے اس بات کا لیکن قطعی طور پر ہمیں سند سے یہ معلوم نہیں ہے۔

سوال: حضرت عمرؓ سے حدیث مروی ہے کہ وہ جنت کا پتھرہے۔

جواب :۔ جنت ہوتا ہی شریعت کا نام ہے۔ اس دنیا میں جنت خدا کی شریعت کے تابع رہناہی ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے اللہ کے بندو!لَا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ كَمَا أَخْرَجَ أَبَوَيْكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ اے بنی نوع انسان!تمہیں بھی شیطان اسی طرح فتنے میں نہ ڈال دے جس طرح تم سے پہلے فتنے میں ڈال کے جنت سے نکالا تھا اور معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت تک بھی ہمارے لئے خطرہ ہے کہ ہم اس جنت سے دوبارہ نکل جائیں اور دوبارہ پھسل جائیں۔ وہ کون سی جنت ہے اگر وہ جنت یہاں ہے ہی نہیں تو ہم نکل کس طرح سکتے ہیں اور فتنے میں کس طرح شیطان ڈال سکتا ہے۔ میں یہ بتارہا ہوں اس آیت سے قطعی طور پر اس جنت کی حقیقت معلوم ہوگئی جس سے آدم کونکالا گیا تھا۔ وہ جنت آج بھی اسی طرح موجود ہے اور آج بھی شیطان ورغلا کر بنی نوع انسان کو اس جنت سے نکال سکتا ہے۔ اگر وہ جنت ہے جو مولوی کے دین کی جنت ہے کسی اور جگہ سے گرا تھا آدم؟ تو وہاں تو آپ ہے ہی نہیں پھر قرآن کریم کی اس آیت کا کیا مطلب کہ دوبارہ نہ دھوکے میں پڑ جانا۔ صاف پتہ چلتا ہے کہ وہ جنت ہے اور ہے کیا وہ ؟شریعت کے احکام اور نواحی اور جو تفصیل ہے جنت سے نکلنے کی اس میں بھی یہی ذکر ہوتا ہے کہ غفلت ہوگئی حضرت آدمؑ سے اطاعت میں۔ اگر چہ اس میں ارادہ نہیں تھا۔

لَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًا

غفلت ہوئی لیکن عزم نہیں تھا۔ اس میں کوتاہی ہوگئی اور گناہ بنتا ہے عزم کے نتیجہ میں۔ خطا بنتی ہے بغیر عزم کے جب بات ہو جائے تو الله تعالیٰ نے بھی تفصیل بیان فرما دی۔ تو جنت سے نکلنا الله تعالیٰ کی اطاعت سے کسی رنگ میں نکل جانا ارادۃً یا غیر ارادی طور پر ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔

(مجلس سوال و جواب منعقدہ 25نومبر 1982ء)


پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 28 فروری 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 29 فروری 2020

مقبول ترین