• 8 اگست, 2022

رمضان اور روزوں کے بارہ حضرت مسیح موعودؑ اور آپ کے خلفاء کے زریں ارشادات

حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:
اصل بات یہ ہے کہ قرآن شریف کی رخصتوں پر عمل کرنا بھی تقویٰ ہے۔ خدا تعالیٰ نے مسافر اور بیمار کو دوسرے وقت رکھنے کی اجازت اور رخصت دی ہے اس لئے اس حکم پربھی تو عمل رکھنا چاہئے۔ مَیں نے پڑھاہے کہ اکثر اکابر اس طرف گئے ہیں کہ اگر کوئی حالت سفر، یابیماری میں روزہ رکھتا ہے تو یہ معصیت ہے۔ کیونکہ غرض تو اللہ تعالیٰ کی رضاہے، نہ اپنی مرضی۔ اور اللہ تعالیٰ کی رضا فرمانبرداری میں ہے۔ جوحکم وہ دے اس کی اطاعت کی جاوے اور اپنی طرف سے اس پرحاشیہ نہ چڑھایا جاوے۔ اس نے تو یہی حکم دیا ہے (مَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَّرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ) اس میں کوئی قید اور نہیں لگائی کہ ایسا سفر ہو یا ایسی بیماری ہو، میں سفر کی حالت میں روزہ نہیں رکھتا اور ایسا ہی بیماری کی حالت میں۔

(الحکم جلد11 نمبر4۔ 21جنوری 1907ء)

نیز فرمایا:
جو شخص مریض اور مسافر ہونے کی حالت میں ماہ صیام میں روزہ رکھتاہے وہ خدا تعالیٰ کے صریح حکم کی نافرمانی کرتاہے۔ خدا تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ مریض اور مسافر روزہ نہ رکھے۔ مرض سے صحت پانے اور سفر کے ختم ہونے کے بعد روزے رکھے۔ خدا کے اس حکم پرعمل کرنا چاہئے کیونکہ نجات فضل سے ہے نہ کہ اپنے اعمال کازور دکھاکر کوئی نجات حاصل کرسکتاہے۔ خدا تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ مرض تھوڑی ہویا بہت اور سفر چھوٹا ہو یا لمباہو۔ بلکہ حکم عام ہے اوراس پرعمل کرنا چاہئے۔ مریض اور مسافر اگر روزہ رکھیں گے توان پر حکم عدولی کافتویٰ لازم آئے گا۔

(البدر۔ 17؍اکتوبر 1907ء)

حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ لکھتے ہیں:
حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحبؓ نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ لاہور سے کچھ احباب رمضان میں قادیان آئے۔ حضرت صاحب کو اطلاع ہوئی تو آپ مع کچھ ناشتہ کے ان سے ملنے کے لئے (بیت الذکر) تشریف لائے۔ ان دوستوں نے عرض کیا کہ ہم سب روزے سے ہیں۔ آپ نے فرمایا سفر میں تو روزہ ٹھیک نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی رخصت پرعمل کرناچاہئے۔ چنانچہ ناشتہ کروا کے ان کے روزے تڑوا دئے۔

(سیرت المہدی۔ جلد1 ص344، 345)

مزدور اور روزہ: سوال پیدا ہوتا ہے کہ بعض مزدور روزہ رکھنے میں تکلیف محسوس کرتے ہیں کیا وہ اس عذر کی بناء پر روزہ ترک کر سکتے ہیں؟

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں جب یہ سوال پیش کیا گیا کہ بعض اوقات رمضان ایسے موسم میں آتا ہے کہ کاشتکاروں سے جب کہ کام کی کثرت … ہوتی ہے، ایسے ہی مزدور جن کا گزراہ مزدوری پر ہے روزہ نہیں رکھا جاتا ان کی نسبت کیا ارشاد ہے؟

اس پر حضرت اقدس ؑ نے فرمایا : اِنَّمَاالْاَعْمَالُ بِالنِّیَات۔ یہ لوگ اپنی حالتوں کو مخفی رکھتے ہیں۔ ہر شخص تقویٰ و طہارت سے اپنی حالت سوچ لے۔ اگر کوئی اپنی جگہ مزدور ی پر رکھ سکتا ہے تو ایسا کرے ورنہ مریض کے حکم میں ہے۔ پھر جب میسّر ہو رکھ لے۔

(ملفوظات جلد5 ص296، 297 انڈیا ایڈیشن)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
میری تو یہ حالت ہے کہ مرنے کے قریب ہو جاؤں۔ تب روزہ چھوڑتا ہوں۔طبیعت روزہ چھوڑنے کو نہیں چاہتی۔یہ مبارک دن ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل ورحمت کے نزول کے دن ہیں۔

(ملفوظات جلد1 ص439، 440 انڈیا ایڈیشن)

حضرت خليفة المسيح الأول قدس الله روح روحہ فرماتے ہیں :
رمضان کے مہینہ میں دعاؤں کی کثرت، تدارس قرآن،قیام رمضان کا ضرور خیال رکھنا چاہئے…غرض روزہ جو رکھا جاتا ہے تو اس لئے کہ انسان متقی بننا سیکھے … ان میں بہت کوشش کرو اور بڑی دعائیں مانگو۔ بہت توجہ الی اللہ کرو اور استغفار اور لاحول کثرت سے پڑھو۔ قرآن مجید سن لو،سمجھ لو، سمجھا لو۔جتنا ہو سکے صدقہ اور خیرات دے لو اور اپنے بچوں کو بھی تحریک کرتے رہو۔

(خطبات نور، ص 262، 265)

حضرت خلیفۃالمسیح الثانی نوراللہ مرقدہ فرماتے ہیں :
رمضان اس لئے نہیں آتا کہ ہم اُسے یونہی گزاردیں بلکہ مومن کے لئے ہمیشہ اپنے پاس رکھنے والی چیزیں ہیں … مومن کو چاہیئے کہ ہر چیز کو باقیات صالحات بنائے ،دن گزرجائیں مگر رمضان نہ گزرے۔ رمضان عبادت کا نام ہے اور عبادت نہیں گذرا کرتی وہ دل میں رہتی ہے۔جو لوگ دنوں سے تعلق رکھتے ہیں وہ سمجھتے ہیں رمضان گزرگیا لیکن جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ رمضان عبادت ہے وہ جانتے ہیں کہ عبادت نہیں گذرا کرتی۔رسول کریمﷺ نے فرمایا ہے جب بندہ کوئی نیک کام کرتا ہے تو اس کا ایک سفید نشان اس کے دل پر لگ جاتا ہے گویا وہ نیک کام سمٹ کر ایک نقطہ کی شکل میں اس کے دل میں آجاتا ہے پھر اور نیک کام کرتا ہے تو اورسفید نشان لگ جاتا ہے حتّٰی کہ اس کا سارا دل سفید ہوجاتا ہے۔اسی طرح جوں جوں کوئی برے کام کرتا ہے سیاہ نشانات لگتے جاتے ہیں حتّٰی کہ سیاہی اس کے تمام دل کو ڈھانپ لیتی ہے تو نیک اور بددونوں قسم کے اعمال سمٹ کر انسان کے دل میں جمع ہوجاتے ہیں۔ہاں دن گزرجاتے ہیں۔جو چیز رمضان کے ذریعہ خداتعالیٰ لایا وہ دن رات نہیں تھے دن رات تو رجب،شعبان،شوال وغیرہ دوسرے مہینوں میں بھی ہوتے ہیں اس لئے رمضان دن رات نہیں بلکہ عبادت لایا تھا اور عبادت ایک ایسی چیز ہے جسے کوئی چھین نہیں سکتا ۔اللہ تعالیٰ اسے لیتا ہے اور سمیٹ کر انسان کے دل میں رکھ دیتا ہے جہاں سے دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی طاقت بھی اسے نکال نہیں سکتی ۔مومن کو خواہ کس قدر تکالیف پہنچائی جائیں اسے ایمان سے محروم نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ چیز اس کے دل کے اندر ہوتی ہے… رمضان کو ہمیشہ کے لئے اپنے دل میں قائم کرلیں ۔جمعہ کو رسول کریمﷺنے (دینی بھائیوں) کی عیدوں میں سے ایک عید قراردیا ہے۔ پس اس دن جب کہ دعائیں خصوصیت سے قبول ہوتی ہیں فائدہ اُٹھانا چاہیئے۔آج کے دن مومن اس لئے خدا تعالیٰ کے حضور نہیں آتا کہ کہے تُو نے جو مصیبت ہم پر رمضان کی صورت میں نازل کی تھی شکر ہے وہ ٹل گئی بلکہ اس لئے آتا ہے کہ اس دن کی مبارک گھڑیوں میں یہ دعا کرے کہ رمضان کے دن تو گزرگئے لیکن اے خدا !تُو رمضان کی حقیقت ہمارے دل کے اندر محفوظ کردے تا وہ ہم سے کبھی جدا نہ ہو۔ اس لحاظ سے اگر آج کے جمعہ کی تعریف کریں تو یقیناً ہم نے اس کا مبارک طور پر استعمال کیا … پس آؤ آج خدا تعالیٰ کے حضور گریہ و زاری کریں کہ وہ اس دن کو ہمیشہ کے لئے ہم سے وابستہ کردے اور ہماری کوئی گھڑی رمضان سے جدا نہ ہو…ہماری طرف سے یہ کوشش ہونی چاہیئے کہ رمضان کا مہینہ گزرجانے کے بعد بھی اس کی کیفیات ہمارے اندر قائم رہیں یہی ایمان ہے جو ہماری تسلی کا موجب ہوسکتا ہے۔رمضان کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اس مہینہ میں بندوں کے قریب ہوجاتا ہوں۔جس طرح کوئی بکری چرواہے سے دور رہ کر محفوظ نہیں ہوسکتی اسی طرح جب تک بندہ کو بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے اِنِّیْ قَرِیْبٌ کی آواز نہ آئے وہ بھی مامون نہیں ہوسکتا اور یہ آواز زیادہ تر رمضان کی حالت میں ہی آتی ہے۔اس لئے رمضان کی کیفیت اپنے اندر پیداکرنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔

(خطبات محمود جلد12 ص306، 307، 308، 309)

حضرت خلیفۃالمسیح الثانی نوراللہ مرقدہ روزہ رکھنے والوں کے بارہ میں فرماتے ہیں:
بعض دفعہ وہ رمضان کے مہینے میں ننگے داخل ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی عطا کی ہوئی خلعتوں سے لدے ہوئے نکلتے ہیں۔ بعض دفعہ وہ روحانی بیماریوں سے مضمحل اور خمیدہ کمر کے ساتھ رمضان میں داخل ہوتے ہیں لیکن چُست و چالاک اور تندرست شخص کی شکل میں نکلتے ہیں۔ کئی لوگ روحانی طورپر اندھے ہوتے ہیں لیکن سجاکھے، دیکھنے والے اور تیز نظر والے نکلتے ہیں۔ کئی لوگ دل کے جذامی اس مہینہ میں داخل ہوتے ہیں لیکن جب یہ مہینہ ختم ہوتا ہے تو ان کے چہروں پر خوبصورتی، رعنائی اور شادابی کا منظر ہوتا ہے جسے ہر شخص دیکھتا ہے اور واہ واہ کرتا ہے۔ پس خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اس کی رحمتوں اور فضلوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اور بدقسمت ہیں وہ لوگ جن کے لئے خدا تعالیٰ خود اپنی رحمتوں اور برکتوں کے دروازے کھولتا ہے اور وہ منہ پھیر لیتے ہیں اور ان سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ ان پر بھی فضل کرے جو خد اتعالیٰ کی برکتوں اور رحمتوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کو بھی ہدایت دے جو اپنی طبعی نابینائی کی وجہ سے اس کی رحمتوں اور فضلوں سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔

(خطبات محمود جلد33 ص164، 165)

حضرت خلیفۃالمسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
رمضان کا مہینہ پانچ بنیادی عبادتوں کا مجموعہ ہے۔ پہلے تو روزہ ہے دوسرے نماز کی پابندی کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ پھر قیام اللیل یعنی رات کے نوافل پڑھے جاتے ہیں۔ تیسرے قرآن کریم کی کثرت سے تلاوت ہے چوتھے سخاوت اور پانچویں آفاتِ نفس سے بچنا ہے ان پانچ بنیادی عبادات کا مجموعہ عبادات ماہِ رمضان کہلاتی ہیں۔

(خطبات ناصر جلد2 ص954)

حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
رمضان کا مہینہ صبر کا مہینہ کہلاتا ہے کیونکہ اپنی خواہشات پر صبر کرنا ہے اپنے غصوں پر صبر کرنا ہے نیکیوں پر جم کے بیٹھنا ہے۔ بدیوں کی طرف جو تحریک ہے اسکا مقابلہ کرکے رک جانا ہے۔ ان سب چیزوں کو صبر کہا جاتا ہے۔

(خطبات طاہر جلد15 ص75)

ہمارے پیارے آقا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز رمضان میں عبادات کا معیار بڑھانے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں:
ایک مومن کے لئے یہ ضروری ہے کہ پہلے سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی حمد کی طرف توجہ دے ،ان دنوں میں پہلے سے بڑھ کر اس کی تسبیح کرے ۔اللہ تعالیٰ کے معبود ہونے کا نہ صرف اظہار کرے بلکہ اپنے عبادتوں کے معیار اونچے کرنے کی کوشش کرے …خدا تعالیٰ کی رضا کا حصول اپنے سامنے رکھے، دعاؤں اور ذکر الٰہی میں دن اور رات گزارنے کی کوشش کرے، تقویٰ پر چلے … اپنی عبادتوں کے حق کے ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف بھی توجہ (دے) … اللہ تعالیٰ اس رمضان میں ہمیں حقیقی تقویٰ عطا کرے تاکہ ہم اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے ہوں اور اس کی مدد اور فضل … دیکھنے والے ہوں۔ اللہ تعالیٰ رمضان میں ہمارے اندر ایک حقیقی انقلاب پیدا کردے۔ آمین یَا رَبَّ الْعَالَمِیْن۔

(خطبات مسرور۔ خطبہ جمعہ فرمودہ 04؍جولائی 2014ء)

فرمایا:اور جس کو اللہ تعالیٰ مل جائے اس کے قدموں کے نیچے دنیا کی ہر نعمت آ جاتی ہے .. پس بندے کا کام ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہر بات مانے ۔سال کے ایک مہینے کو ہی عبادتوں کیلئے ..کافی نہ سمجھے … جن معیاروں تک اس رمضان میں پہنچے ہیں یا اس تک پہنچنے کی کوشش کی ہے اس سے نیچےاپنے آپ کو نہ گرنے دیں۔ اپنی نمازوں کے معیاروں کو بھی اونچا کرتے جائیں، اپنے جمعوں کی حاضری کو بھی قائم رکھیں۔اللہ تعالیٰ کے حکموں کو ماننے والے ہوں اور خاص ان لوگوں میں شامل ہونے کی کوشش … ہمیشہ جاری رکھیں جو اللہ تعالیٰ سے اللہ تعالیٰ کو مانگنے والے ہوں،یعنی اس دعا کی کوشش ہو، یہ دعا ہم کرتے رہیں ہمیشہ کہ ہمیں اللہ تعالیٰ ملے ۔ ہماری نمازیں، ہماری عبادتیں اللہ تعالیٰ کا لقاء حاصل کرنے والی نمازیں اور عبادتیں ہوں ۔اللہ تعالیٰ ہمیں ان معیاروں کو حاصل کرنے کی توفیق عطا فرماتا رہے۔ (آمین)

(خطبہ جمعہ بیان فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز 31مئی 2019ء)

(مرتبہ عزیز احمد شہزاد۔ مربی سلسلہ و استاد جامعہ احمدیہ تنزانیہ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 28 اپریل 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 29 اپریل 2021