• 21 مئی, 2022

تیسری بات جو اسلام کا رکن ہے وہ روزہ ہے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔
’’تیسری بات جو اسلام کا رکن ہے وہ روزہ ہے۔ روزہ کی حقیقت سے بھی لوگ ناواقف ہیں۔ اصل یہ ہے کہ جس ملک میں انسان جاتا نہیں اورجس عالم سے واقف نہیں اُس کے حالات کیا بیان کرے۔ روزہ اتنا ہی نہیں کہ اس میں انسان بھوکا پیاسا رہتا ہے بلکہ اس کی ایک حقیقت اور اس کا اثر ہے جو تجربہ سے معلوم ہوتا ہے۔ انسانی فطرت میں ہے کہ جس قدر کم کھاتا ہے اُسی قدر تزکیہ نفس ہوتا ہے اور کشفی قوتیں بڑھتی ہیں۔ خدا تعالیٰ کا منشااس سے یہ ہے کہ ایک غذا کو کم کرو اور دوسری کو بڑھاؤ۔ ہمیشہ روزہ دار کو یہ مدّنظر رکھنا چاہئے کہ اس سے اتنا ہی مطلب نہیں ہے کہ بھوکا رہے بلکہ اُسے چاہئے کہ خدا تعالیٰ کے ذکر میں مصروف رہے تاکہ تبتّل اور اِنقطاع حاصل ہو۔ پس روزے سے یہی مطلب ہے کہ انسان ایک روٹی کو چھوڑ کر جو صرف جسم کی پرورش کرتی ہے دوسری روٹی کو حاصل کرے جو روح کی تسلی اور سیری کا باعث ہے اورجو لوگ محض خدا کے لئے روزے رکھتے ہیں اور نِرے رسم کے طور پر نہیں رکھتے انہیں چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی حمد اور تسبیح اور تہلیل میں لگے رہیں جس سے دوسری غذا انہیں مل جاوے۔‘‘

(ملفوظات جلد پنجم صفحہ102 ایڈیشن 1988ء)

’’روزہ اور نماز ہر دو عبادتیں ہیں۔ روزے کا زور جسم پر ہے اور نماز کا زور روح پر ہے۔ نماز سے ایک سوز و گداز پیدا ہوتا ہے۔ اس واسطے وہ افضل ہے۔ روزے سے کشوف پیدا ہوتے ہیں۔ مگر یہ کیفیت بعض دفعہ جو گیوں میں بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ لیکن روحانی گدازش جو دعاؤں سے پیدا ہوتی ہے۔ اس میں کوئی شامل نہیں۔‘‘

(ملفوظات جلد چہارم صفحہ292-293 ایڈیشن 1988ء)

پچھلا پڑھیں

عید الفطر تشکر کا دن

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 29 اپریل 2022