• 9 اگست, 2022

جمعۃ الوداع

’’اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اور آنحضرت ﷺنے مختلف مواقع پر جمعہ کے دن کی اہمیت کی طرف توجہ دلائی ہے لیکن جمعۃ الوداع کی کسی اہمیت کا تصور نہیں ملتا۔ بلکہ جیسا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرمایا کرتے تھے کہ ہمیں اس آخری جمعہ میں جو رمضان کا آخری جمعہ ہے، یہ سبق ملتا ہے کہ اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرتے ہوئے اس جمعہ سے اس طرح گزریں اور نکلیں کہ رمضان کے بعد آنے والے جمعہ کی تیاری اور استقبال کر رہے ہوں اور پھر ہرآنے والا جو جمعہ ہے وہ ہرنئے آنے والے جمعہ کی تیاری کرواتے ہوئے ہمیں روحانیت میں ترقی کے نئے راستے دکھانے والا بنتا چلا جائے اور یوں ہمارے اندر روحا نی روشنی کے چراغ سے چراغ جلتے چلے جائیں اور یہ سلسلہ کبھی نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہو اور ہرآنے والا رمضان ہمیں روحانیت کے نئے راستے دکھاتے چلے جانے والا رمضان ہو، نئی منازل کی طرف راہنمائی کرنے والا رمضان ہو جس کا اثر ہم ہر لمحہ اپنی زندگیوں پر بھی دیکھیں اور اپنے بیوی بچوں پر بھی دیکھیں اور اپنے ماحول پر بھی دیکھیں۔‘‘

(خطبات مسرور جلد سوئم صفحہ529)

’’آج اس رمضان کا آخری جمعہ ہے جس کو جمعۃالوداع کہنے کی ایک اصطلاح چل پڑی ہے۔ غیروں میں تو خیر دین میں اتنا بگاڑ پیدا کرلیا ہے کہ وہ تو اس کوجو بھی چاہے نام دیں، اور جو بھی چاہیں عمل کریں، جس طرح جی چاہے عمل کریں اور اس کی تشریح بیان کریں، یہ ان کا معاملہ ہے۔بلکہ وہ تو اس خیال کے بھی ہیں کہ جمعۃ الوداع کے دن چار رکعت نماز پڑھ لو تو قضائے عمری ادا ہو گئی۔یعنی جتنی چھُٹی ہوئی نمازیں ہیں وہ ادا ہوگئیں، تین چار رکعتوں کے بدلے میں۔ اور اب نمازیں پڑھنے کی ضرورت نہیں۔ جو نمازیں نہیں پڑھی گئی تھیں پوری ہوگئیں۔پھر یہ سوچ کہ۔ جمعۃ الوداع آئے گا تو چاررکعت نماز پڑھ لیں گے، پھر چھٹی ہوگی ایک سال کی۔ تو یہ کون تردّد کرے کہ پانچ وقت کی نمازیں جا کے مسجد میں پڑھی جائیں۔ ان کی ایسی حرکتوں پر تو اتنی حیرت نہیں ہوتی کہ انہوں نے تو یہ کرنا ہی ہے۔ کیونکہ مسیح محمدی ؐ کا انکارکرنے والوں سے ا س سے زیادہ توقع کی بھی نہیں جا سکتی لیکن حیرت اس بات پر ضرور ہوتی ہے کہ جنہوں نے اس زمانہ کے امام کو مانا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت میں داخل ہونے کا دعویٰ کردیا اور پھر وہ اپنے دین کی حفاظت نہ کریں۔ عام حالات میں اتنی پابندی سے جمعہ پر نہیں آتے جس اہتمام سے بعض لوگ، اور یہ بعض لوگ بھی کافی تعداد ہو جاتی ہے، جس پابندی سے رمضان کے اس آخری جمعہ پر آیا جاتاہے۔حالانکہ حکم تو یہ ہے کہ پانچ وقت کی نمازوں کے لیے بھی مسجد میں آؤ۔ تو ہم جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت میں شامل ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، ہمارا یہ کام نہیں ہے کہ دوسروں کی دیکھا دیکھی ہم بھی دنیاوی دھندوں میں اتنے محو ہو جائیں کہ نمازیں تو ایک طرف، جمعہ کی ادائیگی بھی باقاعدگی سے نہ کرسکیں۔ اور اس بات کا ا ندازہ کہ ہم میں سے بعض احمدی بھی لاشعوری طورپر جمعۃ الوداع کی اہمیت کے قائل ہوتے جا رہے ہیں۔مسجدوں کی حاضری سے لگایا جا سکتاہے۔ اگر آج کے دن ہم میں سے وہ جو عموماً جمعہ کا ناغہ کر جاتے ہیں، اتنی اہمیت نہیں دیتے جمعہ کو،اس لیے جمعہ پر آئے ہیں کہ رمضان نے ان میں تبدیلی پیدا کردی ہے،اللہ تعالیٰ کے احکامات کی بجا آوری اور اس کی عبادت کا ان میں شوق پیدا ہو گیاہے اور انہوں نے عہد کر لیاہے کہ آئندہ ہم اپنے جمعوں کی حفاظت کریں گے اور باقاعدگی سے جمعہ کے لیے حاضر ہواکریں گے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہے کہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو ! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لیے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔ پس جب نماز ادا کی جاچکی ہو تو زمین میں منتشر ہو جاؤ اور اللہ کے فضل میں سے کچھ تلاش کرو اور اللہ کو بکثرت یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمود 21نومبر 2003ء۔ خطبات مسرور جلد1 صفحہ482-483)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 28 اپریل 2022

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ