• 21 مئی, 2022

کسی کو زعمِ ہشیاری بہت ہے

کسی کو زعمِ ہشیاری بہت ہے
ہمیں بس یار کی یاری بہت ہے

مسلماں وہ مجھے کہتے ہیں کافر
کہ جن کا دین سرکاری بہت ہے

مجھے اک آہ بھرنی ہے شبِ غم
مجھے بس اتنی تیاری بہت ہے

وہ میرے ساتھ ہے وہ بولتا ہے
مجھے یہ بات ہی پیاری بہت ہے

دروغ و شور و غوغا اس کا پیشہ
ہمیں بس راست گفتاری بہت ہے

اسے اک بار دیکھا پر نہ دیکھا
کہ وہ جلوہ مجھے بھاری بہت ہے

زباں پہ رام اور پہلو میں خنجر
مرے محسن میں فنکاری بہت ہے

مجھے کیا فکر خستہ پیرہن کی
کہ مجھ کو اس کی ستاری بہت ہے

وہ ساز و باز کرتے ہیں عدو سے
وفا بس نام عیاری بہت ہے

ہے دستورِ وطن بالکل نرالا
یہاں دیں پر گرفتاری بہت ہے

مجھے دیتے ہیں غم ہر سو اگرچہ
انہیں دعوائے غم خواری بہت ہے

متانت ڈھونڈ کر لاؤ کہیں سے
یہاں انداز بازاری بہت ہے

کریم ان کو بچھڑنے کی تمنا
ہمیں پاسِ وفاداری بہت ہے

(کریم احمد شریف۔ امریکہ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 28 اپریل 2022

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ