• 15 اگست, 2022

مجلس شوریٰ بیلجیم کا انعقاد

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جماعت احمدیہ بیلجیم کی 24ویں مجلس شوریٰ موٴرخہ 21 و 22؍مئی 2022ء کو بیت السلام برسلز میں منعقد ہوئی۔ محض اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت کے ساتھ امیرالمومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے یوکے، کینیڈا، امریکہ، جرمنی، بیلجیم اور گنی بساؤ کی مجالس مشاورت 2022ء کے نمائندگان کے ساتھ لائیو اختتامی خطاب فرمایا جو بیلجیم کی جماعتی تاریخ میں ایک عظیم الشان سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے جس پر ہم جتنا بھی خدائے واحدہ لاشریک کا شکر بجالائیں وہ کم ہے۔

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جماعت احمدیہ بیلجیم کی مجلس مشاورت موٴرخہ 21؍مئی بروز ہفتہ صبح دس بجے رجسٹریشن کا آغاز ہوا جس کے بعد مجلس شوریٰ کی کارروائی کا باقاعدہ آغاز گیارہ بجے مسجد بیت السلام میں مکرم ڈاکٹر ادریس احمد صاحب امیر جماعت احمدیہ بیلجیم کی زیرِ صدارت ہوا۔ مکرم آصف بن اویس صاحب مربی سلسلہ نے تلاوتِ قرآن کریم کی سعادت حاصل کی۔ دعا کے بعد امیر جماعت مکرم ڈاکٹر ادریس احمد صاحب نے اپنے افتتاحی خطاب میں شوریٰ کی مختصر تاریخ، اغراض و مقاصد اور اہمیت بیان کی۔

محترم امیر جماعت صاحب نے اپنی تقریر میں فرمایا کہ حضرت خلیفۃا لمسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجلس شوریٰ کو اہمیت دیتے ہوئے 15 تا 16اپریل 1922ء کو ہندوستان میں منعقد کیا جس میں پورے ملک سے 52 شوریٰ ممبران حاضر ہوئے۔ اس اہم ترین اور تاریخی شوریٰ اجلاس میں خلیفہ ثانی رضی اللہ عنہ نے شوریٰ کی روح بیان کرتے ہوئے اس کی اہمیت و مقاصد، نتائج اور قواعد و ضوابط کو بھی واضح انداز میں پیش کیا۔ آپ ؓنے شوریٰ کی اہمیت و ضرورت کے لحاظ سے فرمایا کہ شوریٰ ممبران حقیقت پسندی سے کام لیں، بہترین رائے دیں، ایک ہی موضوع پر تکرار نہ کی جائے، وقت بچاتے ہوئے بہت زیادہ سوچ بچار کے بعد پرمغز تجاویز دی جائیں۔ اس تاریخی مجلس شوریٰ میں سیّدنا حضرت مصلح موعود ؓ فرماتے ہیں کہ آئندہ آنے والے زمانوں میں شوریٰ سے دنیا کے بادشاہ بھی مستفید ہوں گے انہوں نے اس کے لیے عیسائیت میں پوپ کی مثال دی کہ آج بھی اُن کی رائے کو اہمیت دی جاتی ہے اور سنا جاتا ہے۔ آپ ؓ فرماتے ہیں کہ آج ہمیں کمزور سمجھا جاتاہے جبکہ آنے والے وقتوں میں ہماری رائے کو سنا جائے گا۔ اُس کو اہمیت دی جائے گی بلکہ ہماری حیثیت ماضی کے عظیم الشان فقہا اسلامی کی طرح ہوں گی جوسماوی علوم میں ستاروں کی طرح بھٹکے ہوؤں کی رہنمائی کرے گی۔ ان شاءاللہ

بعد ازاں امسال کی مجلس شوریٰ میں پیش ہونے والی تجاویز پر غوروخوض کے لیے شعبہ امورِعامہ و تربیت، شعبہ تربیت اور شعبہ مال کے تحت سب کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔ شعبہ امورِعامہ و تربیت کے تحت قائم ہونے والی سب کمیٹی کے صدر مکرم سیّد حامد محمود شاہ صاحب مقرر ہوئے جبکہ مکرم منور احمد بھٹی راجپوت صاحب اس کمیٹی کے سیکرٹری تھے۔

شعبہ تربیت کے تحت تشکیل پانے والی سب کمیٹی کے صدر مشنری انچارج مکرم احسان سکندر صاحب مقرر ہوئے جبکہ مکرم عبدالصمد صاحب نے بطور سیکرٹری فرائض سرانجام دیے۔ اور شعبہ مال کے تحت قائم کی جانے والی سب کمیٹی کے صدر مکرم امداد حسین صاحب تھے جبکہ مکرم عمران احمدصاحب اس کمیٹی کے سیکرٹری تھے۔ سب کمیٹیوں نے مقررہ مقامات پر اپنے اپنے اجلاسات کا آغاز کر دیا جو رات گئے تک جاری رہے۔موٴرخہ 22؍مئی کو مجلس شوریٰ کی کارروائی کا آغاز ساڑھے گیارہ بجے مکرم امیر صاحب کی صدارت میں ہوا۔ بعد ازاں وقفہ برائے نمازِ ظہر و عصر اور طعام ہوا جس کے بعدامیر جماعت بیلجیم مجلس عاملہ جماعت احمدیہ بیلجیم کا انتخاب ہوا جس کی صدارت مکرم احسان سکندر صاحب مربی سلسلہ احمدیہ بیلجیم نے کی۔مجلس شوریٰ جماعت احمدیہ بیلجیم میں کُل 76 نمائندگان شوریٰ نے شامل ہونے کی توفیق پائی۔

آخر پر جماعت احمدیہ بیلجیم امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو مجلسِ شوریٰ کے باقاعدہ قیام پر سو سال مکمل ہونے پر عاجزانہ مبارکباد پیش کرتی ہے نیز دعا گو ہے کہ خلافتِ احمدیہ کے زیرِ سایہ یہ ادارہ ترقی کرتا چلا جائے اور اسلام احمدیت کے حقیقی غلبہ اور ممبرانِ جماعت احمدیہ کی تربیت و ترقی میں خلیفۂ وقت کے دستِ راست کے طور پر اپنا کردار ادا کرنے کی توفیق پاتا چلا جائے۔ آمین۔

(رپورٹ: چوہدری طاہر احمد گِل۔ نمائندہ الفضل آن لائن بیلجیم)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 28 جون 2022

اگلا پڑھیں

مالدار لوگ بلند درجوں پر پہنچ گئے