• 20 ستمبر, 2020

ظہور امام مہدی اور تسبیح

کچھ عرصہ قبل خاکسار نے اپنے ایک اداریہ میں لکھا تھا کہ قرآن کریم کے آخری حصے کا مطالعہ کریں جہاں ظہور امام مہدی کی علامات کا ذکر ہے تو وہاں یتامیٰ، مساکین اور غرباء کے ساتھ حسن سلوک کرنے، ان کے حقوق ادا کرنے اور ان کا خیال رکھنے کا ذکر کثرت سے ملتا ہے۔ اس کی شاید یہ وجہ ہو کہ یہ آخری دور آپا تاپی کا دور ہونا تھا اس لئے اپنے سے کم مرتبہ کے لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم دی گئی تا جو اس میدان میں کمی واقع ہونی تھی اس کو حضرت امام مہدی علیہ السلام ازسرنو ثریا سے اُتار کر اپنے ماننے والوں کے دلوں میں راسخ کریں گے۔

میرے ایک برخوردار عزیزم زاہد محمود نے میرے ایسے اداریوں کو پڑھ کر سیدنا مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا ایک اقتباس مہیا کیا ہے جو تفسیر کبیر جلد 8 صفحہ 389-390 سے لیا گیا ہے۔ جو آپؓ نے سورۃ الاعلیٰ کے تمہیدی نوٹ میں تحریر فرمایا ہے۔

حضورؓ نے یہ تحریر فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جہاں امام مہدی کا ذکر کیا ہے وہاں تسبیح و تحمید کا ذکر ملتا ہے۔ اس میں بھی شاید یہ حکمت اور وجہ تھی کہ آخری دور میں لوگ اللہ تعالیٰ کو بھول جائیں گے اور اپنے اوپر ہونے والے افضال کو اپنی ہی محنت اور کوشش کا نتیجہ مانیں گے۔ کرونا وائرس کے دوران ہم نے خود بھی محسوس کیا اور سوشل میڈیا، الیکٹرنک و پرنٹ میڈیا نے بھی اس بات کو محسوس کیا اور برملا اس امر کا اظہار کیا کہ لوگ خدا کو بھول چکے تھے۔ ہستی باری تعالیٰ پر یقین اٹھتا جارہا تھا۔ توحید باری تعالیٰ پر بھی ایمان مستحکم نہ رہا تھا۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے ایک جھٹکا دے کر اپنی یاد تازہ کروائی ہے اور اپنے وجود کے ہونے کا اظہار فرمایا ہے۔

آج حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے اسی اقتباس کو اداریہ کا حصہ بنایا جارہا ہے تا احمدی کثرت کے ساتھ اپنے خالق حقیقی کی تسبیح و تحمید و تقدیس کریں۔اس خدا کاشکر بھی ادا کریں جس نے ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آنحضورﷺ کا سلام پہنچانے کی توفیق دے کر تسبیح و تحمید کے سامان کثرت سے پیدا کئے۔

آپؓ تحریر فرماتے ہیں:
’’یہ بھی ایک عجیب بات ہے کہ جن سورتوں میں مسیح موعودؑ کا ذکر آتا ہے اُن میں تسبیح کا خاص طور پر ذکر آتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعودؑ کے ساتھ تسبیح کا کوئی خاص جوڑ ہے۔ یہ تو نہیں کہ جہاں بھی مسیح موعودؑ کا ذکر آیا ہو وہاں تسبیح کا بھی ذکر ہو بلکہ وہ سورتیں جن میں خصوصیّت کے ساتھ مسیح موعودؑ کا ذکر کیا گیا ہے اُن سورتوں میں تسبیح کا بھی خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ چنانچہ مسیح موعودؑ کا خاص طور پر ذکر سورۂ صف۔ سورۂ جمعہ اور سورۃ الاعلیٰ میں آتا ہے۔ بعض اور سورتیں بھی ہیں جن میں مسیح موعود کا ذکر آتا ہے جیسے اِس سے پہلی تین چار سورتوں کی تفسیر میں بیان ہو چکا ہے لیکن اِن سورتوں میں خصوصیّت کے ساتھ مسیح موعودؑ کا ذکر آتا ہے۔ اِن میں سے سورۂ صف کو سَبَّحَ سے شروع کیا گیا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ سَبَّحَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ وَھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ پھر سورۂ جمعہ کو یُسَبِّحُ سے شروع کیا گیا ہے۔ فرماتا ہے یُسَبِّحُ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِیْزِ الْحَکِیْمِ اور سورۃ الاعلیٰ کو سَبِّحْ سے شروع کیا گیا ہے۔ فرماتا ہے سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی گویا تینوں افعال کا استعمال کیا گیا ہے۔ ماضی۔ مستقبل اور امر۔ سَبَّحَ خالص ماضی پر دلالت کرتا ہے۔ یُسَبِّحُ حال اور استقبال دونوں پر دلالت کرتا ہے۔۔ کیونکہ مضارع کے معنوں میں حال کا مفہوم پایا جاتا ہے اور استقبال کا بھی۔ اور امر ہمیشہ استقبال کے متعلق ہوتا ہے۔ جب ہم کہتے ہیں تُو ایسا کر تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کام کو اس وقت نہیں کر رہا بلکہ ہمارے کہنے کے بعد کرے گا۔ پس امر ہمیشہ استقبال کے زمانہ پر دلالت کرتا ہے۔ پس اِن تینوں صیغوں یعنی مضارع اور امر کو استعمال کر کے تینوں زمانوں کی تسبیح مسیح موعودؑ کے ذکر میں بیان کی گئی ہے یعنی تینوں قسم کی تسبیحیں اُس کے زمانہ میں ہوں گی۔ ماضی کی بھی۔ حال کی بھی اور استقبال کی بھی۔ یہ ایک علیحدہ مضمون ہے جس کو تفصیلی طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔ مَیں نے صرف اشارہ کر دیا ہے کہ اِن تینوں سورتوں میں تین افعال استعمال کئے گئے ہیں اور اِس طرح مسیح موعودؑ کے ذریعہ سے تسبیح کی تکمیل کا وعدہ کیا گیا ہے۔‘‘

(تفسیر کبیر جلد8 صفحہ 389-390)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 28 اگست 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 29 اگست 2020