• 23 اکتوبر, 2020

صداقت حضرت مسیح موعودؑ کی ایک دلیل دعویٰ سے قبل کی پاکیزہ زندگی

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے:

فَقَدْلَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًامِّنْ قَبْلِہٖ ط اَفَلَا تَعْقِلُوْنَO

(سورۃ یونس: 17)

(ترجمہ) اس سے پہلے میں ایک عرصۂ دراز تم میں گزار چکا ہوں۔ کیا پھر (بھی) تم عقل سے کام نہیں لیتے۔

اس آیت ِ قرآنی کے ضمن میں حضرت اقدس مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:
’’اور دوسری خوبی جو شرط کے طور پر مامورین کے لئے ضروری ہے وہ نیک چال چلن ہے کیونکہ بدچال چلن سے بھی دِلوں میں نفرت پیدا ہوتی ہے۔ اوریہ خوبی بھی بدیہی طور پر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں پائی جاتی ہے جیسا کہ اللہ جلّ شانہٗ قرآن شریف میں فرماتا ہے: فَقَدْلَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًامِّنْ قَبْلِہٖ ط اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ یعنی ان کفار کو کہہ دے کہ اِس سے پہلے میں نے ایک عمر تم میں ہی بسر کی ہے پس کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں کس درجہ کا امین اور راستباز ہوں۔ اب دیکھو کہ یہ دونوں صفتیں جو مرتبہ نبوت اور ماموریت کے لئے ضروری ہیں یعنی بزرگ خاندان میں سے ہونا اور اپنی ذات میں امین اور راستباز اور خدا ترس اور نیک چلن ہونا قرآن کریم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کمال درجہ پرثابت کی ہیں اور آپ کےاعلیٰ چال چلن اور اعلیٰ خاندان پر خود گواہی دی ہے۔ اور اِس جگہ میں اِس شکرکے ادا کرنے سے رہ نہیں سکتا کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید میں اپنی وحی کے ذریعہ سے کفار کو ملزم کیا اور فرمایا کہ یہ میرا نبی اس اعلیٰ درجہ کا نیک چال چلن رکھتا ہے کہ تمہیں طاقت نہیں کہ اس کی گذشتہ چالیس برس کی زندگی میں کوئی عیب اور نقص نکال سکو باوجود اس کے کہ وہ چالیس برس تک دن رات تمہارے درمیان ہی رہا ہے۔ اور نہ تمہیں یہ طاقت ہے کہ اس کے اعلیٰ خاندان میں جو شرافت اور طہارت اور ریاست اور امارت کا خاندان ہے ایک ذرہ عیب گیری کرسکو۔ پھر تم سوچو کہ جو شخص ایسے اعلیٰ اور اطہر اور انفس خاندان میں سے ہے اور اس کی چالیس برس کی زندگی جو تمہارے روبروئے گذری۔ گواہی دے رہی ہے جو افترا اور دروغ بافی اِس کا کام نہیں ہے تو پھر ان خوبیوں کے ساتھ جبکہ آسمانی نشان وہ دِکھلا رہا ہے اور خدا تعالیٰ کی تائیدیں اس کے شامل حال ہو رہی ہیں اور تعلیم وہ لایا ہے جس کے مقابل پر تمہارے عقائد سراسر گندے اور ناپاک اور شرک سے بھرے ہوئے ہیں تو پھر اس کے بعدتمہیں اس نبی کے صادق ہونے میں کونسا شک باقی ہے۔ اسی طور سے خدا تعالیٰ نے میرے مخالفین اور مکذّبین کو ملزم کیا ہے۔ چنانچہ براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۱۲ میں میری نسبت یہ الہام ہے جس کے شائع کرنے پر بیس برس گذر گئے اور وہ یہ ہے ولقد لبثت فیکم عمرًا من قبلہٖ اَفَلَا تعقلون یعنی ان مخالفین کو کہہ دے کہ میں چالیس برس تک تم میں ہی رہتا رہا ہوں اور اس مدّت دراز تک تم مجھے دیکھتے رہے ہو کہ میرا کام افترا اور دروغ نہیں ہے اور خدا نے ناپاکی کی زندگی سے مجھے محفوظ رکھا ہے تو پھر جو شخص اِس قدر مُدت دراز تک یعنی چالیس برس تک ہر ایک افترا اور شرارت اور مکر اور خباثت سے محفوظ رہا اور کبھی اس نے خلقت پر جھوٹ نہ بولا توپھر کیونکر ممکن ہے کہ برخلاف اپنی عادت قدیم کے اب وہ خدا تعالیٰ پر افترا کرنے لگا‘‘۔

(تریاق القلوب روحانی خزائن جلد 15 صفحہ281-283)

حضورؑ کی یہ پاکیزہ فطرت اور خدا نما عادات و خصائل ہی کا نتیجہ تھا کہ جس نے بھی بصیرت کی نگاہ سے دیکھا آپ کا والہ و شیدا ہوگیا۔ میاں محمد یاسین صاحب احمدی ٹیچر بلوچستان کی روایت ہے کہ ’’مجھے مولوی برہان الدین صاحب نے بتایا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام مولوی غلام رسول صاحبؒ (1813ءتا 1874ء، مولوی نذیر حسین دہلوی کے شاگرد اور مولوی عبداللہ غزنوی کے ہم مکتب تھے) قلعہ میاں سنگھ کے پاس گئے اور اس وقت حضور ابھی بچہ ہی تھے۔ اس مجلس میں کچھ باتیں ہورہی تھیں۔ باتوں باتوں میں مولوی غلام رسول صاحبؒ نے جو ولی اللہ و صاحب کرامات تھے فرمایا کہ اگر اس زمانہ میں کوئی نبی ہوتا تو یہ لڑکا نبوت کے قابل ہے۔ انہوں نے یہ بات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام پر محبت سے ہاتھ پھیرتے ہوئے کہی۔ مولوی برہان الدین صاحب کہتے ہیں کہ میں خود اس مجلس میں موجود تھا۔ مکرم مولوی غلام محمد صاحب سکنہ بیگووالہ ضلع سیالکوٹ نے بتایا کہ میں نے یہ بات اپنے والد محمد قاسم صاحب سے اسی طرح سنی تھی۔‘‘

(منقول از ’’روایات صحابہ‘‘ غیر مطبوعہ جلد 12 صفحہ 104تا105 بحوالہ تاریخ احمدیت جلد اوّل صفحہ53)

حضرت مسیح موعودؑ براہین احمدیہ کی اشاعت سے قبل خلوت نشینی میں رہے اور زیادہ لوگ آپ کو جانتے تک نہ تھے۔ فرمایا:

ابتداء سے گوشہ خلوت رہا مجھ کو پسند
شہرتوں سے مجھ کو نفرت تھی ہر اک عظمت سے عار

نیز اپنی گمنامی کی حالت کا ذکر ان الفاظ میں کیا: ’’یہ وہ زمانہ تھا جس میں مجھے کوئی بھی نہیں جانتا تھا نہ کوئی موافق تھا نہ مخالف۔ کیونکہ مَیں اُس زمانہ میں کچھ بھی چیز نہ تھا اور ایک احدٌ مِّن النّاس اور زاویہ گمنامی میں پوشیدہ تھا‘‘ (روحانی خزائن : جلد ۲۲- حقِیقۃُالوَحی: صفحہ 460) لیکن ۱۹ ویں صدی کے آخری ربع میں آپؑ کو خدائی تقدیر دنیا کی اصلاح کیلئے گوشہ گمنامی سے نکال کر علمی میدان کی جانب کھینچنے لگی۔ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ تاریخی طور پر اس کی تفصیل یوں بیان فرماتے ہیں: ’’پبلک میں آپ نے تصنیف براہین سے صرف کچھ قبل یعنی ۷۸، ۱۸۷۷ء میں آنا شروع کیا اور مضامین شائع کر نے شروع فرمائے اور تبلیغی خطوط کا دائرہ بھی وسیع کیا۔ مگر دراصل مستقل طور پر براہین احمدیہ کے اشتہار نے ہی سب سے پہلے آپ کو ملک کے سامنے کھڑا کیا اور اس طرح علم دوست اور مذہبی امور سے لگاؤ رکھنے والے طبقہ میں آپ کا انٹروڈکشن ہوا اور لوگوں کی نظریں اس دیہات کے رہنے والے گمنام شخص کی طرف حیرت کے ساتھ اُٹھنی شروع ہوئیں‘‘

(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ93 مطبوعہ 2008)

لہٰذا زیادہ تر حوالہ جات جو اس دلیل کو ثابت کرنے کیلئے ہمیں ملیں گے وہ براہین احمدیہ کی اشاعت کے بعد کے ہی ہونگے اور اس اصول ِ قرآنی کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم دو طرح کے لوگوں کےاقوال سے حضرت مسیح موعودؑ کا میعارِ صداقت جانچ سکتے ہیں:

اول: وہ لوگ جنہوں نے دعویٰ سے قبل حضرت اقدسؑ کے ساتھ وقت گزارا اور بعدہ مخالف ہوگئےیا قبول نہیں کیا۔
دوم: وہ لوگ جنہوں نے دعویٰ سے قبل حضرت اقدسؑ کے ساتھ وقت گزارا اور بعدہ بیعت کرلی یا ان کی اولاد نے بیعت کی۔

اول الذکر میں سے چند مثالیں

اہلِ حدیث فرقہ کے معروف مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب نے اپنے رسالہ اشاعت السنہ میں براہینِ احمدیہ پر ریویو تحریر کیا جس میں حضرت اقدسؑ کی زندگی کی پاکیزگی اور بے عیب ہونے کی گواہی دی نیز خاندانی شرافت اور بزرگی کا اظہار ان الفاظ میں کیا: ’’بالآخر ہم اس قدر کہنے سے بازہرگز نہیں رہ سکتےکہ اگر یہ معاملہ گورنمنٹ تک پہنچتا تو یقین تھا کہ ہماری زیرک اور دانشمند گورنمنٹ ایسے مفسدوں کو جنہوں نے بحق ایسے شریف خاندانی کےجو ایک معزز نیک نام و خیر خواہ سرکار کا بیٹا ہے اور خود بھی سرکار کا دلی خیر خواہ وشکر گزار و دعا گو ہےاور درویشی و غربت سے زندگی بسر کرتا ہے ایسا مفسدانہ افترا کیا اور بہت لوگوں کے دلوں کو آزار پہنچایاہے، سخت سزا دیتی‘‘۔ (اشاعۃ السنہ نمبر 7 جلد7 صفحہ 193) نیز اپنے ریویو کا اختتام اس دعا پر کیا: ’’اے خدا اپنے طالبوں کے رہنما ان پر ان کی ذات سے ان کے ماں باپ سے تمام جہانوں کے مشفقوں سے زیادہ رحم فرما۔ تو اس کتاب کی محبت لوگوں کے دلوں میں ڈال دے اور اس کی برکات سے ان کو مالا مال کردے اور کسی اپنے صالح بندے کے طفیل اس خاکسار شرمسار گنہگار کو بھی اپنے فیوض و انعامات اور اس کے آب کی اخص برکات سے فیض یاب کر آمین‘‘۔ (اشاعۃ السنہ نمبر 11 جلد7 صفحہ 348) ضمناً یہ بات بھی عرض کرتا چلوں کہ مولوی صاحب دلی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد جب واپس بٹالہ آئے تو اگرچہ ایک عالم کی حیثیت سے ہندوستان بھر میں مشہور ہوگئے اور ہر جگہ ان کا طوطی بولنے لگا۔ مگر اس وقت بھی ان کی حضورؑ سے عقیدت کایہ عالم تھاکہ حضورؑ کا جوتا آپ کے سامنے سیدھا کرکے رکھتے اور اپنے ہاتھ سے آپ کا وضو کرانا موجب سعادت قرار دیتے تھے۔ چنانچہ حضرت میاں خیرالدین صاحب سیکھوانی کا چشم دید واقعہ ہے کہ: ’’دعویٰ سے پہلے ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے مکان واقعہ بٹالہ پر تشریف فرماتھے۔ میں بھی خدمت اقدس میں حاضر تھا۔ کھانے کا وقت ہوا تو مولوی صاحب خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے ہاتھ دھلانے کے لئے آگے بڑھے۔ حضورؑ نے ہر چند فرمایا کہ مولوی صاحب آپ نہ دھلائیں مگر مولوی صاحب نے باصرار حضورؑ کے ہاتھ دھلائے اور اس خدمت کو اپنے لئے باعث فخر سمجھا۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ سوم صفحہ 124طبع اوّل)

لیکن دعویٰ مسیحیت کے بعد جب مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی مخالفت پر کمربستہ ہوگئے بلکہ اول المکذبین بن کر آپ کے خلاف پہلا اور منظم محاذ قائم کر لیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے ہندوستان بھر کے تمام علماء کو چیلنج دیا کہ وہ آپ کی دعویٰ سے قبل کی زندگی کے کسی گوشہ کو داغ دار ثابت کر دکھائیں۔ اس زبردست تحدی نے مولوی محمد حسین بٹالوی اور ان کے ہم خیال علماء اور سجادہ نشینوں پر سکوت مرگ طاری کر دیا اور وہ حضورؑکی بے لوث زندگی پر انگشت نمائی کرنے سے سراسر قاصر رہے۔

اخبار زمیندار کے ایڈیٹر مولوی ظفر علی خاں صاحب کے والد اور اخبار زمیندار کے بانی منشی سراج الدین احمد صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارے میں لکھا: ’’ہم چشم دید شہادت سے کہہ سکتے ہیں کہ جوانی میں بھی نہایت صالح اور متقی بزرگ تھے۔ کاروبار ملازمت کے بعد ان کا تمام وقت مطالعۂ دینیات میں صرف ہوتا تھا۔ عوام سے کم ملتے تھے۔ 1877ء میں ہمیں ایک شب قادیان میں آپ کے ہاں مہمانی کی عزت حاصل ہوئی۔ ان دنوں میں بھی آپ عبادت اور وظائف میں اس قدر محو و مستغرق تھے کہ مہمانوں سے بھی بہت کم گفتگو کرتے تھے۔‘‘

(اخبار زمیندار مئی 1908ء بحوالہ بدر 25 جون 1908ء۔ صفحہ 13 کالم نمبر2,1)

اخبار وکیل امرتسر نے لکھا: ’’کیریکٹر کے لحاظ سے ہمیں مرزا صاحب کے دامن پر سیاہی کا ایک چھوٹا سا دھبّہ بھی نظر نہیں آتا۔ وہ ایک پاکباز کا جینا جیا اور اس نے ایک متقی کی زندگی بسر کی۔ غرض کہ مرزا صاحب کی زندگی کے ابتدائی پچاس سالوں نے کیا بلحاظ اخلاق و عادات اور پسندیدہ اطوار، کیا بلحاظ مذہبی خدمات و حمایتِ دین مسلمانانِ ہند میں اُن کو ممتاز برگزیدہ اور قابلِ رشک مرتبہ پر پہنچایا۔‘‘

(اخبار وکیل 30 مئی 1908ء صفحہ 1۔ بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 2 صفحہ 563 جدید ایڈیشن)

ثانی الذکر میں سے چند مثالیں

1885ء میں حضرت مسیح موعودؑ نے نشان نمائی کی دعوت کا ایک اشتہار شائع فرمایا۔ اس وقت حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحب بھیرویؓ ریاست جموں کے شاہی طبیب کی حیثیت سے جموں میں مقیم تھےکہ یہیں آپ کوحضرت اقدس مسیح موعودؑ کا اشتہار ملا اور آپ حضرت اقدسؑ کی زیارت کیلئے دیوانہ وار جموں سے قادیان روانہ ہوگئے۔

(تاریخ احمدیت جلد 01صفحہ210)

پہلی ملاقات میں ہی حضرت اقدسؑ کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور میری بیعت لے لیں۔ آپؑ نے فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر اس معاملہ میں کوئی قدم نہیں اٹھا سکتا۔ اس پر حضرت مولاناؓ نے عرض کیا کہ پھر حضور وعدہ فرمائیں کہ جب بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیعت لینے کا حکم آجائے تو سب سے پہلے میری بیعت لی جائے۔ آپؑ نے فرمایا ٹھیک ہے۔

(حیاتِ نوراز عبدالقادر سوداگر مل صاحب صفحہ117)

اس سے قبل آپؓ اکثر اللہ تعالیٰ کے حضور یہ دعا کیا کرتے تھےکہ یاالٰہی! کوئی ایسا مرد کامل پیدا کرجو اس پر آشوب زمانے میں دشمنانِ اسلام کا مقابلہ کرسکے۔ آپؓ نے اس کیفیت کا ذکر اپنی ایک عربی تحریر میں یوں فرمایا: ’’میں تو ایک ایسے شخص کے دیدار کا حریص تھا جو زمانے میں سے منفرد اور یکتا ہو اور دین کی تائید اور مخالفین کا منہ بند کرنے کیلئے میدان میں کھڑا ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ اسی اثناء میں مجھے جناب جلیل القدر عالم متبحر، مجدّدِ صدی، مہدئ زمان، مسیح دوران، مؤلف براہین احمدیہ کی بشارت ملی۔ پس میں حقیقتِ حال جاننے کیلئےآپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے اپنی فراست سے جان لیا کہ آپ ہی مسیح موعود اور حکم و عدل ہیں اور یہ کہ آپ ہی وہ ہستی ہیں جن کو اللہ نے تجدیدِ دین کیلئے مقرر فرمایا ہے اور آپ نے اس پر لبیک یا الہ العالمین (اے جہانوں کے معبود میں حاضر ہوں) کہا۔ پس میں اس عظیم الشان احسان پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے سجدہ ریز ہوگیا۔‘‘

(یہ حضرت مسیح موعود کی کتاب سے عربی عبارت کا اردو ترجمہ ہے جہاں حضور علیہ السلام نے حضرت مولوی نورالدین صاحب کے الفاظ بیان کئے ہیں)

(کرامات الصادقین روحانی خزائن جلد 07 صفحہ151)

حضرت صوفی احمد جان صاحب لدھیانویؓ حضرت مسیحِ موعودؑ کے ان اوّلین عشاق میں سے تھے جنہوں نے اپنے کثیر ارادت مندوں اور عقیدت مندوں کی پروا نہ کرتے ہوئے حضرت اقدسؑ کے دامن سے وابستگی اختیار کر لی اور شاہی پر غلامی کو ترجیح دی۔ آپ کو حضرت صاحب کی اطلاع اس وقت ہوئی جب کہ براہین احمدیہ کے تین حصے شائع ہوچکےتھے۔ آپ نے ’’اشتہار واجب الاظہار‘‘ کے نام سے براہینِ احمدیہ پر اپنا ریویو شائع فرمایا جس میں حضرت اقدسؑ کی تائید میں یوں گویا ہوئے: ’’ایک ایسی کتاب اور ایک ایسے مجدد کی بے شک ضرورت تھی جیسی کہ کتاب براہین احمدیہؐ اور اس کے مؤلف جناب مخدومنا مولانا میرزا غلام احمدؐ صاحب دام فیوضہ ہیں۔ جو ہر طرح سے دعویٔ اسلام کو مخالفین پر ثابت فرمانے کے لئے موجود ہیں۔ جناب موصوف عامی علماء اور فقرا میں سے نہیں بلکہ خاص اس کام پر منجانب اللہ مامور اور ملہم اور مخاطب الٰہی ہیں۔ صدہا سچے الہام اور مخاطبات اور پیشگوئیاں اور رؤیاء صالحہ اور امر الٰہی اور اشارات وبشارات اجراء کتاب اور فتح و نصرت اور ہدایات امداد کے باب میں زبان عربی، فارسی، اردو وغیرہ میں جو مصنف صاحب کو بہ تشریح تمام ہوئے ہیں،مشرح و مفصل اس کتاب میں درج ہیں۔ اور بعض الہامات زبان انگریزی میں بھی ہوئے ہیں۔ حالانکہ مصنف صاحب نے ایک لفظ بھی انگریزی کا نہیں پڑھا۔ چنانچہ صدہا مخالفین اسلام کی گواہی سے ثابت کرکے کتاب میں درج کئے گئے ہیں،جن سے بخوبی صداقت پائی جاتی ہے۔ اور یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے، کہ مصنف صاحب بے شک امر الٰہی سے اس کتاب کو لکھ رہے ہیں۔ اور صاف ظاہر ہوتا ہے بموجب حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ فِیمَا اَعْلَمُ عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وآلِہٖ وَسَلَّمَ قَالَ اِنَّ اللّٰہَ یَبْعَثُ لِھٰذِہِ الْاُمَّۃِ عَلٰی رَاْسِ کُلِّ مِائَۃِ سَنَۃٍ مَّنْ یُّجَدِّدُ لَھَا دِیْنَھَا۔ (رواہ ابو دائود) جس کے معنیٰ یہ ہیں کہ ہرصدی کے شروع میں ایک مجدد منجانب اللہ پیدا ہوتا ہےتو تمام مذاہب باطلہ کے ظلمات کو دور کرتا ہے اور دین محمدی ؐکو منور اور روشن کرتا ہے۔ ہزار ہا آدمی ہدایت پاتے ہیں اور دین اسلام ترو تازہ ہو جاتا ہے۔ مصنف صاحب اس چودھویں صدی کے مجدّد اور مجتہد اور محدث اور کامل مکمل افراد امت محمدیہ میں سے ہیں۔ اور دوسری حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یعنی عُلَمَآءُ اُمَّتِیْ کَاَنْبِیَآءِ بَنِیْ اِسْرَآئِیْلَ اسی کی تائید میں ہے۔‘‘

حضورؑ کے ذکرِ خیر میں آپؓ مزید تحریر فرماتے ہیں:
’’اے ناظرین! میں سچی نیت اور کمال جوش صداقت سے التماس کرتا ہوں کہ بے شک و شبہ جناب میرزا صاحب موصوف مجدد وقت اور طالبان سلوک کے واسطے کبریت احمر اور سنگ دلوں کے واسطے پارس اور تاریک باطنوں کے واسطے آفتاب اور گمراہوں کے لئے خضر اور منکران اسلام کے واسطے سیف قاطع اور حاسدوں کے واسطے حجۃ بالغہ ہیں۔ یقین جانوکہ پھر ایسا وقت ہاتھ نہ آئے گا۔ آگاہ ہوکہ امتحان کا وقت آ گیا ہے۔ اور حجت الٰہی قائم ہو چکی ہے۔ اور آفتاب عالم تاب کی طرح بدلائل قطعیہ ایسا ہادی کامل بھیج دیا ہےکہ سچوں کو نور بخشے اور ظلمات ضلالت سے نکالے۔ اور جھوٹوں پر حجت قائم کرے،تاکہ حق و باطل چھٹ جائے۔ اور خبیث و طیب میں فرق ّبین ظاہر ہو جائے۔ اور کھوٹا کھرا پرکھا جائے۔‘‘ نیزآپ نے اپنی خداداد فراست سے یہ بھی پہچان لیا کہ یہ شخص مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرے گا ۔لہذایہ شعر کہا:

ہم مریضوں کی ہے تمہی پہ نگاہ
تم مسیحا بنو خدا کے لئے

(اخبار الفضل 23جون 1931ء صفحہ5 تا 7)

اگرچہ حضرت صوفی صاحبؓ کو ظاہری بیعت کا موقع نہ مل سکا لیکن حضورؑ نے آپؓ کا نام اپنے صحابہ خاص 313 (فہرست مندرج ازالہ اوہام) میں شامل کیا۔ 23 مارچ 1889ء کو حضرت اقدسؑ نے پہلی بیعت کے لئے حضرت صوفی صاحبؓ کے مکان کو شرف بخشا۔ اور پہلی بیعت کا شرف حضرت صوفی صاحبؓ کے داماد حضرت حکیم مولوی نور الدّین صاحبؓ خلیفہ اوّل کو حاصل ہوا اور عورتوں میں پہلی بیعت کی سعادت بھی آپؓ کی بیٹی اور حضرت خلیفہ اوّلؓ کی زوجہ حضرت صاحبزادی صغریٰ بیگمؓ کو نصیب ہوئی۔

(تاریخِ احمدیت جلد اوّل صفحہ382)

ہمارے پیارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے خطبہ جمعہ بیان فرمودہ 12 دسمبر 2014ء میں فرماتے ہیں: سورۃ یونس کی آیت سترہ میں جو اصول اللہ تعالیٰ نے نبی کی صداقت کا بیان فرمایا ہے کہ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِہٖ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۔ یعنی پس پہلے مَیں تمہارے درمیان ایک لمبی عمر گزار چکا ہوں۔ کیا تم عقل نہیں کرتے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ یہ کہیں یا آپؐ نے کفار کو یہ کہا۔ بہر حال یہ ایک اصول ہے نبی کی صداقت کا کہ جو اس کا ماضی ہے وہ اس کی زندگی کو ظاہر کرتا ہے۔

حضرت مصلح موعودؓ ایک جگہ اپنی تقریر میں فرماتے ہیں۔ یہ تقریر کا موقع بھی اس طرح پیدا ہوا کہ قادیان میں مخالفین کے بعض بڑے بڑے مخالف علماء جمع ہوئے اور انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کے خلاف بڑی دشنام طرازیاں کیں، بڑی تقاریر کیں اور بڑا منصوبہ کر کے وہ جلسہ انہوں نے منعقد کیا اور ارادہ ان کا یہ تھا کہ فساد پیدا کیا جائے۔ بہر حال اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا کہ وہ فساد تو نہ کر سکے لیکن انہوں نے جو بھی دریدہ دہنی کی جا سکتی تھی، گند بَکا جا سکتا تھا بَکا۔ اس کے بعد حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی ایک جلسہ منعقد کیا یا کہنا چاہئے کہ ایک اجلاس کی صورت تھی جہاں آپ نے ان اعتراض کرنے والوں کے اعتراضات کے جواب بھی دئیے اور صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ثابت کی۔

بہر حال وہ ساری باتیں تو نہیں، ایک آدھ اقتباس مَیں اس میں سے لیتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ: ’’حضرت مرزا صاحب کی دعوے سے پہلے کی زندگی کو دیکھتے ہیں تو آپ نے یہاں کے ہندوؤں، سکھوں اور مسلمانوں کو بار بار باعلان یہ فرمایا کہ کیا تم میری پہلی زندگی پر کوئی اعتراض کر سکتے ہو؟ مگر کسی کو جرأت نہ ہوئی بلکہ آپ کی پاکیزگی کا اقرار کرنا پڑا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جو یہ اصول بیان فرمایا ہے کہ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِہٖ۔ اس کے تحت ہر ایک نے یہ گواہی دی کہ آپ کی پہلی زندگی بالکل پاک تھی یا کم از کم اعتراض نہیں اٹھا سکے۔ پھر آپ کہتے ہیں کہ مولوی محمد حسین بٹالوی جو بعد میں سخت ترین مخالف ہو گیا اس نے اپنے رسالے میں آپ کی زندگی کی پاکیزگی اور بے عیب ہونے کی گواہی دی اور مسٹر ظفر علی خان کے والدنے اپنے اخبار میں آپ کی ابتدائی زندگی کے متعلق گواہی دی کہ بہت پاکباز تھے۔ پس جو شخص چالیس سال تک بے عیب رہا اور اس کی زندگی پاکباز رہی وہ کس طرح راتوں رات کچھ کا کچھ ہو گیا اور بگڑ گیا۔ علمائے نفس نے مانا ہے کہ ہر عیب اور اخلاقی نقص آہستہ آہستہ پیدا ہوا کرتا ہے۔ (جو نفسیات کے ماہر ہیں وہ یہی کہتے ہیں کہ جو اخلاقی برائیاں ہیں وہ آہستہ آہستہ پیدا ہوتی ہیں) ایک دم کوئی تغیر اخلاقی نہیں ہوتا ہے۔ پس دیکھو کہ آپ کا ماضی کیسا بے عیب اور بے نقص اور روشن ہے‘‘ کہ کسی کو جرأت نہیں ہوئی۔

(معیار صداقت۔ انوار العلوم جلد6 صفحہ61)

اب خاکسار اس مضمون کا اختتام حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے ایک اقتباس سے کرے گا جس میں آپؑ نے بڑی تحدی کے ساتھ اس دلیل کو اپنی صداقت کے نشان کے طور پر پیش کیا ہے۔ فرمایا: ’’تم غور کرو کہ وہ شخص جو تمہیں اس سلسلہ کی طرف بلاتا ہے وہ کس درجہ کی معرفت کا آدمی ہے اور کس قدر دلائل پیش کرتا ہے اور تم کوئی عیب، افتراء یا جھوٹ یا دغا کا میری پہلی زندگی پر نہیں لگا سکتے تا تم یہ خیال کرو کہ جو شخص پہلے سے جھوٹ اور افتراء کا عادی ہے یہ بھی اس نے جھوٹ بولا ہوگا۔ کون تم میں ہے جو میری سوانح زندگی میں کوئی نکتہ چینی کر سکتا ہے۔ پس یہ خدا کا فضل ہے کہ جو اُس نے ابتداء سے مجھے تقویٰ پر قائم رکھا اور سوچنے والوں کے لئے یہ ایک دلیل ہے۔‘‘

(تذکرۃ الشہادتین۔ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 64)

وَ آخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ

(مبشر محمود ظفر)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 28 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 29 ستمبر 2020