• 30 نومبر, 2020

تعارف مفردات فی غریب القرآن

مصنف کا تعارف

حضرت امام راغب کا نام حسین بن محمد بن مفصل بن محمد اور کنیت ابو القاسم ہے جبکہ لازوال شہرت امام راغب اصفہانی کی وجہ سے حاصل کی۔ آپ نے اپنی زندگی کے آخری سالوں اور وفات کے بعد عظیم الشان شہرت پائی جو آپ کو ہمہ گیر اور کثیر المنافع کتب کی وجہ سے حاصل ہوئی یہ کتب آپ کے تبحر علمی اور وسعت نظر تعصب سے مبرا عالی حوصلگی اور تمام اسلامی اور علمی موضوعات سے گہری واقفیت پر دلالت کرتی ہیں اس کے باوجود آپ کی ولادت مقام ولادت اور ابتدائی تعلیم و تربیت کے متعلق کوئی معین بات کتب تاریخ اور سوانح میں نہیں ملتی بلکہ حق تو یہ ہے کہ کئی کتب طبقات میں آپ کا ذکر تک نہیں ملتا۔ اس کا سبب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ چونکہ آپ نے حاکموں کے دربار اور درباریوں سے اپنا کچھ تعلق نہ رکھا اس لئے آپ کے ابتدائی حالات مشہور اور محفوظ نہ ہوئے صرف المنجد فی الاعلام میں زیر عنوان الراغب الاصفہانی لکھا ہے اصل میں اصفہان سے تعلق رکھتے ہیں اور اقامت بغداد میں اختیار کی۔

آپ کی نسبت اصفہان شہر کی طرف ہے جو علماء کا مرکز تھا اور بہت سے آئمہ حدیث اور تاریخ اور فن کے بڑے قابل قدر علماء اس علاقہ میں پیدا ہوئے یا یہاں سکونت اختیار کی ۔اس لئے قیاس ہے کہ آپ نے اس شہر اصفہان میں تعلیم و تربیت پائی ہو گی۔

(ماہنامہ انصاراللہ مارچ 2005 ص29)

امام راغب کی شخصیت

مؤلف کی تالیفات خصوصا مفردات القرآن اور محاضرات الادباء کے مطالعہ سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ مؤلف جامع العلوم و فنون ہونے کے ساتھ بلند پایہ کے صوفی بھی تھے۔

امام راغب اور شیعیت

مفردات القران کا استیعاب سے مطالعہ کرنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ بعض مقامات پر امام راغب، حضرت علی کو نام کی بجائے امیر المومنین کے لقب سے ذکر کرتے ہیں جس سے تردد پید اہو تا ہے کہ غالبا مؤلف شیعہ ہوں گے کیونکہ علماء شیعہ کی یہ عادت ہے کہ وہ علی نام کی بجائے انہیں امیر المومنین لکھتے ہیں۔ مگر یہ خیال کر کے بہت سے علمائے اہل سنت ایسے بھی ہیں جو کہ حضرت علیؓ، حسنؓ اور حسینؓ کے ساتھ علیہ السلام لکھ دیتے ہیں۔ اس لئے ضروری نہیں کہ حضرت علیؓ کے نام کی بجائے امیر المومنین لکھنے والا بھی شیعہ ہو۔

صاحب اعیان الشیعہ لکھتے ہیں۔
اکثر علماء نےتصریح کی ہے کہ امام راغب معتزلی تھے اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شیعہ بھی تھے کیونکہ معتزلی اور شیعہ عموماً اصول میں متحد ہیں اور اصحاب التراجم معتزلہ اور شیعہ کا تذکرہ ایک ساتھ کرتے ہیں۔

(اعیان الشیعہ ص248)

آپ تنگ نظر اور متعصب ہر گز نہ تھے کسی مسئلہ پر مختلف علماء کے اقوال بیان کر کے ان پر بحث کرتے اور پھر ان میں سے صحیح قول کو قبول کرتے ، آپ کی ایک عظیم صفت یہ تھی کہ منقول کو ہمیشہ معقول کے ساتھ رکھتے تھے اسی لئے بعض علماء آپ کو معتزلی سمجھ بیٹھے۔ اسی طرح ایک عاشق رسول ہونے کے ناطے آپ اہل بیت سے بڑی محبت رکھتے تھے اور اپنی کتب میں اس کا اظہار بھی کرتے ہیں جس کی وجہ سے بعض لوگ آپ کو شیعہ بھی قرار دیتے رہے۔

آپ کی کتب نے عوام و خواص میں بڑی قدر پائی حتی کہ امام غزالی جیسا عظیم شخص آپ کی تصوف کے مضمون پر مبنی کتاب الذریت الی مکارم الشریعت ہمیشہ اپنے پاس رکھتے۔

(روضات الجنات از محمد باقر الخوافساری جلد3 ص197)

حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں ۔
حضرت امام راغب بہر حال قرآن فہمی کے لحاظ سے اور عربی الفاظ کے فہم کے لحاظ سے سب پر بالا ہیں۔ ماشاء اللہ

ایک اور موقع پر شاندار خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا ۔
حضرت امام راغب کا دماغ اتناروشن اور پاکیزہ ہے کہ شاذ کے طور پر انہوں نے کبھی غلطی کی ہو گی ور نہ قرآن کریم کے الفاظ کے بیان میں انتہائی احتیاط سے کام لیتے ہیں اور لطف کی بات یہ ہے کہ قرآنی آیات کے ذریعہ معانی کرتے ہیں کسی لغت کی اور ضرورت نہیں پسں قران لغت کیا ہے یہ سیکھنا ہو تو امام راغب سے سیکھیں ہر لفظ کے قرانی آیت کے سہارے سے معنی کرتے ہیں جس میں غلطی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

بزرگوں کے اقوال موصوف کی تعریف میں

صاحب روضاة الجنات ان کے تذکرے میں لکھتے ہیں، امام راغب الاصفہانی لغت عربیت، حدیث، شعر کلام ، حکمت اور متقدمین کے علوم کے ساتھ ان کی ذات گرامی اس قدر مشہور ہے کہ کہنے کی ضرورت نہیں۔ ان کے شرف کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ عوام و خواص میں مقبول تھے ، خاص کر علم لغت میں ان کا پایہ بلند تھا۔

علامہ کرد علی لکھتے ہیں آپ اس پہلو سے امتیازی شان رکھتے ہیں کہ عقل آپ کی تحریروں سے چمکتے ہوئے جھلکتی ہے اور آپ تمام علماء پر اس لحاظ سے فوقیت رکھتے ہیں کہ آیات قرآنی سے نہایت عمدہ استنباط کرتے ہیں اور پھر اس ماحصل کو عین موقع پر ایسی عمدگی سے دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ آپ کے بیان کو ثابت کر دیتی ہے آپ حکمت یعنی علم عقل کو شرعی احکام کے ساتھ مطابقت دینے اور اپنی کتب کو فصاحت کے ساتھ ساتھ نہایت سہل اور نفع مند طور پر ترتیب دینے میں اپنا نظیر نہیں رکھتے۔

صاحب معجم الادبار ان کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں موصوف کوہ علم تھے اور ادب و فلسفہ بلکہ بلا استثنا جملہ علوم میں ان کا پایہ بلند تھا انہوں نے قرآن پاک کی ایک بہت بڑی تفسیر بھی لکھی ہے۔ امام سیوطی نے ان کا شمار علماء لغت و نحو میں کیا ہے۔ علی بن محمد البیھقی اپنے تتمہ میں انہیں حکماء کی صف میں کھڑا کرتے ہیں اور یا قوت نے اپنی المعجم میں ایک ادیب کی حیثیت سے ان کا تعارف کروایا ہے۔

(مفردات القرآن اردو مکتبہ القاسمیہ ص 12۔13)

تصنيفات

آپ نے کئی تصنیفات میں مگر جن تصنیفات کا ذکر مفردات القرآن مکتبہ القاسمیہ میں ہوا ہے وہ پیش خدمت ہیں:

.1۔ محاضرات الادباءجامع التفسيرحل متشابہات القرآنالذریعہ الیٰ مکارم الشريعة
درّة التاویل فی غرة التنزیلتحقيق البیان فی تاویل القرآنافا نین البلاغہکتاب الایمان والكفر
تفصيل النشاتین و تحصیل السعاد تین 10۔ المفردات فی غریب القرآن

(مفردات القرآن اردو صفحہ 9 مکتبہ القاسمیہ)

وفات

صاحب کشف الظنون لکھتے ہیں کہ امام راغب الاصفحانی 500ھ کے بعد فوت ہوئے۔ امام سیوطی لکھتے ہیں کہ پانچویں صدی کے اوائل میں تھے مگر صحیح 502ھ ہے۔

(مفردات القرآن اردو مکتبہ القاسمیہ ص 9)

قران کریم کا یہ عظیم خادم عظیم الشان خدمات سر انجام دینے کے بعد 502 ہجری بمطابق 1108ء کو اس دار فانی سے کوچ کر گیا۔ آپ کے مقام ولادت کی طرح مقام وفات کا بھی ذکر نہیں ملتا۔

کتاب کا تعارف

اس کا پورا نام ”المفردات فی تحقیق مواد لغات العرب المتعلقة بالقرآن‘‘ ہے جبکہ مطبوعہ نسخوں پر ”المفردات فی غريب القرآن‘‘ کا عنوان مرقوم ہے اردو میں اسے ” مفردات القرآن « سے شہرت ہے۔ مفردات القرآن کے نام سے بہت سی کتابیں شائع ہوئیں لیکن جو شہرت و دوام اس کتاب کو حاصل ہے وہ کسی کو نہیں۔

یہ کتاب حروف تہجی کی ترتیب کے مطابق ہے اس میں ہر کلمہ کے حروف اصلیہ میں اول حرف کی رعایت کی گئی ہے اور قرآن میں استعمال ہونے والے تمام الفاظ کی لغوی تشریح کی گئی ہے۔

طریق بیان بڑا فلسفیانہ ہے جس میں پہلے ہر مادہ کے جوہری معنی متعین کئے جاتے ہیں پھر انہیں قرآنی آیات پر منطبق کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ شرح الفاظ کیلئے یہ طریقہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے اس سے صحیح معنی تک رسائی ممکن ہوتی ہے اور تمام اشتباه دور ہو جاتے ہیں۔

بہت سے مصنفین اور آئمہ لغت کے اس کتاب سے استفادہ کیا ہے۔

حضرت امام راغب اس کتاب کے مقدمے میں کتاب کا تعارف لکھتے ہیں ۔ علوم القرآن کو حاصل کرنے کے لئے جس چیز کی سب سے پہلے ضرورت پڑتی ہے وہ قرآن کے الفاظ و مفردات کا علم ہے اور قرآنی مفردات کے معنی کی تحصیل ویسی ہی پہلی اور بنیادی ضروری چیز ہے جیسے عمارت بنانے والے کے لئے سب سے پہلے اینٹوں کا حصول لازمی ہے قرآن مجید نے لغت عرب کے ذخیرے میں جو الفاظ استعمال کئے ہیں وہ لغت عرب کا بہترین نچوڑ ہونے کے ساتھ ساتھ اس کا سب سے اعلی جزو اور مغز ہیں اور بقیہ وہ عربی الفاظ جو قرآن مجید میں استعمال نہیں ہوئے وہ مستعمل الفاظ کے لئے خادم اور تفصیل کا حکم رکھتے ہیں جیسے ایک نہایت خوشنما اور خوش ذائقہ پھل کے اوپر چھلکا ہو یا اس کے اندربیچ ہو۔

کتاب کی اہمیت کے لئے یہی کافی ہے کہ اصحاب تفسیر کے علاوہ حافظ ابن حجر اور علامہ عینی جیسے شارحین حدیث بھی امام راغب سے استفادہ کرتے ہیں۔ امام راغب نے اپنی تفسیر میں ایک انداز یہ بھی اختیار کیا ہے کہ علماء مفسرین کے ساتھ ساتھ وہ لغت سے بھی استشہادکرتے ہیں۔

امام راغب نے اپنی تفسیر میں صرفی و نحوی مسائل کے متعلق نحویوں کے بے شمار اقوال ذکر کئے ہیں۔ موصوف اپنی تفسیر میں عربی جاہلی اشعار سے بھی احتجاج واستشہاد کرتے ہیں۔

امام راغب اپنی تفسیر میں فقہی مسائل کا بھی ذکر کرتے ہیں اور اس ضمن میں مختلف اقوال وروایات لے کر آتے ہیں۔ کتاب مؤلف نے پندرہ سو نواسی مواد سے بحث کی ہے ایسے الفاظ کو بھی زیر بحث لایا گیا ہے جو متروک ہیں۔

اس کا اردو ترجمہ مولانا محمد عبدہ فیروز پوری صاحب نے کیا ہے۔

بعض مفسرین اسے لغت کی کتاب میں شمار کرتے ہیں اور بعض مفسرین اسے تفسیر کی کتب میں شامل کرتے ہیں۔

حضرت مسیح موعود ؑ نے اسے تفسیر کی کتب میں شامل کیا ہے۔

مثال

امام راغب نے جو ترتیب اپنی کتاب میں رکھی ہے اس کی چند مثالیں پیش خدمت ہیں۔ الخرطوم ۔۔۔ اس کے اصل معنی ہاتھی کی سونڈ کے ہیں قران پاک میں ہے سَنَسِمُهٗ عَلٰى الخُرْطُومِ ہم عنقریب اس کی ناک پر داغ لگائیں گے میں انسان کی ناک پر خرطوم کا اطلاق کیا ہے تو یہ محض مذمت کیلئے ہے یعنی اسے نہ مٹنے والی عار لاحق ہو گی یہ جدعت انفہ کی طرح کا محاورہ ہے۔

استعارہ کے طور پر خبز کے معانی سخت ہنکانے کے آجاتے ہیں کیونکہ ہانکنے والا بھی اسی طرح ہاتھ مارتا ہے جیسے روٹی بنانے والا کر تا ہے۔

الا جاج۔۔ کے معانی سخت کھارے اور گرم پانی کے ہیں قرآن پاک میں ہے هٰذَا عَذَابٌ فَرَاتٌ وَهٰذَا مِلْحٌ أَجَاجٌ ایک کا پانی نہایت شیریں اور دوسرے کا سخت گرم ہے۔

ائتج النھار۔۔ دن گرم ہو گیا۔ اسی (اجّ) سے یاجوج و ماجوج ہے۔ ان کی کثرت اضطراب کی وجہ سے مشتعل آگ یا موجزن اور متلاطم پانی کے ساتھ تشبیہ دے کر یاجوج ماجوج کہا گیا ہے۔

اَجَّ الظَلِیْمُ اجِیْجاً۔ شتر مرغ نہایت سرعت رفتار سے چلا۔ یہ محاورہ اشتعال نار کے ساتھ تشبیہ دے کر بولا جاتا ہے۔

کتاب کی خصوصیات

احمد حسن فرحات نے کتاب کی جو خصوصیات بیان کی ہے اس کا خلاصہ درج ذیل ہے۔

کلمۃ کی اصل ظاہر کرنا : یعنی کلمہ کے اصل کا ایسا معنی بیان کر دینا جو اپنے تمام معانی کو شامل ہو، ایسا لگتاہے کہ اصفہانی اس سلسلہ میں ابن فارس کی کتاب ’’معجم مقاییسں اللغتہ‘‘ سے متاثر ہیں۔

صحیح معانی کی تحقیق

یعنی کبھی کبھی انبیاء کے تعلق سے بعض ایسی باتیں آتی ہیں کہ اس کی اگر تاویل کسی دوسرے معنی میں نہ کی جائے تو نبی کی عصمت پر زد آسکتی ہے، اس لئے اسی جگہوں پر اصفہانی ایک ایسا صحیح معنی تلاش کرتے ہیں جو نبی کی عصمت کے شایانِ شان ہو۔

ظنی اور غیر مر او معانی کی نفی

یعنی بعض مواقع پر بسا اوقات قاری کے ذہن میں ایک لفظ کے کئی کئی معانی آجاتے ہیں حالانکہ اصل معنی انکے علاوہ ہوتا ہے۔ ایسے موقع پر اصفہانی ان تمام غیر مراد معانی کی نفی کردیتے ہیں اور لفظ کے مناسب معنی کی وضاحت کر دیتے ہیں، جیسے کہ لفظ خوف (ڈرنا) کے تعلق سے اصفہانی نے اَلْخَوْفَ مِنَ اللهِ (اللہ سے ڈرنا) لکھا ہے۔ لیکن عام طور سے جو ڈرنا سمجھا جاتا ہے وہ مراد نہیں ہے، جیسے شیر سے ڈرنا۔ یہاں اللہ سے ڈرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی نافرمانی سے بچا جائے اور اس کی اطاعت کیا جائے۔

قواعد کلیہ : بہت سے مقامات پر اصفہانی بعض کلمات کی تشریح کرتے ہوئے قاعدہ کلیہ بیان کر دیتے ہیں، یعنی اس کلمہ کے قرآنی استعمال کی تحقیق پیش کرتے ہیں۔ مثلا: کہتے ہیں (لفظ «تبارک» قرآن میں جہاں بھی استعمال ہوا ہے وہ اللہ کی خیر کی صفات کے ساتھ خاص ہے)

قواعدا کثریہ : بعض جگہوں پر اصفہانی یہ وضاحت کر دیتے ہیں کہ یہ لفظ اس معنی میں اکثر استعمال ہوتا ہے، تاکہ اس کے کئی معنی کی نفی ہو جائے۔ مثلا: لکھتے ہیں (لفظ ’’سعی‘‘ کازیادہ تر استعمال قابل تعریف احوال کے لیے ہو تا ہے)

(مفردات القرآن جلد اول صفحہ 19 اسلامی اکیڈمی لاہور)

چند تفسیری نکات

الختم والطبع کے لفظ دو طرح سے استعمال ہوتے ہیں کبھی توختمت اور طبعت کے مصدر ہوتے ہیں اور اس کے معنی کسی چیز پر مہر کی طرح نشان لگانے کے ہیں اور کبھی اس نشان کو کہتے ہیں جو مہر لگانے سے بن جاتا ہے۔ خَتَمَ اللہُ عَلٰی قُلُوبِھِمْ خدانے ان کے دلوں پر مہر لگا رکھی ہے اور کبھی کسی چیز کا اثر حاصل کر لینے سے کنایہ ہوتا ہے جیسا کہ مہر سے نقش ہو جاتا ہے۔

الصلب

الصلب ولا صطلاب کے معنی ہڈیوں سے چکنائی نکالنے کے ہیں اور صلب جس کے معنی قتل کرنے کے لئے لٹکا دینے کے ہیں ۔ بقول بعض اسے صلب اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں اس شخص کی پیٹھ لکڑی کے ساتھ باندھ دی جاتی ہے اور بعض نے کہا کہ یہ صلب الودک سے ہے جس کے معنی ہڈیوں سے چکنائی نکالنا کے ہیں اور قرآن میں ہے وَمَاصَلَبُوْہُ وَمَا قَتَلُوهُ اور انہوں نے عیسی کو قتل نہیں کیا اور نہ سولی پر چڑھایا ۔

اس زمانہ میں صلیب پر قتل کرنے کے لئے لٹکایا جاتا تھا یہاں تک کہ مصلوب شخص مر جاتا اور اس کی ہڈیاں بھی توڑ دی جاتی تھیں لیکن حضرت عیسؑی کی نہ ہی ہڈیاں توڑی گئیں اور نہ ہی زیادہ دیر وہ صلیب پر لٹکائے گئے کہ جس سے موت واقع ہو سکے پس وہ لوگ حضرت عیسٰؑی کو حقیقی صلیب نہ دے سکے اور یہی معنی قولہ تعالی وَمَاصَلَبُوْہُ کا ہے۔

خلفاء کے اقوال مفردات کی تعریف میں

آپ کی کتاب مفردات نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلفاء سے بھی خوب داد تحسین پائی ہے۔

حضرت خلیفه المسیح الاولؓ فرماتے ہیں

مفردات راغب عربی کی مستند لغت قرآن ہے

(حقائق الفرقان جلد 3 ص 259)

حضرت خلیفة المسیح الثانیؓ نے اپنی تفسیر ’’تفسیر کبیر‘‘ میں جابجا مفردات راغب سے حل لغت کے حوالے دے کر اللہ تعالی کے ارشادات کی توضیح فرمائی ہے اور آپ کی لطافت بیان اور فہم قران کی بہت تعریف کی ہے

(تفسیر کبیر جلد9 ص433)

اسی طرح حضرت خلیفتہ لمسیح الرابع رحمہ اللہ نے بالخصوص ر مضان المبارک میں اپنے دروس قرآن میں قرآنی الفاظ کی لغت کیلئے مفردات پر بہت اعتماد فرمایا اور متعدد مرتبہ آپ کا ذکر محبت اور مدح کے ساتھ فرمایا مثلا فرمایا حضرت امام راغب کی کتاب مفردات راغب ہے جو سند ہیں اس پہلو سے کہ ان سے بہتر الفاظ کی کنہ تک پہنچنے والا کوئی اور مفسر میں نے نہیں دیکھا۔

حضرت خلیفه المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز کا مفردات امام راغب کے متعلق تبصرہ

آپ فرماتے ہیں: مفردات امام راغب میں یہ لکھا ہے کہ رزاق صرف اللہ کے لئے ہی بولا جاتا ہے امام راغب عموماً قرآنی آیات کی روشنی میں اپنی لغت کی بنیاد رکھتے ہیں اسکی بنیاد پر معنے بیان کرتے ہیں۔ لفظ رزق کے تحت امام راغب نے اس کے تین معنے بیان کئے ہیں ایک یہ کہ رزق مسلسل ملنے والی عطا کو کہتے ہیں خواہ وہ دنیا کی عطا ہو یا آخرت کی عطا ہو دوسرے یہ کہ کبھی حصہ کے لئے رزق استعمال ہوتا ہے جس میں اچھائی بھی ہو سکتی ہے اور بُرائی بھی ہو سکتی ہے۔ تیسرے یہ کہ کبھی خوراک کو رزق کہتے ہیں جو پیٹ میں جاتی ہے اور غذا کا کام دیتی ہے۔

(مرسلہ: ہشام احمد)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 28 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 29 اکتوبر 2020