• 3 اگست, 2020

دعائے قنوت

قنوت ان دعاؤں کو کہتے ہیں جو مختلف وقتوں میں پیش آتی ہے

دعائے قنوت کے ساتھ نماز وتر کی آخری رکعت میں بعد از رکوع پڑھی جانے والی دعا کا خیال ذہن میں آتا ہے لیکن قنوت کا لفظ اپنے معنوں کے لحاظ سے اور آنحضورﷺ کی سنت سے بھی بعض دیگر پہلو بھی اپنے اندر رکھتا ہے۔

قنوت کے لُغوی معنی

مشہور عربی لغت لسان العرب لفظ قنوت کے متعلق لکھتی ہے۔
یعنی قنوت کا لفظ متعدد معانی رکھتا ہے جیسا کہ اطاعت، خشوع، نماز، دعا، عبادت، قیام، لمبا قیام، خاموشی۔ پس جس جملے میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے اس کا موقع و محل اس کے معنی کی تعیین کرے گا۔

المنجد اس لفظ کے درج ذیل معنی دیتی ہے۔
قَنَتَ: اَطَاعَ/ تَوَاضَعَ لِلّٰہِ (اس نے فرمانبرداری کی، اس نے عاجزی اختیار کی) قَنَتَ: قَامَ فِی الصَّلوٰۃِ،أَمْسَکَ عَنِ الْکَلَامِ (وہ نماز میں خاموشی سے کھڑا ہوا) أَقْنَتَ: أَطَالَ الْقِیَامَ فِی الصَّلوٰۃِ (اس نے نماز میں لمبا قیام کیا) أَقْنَتَ: دَعَا عَلیٰ عَدُوِّہٖ (اس نے اپنے دشمنوں کے خلاف دعا کی) قَنَتَ: کَانَ قَلِیْلَ الْأَکْلِ (وہ بہت تھوڑا کھانے والا ہوگیا)

ان معنوں کے لحاظ سے قنوت سے دراصل مراد نماز میں طویل یا لمبے قیام کی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنا ہے اور آنحضور ﷺ کی پاکیزہ سنت سے یہ ثابت ہے کہ دعائے قنوت ہر انسان کی حاجات کے لحاظ سے مختلف مواقع پر مختلف ہو سکتی ہے یعنی مشکل یا ضرورت کے خاص حالات کے مطابق یہ دعا بدلی بھی جا سکتی ہے اور یہ دعا انسان ہر نماز میں کر سکتا ہے۔ اسی طرح نماز وتر کی آخری رکعت میں پڑھی جانے والی مسنون دعا کے طور پر بھی یہ دعائیں پڑھی جا سکتی ہیں۔

قنوت کا آغاز کیسے ہوا؟

کتب احادیث میں یہ ذکر بھی محفوظ ہے کہ قنوت کا آغاز کیسے ہوا؟ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ قبیلہ رعل، ذکوان اور بنی لحیان کے لوگ آنحضور ﷺ کے پاس آئے اور اپنے دشمنوں کے خلاف آپؐ سے مدد کی درخواست کی تو آپؐ نے 70 صحابہ کو جن کو ’’قرّاء‘‘ (یعنی قرآن کریم کے قاری) کہا جاتا تھا، ان کے ساتھ روانہ فرما دیا۔ جب یہ لوگ بئرمعؤنہ جگہ پر پہنچے تو ان مدد مانگنے والے قبیلوں نے غداری کی اور ان 70 صحابہ کو شہید کر دیا۔ جب آنحضرت ﷺ کو اس المناک واقعے کی اطلاع ملی تو آپؐ بہت غمزدہ ہوئے اور فَقَنَتَ شَھْرًا یَدْعُوْ فِی الصُّبْحِ عَلیٰ أَحْیَاءِ مِنْ اَحْیَاءِالْعَرَب یعنی پھر آنحضور ﷺ نے پورا ایک مہینہ صبح کی نماز میں ان قبیلوں کے خلاف دعا کرتے ہوئے قنوت کیا۔

(صحیح بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ الرجیع و رعل و ذکوان و بئر معونہ)

اسی باب میں اس سے پہلی روایت میں یہ الفاظ ہیں ’’ وَذَالِکَ بَدْءُ الْقُنُوْتِ، وَ مَا کُنَّا نَقْنُتُ ‘‘ یعنی یہ قنوت کا آغاز تھا، اس سے پہلے ہم قنوت نہیں کیا کرتے تھے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ نے ایک مہینے تک نماز عشاء میں رکوع سے اٹھنے کے بعد اور ’’ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ ‘‘ کہنے کے بعد یہ دعائیں قنوت کیں: ’’ اَللّٰھُمّ أَنْجِ الوَلِید بن الْوَلید… ‘‘

ترجمہ: اے اللہ ولید بن ولید کو، سلمہ بن ہشام کو اور دیگر کمزور مومنوں کو نجات دے (یہ لوگ مکہ مکرمہ میں رہ گئے تھے) اور ایک دن جب رسولؐ اللہ نے صبح کی نماز پڑھائی تو یہ دعائیں نہیں کیں تو میں نے عرض کی آج آپ نے وہ دعائیں نہیں کیں تو آپ نے فرمایا کیا تم دیکھتے نہیں کہ وہ لوگ (مدینہ) پہنچ چکے ہیں۔

(سنن ابی داؤد کتاب الوتر باب القنوت فی الصلوٰت)

ان دونوں روایتوں سے ظاہر ہے کہ قنوت سے ایک مراد تو یہ ہے کہ نماز کی حالت قیام میں دعا مانگنا اور دوسرا یہ کہ جو موقع اُس وقت پیش آیا تھا اس کے متعلق دعا مانگنا۔ اسی وجہ سے امام مسلمؒ نے یہ باب باندھا ہے کہ

’’ باب استحباب القنوت فی جمیع الصلاۃ، اِذَا نَزَلتْ بِالْمُسلمین نازلۃ ‘‘

یعنی جب بھی مسلمانوں پر کوئی مصیبت آئے تو پھر سب نمازوں میں قنوت (حالت قیام میں دعا مانگنے) کی پسندیدگی کا باب۔

پھر یہ بھی بحثیں موجود ہیں کہ قنوت رکوع سے پہلے ہے یا رکوع کے بعد!

چنانچہ صحیح بخاری میں یہ روایت درج ہے کہ حضرت انس بن مالکؓ سے پوچھا گیا کہ کیا حضرت نبی کریم ﷺ نے صبح کی نماز میں قنوت کیا تھا؟ تو آپؓ نے فرمایا کہ ہاں! پھر پوچھا گیا کہ کیا رکوع سے پہلے قنوت کیا تھا؟ تو آپؓ نے فرمایا کہ رکوع کے بعد ہلکا سا قنوت فرمایا تھا۔

(صحیح بخاری کتاب الوتر باب القنوت قبل الرکوع و بعدَہٗ)

لیکن اسی باب کی اگلی حدیث یہ ہے۔
ترجمہ: عاصم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالکؓ سے قنوت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہاں قنوت ہوتا تھا۔ میں نے کہا رکوع سے پہلے یا رکوع کے بعد؟ فرمایا: رکوع سے پہلے۔ میں نے کہا فلاں شخص نے مجھے آپ کے حوالے سے بتایا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ قنوت رکوع کے بعد ہے تو فرمانے لگے کہ اُس نے غلط کہا ہے، آنحضور ﷺنے تو صرف ایک مہینہ رکوع کے بعد قنوت کیا تھا۔

(صحیح بخاری کتاب الوتر باب القنوت قبل الرکوع و بعدَہٗ)

اب یہ دونوں روایتیں حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہیں اور بخاری میں ایک ہی باب میں اکٹھی درج ہوئی ہیں۔ ان دونوں روایتوں میں بظاہر اختلاف نظر آتا ہے حالانکہ فی الحقیقت ان میں کوئی اختلاف نہیں۔ جیسا کہ مضمون کے شروع میں لفظ قنوت کے معانی سے یہ ظاہر ہوگیا ہے کہ قنوت کا مطلب ہے نماز میں لمبا قیام کر کے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنا لہٰذا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا مطلب ان دونوں روایتوں سے یہ ہے کہ آنحضور ﷺ کا اصل قنوت رکوع سے پہلے ہوتا تھا یعنی سورۃ فاتحہ کے بعد لمبی تلاوت کرنا، ہاں آپؐ نے بعض خاص حالات میں رکوع کے بعد بھی کھڑے ہوکر اپنے مقصود کے لئے دعائیں کی ہیں اور وہ بھی قنوت ہیں اور حضرت انس بن مالکؓ کا یہ فرمانا کہ بَعْدَ الرُّکُوْعِ یَسِیْرًا بتاتا ہے کہ رکوع کے بعد والا قنوت رکوع سے پہلے والے قنوت سے چھوٹا ہوتا تھا۔پس رکوع سے پہلے بھی قنوت ہے (یعنی سورۃ فاتحہ کے بعد لمبی تلاوت کرنا) اور رکوع کے بعد بھی قنوت ہے (یعنی حالت قیام میں اپنی مطلوبہ دعائیں مانگنا) اسی لئے امام بخاریؒ نے یہاں باب باندھا ہے باب القنوت قبل الرکوع و بعدَہ یعنی رکوع سے پہلے اور بعد میں قنوت کا باب۔

لمبا قیام

دیگر احادیث سے بھی پتا چلتا ہے کہ نماز میں سورۃ فاتحہ کے بعد قرآن پاک کی لمبی تلاوت کرنا قنوت ہے اور اسی کو آنحضور ﷺ نے فضیلت والا قرار دیا ہے:

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ بہترین نماز وہ ہے جس میں قنوت (طویل قراءت) کیا جائے۔

(صحیح مسلم کتاب صلوٰۃ المسافرین باب افضل الصلوٰۃ طول القنوت)

ایک اور روایت میں آتا ہے:

جس نے (نماز میں) ایک سو آیات کی تلاوت کی اس کے لئے ایک رات کا قنوت لکھ دیا جاتا ہے۔

(دارمی فضائل القرآن)

اسی مضمون کی ایک حدیث سنن ابی داؤد میں بیان ہوئی ہے:

جس نے اپنی نماز کے قیام کی حالت میں 10 آیتیں تلاوت کیں تو وہ غافلوں میں سے نہیں شمار کیا جائے گا، جس نے نماز میں سو آیات تلاوت کیں وہ قنوت کرنے والوں میں شمار کیا جائے گا اور جس نے نماز میں 1 ہزار آیات تلاوت کیں وہ مقنطرین یعنی ڈھیروں ڈھیر خرچ کرنے والوں میں شمار کیا جائے گا۔

(سنن ابی داؤد کتاب شہر رمضان باب تحزیب القرآن)

ان روایات سے ظاہر ہے کہ رکوع سے پہلے حالت قیام میں تلاوت قرآن کرنا نماز کو فضیلت والا بناتا ہے۔ ہاں بعض خاص مواقع پر حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وقت کی ضرورت کے مطابق رکوع کے بعد قیام کر کے بھی دعائیں کی ہیں، یہ قنوت کسی بھی نماز میں کیا جاسکتا ہے۔

دعائے قنوت جو عموماً نماز وتر میں پڑھی جاتی ہے وہ یہ ہے: اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ وَ نَسْتَغْفِرُکَ وَ نُؤْمِنُ بِکَ وَ نَتَوَکَّلُ عَلَیْکَ وَنُثْنِیْ عَلَیْکَ الْخَیْرَ وَ نَشْکُرُکَ وَ لَا نَکْفُرُکَ وَ نَخْلَعُ وَ نَتْرُکُ مَنْ یَّفْجُرُکَ۔ اَللّٰھُمَّ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ لَکَ نُصَلِّیْ وَ نَسْجُدُ وَ اِلَیْکَ نَسْعیٰ وَ نَحْفِدُ وَ نَرْجُوْ رَحْمَتَکَ وَ نَخْشیٰ عَذَابَکَ اِنَّ عَذَابَکَ بِالْکُفَّارِ مُلْحِق۔

(تحفۃ الفقہاء باب صلوٰۃ الوتر و تفسیر القرطبی سورۃ آل عمران آیت نمبر 128)

یہ الہامی دعا ہے اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ یہ دعا حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آنحضور ﷺ کو سکھائی تھی۔

حضرت پیر سراج الحق نعمانی حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی خدمت میں نماز وتر میں پڑھی جانے والی دعائے قنوت کے سوال کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتےہیں:

’’میں نے عرض کیا کہ قنوت پڑھنی چاہیے؟ فرمایا : ہاں، ضرور پڑھنی چاہئے۔ پھر میں نے عرض کیا کہ بعض مولوی اس دعائے قنوت کو کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺسے ثابت نہیں۔ فرمایا وہ بڑی غلطی کرتے ہیں یہ دعا قنوت اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ… بڑی عجیب اور توحید کی بھری ہوئی دعا ہے، ایسے الفاظ توحید کے سوائے اس سید المرسلین سید الموحدینﷺ کے دوسرے سے ادا نہیں ہو سکتے ہیں اور یہ خاص الٰہی تعلیم ہے۔ ان پاک الفاظ کے بھی قربان اور اس منہ کے بھی قربان جس منہ سے یہ الفاظ نکلے‘‘

(تذکرۃ المہدی صفحہ 116 مؤلفہ حضرت پیر سراج الحق نعمانی)

اس دعائے قنوت کے علاوہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے یہ دعا سکھائی جو میں نماز وتر میں پڑھا کرتا ہوں:

اَللّٰھُمَّ اھْدِنِیْ فِیْمَنْ ھَدَیْتَ، وَعَافِنِیْ فِیْمَنْ عَافَیْتَ، وَ تَوَلَّنِیْ فِیْمَنْ تَوَلَّیْتَ، وَ بَارِکْ لِیْ فِیْمَا أَعْطَیْتَ، وَقِنِیْ شَرَّ مَا قَضَیْتَ فَاِنَّکَ تَقْضِیْ وَ لَا یُقْضیٰ عَلَیْکَ، وَ اِنَّہٗ لَا یَذِلُّ مَنْ وَّالَیْتَ، تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَ تَعَالَیْتَ، صَلَّی اللّٰہُ عَلَی النَّبِیِّ

(سنن الترمذی ابواب الوتر، باب ما جاء فی القنوت فی الوتر)

جمہور فقہاء کے نزدیک نماز وتر کی آخری رکعت میں ان دونوں میں سے کوئی دعائے قنوت پڑھنا مسنون ہے۔ ہاں ان کے ساتھ دوسری کوئی بھی دعا یا دعائیں بھی قنوت کی جا سکتی ہیں۔

حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل ؓ بیان کرتے ہیں:
’’حضرت مسیح موعود ؑکے زمانہ میں جب تک مولوی عبدالکریم صاحب زندہ رہے وہ ہر فرض نماز میں قنوت پڑھتے تھے اور صبح اور مغرب اور عشاء میں جہر کے ساتھ قنوت ہوتا تھا۔ قنوت میں پہلے قرآنی دعائیں پھر بعض حدیث کی دعائیں معمول ہوا کرتی تھیں، آخر میں درود پڑھ کر سجدہ میں چلے جاتے تھے۔‘‘

(سیرت المہدی جلد اول حصہ سوم مؤلفہ حضرت مرزا بشیر احمد روایت نمبر 939 صفحہ 804)

حضرت اقدس مسیح موعودؑ اپنے ایک مکتوب بنام حضرت میرناصرنواب محررہ21 جنوری 1892ء میں تحریر فرماتے ہیں:
’’اور نماز اپنی اُسی پہلی حالت پر ہی چاہیے کہ نماز میں خدا تعالیٰ سے ہدایت چاہیں اور اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ کا تکرار کریں خواہ گنجائش وقت کے ساتھ وہ تکرار سو مرتبہ تک پہنچ جائے۔ سجدہ میں اکثر یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ بتمام تر عجز کہا کریں۔ مگر نماز کی قنوت میں عربی عبارتیں ضروری نہیں، قنوت ان دعاؤں کو کہتے ہیں جو مختلف وقتوں میں مختلف صورتوں میں پیش آتی ہیں سو بہتر ہے کہ ایسی دعائیں اپنی زبان میں کی جائیں، قرآن کریم اور ادعیہ ماثورہ اسی طرح پڑھنی چاہئیں جیسا کہ پڑھی جاتی ہیں مگر جدید مشکلات کی قنوت اگر اپنی زبان میں پڑھیں تو بہتر ہے تا اپنی مادری زبان نماز کی برکت سے بے نصیب نہ رہے۔ قنوت کی دعاؤں کا التزام حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے۔ بعض پانچ وقت کے قائل ہیں اور بعض صبح سے مخصوص رکھتے ہیں اور بعض ہمیشہ کے لئے اور بعض کبھی کبھی ترک بھی کر دیتے ہیں۔ مگر اصل بات یہ ہے کہ قنوت مصائب اور حاجات جدیدہ کے وقت یا ناگہانی حوادث کے وقت ہوتا ہے۔ چونکہ اسلام کے لئے یہ دن مصائب اور نوازل کے ہیں اس لئے کم سے کم صبح کی نماز میں قنوت ضروری ہے۔ قنوت کی بعض دعائیں ماثور بھی ہیں مگر مشکلات جدیدہ کے وقت اپنی عبارت میں استعمال کرنی پڑے گی۔ غرض نماز کو مغز دار بنانا چاہئے جو دعا اور تسبیح تہلیل سے بھری ہوئی ہو۔‘‘

(الحکم 24اگست 1903ء صفحہ 16)

(غلام مصباح بلوچ۔کینیڈا)

پچھلا پڑھیں

طلوع و غروب آفتاب

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ