• 29 فروری, 2024

کہکشاں بن کے فلک پر یہ ہوئے ہیں روشن

’’آرہے ہیں میری بگڑی کے بنانے والے‘‘
بڑھ رہے ہیں جو ستم میں یہ زمانے والے

بن گئے دین فلک پہ یہ ستارے روشن
حق کی آواز پہ سر اپنا کٹانے والے

راہ مولا پہ ہیں قربان ہوئے پڑھتے درود
آن اسلام کی ہر آن بچانے والے

وہی جرأت وہی غیرت وہی ایماں کا سرور
جا ملے پہلوں سے آخر میں یہ آنے والے

دے اٹھا لو جو لہو ٹپکا ہے در پر رب کے
صدقے سو جان سے اے جان سے جانے والے

آہ و فریاد نہ لب تھی شکایت کوئی
صبر و ایمان کا پیکر رہے جانے والے

کہکشاں بن کے فلک پر یہ ہوئے ہیں روشن
دیپ ہر آن وفا کے یہ جلانے والے

عشق و ایمان کے پیمانے پہ پورے اترے
دے گئے ہم کو نیا باب یہ جانے والے

اب ہر اک بوند لہو کی یہ پکارے گی سدا
بڑھ گئے اور بھی ایماں میں برکینا فاسو والے

اب زمیں اگلے گی زرناب زمانے والو
تم سمجھتے ہو یہ ہیں خواب دیوانے والے

یونہی تاریخ رقم ہوتی ہے دنیا والو
کیا خبر تم کو کہ کیا دن ہیں اب آنے والے

اے شہیدان برکینا فاسو زندہ ہو ہیمش
چہرہ اسلام کا ہر آن دکھانے والے

اک تمنا ہے ضیاء محو سفر گردش میں
تم چلے جاتے ہو ہم پیچھے ہوں آنے والے

(فرحت ضیاء راٹھور۔ جرمنی)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 28 جنوری 2023

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالی