• 19 اپریل, 2021

جماعت کی بعض روایات ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اور خلفاء نے مختلف وقتوں میں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ان کو جماعت میں قائم کیا ہے

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
… ایک طبقہ ہر زمانے میں ایسا پیدا ہوتا رہا جو قرآن کی تعلیم پر عمل کرنے کی کوشش کرتا رہا، اُس کی حفاظت کرتا رہا اور پھر آخری زمانے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجا، مہدی معہود کو بھیجا۔ اور آج ہم سب احمدی اس مسیح موعود کو ماننے کا دعویٰ کرنے والے ہیں، اُس شخص کا ہاتھ بٹانے کا دعویٰ کرنے والے ہیں جو ایمان کو ثریا سے زمین پر لایا۔ اُس امام سے منسوب ہونے والے ہیں جس نے دینِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اصل حالت میں دنیا کے کونے کونے میں قائم کرنے کا عہد کیا ہے اور جس کی جماعت نے اس عہد کو پورا کرنا ہے۔ ہماری کتنی خوش قسمتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کے کونے کونے میں مسیح محمدی کے ذریعے دینِ اسلام کے پیغام کو پہنچانے کی ذمہ داری خود لی ہے اور ہمیں فرمایا کہ تم بھی اس تقدیرِ الٰہی کا حصہ بن جاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ’’مَیں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔‘‘ اور تم اس کے حصہ دار بن کے ثواب کماؤ گے۔ ہمیں کس طرح اس الٰہی تقدیر کا حصہ بننا ہے؟ اپنے اندر وہ انقلاب پیدا کر کے جو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والا بنا دے۔ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے لئے خالص کر کے، اپنے اندر سے ہر قسم کی برائیوں کو دور کر کے، اپنے قول و فعل میں یکجہتی وہم آہنگی پیدا کر کے۔

اب اس آیت میں جن باتوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے وہ ایسی باتیں ہیں جو اگر ہم میں موجود ہوں اور اگر ہم ان کی تبلیغ کرنے والے ہوں تو یہ ہر پاک فطرت کی توجہ اپنی طرف کھینچنے والی ہوں گی۔ یہ ضروری نہیں کہ ایسی تبلیغ کی جائے جو صرف مذہبی مسائل کے لئے ضروری ہے۔ یہ باتیں ایسی ہیں جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہیں جو ایک دنیا دار کو بھی اپنی طرف کھینچیں گی چاہے وہ کسی بھی مذہب کا ماننے والا ہو بشرطیکہ وہ اخلاقی قدروں کی خواہش رکھتا ہے۔ اُس کے اندر ایک پاک فطرت ہے جو اچھے اخلاق کو چاہتی ہے، اچھی باتوں کو چاہتی ہے۔ بلکہ لامذہب اور دہریہ بھی اچھے اخلاق کو اچھا ہی کہیں گے۔ اچھی باتوں کو اچھا کہنے والے ہوں گے اور بری باتوں کو برا کہیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا اپنی اس ذمہ داری کو سمجھو اور دنیا کے فائدے کے لئے، اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے نیکیوں کی تلقین کرو اور برائیوں سے روکو۔ حقوق العباد ادا کرنے کی طرف توجہ دلاؤ اور حقوق العباد کے غصب کرنے والوں سے بیزاری کا اظہار کر کے ایسا عمل کرنے والوں کو توجہ دلاؤ، اُن کو روکو۔ لیکن یہ سب کچھ کرنے سے پہلے، جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا، ہمیں اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہو گی۔ اپنے اندر کے نظام کو ہم درست کریں گے تو ہماری باتوں کا بھی اثر ہو گا۔ اور اپنے اندر کے نظام کو درست کرنے کے لئے ہمیں ہر وقت یہ پیشِ نظر رکھنا ہو گا کہ اللہ تعالیٰ کی میرے ہر قول اور فعل پر نظر ہے، میرے ہر عمل کو وہ دیکھ رہا ہے۔ دنیا کو تو میں نے پہلے صرف دنیاوی اخلاق سکھاتے ہوئے نیکی کی تلقین کرنی ہے اور برائی کی پہچان کروا کر اس سے روکنا ہے لیکن مَیں نے اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے اس فرمان کے تحت بھی کرنا ہے کہ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہ کہ یہ نصیحت کرنے والے اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے والے ہوتے ہیں اور اللہ پر ایمان اس وقت حقیقی ہو گا جب اللہ تعالیٰ کی رضا اور اللہ تعالیٰ کی محبت سب رضاؤں اور محبتوں سے زیادہ شدید ہو گی۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوٓا اَشَدُّ حُبًّا لِلّٰہِ (البقرہ: 166) اور جو لوگ مومن ہیں وہ سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں۔ انسان کو جس چیز سے محبت ہوتی ہے اس کا وہ سب سے زیادہ خیال رکھتا ہے۔ پس جب ایمان کا دعویٰ ہو تو اللہ تعالیٰ سے محبت بھی سب سے زیادہ مقدم ہے۔ اور جب خدا تعالیٰ سے محبت ہو تو اس کے احکام پر عمل بھی سب سے زیادہ اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔ پس جب ہم اپنے جائزے لیں تو پھر احساس ہوتا ہے کہ خیرِ امت ہونا صرف ایمان لانے کا اعلان کرنا نہیں ہے۔ اسی سے ہمارا مقصد پورا نہیں ہو جاتا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں قدم بڑھانے سے خیرِ امت میں شمار ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے نیکیوں کی تلقین کرنی ہو گی اور برائیوں سے دوسروں کو روکنا ہو گا۔ پھر ہم خیرِ اُمّت کہلا سکتے ہیں اور اس صورت میں جب ایک مومن آگے قدم بڑھائے گاتو ایک حقیقی مومن سب سے پہلے یہ دیکھے گا کہ جس بات کی میں نصیحت کرنے جا رہا ہوں کیا یہ نیکی مجھ میں ہے؟ جس برائی سے مَیں روکنے جا رہا ہوں کیا یہ برائی مجھ میں تو نہیں؟ وہ سوچے گا کہ ایک طرف تو ایمان کی وجہ سے میرا اللہ تعالیٰ سے محبت کا دعویٰ ہے اور جن سے محبت کا دعویٰ ہو اُن کے سامنے تو انسان اپنے تمام حالات کو ویسے ہی ظاہر کر دیتا ہے۔ ہر راز کی بات ایک دوسرے کوپتہ لگ جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ تو وہ محبوب ہے جو عالم الغیب والشہادۃ ہے۔ اس کو بتانے کی ضرورت نہیں وہ تو مخفی اور ظاہر سب علم رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ایک طرف تم ایمان کا دعویٰ کرتے ہو، محبت کا دعویٰ کرتے ہو اور دوسری طرف مَیں جو تمہارے دلوں کو جانتاہوں، میں نے تو اس میں کھوٹ دیکھا ہے یا میں کھوٹ دیکھ رہا ہوں۔ تم جو کہہ رہے ہو وہ کر نہیں رہے۔

پس اگر ایک حقیقی مومن کو اللہ تعالیٰ کی اس بات پریقین ہو کہ اللہ تعالیٰ دیکھنے والا ہے، وہ عالم الغیب والشہادۃ ہے تو اس کا اندرونی خودحفاظتی کا جو خود کار نظام ہے وہ اُسے راہِ راست پر لے آئے گا بشرطیکہ ایمان ہو۔ پس ہم میں سے اگر کسی کا یہ خود حفاظتی کا خود کار نظام مؤثر نہیں تو ہمیں فکر کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے ایمان کا وہ معیار نہیں جو ہونا چاہئے۔ ہر بدی ہر معاشرتی برائی ہمیں آئینہ دکھا رہی ہوتی ہے۔ لیکن یہ آئینہ بھی اس وقت نظر آئے گا جب اللہ تعالیٰ کی محبت کی دل میں تڑپ ہو گی۔ اگر یہ احساس نہ ہو، اللہ تعالیٰ کی محبت غالب نہ ہو اور معاشرے اور دنیا داری کا زیادہ غلبہ ہو تو پھر برائیوں اور اچھائیوں کے معیار بدل جاتے ہیں۔ جماعت کی بعض روایات ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اور خلفاء نے مختلف وقتوں میں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ان کو جماعت میں قائم کیا ہے۔ بعض باتوں کو جماعت میں داخل ہونے سے روکنے کے لئے سختی بھی کی گئی اور کی جاتی ہے۔ اس لئے کہ ایک حقیقی مومن کا مقصدِ زندگی معروف پر عمل کرنا ہے۔ نیکیوں پر عمل کرنا ضروری ہے۔ اس کے بغیر نہ ہی وہ نیکیوں کی تلقین کر سکتا ہے اور نہ ہی برائیوں سے روک سکتا ہے۔ پس جب زمانے کے امام کے ساتھ اس لئے منسوب ہوئے کہ ہم اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کریں گے اور خیرِ امت بننے کی کوشش کریں گے تو پھر دنیا داری تو چھوڑنی پڑتی ہے۔ خود ساختہ نیکیوں کے معیار نہیں بن سکتے۔ بلکہ نیکیوں کے معیار وہی بنیں گے جو اسلام کی تعلیم کی روشنی میں اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں اللہ تعالیٰ سے ہدایت پا کرسکھائے ہیں۔ اور آپ نے ان کو جماعت میں رائج کرنے کی کوشش فرمائی ہے، تلقین فرمائی ہے۔ یہ ایک بہت اہم چیز ہے، ایک بہت اہم بات ہے جسے ہر احمدی کو سمجھنا چاہئے۔

(خطبہ جمعہ 4؍ فروری 2011ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 29 مارچ 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 30 مارچ 2021