• 20 جولائی, 2024

ایڈیٹر کے نام خط

  • مکرم ابن ایف آر بسمل لکھتے ہیں:

آج کے شمارے میں مدثر ظفر صاحب کا مضمون ’’سنگا پور (کچرے سے بجلی بنانے والا ملک)‘‘ اپنے اختصار clarity، جدت اور کئی پہلوؤں کے لحاظ سے بہت قابل قدر مضمون ہے۔ چھوٹے سےto the point مضمون میں ملک کی مختصر تاریخ ترقی اور بجلی بنانے کی ایک جدید ٹیکنالوجی کا تعارف اور solid waste management بہت سارے پہلو cover ہو گئے ہیں۔ پاکستان میں بجلی کے 70 فیصد تھرمل اور 30 فیصد ہائیڈل پاور اسٹیشن ہیں اور تھوڑے سے ڈیزل پاور پلانٹ ہیں جو نیشنل گرڈ سے connected ہیں۔ ایک تھرمل پاور اسٹیشن پر fuel کا خرچہ کروڑوں روپے یومیہ ہوتا ہے کچرا بطور fuel پاکستان میں بہت چھوٹے پیمانے پر بعض پرائیویٹ پاور پلانٹس پر استعمال ہوتا ہے۔ ایسے مضامین آتے رہنے چاہئیں۔

ایک اور خط میں لکھتے ہیں:
آج 11مارچ کے الفضل میں آپ کا پیارا اور قیمتی نوٹ ’’وعلیکم السلام‘‘ پڑھ کر بہت خوشی ہوئی۔ آپ کی خیر خواہی اور حضور کا الفضل کے تمام متعلقین کو سلام عرض کرنا اور دعا دینا، ان سب خوشکن امور پر دل اللہ تعالیٰ کی حمد سے لبریز ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کا نیک اجر دے اور ہم سب کی پریشانیاں اپنے فضل سے دور فرمائے،آمین۔ الفضل خلیفہ ٔوقت کا دست و بازو بن کر آپ کے ذریعے خدمت کی توفیق پاتا رہے، آمین۔

  • مکرم رفیع رضا قریشی لکھتے ہیں:

آپ کےتوسط سے تمام لکھاریوں کی خدمت میں محبت بھرا سلام اور بہت دعائیں۔ اچھے اور ایمان افروز مضامین ہر پڑھنے والے کے ایمان کو مضبوط سے مضبوط تر کرنے اور توکل میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں جہاں نظام جماعت کوبہت سے ذرائع اشاعت اسلام احمدیت کو مہیا ہو چکے۔ وہاں الفضل بہت نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ اورحضوانور کی ہدایات،رہنمائی ،نگرانی اور دعاکے نتیجہ میں دن دوگنی رات چوگنی ترقیات کی منزلیں طے کررہا ہے۔ آپ اور آپ کے کارکنان مبارک بادکے حق دار ہیں۔ خاکسار دعاگو ہے اللہ تعالیٰ خدمت دین کرنےوالے تمام کارکنان کو امام وقت کی توقعات پر پورا اترنے کی توفیق دے۔ آمین

  • مکرمہ صدف علیم صدیقی۔ ریجائنا کینیڈا سے لکھتی ہیں:

’’جیڑی مہندی رنگ نہ دیوے کی فیر اودا لانا‘‘ پڑھا۔ کیا کمال تشبیہ دی ہے مہندی جیسی ایک دنیاوی سامان آرائش کو جس طرح دینی رنگ سے جوڑا ہے یقیناً ہر قاری نے میری طرح اس سے حظ اٹھایا ہو گا۔ بچپن سے ایک شعر سنتے آرہے ہیں کہ

سرخ رو ہوتا ہے انساں ٹھوکریں کھانے کے بعد
رنگ لاتی ہے حنا پتھر پہ پس جانے کے بعد

(سید غلام محمد)

یعنی انسان کو مقام و مرتبہ حاصل کرنے کے لیے دنیا کی مشکلات و مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس طرح حنا کو رنگ لانے کے لیے پتھر پر پسنا ہوتا ہے۔ مہندی کا گہرا رنگ لانے کے لئے ہم خواتین کیا کیا جتن نہیں کرتیں۔ لونگ کی بھاپ، تو کبھی چینی کا شیرہ بنا کر لگاتی ہیں کہ کسی طرح حناہاتھوں پر گہرا رنگ لا کر انکی خوبصورتی میں اضافہ کرے اور اس گہرے رنگ کو کبھی شوہر تو کبھی ساس کی محبت سے منسوب کیا جاتا ہے۔ کاش کہ ہم رنگ تقوٰی کے حصول کے لیے بھی اتنی تگ و دو کرنے والے ہوں۔ اسکے گہرا ہونے کے لیے بھی ایسے ہی جدوجہد کریں اور جب تک اس رنگ میں رنگ نہ جائیں ہم چین سے نہ بیٹھیں۔ کاش اس رحمان و الرحیم کی محبت ایسے ہمارے دلوں پہ اپنا پکا رنگ چھوڑ جائے کہ اسکے نقش کبھی نہ چھوٹیں، نہ کبھی وہ رنگ ہلکا ہو۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نہایت خوبصورت شعر ہے کہ

رنگ تقوٰی سے کوئی رنگت نہیں ہے خوب تر
ہے یہی ایماں کا زیور ہے یہی دیں کا سنگار

اللہ تعالیٰ ہمیں اور ان تمام الفضل کے قارئین کو جنہوں نے یہ آرٹیکل پڑھا رنگ تقوٰی میں رنگنے والا بنائے، آمین اللّٰھم آمین

*ایک اور مکتوب میں وعلیکم السلام کے جواب میں لکھتی ہیں: بہت جذباتی کر دینے والا وعلیکم السلام کا پیغام الحمد للّٰہ۔

  • مکرمہ صادقہ چوہدری۔ کینیڈا سے لکھتی ہیں:

مہندی یا حنا کے تعارف و وضاحت کی اس اچھوتے انداز سے ایک تصویر بنا کر ہمارے سامنے لا رکھی ہے جس میں رنگا رنگ کے پھول اور بیل بوٹے جیسے کھلتے اور رنگ دیتے جا رہے ہیں کسی میں کسی خدا کے پیارے کی خوشبو آ رہی ہے تو دوسرے میں اللہ کے حبیب نبی پاکؐ کی مسحورکن ہستی جھلک رہی ہے۔ کیا خوش نصیب ہے یہ حنا کہ تصور کے جہاں میں کہاں کہاں تک پہنچی ہے، ماشاءاللہ۔

  • مکرمہ منصورہ فضل من۔ قادیان سے لکھتی ہیں:

ایک بار پھر آپکا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں۔ اتنے اچھے اچھے مضمون روز صبح صبح پڑھنے کو ملتے ہیں۔ صبح اٹھ کر الفضل دیکھنا تو اب روٹین بن گیا ہے۔ اللہ کا بے حد احسان ہے کہ اسکے ذریعہ ہماری آدھی ملاقات کبھی کبھی حضور انور سے بھی ہو جاتی ہے جیسے آج مبارک صدیقی صاحب کی حضور انورسے ملاقات پر مضمون پڑھ کر ہوئی ہے۔ الحمد للہ۔

اللہ تعالیٰ آپکو اور آپکی پوری ٹیم کو جزائے خیر عطا فرمائے اور ہمارے اس اخبار کو دن دوگنی رات چوگنی ترقی عطا فرماتا چلا جائے، آمین ثم آمین۔

  • مکرم ایم ایم محمود۔ لکھتے ہیں:

آج مورخہ 19مارچ 2022ء کا شمارہ ماشاء اللہ! تنوع سے بھرپور علم و تاریخ کی متفرق سمتوں کا احاطہ کیے ہوئے تھا۔ بارک اللّٰہ فی سعیکم۔

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 29 مارچ 2022

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ