• 6 مئی, 2021

مکرم چوہدری نعمت علی صاحب

یادرفتگان
مکرم چوہدری نعمت علی صاحب

کُلُّ نَفْسٍ ذَٓائِقَۃُ الْمَوْتِ

موت بر حق ہے اور ایک ایسی حقیقت ہےکہ جس سے کسی کو بھی جائے مفر نہیں اور نہ ہی اس حقیقت سے متعلق دنیا میں کسی کو بھی کوئی شک و شبہ یا اختلاف ہے۔ خدا تعالیٰ نے اسے اپنے قبضہ قدرت میں رکھا ہوا ہے۔جب اس کا اذن ہوتا ہے تو موت کا فرشتہ حضرت عزرائیل حاضر ہو جاتا ہے اور جسم سےروح نکال لیتا ہے اور خاکی پنجرباقی رہ جاتا ہے۔ اسی لمحے جنتی روح سکون پا جاتی ہے اور خاک جسم کو سپرد خاک کر دیا جاتا ہے ۔آنحضرت ﷺ نے مسلمان کی نماز جنازہ پڑھنے کو لازم قرار دیا ہے۔یہی آپ کی سنت مستمرّہ تھی۔ دنیا کا سفر اختتام پذیر ہوتا ہے اور ایک نئی دائمی زندگی کا آغاز ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ رحیم و کریم اور غفور الرحیم ہے۔اس کی رحمت غالب آتی ہے اور اکثریت کو اپنی آغوش میں لے لیتی ہے ۔مومن کی خطاؤں اورگناہوں کو ڈھانپنا اسے آتا ہے۔ اس لیے دنیا والوں کو اس نے کوئی حق نہیں دیا کہ وہ جنت دوزخ کے سرٹیفکیٹ تقسیم کرتےپھریں۔ اسی لیے سنت رسول یہی رہی ہے کہ مرحومین کی نیکیوں کو اجاگر کریں اور گناہوں کی تشہیر نہ کریں کیونکہ بالآخر ہر کسی نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے اور اپنی نیت اور نیک اعمال کا اجر پاناہے۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کی پردہ پوشی فرمائے۔ ہر وقت درد دل سے یہی دعا نکلنی چاہیے۔

اس مختصر تمہید کے بعد یہ اطلاع بغرض دعا تحریر ہے کہ خاکسار کے بڑے بھائی مکرم چوہدری نعمت علی صاحب تین مارچ 2021ء کو گلفورڈ ہسپتال میں دل کے عارضہ اور گردوں کے فیل ہونے کی وجہ سے 81 سال کی عمر میں وفات پا گئے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

؎بلانے والا ہے سب سے پیارا ہے
اسی پے اے دل تو جاں فدا کر

ہم چھ بہن بھائی تھے۔ یہ دوسرے نمبر پر تھے۔ بڑے ملنسار تھے۔ اپنے علاقہ اور جماعتوں میں بڑے جانے پہچانے جاتے تھے۔ ہر دلعزیز تھے۔ قدرتی طور پر حکمت و دانائی سے نوازے گئے تھے۔ اس لیے اعتماد بھی بہت تھا ۔معاملہ فہمی کمال کی تھی ۔ بزنس کرنے اور سودا کرنے میں بڑی سمجھداری سے کام لیتے تھے۔ اور اکثر نفع کا سودا کرتے تھے۔ مال مویشی کی خرید و فروخت میں بڑا تجربہ تھا ۔اکثر گاؤں والے اور رشتہ دار ان کو سودا طے کرنےکے لیے ساتھ لے جایا کرتے تھے ۔علاقہ کی دو مال مویشیوں کی منڈیوں ’’ٹھرو‘‘ اور ’’اُورا‘‘ پر جاتے تو کٹّےکٹیاں خرید لاتے۔ والد محترم بھی ان کی مدد کرتے اور نفع کماتے۔ اسی طرح گندم اور چاول کا کاروبار کر تے۔ ہمیشہ سچائی سے کام لیتے۔ جنس اور جانور کی کمزوری بیان کر دیتے۔ اللہ تعالیٰ نے والد صاحب کی دعاؤں اور سچائی کی برکت سے خوشحالی کے سامان پیدا فرمائے۔ گاؤں، علاقہ اور رشتہ داروں میں بڑی قدر و منزلت سے دیکھے جاتے تھے۔ عام تاثر یہی تھا کہ یہ لوگ بڑے کھاتے پیتے اور امیر ہیں۔اپنی زمین کے علاوہ ہمیشہ پانچ، چھ ایکڑ زرعی زمین بھی ٹھیکے پر لے لیتے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے فصلیں بھی بہت اعلیٰ ہوتی تھیں۔ ہر قسم کی فصل ، سبزیاں اور دالیں ہوتی تھیں۔ کماد، باجرے اور تِل کی فصل بھی عمدہ ہوتی۔ میرے علاوہ تینوں بھائی والد صاحب کے ساتھ زمیندارہ کرتے اور فصل گھر لانے سے پہلے چندہ کی ادائیگی کر دیتے تھے۔

محترم والد صاحب کا توایمان تھا کہ چندہ لازم ہے۔ یہ دو گے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور مہدی معہود کی برکتیں پاؤگے۔ خلافت پر پختہ یقین تھا۔ بلکہ اس سے گہری محبت اور عقیدت تھی۔ ہر تحریک میں بڑھ چڑھ کرحصہ لینا ان کی عادت تھی۔ تحریک جدید کے پانچ ہزاری مجاہدین میں بھی ان کا نام ہے۔ اور یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ کھاتا ابھی تک زندہ ہے ۔

محترم بھائی جان مرحوم کو جماعتی جلسوں اور اجتماعوں میں شامل ہونے کا جنون کی حد تک شوق تھا۔ جلسہ سالانہ ربوہ توکبھی بھی مس نہیں کیا۔ اور جلسہ سالانہ قادیان میں بھی دو دفعہ جانے کی سعادت پائی ۔ اپنے آبائی گاؤں گِلاں والی قلعہ تحصیل بٹالہ بھی گئے ۔ بڑے آبدیدہ ہو کر جلسہ قادیان کی باتیں دہراتے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار مبارک پر دعاؤں میں کیفیت پیدا ہوئی ۔ اس کے سرور کو بڑے مزے لے لے کر بیان کرتے۔ ایسے جیسے صحابی روایت کرتے ہیں ۔ یہ ان کا جماعت سے عشق تھا۔

مجھے یاد ہے کہ اکثر جلسہ سالانہ ربوہ میں مجھے ساتھ لے جاتے۔پہلے پہل تومجھے انگلی پکڑنے کی پریکٹس کرواتے تاکہ جلسہ کی گہما گہمی میں گم نہ ہو جاؤں۔ ان دنوں مستورات نصرت کالج کی قیام گاہ میں ٹھہرتیں اور ہم ٹی آئی ہائی سکول کے کمروں میں پرالی بچھا کر اپنے بستر لگا لیتے ۔ان دنوں دوسپیشل ٹرینیں سیالکوٹ سےاحمدیوں کی چلتی تھیں اور مخلصین دعاؤں اور نعروں کے ساتھ ربوہ کے ریلوے اسٹیشن پر اترتے اور اپنی اپنی قیام گاہوں میں جاتےتھے۔ ان دنوں کارکنان مہمانوں کو مٹی کے پیالوں میں آلو گوشت اور انتہائی مزیدار دال سے تواضع کرتے ۔لنگر خانہ کی تازہ روٹیوں کا مزہ ہی کچھ اور تھا ۔ ہم بڑے شوق سے کھاتے ۔ کھانا وافرتعداد میں ہوتا۔ کارکنان ، معاونین بالٹیاں بھر بھر کر کھانا تقسیم کرتے۔ ان بابرکت ایام میں ہم بڑے شوق سے والد محترم اور بھائی جان کے ساتھ قیام گاہ سے مسجد مبارک میں جاکر تہجد اور صبح کی نماز ادا کرتے ۔والد صاحب اور بھائی دوسرے نمازیوں کے ساتھ مل کر بڑی رقت کے ساتھ نماز ادا کرتے۔ رونے کی آواز بلند ہوتی اور ہم بچے بھی اس میں شامل ہوتے۔ مسجد مبارک کے صحن میں ٹھنڈے فرش پر آہ و بُکا اور سسکیوں کا منظر ابھی تک مجھے اچھی طرح یاد ہے ۔اور اس کا سرور جسم کے رواں رواں میں سرایت کر گیا ہے۔ یہ کیفیت کبھی بھی نہ بھولنے والی ہے۔

جلسہ کے ایا م میں جس چیز کا شدت سے انتظار ہوتا تھا وہ حضرت خلیفہ المسیح الموعود حضرت مصلح موعودؓ کی ملاقات کا ہوتا تھا۔ سیالکوٹ کی جماعت کی باری آتی توہم اس میں شامل ہوتے ۔سیالکوٹ کے امیر حضرت بابو قاسم الدین صاحب ؓ اور ان کے معاونین خدام اس ملاقات کو منظم کرتے۔ حضور انور تشریف فرما ہوتے اور ملاقاتی نزدیک سے دیدار کرتے ہوئےآہستہ آہستہ گزرتے جاتے۔ بعض احباب سے حضورؓ گفتگو بھی فرماتے۔ حضورانور کے چہرہ کا دیدار ہی ہماری پیاس کو بجھانے کے لئے کافی ہوتا۔ محترم والد صاحب کو حضور قادیان کے زمانہ سے ہی جانتے تھے۔ اس لیے حضور سے علیک سلیک کو والد صاحب کافی سمجھتے ۔ اور ہمیں پرانے زمانے کی باتیں سناتے اور حضور کے مقدس وجود اور موعود ہونے کے بلند مرتبہ مصلح موعود کا رتبہ اجاگر کرتے۔ ملاقات والا دن خوشیوں کو دوبالا کردیتا تھا ۔یہی جلسہ پر جانے کی جان اور مقصد ہوتا تھا ۔

مجھے یاد ہے میں سات، آٹھ سال کا ہوں گا کہ جلسہ کے ایام میں ایک صبح بھائی نعمت علی صاحب مجھے نہلانے کے لئے ایک نلکا پر لے گئے ۔ کہنے لگے ڈرو نہیں۔ نلکے کے نیچے بیٹھو۔پہلے انہوں نے ہاتھ سے نلکا چلایا (گیڑا)۔ تھوڑی دیر بعد جب گرم گرم پانی آنا شروع ہو گیا تو انہوں نے مجھے مل مل کر نہلایا۔سخت سردی سے میرے دانت بجنے لگے اور سردی لگنی شروع ہوگئی تو انہوں نے فوراً مجھے خشک کر کے اپنی گرم گرم لوئی میں لپیٹ لیا۔ اور پرالی اکٹھی کر کے اس کوآگ لگا کر مجھے اس کے سامنے بٹھا دیا۔ اس کا بہت لطف آیا۔پھر گرم گرم آلو گوشت کا پیالہ اور روٹی نے میری ٹھنڈ دُور کر دی۔

قیام گاہ کے آس پاس مٹی کے آبخو رے ،مٹی کے لوٹے اور مٹی کے پیالے نظر آتے اور ان میں بڑے بڑے بڑے آلو اور گوشت کی بوٹیاں کیا ہی دلفریب منظر پیش کرتی ۔ جگہ جگہ لنگر کی روٹیاں اور دال سے بھری بالٹیاں بھی مہمانوں کی سیرابی کا ثبوت دیتیں۔ ان دنوں قیام گاہ سے لے کر جلسہ گاہ تک کلر ہی کلر نظر آتا اور سڑکوں پر چھڑکاؤ کر کر کے کلر کو ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میرے سفید ٹاکی کے بوٹ کلر سے بھر جاتے۔ سردی کو روکنے کے لیے میرا اونی سویٹر جو گھر کی بھیڑوں کی اون سے بہنوں نے ڈیزائن بنا کر سلائییوں سے اپنےہاتھوں سے بنایا ہوتاتھا، کام آتا۔اور اوپر چھوٹا سا کھیس بھی جو اپنی کپاس اور دھاگے سے درگانوالی سے جلسہ کے لئے بنایا جاتا تھا، سردی سے محفوظ رکھتا۔ بھائی جان اور والد صاحب کچھ غبارے لے دیتے جن سےمیں خوشی خوشی کھیلتا رہتا تھا۔ کھانے کے لیے وہ سنگترے اور مونگ پھلی خرید لیتے ۔جلسہ گاہ پہنچ کر پرانی پر ہم کھیس بچھالیتے اور تقاریر سنتے۔ اور ریفریشمنٹ بھی ساتھ ساتھ چلتی۔والد صاحب کو شوق تھا کہ وہ اسٹیج کے پاس نزدیک ہو کر تقاریر سنیں اور جلسہ کی کارروائی کے اختتام پر وہ ہمیں تلاش کر لیتے۔ باقی ٹائم وہ اپنے واقف کاروں اوررشتہ داروں سے ملتے۔ نیز ہمیں تلقین کرتے کہ نماز عشاء بھی مسجد مبارک میں حضور کے پیچھے ادا کرنی ہے۔ اس طرح وہ جلسہ کی برکات سمیٹتے تھے۔اور ہم بھی اس روحانی ماحول کی برکات اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں کو حاصل کرتے اور محسوس کرتے تھے۔ جلسہ تو حضرت مسیح موعودؑ کی دعاؤں سے مہکتا تھا۔

خاکسار چونکہ طفل تھا اس لئے نصرت کالج میں جاکر بہنوں کو جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے وہ پہنچا آتا تھا، پھر بھائی نعمت کے ساتھ آ ملتا تھا۔ یا پھربہنوں کو لے کر ہم گول بازار کا چکر لگا لیتے۔ چلغوزے، مالٹے، ریوڑیاں خرید لیتے تاکہ جلسے کے دوسرے روز کے دوران enjoy کریں ۔مجھے یاد ہے جن دنوں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سیرروحانی کی تقاریر فرما رہے تھے جلسہ گاہ سامعین سے بھرا ہوتا تھا۔ اور حضورؓ کی تقاریر پُرجوش، پُر کشش ہوتی تھیں۔ آواز بلند میٹھی اور سحر انگیز ہوتی۔ سامعین پر ایک وجد کی کیفیت طاری ہوتی اور اکثر لوگ زاروقطار رو رہے ہوتے۔ ان کی سسکیاں ماحول کو ایک ایسا روحانی ماحول بنا دیتی تھی اور معلوم ہوتا تھا کہ خدا تعالیٰ اپنے فرشتوں سے مدد فرما رہا ہے اور ماحول کو گرما رہا ہے۔ اے آسمانی بادشاہت کے موسیقارو ۔۔۔۔۔ اس ۔۔۔ سے پکارو کہ آسمانی بادشاہت کے پایہ تخت بھی لرز اٹھیں۔ فضانعرہ ہائے تکبیرسے گونج اٹھتی اور مومنوں کا جوش و جذبہ قابل دید ہوتا۔ ناقابل بیان کیفیت پیدا ہو جاتی ۔ حضور کی آواز کا جادو سر چڑھ کر بولتا ۔ اور مومنوں کا دل ایمان و یقین سے بھر جاتا ۔مجھے اس وقت زیادہ سمجھ تو نہیں آتی تھی لیکن مومنوں کے جوش و جذبہ اور نعروں سے معلوم ہوتا اور ایک عجیب سی ناقابل بیان پر جوش کیفیت سے دوچار ہو جاتا۔ بھائی نعمت صاحب تو بڑی بلند آواز میں نعرے لگاتے تھے اور پھر قیامگاہ تک آتے آتے حضورؓ کی تقریر کے ہی گن گاتے آتے۔ اور والد صاحب جب آتے تھےتو صبح وشام کی تقریر پر ہی بات کرتے۔ اور مدح وستائش کے گیت گاتے اور مجھے کہتے کہ تم نے بھی ایک دن اس اسٹیج کے نزدیک یا اوپر پہنچنا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت و عشق کی دلیل یہ ان کا بیٹا بشیر الدین محمود احمد صاحب جو کہ مصلح موعود ہیں اور خلافت کے اعلیٰ مقام پر متمکن ہیں خدا ان کے ساتھ ہے۔ یہ خدا کےحقیقی عبد ہیں۔

والد محترم حضرت مصلح موعود کے پاک وجود کو احمدیت کی ٹھوس دلیل کے طور پر پیش کرتے تھے کیونکہ آپ نے ان ہی سے زندگی پائی اور انہیں کے ہاتھ پر 1915ء میں بیعت کی تھی۔ انہیں کی خاطر بہن بھائی اور والدین سے علیحدہ ہونا پڑا۔ اورصراط مستقیم عطا ہوا۔ اور تعلق باللہ قائم ہوا۔

ربوہ میں ہم گول بازار کی پہاڑیوں پر چڑھ کر ربوہ کی کچی آبادیوں کا بھی نظارہ کرتے ۔ کچے کوٹھے ،کلر ہی کلر اور جنگلی جھاڑیاں اور کیکر کے درخت نظر آتے۔ دریا کی طرف جاتے تو بہتا ہوا پانی نظر آتا اور بڑی خوشی محسوس ہوتی۔ پہاڑوں پر چڑھنے کا اپنا ہی ایک مزہ ہوتا تھا۔

جلسے کے اختتام پر ہم بستر بوریا سمیٹتے اور سپیشل ٹرین پر سوار ہوتے تو اتنی دیر میں بھائی نعمت صاحب دال کی بالٹی بھر وا لا تے۔اور کثیر تعداد میں لنگر خانہ نمبر1 سے تازہ تازہ روٹیاں لے آتے جو سارے سفر میں کام آتیں۔ اور جو بچ جاتیں وہ گھر میں سب کو تبرک کے طور پر تقسیم کی جاتیں۔ باقی کی والد صاحب گندم کے پڑولوں میں ڈال دیتے ۔ اورہم گواہ ہیں کہ اس برکت سے کبھی ہمارے ہاں گندم ،آٹے کی کمی نہیں آئی۔

محترم بھائی نعمت علی صاحب موصی تھے۔ Godalming UK کے قبرستان میں قطعہ موصیاں میں دفن ہوئے ہیں۔ اپنے بیٹے شاہد محمود کے پاس رہتے تھے۔ جو اسی علاقے میں رہائش پذیر ہے۔ اور جماعت اسلام آباد میں شامل ہے۔

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو آپ کی بیماری اور دل کی تکلیف کی اطلاع دی جاتی تھی۔حضور انور کی دعائیں آپ تک پہنچتی رہیں۔ 3مارچ کو گلفورڈ رائل ہسپتال میں وفات ہوئی۔ انّا للّٰہ وانّا الیہ راجعون

مرحوم نے اپنے پیچھے 6بیٹیاں اور 3 بیٹے یادگار چھوڑے ہیں۔ جو کہ بفضل خدا سبھی کسی نہ کسی رنگ میں جماعت کی خدمت میں مصروف ہیں ۔ سب شادی شدہ ہیں اور صاحبِ اولاد ہیں ۔ آپ کے 29 پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب کو احمد یت کا خادم بنائے اور صبر جمیل عطا فرمائے۔ آپ کے بیٹوں کے نام یہ ہیں:
طارق محمود (جرمنی) خالد محمود (رقیم پریس ۔فار نہیم) شاہد محمود (کارکن جامعہ احمدیہ یوکے)

(مرسلہ مجید احمد سیالکوٹی کار کن دفتر PS اسلام آباد یوکے)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 29 اپریل 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 30 اپریل 2021