• 6 اگست, 2021

عظمت و جلالیت شان ختم الرسل محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں ’’ … تمام نبیوں سے عہد و اقرار لیا گیا کہ تم پر واجب و لازم ہے کہ عظمت و جلالیت شان ختم الرسل پر جو محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ایمان لاؤ اور ان کی اس عظمت اور جلالیت کی اشاعت کرنے میں بدل و جان مدد کرو‘‘

(سرمہ چشم آریہ روحانی خزائن جلد دوم صفحہ280۔279 حاشیہ)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پوری شان سے اس فریضہ کو نبھایا آپ نے اردو، عربی، فارسی کلام نظم و نثر میں عجیب عجیب انداز میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و جلالیت شان بیان فرمائی ہے جسے پڑھ کر یا سن کر وجد کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے

؎شان حق تیرے شمائل میں نظر آتی ہے
تیرے پانے سے ہی اس ذات کو پایا ہم نے
آدمی زاد تو کیا چیز فرشتے بھی تمام
مدح میں تیری وہ گاتے ہیں جو گایا ہم نے
برتر گمان و وہم سے احمد کی شان ہے
اس کا غلام دیکھو مسیح الزمان ہے

خلافت علیٰ منہاج نبوت

آپ کے وصال کے بعد اللہ تعالیٰ نے خلافت علیٰ منہاج نبوت جاری فرما کر اس عہد کو آپ کے جانشینوں کے ذریعےجاری رکھنےکا دائمی انتظام فرما دیا۔

اس سلسلہ میں بطور نمونہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کی کچھ پر زور تحریریں پیش کی جاتی ہیں

وَمَا تَوَفِیْقِی اِلَّا باللّٰہ

عظمت و شان بیان فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ

’’پس جماعت کو یہ نہ بھولنا چاہیے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت کی اصل غرض یہی ہے کہ دنیا میں توحید کو قائم کیا جائے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کو قائم کیا جائے‘‘

(انوار القرآن جلد سوم صفحہ473)

’’قرآن کریم نے محمد صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہٖ وسلم کا ہم سے کیا تعارف کروایا ہے … ایک طرف ہمیں یہ کہا ہےکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بشر ہیں دیگر جو بشر ہیں ان کی طرح …

محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسا انسان نہ کسی ماں نے ویسا بچہ جنا اور نہ جن سکتی ہے اتنی عظمتوں والے انسان کے منہ سے قرآن کریم نے یہ کہلوایا قُلۡ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثۡلُکُمۡ ….

ایک دوسری حقیقت یہ بیان کی کہ قَدۡ جَآءَکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ نُوۡرٌ (المائدہ:16) اور آپ کو سِرَاجًا مُّنِیۡرًا (الاحزاب :47) کہا یعنی ایک چمکتا ہوا سورج اور کہا کہ آپ مظہر اتم الوہیت ہیں اورجو کامل نور ہے جو کامل طور پر دنیا کو روشن کرنے والا سورج ہے اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ مظہر اتم الوہیت ہو اور جو مظہر اتم الوہیت ہے اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کے متعلق یہ اعلان ہو کہ لَوْلَاکَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَفْلَاکَ

(موضوعات کبیر زیر حرف لام)

یہ دو حقیقتیں ہیں جو ایک ہی وجود میں پائی جاتی ہیں … قُلۡ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثۡلُکُمۡ کہ بشر ہونے کے لحاظ سے مجھ میں اور تم میں کوئی فرق نہیں یہ اعلان کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اسوہ کی شکل میں بنی نوع انسان کے سامنے پیش کیا گیا ہے کیونکہ اگر یہ ہوتا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بشر نہیں بلکہ سپر مین superman ہیں اور بشر سے کوئی بلند و بالا چیز ہیں تو انسان کہتا کہ میں عاجز انسان ایک ایسی ہستی کی جو بشر سے کہیں بالا ہے، پیروی کیسے کر سکتا ہوں وہ میرے لئے اسوہ کیسے بن سکتی ہے تو بشر کہہ کے آپ کواسوہ بنایا اور نور کہہ کے آپ کو خاتم الانبیاء بنایا کیونکہ کامل نور مظہر اتم الوہیت ہے ویسے اصل نور تو اللہ ہے۔

اَللّٰہُ نُوۡرُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ (النور:36) لیکن اللہ کے بعد مخلوق میں سےجو کامل نورکی حیثیت سے دنیا کی طرف آیا وہ خاتم الانبیاء ہے اور خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام بشر ہونے کے لحاظ سے مختلف ہے …… نور ہونے کی حیثیت سے آدم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء سے نور حاصل کیا لیکن بشر ہونے کے لحاظ سے چونکہ آپ نے اس دنیا میں زندگی بعد میں گزاری اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم آدم علیہ السلام کے لئے اسوہ تو نہیں بن سکتے تھے آدم نے تو آپ کی شان دیکھی ہی نہیں ہزاروں سال کے بعد آپ کی پیدائش ہوئی لیکن بعد میں آنے والی امت کے لئے بشر ہونے کے لحاظ سے آپ اسوہ ہیں اور یہ اسوہ قیامت تک کے لئے ہے۔

اور نور ہونے کے لحاظ سے لَوْلَاکَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَفْلَاکَ کا نعرہ لگایا گیا اور اس سارےجہان میں جہاں بھی ہمیں نور نظر آتا ہے انسان کے اندر یا دوسری مخلوق میں وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء کے طفیل نظر آتا ہے انبیاء نے بھی نور نبوت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے حاصل کیا اور ذہنوں نے نور فراست بھی وہیں سے حاصل کیا اور درختوں نے نور روئیدگی بھی وہیں سے حاصل کیا اور گھوڑے اور بیل اور یہ جو جانور ہیں انہوں نے نور خدمت بھی وہیں سے حاصل کیا اس لئے کہ یہ جو آپ کا مقام نور ہونے کا ہے اس کے نتیجے میں آپ کو لَوْلَاکَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَفْلَاکَ .. کہا گیا جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کائنات کا منصوبہ اللہ تعالیٰ نے اس لئے بنایا کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء اور اپنے بعد نور کامل کے طور پر پیدا کرنا چاہتا تھا اگر حضرت خاتم الانبیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے کامل نورانسانی یعنی انسان بھی اور کامل نور بھی، نہ بنایا ہوتا تو یہ کائنات نہ بنائی جاتی اور اگر یہ کائنات نہ پیدا کی جاتی تو پھر نہ درختوں کا نور ہوتا، نہ حسینوں کے حسن کا نور، نہ کام کرنے کے حسن عمل کا نور، نہ نبیوں کا نور یا مقربین الہٰی کا نور کوئی نور ہوتا ہی نہ۔تواس کائنات کی تخلیق کا منصوبہ نور ہے یہ نور ہے جس کے متعلق انسان کو کہا گیا کہ وہ تمہیں بلاتا ہے تم لَبَّیْک کہتے ہوئے اس کی طرف دوڑو کیونکہ وہ تمہیں اس لئے بلاتا ہےکہ تمہیں زندگی دے اور اس کائنات میں جو سب سے حسین نور اور سب سے اچھا نور ہمیں نظر آتا ہے وہ زندگی کا نور ہے یعنی وہ نور جو الحی القیوم کے ساتھ وابستگی کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو خاتم الانبیاء بنایا اور اس کے نتیجےمیں یہ نور کا مقام ہے خاتم الانبیاء مقام کا نور کامل کا مقام ہے اور آدم سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک اگر ایک لاکھ بیس ہزار نبی آئے تو ایک لاکھ بیس ہزار نبی نے اور اگر دوسروں کے نزدیک ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی آئے تو ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی نے اس نور سے نور لیا اور خاتم الانبیاء کے نتیجہ میں آدمؑ نبی بنے اور نوحؑ نبی بنے اور موسیٰؑ نبی بنے اور عیسیٰؑ نبی بنے اور ابراہیم علیہم السلام نبی بنے اگر اس کائنات میں یہ نور نہ ہوتا یعنی پلینڈ planned نہ ہوتا اس کا منصوبہ نہ ہوتا تو نہ آدم کی ضرورت تھی نہ نوح کی نہ ابراہیم کی نہ موسیٰ کی نہ عیسیٰ علیہم السلام کی۔ کسی کی بھی ضرورت نہیں تھی پہلوں نے بھی خاتم الانبیاء سے نور لیا اور انہوں نے خدا تعالیٰ کی محبت کو حاصل کیا اور بعد میں آنے والوں نے بھی قیامت تک محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء سے نور لیا یا لیں گے اور خدا تعالیٰ کے قرب کے مدارج ان کو ملیں گے ..‘‘

(انوار القرآن جلد دوم صفحہ454 تا 456)

’’تمام انسانوں میں سے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ستودہ صفت ہے جن کے لئے یہ ساری مخلوق ظہورپذیر ہوئی آپ انسانیت کا نچوڑاور جوہر کامل ہیں آپ کو انسانیت کا کمال حاصل ہوا غرض ہمارے پاس وہ الفاظ نہیں جن سے آپ کی علو شان کا اظہار کر سکیں‘‘

(انوار القرآن جلد دوم صفحہ375،376)

(انجینئر محمود مجیب اصغر)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 29 جون 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 30 جون 2021