• 15 اگست, 2022

بندے کو خدا کیا لکھنا

ظلمت کو ضیا، صرصر کو صبا، بندے کو خدا کیا لکھنا
پتھر کو گہر، دیوار کو در، کرگس کو ہما کیا لکھنا
اک حشر بپا ہے گھر گھر میں، دم گھٹتا ہے گنبد بے در میں
اک شخص کے ہاتھوں مدت سے رسوا ہے وطن دنیا بھر میں
اے دیدہ ورو! اس ذلت کو قسمت کا لکھا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیا، صرصر کو صبا، بندے کو خدا کیا لکھنا

یہ اہل حشم، یہ دارا و جم، سب نقش بر آب ہیں اے ہم دم!
مٹ جائیں گے سب پروردۂ شب، اے اہل وفا! رہ جائیں گے ہم
ہو جاں کا زیاں، پر قاتل کو معصوم ادا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیا، صرصر کو صبا، بندے کو خدا کیا لکھنا

لوگوں پہ ہی ہم نے جاں واری، کی ہم نے ہی ان کی غم خواری
ہوتے ہیں تو ہوں یہ ہاتھ قلم، شاعر نہ بنیں گے درباری
ابلیس نما انسانوں کی اے دوست! ثنا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیا، صرصر کو صبا، بندے کو خدا کیا لکھنا

حق بات پہ کوڑے اور زنداں، باطل کے شکنجے میں ہے یہ جاں
انساں ہیں کہ سہمے بیٹھے ہیں، خونخوار درندے ہیں رقصاں
اس ظلم و ستم کو لطف و کرم، اس دکھ کو دوا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیا، صرصر کو صبا، بندے کو خدا کیا لکھنا

ہر شام یہاں شامِ ویراں، آسیب زدہ رستے گلیاں
جس شہر کی دھن میں نکلے تھے وہ شہرِ دل برباد کہاں
صحرا کو چمن، بن کو گلشن، بادل کو ردا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیا، صرصر کو صبا، بندے کو خدا کیا لکھنا

(حبیب جالب)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 29 جون 2022

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ