• 23 اکتوبر, 2020

الٰہی کیا کروں بتخانے پر بت خانہ آتا ہے

نرالا مست ہوں زاہد بھی مشتاقانہ آتا ہے
کبھی چھپ چھپ کے آتا تھا اب آزادانہ آتا ہے
بڑی مشکل ہے وہ بھی منحرف ہیں دل بھی برگشتہ
نہ وہ آتے ہیں قابو میں نہ یہ دیوانہ آتا ہے
یہ میری خفتہ بختی خواب میں بھی وہ نہیں آتے
اورآتے ہیں تو یوں جیسے کوئی بیگا نہ آتا ہے
کہاں رکتا ہے ذکرِ بادۂ ومینا و ساغرسے
جہاں بھی واعظ آجائے وہیں میخانہ آتا ہے
وہی کھنچنا، وہی ملنا، وہی چلنا، وہی رکنا
مگر خنجر کو بھی اندازِ معشوقانہ آتا ہے
حرم کی راہ بھی خالی نہیں خطراتِ پیہم سے
الٰہی کیا کروں بتخانے پر بتخانہ آتا ہے
مرے دل سے گئی ہے آرزو اُن کی نہ جائے گی
مگر میرا خیال اُن کونہ آئے گا نہ آتا ہے
زیارت گاہ بن بیٹھا ہے اُن کا دیکھنے والا
کہ اک عالم کا عالم روز مشتاقانہ آتا ہے
فقط اس آس پر جیتا رہا میں ناتواں برسوں
کہ اک ساعت میں وہ مغرور محجوبانہ آتا ہے
یہ فیضِ خاص ہے مختاؔر ابنِ شاہِ مینا1 کا
کہ لب پر شعر بن کر نعرۂ مستا نہ آتا ہے
1۔ اشارہ ہے حضرت امیر مینائی ؔمرحوم کی طرف

نوٹ۔ یہ نظم ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ میں ماہ تبلیغ 1348ھش (بمطابق فروری 1969ء) میں شائع ہو چکی ہے۔

(حیات حضرت مختار صفحہ 313-314)

(حضرت حافظ سید مختار احمد مختار ؔشاہجہانپوری صاحب ؓ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 29 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 30 ستمبر 2020